یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • خا باب 13 ص.‏ 153-‏162
  • اگر شادی ٹوٹنے کے مرحلے میں ہے

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • اگر شادی ٹوٹنے کے مرحلے میں ہے
  • خاندانی خوشی کا راز
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • حقیقت‌پسند بنیں
  • اختلافات پر بات‌چیت کریں
  • ازدواجی حق ادا کرنا
  • طلاق کیلئے بائبلی بنیادیں
  • علیٰحدگی کیلئے بنیادیں
  • کیسے ایک شکستہ شادی کو بچایا گیا
  • شادی کے بندھن کو مضبوط بنائیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2016ء
  • شادی کو پاکیزہ بندھن کیوں خیال کریں؟‏
    جاگو!‏—‏2004ء
  • اپنی شادی‌شُدہ زندگی میں دراڑ نہ آنے دیں
    ہم خدا کی محبت میں کیسے قائم رہ سکتے ہیں؟‏
  • شادی کے بندھن کا احترام کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2018ء
مزید
خاندانی خوشی کا راز
خا باب 13 ص.‏ 153-‏162

باب تیرہ

اگر شادی ٹوٹنے کے مرحلے میں ہے

۱، ۲.‏ جب ایک شادی دباؤ کے تحت ہوتی ہے تو کیا سوال پوچھا جانا چاہئے؟‏

۱۹۸۸ میں لوؔسیا نامی ایک اطالوی خاتون بہت افسردہ تھی۔‏a دس سال بعد اُس کی شادی ختم ہو رہی تھی۔ وہ کئی مرتبہ اپنے شوہر کے ساتھ مصالحت کرنے کی کوشش کر چکی تھی، لیکن اِس سے کوئی فائدہ نہ ہوا۔ لہٰذا ناموافقت کی وجہ سے اُس نے علیٰحدگی اختیار کر لی اور اب تنہا دو لڑکیوں کی پرورش کرنے کا سامنا تھا۔ ماضی پر نگاہ ڈالتے ہوئے، لوؔسیا یاد کرتی ہے:‏ ”‏مجھے پورا یقین تھا کہ کوئی بھی چیز ہماری شادی کو نہیں بچا سکتی۔“‏

۲ اگر آپکو ازدواجی مسائل کا سامنا ہے تو شاید آپ لوؔسیا کی حالت کو سمجھنے کے قابل ہوں۔ آپکی شادی کو مشکل کا سامنا ہو سکتا ہے اور شاید آپ سوچتے ہوں کہ آیا اِسے ابھی بھی بچایا جا سکتا ہے۔ اگر معاملہ ایسا ہے تو آپ اِس سوال پر توجہ دینا مفید پائینگے:‏ کیا مَیں نے ہر فائدہ‌مند نصیحت پر عمل کِیا ہے جو خدا نے شادی کو کامیاب بنانے کیلئے مدد کرنے کی خاطر بائبل میں پیش کی ہے؟–‏زبور ۱۱۹:‏۱۰۵‏۔‏

۳.‏ اگرچہ طلاق‌بازی بڑی عام ہو گئی ہے، توبھی بہت سے مُطلّقہ اشخاص اور اُنکے خاندانوں کے اندر کس طرح کے ردِعمل کے پائے جانے کی رپورٹ ملی ہے؟‏

۳ جب شوہر اور بیوی کے مابین کشیدگیاں بڑھ جاتی ہیں تو شادی کو ختم کر دینا ہی آسان طرزِعمل دکھائی دے سکتا ہے۔ البتہ، بہتیرے ممالک نے اگرچہ شکستہ خاندانوں کے تناسب میں افسوسناک اضافے کا تجربہ کِیا ہے توبھی حالیہ جائزے ظاہر کرتے ہیں کہ مُطلّقہ مردوں اور عورتوں کا بڑا حصہ شکستگی پر پشیمان ہے۔ اِن میں سے بیشتر اپنی شادی کو قائم رکھنے والوں کی نسبت صحت کے زیادہ مسائل، جسمانی اور ذہنی دونوں، کا شکار ہوتے ہیں۔ طلاق سے متاثرہ بچوں کی پریشانی اور افسردگی سالوں تک موجود رہتی ہے۔ شکستہ خاندان کے والدین اور دوست‌احباب بھی متاثر ہوتے ہیں۔ اور شادی کا بانی، خدا صورتحال کو جسطرح خیال کرتا ہے اُسکی بابت کیا ہے؟‏

