باب ایک
کیا خاندانی خوشی کا کوئی راز ہے؟
۱. انسانی معاشرے میں مستحکم خاندان کیوں اہم ہیں؟
خاندان زمین پر قدیمترین ادارہ ہے، اور یہ انسانی معاشرے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پوری تاریخ کے دوران، مستحکم خاندانوں نے مستحکم معاشرے تشکیل دینے میں مدد دی ہے۔ پُختہ بالغ بننے کیلئے بچوں کی پرورش کرنے کی خاطر خاندان بہترین انتظام ہے۔
۲-۵. (ا) اُس تحفظ کی وضاحت کریں جو ایک بچہ خوشحال خاندان میں محسوس کرتا ہے۔ (ب) بعض خاندانوں سے کن مسائل کی رپورٹ ملی ہے؟
۲ ایک خوشحال خاندان تحفظ اور سلامتی کا گہوارہ ہے۔ لمحہبھر کیلئے مثالی خاندان کا تصور کریں۔ اپنے شام کے کھانے کے دوران، خیال رکھنے والے والدین اپنے بچوں کیساتھ بیٹھتے اور دِنبھر کے واقعات پر باتچیت کرتے ہیں۔ بچے جوشوخروش سے باتیں کرتے ہیں جب وہ سکول میں واقع ہونے والی باتوں کی بابت اپنی ماں یا باپ کو بتاتے ہیں۔ آرام کرنے کیلئے اکٹھے گزارہ گیا وقت ہر ایک کو گھر سے باہر ایک اَور دن کیلئے تازہدم کرتا ہے۔
۳ ایک خوشحال خاندان میں، بچہ جانتا ہے کہ جب وہ بیمار پڑتا ہے تو اُس کی ماں اور باپ شاید اُس کے سرہانے رات کے دوران باری باری اُس کی تیمارداری کرینگے۔ وہ جانتا ہے کہ وہ اپنی ناتجربہکار زندگی کے مسائل کیساتھ اپنی ماں یا باپ کے پاس جا سکتا اور مشورت اور مدد حاصل کر سکتا ہے۔ جیہاں، بچہ اپنے والدین کیساتھ محفوظ محسوس کرتا ہے خواہ باہر کی دُنیا مسائل سے کتنی ہی بھری پڑی ہو۔
۴ جب بچے جوان ہو جاتے ہیں تو وہ عموماً شادی کر لیتے ہیں اور اُنکا ایک اپنا خاندان ہوتا ہے۔ ایک مشرقی ضربالمثل بیان کرتی ہے، ”جب ایک شخص کا اپنا بچہ ہوتا ہے تو اُسے احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنے والدین کا کسقدر مقروض ہے۔“ محبت اور احسانمندی کے گہرے احساس کیساتھ، بالغ بچے اپنے ذاتی خاندانوں کو خوشحال بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ اِس وقت بوڑھے والدین کی دیکھبھال بھی کرتے ہیں، جو اسباط کی صحبت سے خوش ہوتے ہیں۔
۵ شاید اِس وقت آپ سوچ رہے ہیں: ’ہاں، مَیں اپنے خاندان سے محبت رکھتا ہوں، لیکن یہ ویسا نہیں ہے جس کا ابھی ذکر کِیا گیا ہے۔ میرے اور میری رفیقِحیات کے مختلف جدوَل ہیں اور بمشکل ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ ہم زیادہتر پیسے کے مسائل پر ہی باتچیت کرتے ہیں۔‘ یا آپ کہتے ہیں، ’میرے بچے اور اسباط ایک دوسرے قصبے میں رہتے ہیں، اور مجھے اُن سے ملنے کا کبھی موقع ہی نہیں ملتا؟‘ جیہاں، ایسی حالتوں کا سامنا کرنے والوں کی، اکثر قابو سے باہر وجوہات کی بِنا پر، عام طور پر خاندانی زندگی مثالی نہیں ہے۔ اِسکے باوجود، بعض لوگ خوشحال خاندانی زندگیاں گزارتے ہیں۔ کیسے؟ کیا خاندانی خوشی کا کوئی راز ہے؟ جواب ہے جیہاں۔ لیکن یہ بحث کرنے سے پہلے کہ یہ ہے کیا، ہمیں ایک اہم سوال کا جواب دینا چاہئے۔
ایک خاندان کیا ہے؟
۶. اِس کتاب میں کس قسم کے خاندانوں پر بحث کی جائیگی؟
۶ مغربی ممالک میں، بیشتر خاندان باپ، ماں اور بچوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ دادا دادی یا نانا نانی شاید اپنے ذاتی گھروں میں رہتے ہیں جبتککہ وہ رہ سکتے ہیں۔ اگرچہ زیادہ دُور کے رشتےداروں کے ساتھ رابطہ تو رکھا جاتا ہے، لیکن اِن کے سلسلے میں ذمہداریاں محدود ہوتی ہیں۔ بنیادی طور پر، یہی مرکزی خاندان ہے جس پر ہم اِس کتاب میں بحث کرینگے۔ تاہم، حالیہ برسوں میں دیگر قسم کے خاندان بھی کافی عام ہو گئے ہیں–سنگل پیرنٹ فیملی [والدین میں سے ایک (ماں یا باپ) پر مشتمل خاندان]، سوتیلا خاندان، اور ایسا خاندان جس میں والدین کسی نہ کسی وجہ سے اکٹھے نہیں رہتے۔