۴.‏ شادی میں مسائل کو کیسے حل کِیا جانا چاہئے؟‏

۴ جیسے‌کہ پچھلے ابواب میں ظاہر کِیا گیا ہے خدا نے یہ مقصد ٹھہرایا تھا کہ شادی کو ایک دائمی بندھن ہونا چاہئے۔ (‏پیدایش ۲:‏۲۴‏)‏ پھر بھی، اتنی زیادہ شادیاں، کیوں ٹوٹ جاتی ہیں؟ یہ راتوں رات تو واقع نہیں ہو سکتا۔ عموماً انتباہی اشارے ملتے ہیں۔ شادی میں چھوٹے چھوٹے مسائل بڑے سے بڑے بن سکتے ہیں اس حد تک کہ وہ ناقابلِ‌تسخیر دکھائی دینے لگتے ہیں۔ لیکن اگر اِن مسائل کو بائبل کی مدد سے بِلاتاخیر حل کر لیا جاتا ہے تو بہت سی شادیاں ٹوٹنے سے بچائی جا سکتی ہیں۔‏

حقیقت‌پسند بنیں

۵.‏ کسی بھی شادی کے اندر کس حقیقت‌پسندانہ صورتحال کا سامنا کرنا چاہئے؟‏

۵ بعض‌اوقات مسائل کو جنم دینے والا عنصر وہ غیرحقیقت‌پسندانہ توقعات ہوتی ہیں جو ایک یا دونوں بیاہتا ساتھی رکھ سکتے ہیں۔ رومانوی ناول، معروف رسالے، ٹیلی‌وژن پروگرام، اور فلمیں ایسی اُمیدیں اور تصورات پیدا کر سکتے ہیں جنکا حقیقی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ جب یہ خواب پورے نہیں ہوتے تو کوئی شخص فریب‌خوردہ، غیرمطمئن، اندوہناک بھی محسوس کر سکتا ہے۔ تاہم، دوناکامل اشخاص شادی سے خوشی کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟ ایک کامیاب رشتہ قائم کرنے کیلئے محنت درکار ہوتی ہے۔‏

۶.‏ (‏ا)‏ بائبل شادی کی بابت کونسا متوازن نظریہ پیش کرتی ہے؟ (‏ب)‏ شادی میں نااتفاقیوں کی چند ایک وجوہات کیا ہیں؟‏

۶ بائبل عملی ہے۔ یہ شادی کی مسرتوں کو تسلیم کرتی ہے لیکن یہ اِس بات سے بھی آگاہ کرتی ہے کہ وہ جو شادی کرتے ہیں ”‏جسمانی تکلیف پائینگے۔“‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۷:‏۲۸‏)‏ جیسے‌کہ پہلے بیان کِیا گیا ہے کہ دونوں ساتھی ناکامل ہیں اور گناہ کرنے کی رغبت رکھتے ہیں۔ ہر ساتھی کی ذہنی اور جذباتی ساخت اور پرورش پانے کے طریقے مختلف ہوتے ہیں۔ جوڑے بعض‌اوقات پیسے، بچوں، اور سُسرالیوں کی بابت اختلافِ‌رائے رکھتے ہیں۔ اکٹھے ملکر کام کرنے کیلئے ناکافی وقت اور جنسی مسائل بھی اختلاف کا سبب ہو سکتے ہیں۔‏b ایسے معاملات کو طے کرنے میں وقت لگتا ہے لیکن خاطر جمع رکھیں!‏ بیشتر بیاہتا جوڑے ایسے مسائل کا سامنا کرنے اور باہمی طور پر قابلِ‌قبول حل نکالنے کے قابل ہوتے ہیں۔‏

اختلافات پر بات‌چیت کریں

۷، ۸.‏ اگر بیاہتا ساتھیوں کے مابین مجروح جذبات یا غلط‌فہمیاں پائی جاتی ہیں تو اُنہیں حل کرنے کا صحیفائی طریقہ کیا ہے؟‏

۷ بہتیرے مجروح جذبات، غلط‌فہمیوں، یا ذاتی کوتاہیوں پر بات‌چیت کرتے وقت پُرسکون رہنا مشکل پاتے ہیں۔ صاف‌گوئی کے ساتھ ”‏مجھے غلط‌فہمی ہوئی،“‏ کہنے کی بجائے ایک شریکِ‌حیات جذباتی ہو سکتا اور مسئلے کو طول دے سکتا ہے۔ بہتیرے کہینگے:‏ ”‏آپ کو صرف اپنی فکر ہے،“‏ یا ”‏آپ مجھے محبت نہیں کرتے۔“‏ تکرار میں الجھنے سے بچنا چاہتے ہوئے، دوسرا شریکِ‌حیات جواب دینے سے گریز کر سکتا ہے۔‏

۸ عمل‌پیرا ہونے کیلئے بہترین روش بائبل کی مشورت پر دھیان دینا ہے:‏ ”‏غصہ تو کرو مگر گناہ نہ کرو۔ سورج کے ڈوبنے تک تمہاری خفگی نہ رہے۔“‏ (‏افسیوں ۴:‏۲۶‏)‏ ایک خوش‌وخرم بیاہتا جوڑے سے، اُنکی شادی کی ۶۰ویں سالگرہ پر، اُنکی کامیاب شادی کے راز کی بابت پوچھا گیا۔ شوہر نے بیان کِیا:‏ ”‏ہم نے سیکھ لیا تھا کہ اختلافات کو طے کئے بغیر نہ سوئیں، خواہ وہ کتنے ہی معمولی کیوں نہ ہوں۔“‏

۹.‏ (‏ا)‏ رابطے کے جزوِلازم کے طور پر صحائف میں کس چیز کی نشاندہی کی گئی ہے؟ (‏ب)‏ بیاہتا ساتھیوں کو اکثر کیا کرنے کی ضرورت ہے، اگرچہ اس کے لئے حوصلے اور فروتنی کی ضرورت ہوتی ہے؟‏

۹ جب ایک شوہر اور بیوی اختلافِ‌رائے رکھتے ہیں تو ہر ایک کو ”‏سننے میں تیز اور بولنے میں دھیرااور قہر کرنے میں دھیما“‏ ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔ (‏یعقوب ۱:‏۱۹‏)‏ غور سے سننے کے بعد، دونوں ساتھی شاید معافی مانگنے کی ضرورت کو سمجھ سکیں۔ (‏یعقوب ۵:‏۱۶‏)‏ پورے خلوص کیساتھ، ”‏معاف کیجئے آپکو دُکھ پہنچا،“‏ کہنے کیلئے فروتنی اور حوصلے کی ضرورت ہے۔ لیکن اِس طریقے سے اختلافات کو طے کرنا نہ صرف بیاہتا جوڑے کیلئے اپنے مسائل حل کرنے کیلئے مؤثر ہوگا بلکہ تپاک اور قریبی تعلق پیدا کرنے کیلئے بھی معاون ہوتا ہے جو اُنہیں ایک دوسرے کی رفاقت سے زیادہ لطف اُٹھانے کے قابل بنائیگا۔‏

ازدواجی حق ادا کرنا

۱۰.‏ کرنتھسؔ کے مسیحیوں کیلئے پولسؔ کی طرف سے کونسا مجوزہ تحفظ آجکل ایک مسیحی کے لئے کارگر ثابت ہو سکتا ہے؟‏

۱۰ جب پولسؔ رسول نے کرنتھیوں کو خط لکھا تو اُس نے ’‏حرامکاری کے اندیشہ سے‘‏ شادی کی سفارش کی۔ (‏۱-‏کرنتھیوں۷:‏۲)‏ آجکل دُنیا اتنی ہی بُری ہے، بلکہ قدیم کرنتھسؔ سے بھی زیادہ بُری ہے۔ اخلاق‌سوز موضوعات جن پر دُنیا کے لوگ کھلم‌کھلا بات‌چیت کرتے ہیں، جس بے‌حیا طریقے سے ملبوس ہوتے ہیں، اور کُتب اور رسائل، ٹی‌وی پر، اور فلموں میں پیش کی جانے والی شہوانی کہانیاں، سب ملکر ناجائز جنسی اشتہاؤں کو برانگیختہ کرتی ہیں۔ اِسی طرح کے ماحول میں رہنے والے کرنتھیوں سے پولسؔ رسول نے کہا:‏ ”‏بیاہ کرنا مست ہونے سے بہتر ہے۔“‏–‏۱-‏کرنتھیوں ۷:‏۹‏۔‏