۷. توسیعی خاندان کیا ہے؟
۷ بعض تہذیبوں میں توسیعی خاندان عام ہے۔ اِس بندوبست میں، اگر ممکن ہو تو بڑے بوڑھوں کی دیکھبھال حسبِمعمول اُنکے بچے کرتے ہیں، اور قریبی تعلقات اور ذمہداریوں کو دُور کے رشتےداروں تک بڑھا دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، شاید خاندان کے افراد اپنے بھائی بہنوں کے بچوں، یا زیادہ دُور کے رشتےداروں کی معاونت، پرورش کرنے اور تعلیم کے اخراجات برداشت کرنے میں بھی مدد کرتے ہیں۔ اِس اشاعت میں زیرِبحث آنے والے اصولوں کا اطلاق توسیعی خاندانوں پر بھی ہوتا ہے۔
دباؤ کے تحت خاندان
۸، ۹. بعض ممالک میں کونسے مسائل یہ ظاہر کرتے ہیں کہ خاندان میں تبدیلی آ رہی ہے؟
۸ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آجکل خاندان کی حالت بدلتی جا رہی ہے–بہتری کے لئے نہیں۔ ایک مثال بھارت سے دیکھی گئی ہے، جہاں ایک بیوی شاید اپنے شوہر کے خاندان کے ساتھ رہتی ہے اور گھر میں اپنی ساس سُسر کے زیرِہدایت کام کرتی ہے۔ تاہم، آجکل، بھارتی بیویوں کیلئے گھر سے باہر ملازمت تلاش کرنا غیرمعمولی بات نہیں ہے۔ پھربھی ظاہراً اُن سے گھر میں اپنے روایتی کردار ادا کرنے کی بھی توقع کی جاتی ہے۔ متعدد ممالک میں اُٹھایا جانے والا سوال یہ ہے کہ خاندان کے دیگر افراد کے مقابلے میں باہر ملازمت کرنے والی عورت سے گھر کے اندر کتنا کام کرنے کی توقع کی جانی چاہئے؟
۹ مشرقی معاشروں میں، مضبوط توسیعی خاندانی تعلقات روایتی ہیں۔ تاہم، مغربی طرز کی انفرادیت اور معاشی مسائل کے دباؤ کے زیرِاثر، روایتی توسیعی خاندان کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ اِسلئے، بہتیرے لوگ خاندان کے عمررسیدہ افراد کی دیکھبھال کو ایک فرض یا استحقاق کے طور پر خیال کرنے کی بجائے ایک بوجھ سمجھتے ہیں۔ بعض عمررسیدہ والدین کیساتھ بدسلوکی کی جاتی ہے۔ واقعی، بوڑھوں سے بدسلوکی اور بےاعتنائی آجکل بہت سے ممالک میں عام ہے۔
۱۰، ۱۱. کونسے حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ یورپی ممالک میں خاندان میں تبدیلی آ رہی ہے؟
۱۰ طلاقبازی بڑی تیزی سے عام ہوتی جا رہی ہے۔ سپینؔ میں ۲۰ ویں صدی کے آخری دہے کے شروع سے طلاق کی شرح ۸ شادیوں میں سے ۱ تک بڑھ گئی–صرف ۲۵ سال پہلے ۱۰۰ میں سے ۱، ایک بڑی جَست۔ رپورٹ کے مطابق یورپ میں طلاق کی بلندترین شرح برؔطانیہ میں ہے (۱۰ میں سے ۴ شادیوں کے ناکام ہونے کی توقع کی جاتی ہے)، والدین میں سے ایک پر مشتمل خاندانوں کی تعداد میں اضافہ اچانک سامنے آیا ہے۔
۱۱ جرمنیؔ میں بہتیرے لوگ روایتی خاندان کو یکسر ترک کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ۱۹۹۰ کے دہے نے تمام جرمن گھرانوں کے ۳۵فیصد کو ایک فرد پر مشتمل اور ۳۱فیصد کو صرف دو اشخاص پر مشتمل دیکھا۔ فرانسیسی بھی اکثر کم شادیاں کرتے ہیں، اور جو شادی کرتے بھی ہیں پہلے کی نسبت اَور زیادہ جلدی طلاق دیتے ہیں۔ لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد شادی کی ذمہداریوں کے بغیر اکٹھے رہنے کو ترجیح دیتی ہے۔ اِسی طرح کے رجحانات تمام دُنیا میں دکھائی دیتے ہیں۔
۱۲. جدید خاندان میں تبدیلیوں کی وجہ سے بچے کس طرح تکلیف اُٹھاتے ہیں؟
۱۲ بچوں کی بابت کیا ہے؟ ریاستہائے متحدہ اور بہت سے دیگر