۱۱، ۱۲.‏ (‏ا)‏ شوہر اور بیوی ایک دوسرے کیلئے کس چیز کے مقروض ہیں، اور اِسے کس جذبے کے تحت ادا کِیا جانا چاہئے؟ (‏ب)‏ اگر ازدواجی حق کو عارضی طور پر مُعطل کرنا پڑتا ہے تو صورتحال سے کیسے نپٹنا چاہئے؟‏

۱۱ لہٰذا، بائبل شادی‌شُدہ مسیحیوں کو حکم دیتی ہے:‏ ”‏شوہر بیوی کا حق ادا کرے اور ویسا ہی بیوی شوہر کا۔“‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۷:‏۳‏)‏ غور کریں کہ زور طلب کرنے پر نہیں–‏بلکہ دینے پر دیا گیا ہے‏۔‏ شادی میں جسمانی قربت واقعی تسلی بخش ہوتی ہے بشرطیکہ ہر ساتھی دوسرے کی بھلائی میں دلچسپی رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر، بائبل شوہروں کو اپنی بیویوں سے ”‏عقلمندی سے“‏ پیش آنے کا حکم دیتی ہے۔ (‏۱-‏پطرس ۳:‏۷‏)‏ ازدواجی حق ادا کرنے اور وصول کرنے کے سلسلے میں یہ بات خاص طور پر سچ ہے۔ اگر ایک بیوی کیساتھ پُرمحبت سلوک نہیں کِیا جاتا تو شاید اسے شادی کے اِس پہلو سے لطف اُٹھانا مشکل لگے۔‏

۱۲ ایسے اوقات ہوتے ہیں جب بیاہتا ساتھیوں کو شاید ایک دوسرے کو ازدواجی حق سے محروم رکھنا پڑتا ہے۔ یہ بات بیوی کے سلسلے میں مہینے کے مخصوص ایّام پر سچ ثابت ہو سکتی ہے یا جب وہ بہت تھکی ہوئی محسوس کرتی ہے۔ (‏مقابلہ کریں احبار ۱۸:‏۱۹۔)‏ شوہر کے سلسلے میں بھی یہ سچ ہو سکتا ہے جب وہ کام کے سلسلے میں کسی سنگین مسئلے سے دوچار ہوتا ہے اور وہ جذباتی طور پر تھکا ہوا محسوس کرتا ہے۔ ازدواجی حق ادا کرنے کے عارضی تعطل کے ایسے معاملات سے خوش‌اسلوبی کے ساتھ نپٹ لیا جاتا ہے اگر دونوں ساتھی صورتحال پر صاف‌گوئی سے بات‌چیت کرتے ہیں اور ”‏آپس کی رضامندی سے“‏ متفق ہو جاتے ہیں۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۷:‏۵‏)‏ ایسا کرنا کسی بھی ساتھی کو غلط نتائج اخذ کرنے سے باز رکھیگا۔ تاہم، اگر بیوی قصداً اپنے شوہر کو محروم رکھتی ہے یا اگر شوہر جان‌بوجھ کر پُرمحبت طریقے سے ازدواجی حق ادا کرنے میں کوتاہی برتتا ہے تو شاید ساتھی کو آزمائش میں پڑنے کے خطرے میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں، شادی میں مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔‏

۱۳.‏ مسیحی اپنی سوچ کو پاک رکھنے کیلئے کیسے کام کر سکتے ہیں؟‏

۱۳ تمام مسیحیوں کی طرح، خدا کے شادی‌شُدہ خادموں کو فحش لٹریچر سے بچنا چاہئے جوکہ ناپاک اور غیرفطری خواہشات پیدا کر سکتا ہے۔ (‏کلسیوں ۳:‏۵‏)‏ اُنہیں مخالف جنس کے تمام افراد کیساتھ تعلقات کے دوران بھی اپنے خیالات اور افعال کی حفاظت کرنی چاہئے۔ یسوؔع نے خبردار کِیا:‏ ”‏جس کسی نے بُری خواہش سے کسی عورت پر نگاہ کی وہ اپنے دل میں اُسکے ساتھ زنا کر چکا۔“‏ (‏متی ۵:‏۲۸‏)‏ جنس کی بابت بائبل کی مشورت کا اطلاق کرنے سے، جوڑوں کو آزمائش میں پڑنے اور زناکاری کے مرتکب ہونے سے بچنے کے قابل ہونا چاہئے۔ وہ شادی میں مسرت‌بخش قربت سے ہمیشہ لطف‌اندوز ہو سکتے ہیں جس کے اندر جنس کی شادی کے بانی، یہوؔواہ کی طرف سے ایک صحتمندانہ بخشش کے طور پر قدر کی جاتی ہے۔–‏امثال ۵:‏۱۵-‏۱۹‏۔‏

طلاق کیلئے بائبلی بنیادیں

۱۴.‏ بعض‌اوقات کونسی افسوسناک صورتحال خودبخود پیدا ہو جاتی ہے؟ کیوں؟‏

۱۴ خوشی کی بات ہے کہ بیشتر مسیحی شادیوں میں، کسی بھی طرح کے اُٹھنے والے مسائل حل کئے جا سکتے ہیں۔ تاہم، بعض‌اوقات، صورتحال ایسی نہیں ہوتی۔ چونکہ انسان ناکامل ہیں اور ایک گنہگار دُنیا میں رہتے ہیں جو شیطان کے قبضہ میں ہے، اِسلئے بعض شادیاں ٹوٹنے کی حد تک پہنچ جاتی ہیں۔ (‏۱-‏یوحنا ۵:‏۱۹‏)‏ مسیحیوں کو ایسی صبرآزما صورتحال سے کیسے نپٹنا چاہئے؟‏

۱۵.‏ (‏ا)‏ دوبارہ شادی کے امکان کیساتھ طلاق کیلئے واحد صحیفائی بنیاد کیا ہے؟ (‏ب)‏ بعض نے ایک بے‌وفا ساتھی کو طلاق دینے کے برعکس فیصلہ کیوں کِیا ہے؟‏

۱۵ جیسے‌کہ اِس کتاب کے باب ۲ میں بیان کِیا گیا ہے، دوبارہ شادی کے امکان کیساتھ طلاق کے لئے واحد صحیفائی بنیاد حرامکاری ہے۔‏c (‏متی ۱۹:‏۹‏)‏ اگر آپکے پاس حتمی ثبوت موجود ہے کہ آپکا بیاہتا ساتھی بے‌وفا رہا ہے تو ایسی صورتحال میں آپکو ایک مشکل فیصلے کا سامنا ہے۔ کیا آپ شادی کو برقرار رکھینگے یا طلاق لے لینگے؟ اِس کیلئے کوئی قواعد نہیں ہیں۔ بعض مسیحیوں نے حقیقی طور پر تائب ساتھی کو یکسر معاف کر دیا ہے، اور بچا لی جانے والی شادی کامیاب ثابت ہوئی ہے۔ دوسروں نے بچوں کی خاطر طلاق کے برعکس فیصلہ کِیا ہے۔‏

۱۶.‏ (‏ا)‏ بعض کونسے عوامل ہیں جنہوں نے بعض اشخاص کو اپنے خطاکار بیاہتا ساتھیوں کو طلاق دینے کی تحریک دی ہے؟ (‏ب)‏ جب ایک بے‌گناہ ساتھی طلاق دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کرتا ہے تو کسی کو بھی اُسکے فیصلے پر تنقید کیوں نہیں کرنی چاہئے؟‏

۱۶ دوسری جانب، گنہگارانہ فعل شاید حمل یا جنسی طور پر لگنے والی کسی بیماری پر منتج ہوا ہے۔ یا شاید بچوں کو جنسی طور پر بدسلوکی کرنے والے باپ یا ماں سے محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔ واضح طور پر، فیصلہ کرنے سے پہلے کافی کچھ سوچنا پڑتا ہے۔ تاہم، اگر آپکو اپنے بیاہتا ساتھی کی بے‌وفائی کا علم ہو جاتا ہے اور اِسکے بعد پھر اپنے ساتھی کیساتھ جنسی تعلقات قائم کر لیتے ہیں، یوں آپ ظاہر کرتے ہیں کہ آپ نے اپنے ساتھی کو معاف کر دیا ہے اور شادی کو قائم رکھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ دوبارہ شادی کے صحیفائی امکان کیساتھ طلاق کیلئے بنیادیں باقی نہیں رہتیں۔ کسی کو بھی دوسروں کے معاملات میں دخل‌اندازی کرنے اور آپکے فیصلے پر اثرانداز ہونے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے، جب آپ فیصلہ کرتے ہیں تو کسی کو نکتہ چینی بھی نہیں کرنی چاہئے۔ آپ جو بھی فیصلہ کرتے ہیں آپکو اُسکے نتائج کا سامنا کرنا پڑیگا۔ ”‏ہر شخص اپنا ہی بوجھ اُٹھائیگا۔“‏–‏گلتیوں ۶:‏۵‏۔‏

علیٰحدگی کیلئے بنیادیں

۱۷.‏ اگر کوئی حرامکاری واقع نہیں ہوئی تو علیٰحدگی یا طلاق کی بابت صحائف کیا حدبندیاں عائد کرتے ہیں؟‏

۱۷ کیا ایسی حالتیں ہیں جو شاید بیاہتا ساتھی سے علیٰحدگی اختیار کرنے یا ممکنہ طور پر طلاق لینے کا جواز پیش کریں خواہ وہ شخص حرامکاری کا مرتکب نہ بھی ہوا ہو؟ جی‌ہاں، لیکن ایسی صورتحال میں، ایک مسیحی دوبارہ شادی کے نظریے کیساتھ تیسرے شخص کی تلاش کرنے کیلئے آزاد نہیں ہے۔ (‏متی ۵:‏۳۲‏)‏ ایسی علیٰحدگی کی گنجائش دیتے وقت، بائبل، شرط عائد کرتی ہے کہ علیٰحدگی اختیار کرنے والا ”‏بے‌نکاح رہے یا .‏ .‏ .‏ پھر ملاپ کر لے۔“‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۷:‏۱۱‏)‏ بعض سنگین حالتیں کونسی ہیں جو علیٰحدگی کو قرین‌مصلحت بناتی ہوئی دکھائی دے سکتی ہیں؟‏

۱۸، ۱۹.‏ بعض سنگین حالتیں کیا ہیں جو ایک شریکِ‌حیات کے لئے دوبارہ شادی کے امکان کے بغیر بھی قانونی علیٰحدگی یا طلاق کی مصلحت پر غور کرنے کا سبب بن سکتی ہیں؟‏

۱۸ درست ہے کہ خاندان شوہر کی بُری عادات اور بے‌حد سستی کی وجہ سے مفلس ہو سکتا ہے۔‏d وہ شاید خاندان کی آمدنی کو جوئے میں اُڑا دیتا ہے یا اسے منشیات یا الکحل کی عادت کو پورا کرنے کیلئے استعمال کر ڈالتا ہے۔ بائبل بیان کرتی ہے:‏ ”‏اگر کوئی اپنوں اور خاص کر اپنے گھرانے کی خبرگیری نہ کرے تو ایمان کا منکر اور بے‌ایمان سے بدتر ہے۔“‏ (‏۱-‏تیمتھیس ۵:‏۸‏)‏ اگر ایسا شخص اپنی روشوں کو بدلنے سے انکار کرتا ہے، یہانتک کہ اپنی بُری عادات کو شاید اُس پیسے سے پورا کرتا ہے جو اُسکی بیوی کماتی ہے، تو بیوی اپنی اور اپنے بچوں کی فلاح کی خاطر قانونی علیٰحدگی حاصل کرنے کا انتخاب کر سکتی ہے۔‏

۱۹ ایسی قانونی کارروائی پر اُس صورت میں بھی غور کِیا جا سکتا ہے اگر ایک شریکِ‌حیات اپنے ساتھی کے سلسلے میں نہایت ہی متشدّد ہے، شاید اُسے اکثر اِس حد تک زدوکوب کرتا ہے کہ صحت اور زندگی بھی خطرے میں ہیں۔ علاوہ‌ازیں، اگر ایک شریکِ‌حیات ایک بیاہتا ساتھی کو کسی طریقے سے خدا کے احکام کو توڑنے کیلئے مجبور کرنے کی مسلسل کوشش کرتا ہے، تو وہ ساتھی جو خطرے میں ہے، علیٰحدگی کی بابت سوچ سکتا ہے، بالخصوص اگر حالات اِس حد تک پہنچ جاتے ہیں کہ روحانی زندگی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ وہ ساتھی جو خطرے میں ہے فیصلہ کر سکتا ہے کہ ‏”‏آدمیوں کے حکم کی نسبت خدا کا حکم ماننے“‏ کاواحد طریقہ قانونی علیٰحدگی حاصل کرنا ہے۔–‏اعمال ۵:‏۲۹‏۔‏

۲۰.‏ (‏ا)‏ ایک خاندان کے ٹوٹنے کے سلسلے میں، پُختہ دوست اور بزرگ کیا پیش کر سکتے ہیں اور اُنہیں کیا پیش نہیں کرنا چاہئے؟ (‏ب)‏ بیاہتا اشخاص کو علیٰحدگی اور طلاق کی بابت بائبل حوالوں کو کیا کرنے کیلئے ایک بہانے کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہئے؟‏

۲۰ شریکِ‌حیات کے ساتھ بدسلوکی کے تمام سنگین معاملات میں، کسی کو بھی بے‌گناہ ساتھی پر علیٰحدہ ہو جانے یا دوسرے کیساتھ رہنے کیلئے دباؤ نہیں ڈالنا چاہئے۔ اگرچہ پُختہ دوست اور بزرگ تعاون اور بائبل پر مبنی مشورت تو پیش کر سکتے ہیں، لیکن یہ تمام تفصیلات معلوم نہیں کر سکتے کہ شوہر اور بیوی کے مابین کیسے گزر رہی ہے۔ صرف یہوؔواہ اُسے دیکھ سکتا ہے۔ بِلاشُبہ، ایک مسیحی بیوی خدا کے ازدواجی بندوبست کا احترام نہیں کر رہی ہوگی اگر وہ شادی سے آزاد ہونے کیلئے بے‌بنیاد بہانے استعمال کرتی ہے۔ لیکن جب نہایت خطرناک حالت برقرار رہتی ہے تو اگر وہ علیٰحدہ ہونے کا انتخاب کرتی ہے تو کسی شخص کو بھی اُس پر تنقید نہیں کرنی چاہئے۔ بالکل یہی باتیں ایک مسیحی شوہر کی بابت بھی کہی جا سکتی ہیں جو علیٰحدگی اختیار کرنے کی کوشش میں ہے۔ ”‏ہم .‏ .‏ .‏ سب خدا کے تختِ‌عدالت کے آگے کھڑے ہونگے۔“‏–‏رومیوں ۱۴:‏۱۰‏۔‏

کیسے ایک شکستہ شادی کو بچایا گیا

۲۱.‏ کونسا تجربہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ شادی کے متعلق بائبل کی مشورت مفید ہے؟‏

۲۱ لوؔسیا کی، جس کا پہلے ذکر کِیا گیا ہے، اپنے شوہر سے علیٰحدگی کے تین ماہ بعد، یہوؔواہ کے گواہوں سے ملاقات ہوئی اور اُنکے ساتھ بائبل کا مطالعہ شروع کر دیا۔ وہ وضاحت کرتی ہے کہ ”‏مجھے بڑی حیرانی ہوئی کہ بائبل نے میرے مسئلے کیلئے عملی حل فراہم کئے۔ صرف ایک ہفتے کے مطالعے کے بعد، مَیں نے فوراً اپنے شوہر سے مصالحت کرنا چاہی۔ آج مَیں کہہ سکتی ہوں کہ یہوؔواہ جانتا ہے کہ بحران میں شادیوں کو کیسے بچایا جائے کیونکہ اُسکی تعلیمات بیاہتا ساتھیوں کو یہ سیکھنے کے لئے مدد فراہم کرتی ہیں‌کہ ایک دوسرے کے لئے کیسے پاس‌ولحاظ دکھائیں۔ جیسے‌کہ بعض بیان کرتے ہیں، یہ سچ نہیں ہے کہ یہوؔواہ کے گواہ خاندانوں کو منقسم کرتے ہیں۔ میرے معاملے میں، بالکل اِس کے برعکس سچ تھا۔“‏ لوؔسیا نے اپنی زندگی میں بائبل اصولوں کا اطلاق کرنا سیکھ لیا۔‏

۲۲.‏ تمام بیاہتا جوڑوں کو کس چیز پر اعتماد رکھنا چاہئے؟‏

۲۲ لوؔسیا کا معاملہ کوئی غیرمعمولی نہیں ہے۔ شادی کو ایک بوجھ نہیں بلکہ ایک برکت ہونا چاہئے۔ اِس سلسلے میں، یہوؔواہ نے شادی کے متعلق کبھی تحریر میں آنے والی مشورت کا نہایت عمدہ ماخذ–‏اپنا بیش‌قیمت کلام فراہم کِیا ہے۔ بائبل ”‏نادان کو دانش بخش“‏ سکتی ہے۔ (‏زبور ۱۹:‏۷-‏۱۱‏)‏ اِس نے بہت سی شادیوں کو بچایا ہے جو ٹوٹنے کے مرحلے میں تھیں اور بہتیری دیگر کو بہتر بنا دیا ہے جنہیں سنگین مسائل کا سامنا تھا۔ دُعا ہے کہ تمام شادی‌شُدہ جوڑے شادی کے متعلق اُس مشورت پر بھرپور اعتماد رکھیں جو یہوؔواہ خدا فراہم کرتا ہے۔ یہ واقعی مفید ہے!‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a نام تبدیل کر دیا گیا ہے۔‏

b اِن میں سے بعض پہلوؤں پر پچھلے ابواب میں بات‌چیت کی گئی تھی۔‏

c بائبل اصطلا‌ح کے ترجمے ”‏حرامکاری“‏ میں زناکاری، ہم‌جنس‌پسندی، جانوروں کیساتھ بدفعلی، اور جنسی اعضاؤں کے استعمال پر مشتمل قصداً کئے گئے دیگر ناجائز کام شامل ہیں۔‏

d اِس میں ایسی حالتیں شامل نہیں جن میں شوہر، نیک‌نیت ہونے کے باوجود، بیماری یا ملازمت کے مواقع کے فقدان جیسے اسباب کی وجہ سے اپنے خاندان کی کفالت کرنے کے قابل نہیں ہے۔‏

یہ بائبل اصول .‏ .‏ .‏ ایک شادی کو ٹوٹنے سے بچانے کیلئے کیسے مدد کر سکتے ہیں؟‏

شادی خوشی اور مصیبت دونوں کا ذریعہ ہے۔–‏امثال ۵:‏۱۸، ۱۹؛‏ ۱-‏کرنتھیوں ۷:‏۲۸‏۔‏

نااتفاقیوں کو فوری طور پر حل کِیا جانا چاہئے؟ –‏افسیوں ۴:‏۲۶‏۔‏

ایک مباحثے میں، سننا بھی اتنا ہی اہم ہے جتناکہ بولنا۔ –‏یعقوب ۱:‏۱۹‏۔‏

ازدواجی حق کو بے‌غرضی اور پُرمحبت جذبے کے تحت ادا کِیا جانا چاہئے۔–‏۱-‏کرنتھیوں ۷:‏۳-‏۵‏۔‏

‏[‏صفحہ ۱۵۴ پر تصویر]‏

مسائل کو جلد حل کر لیں۔ اپنی اشتعال‌انگیز حالت کے ساتھ سورج غروب نہ ہونے دیں

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں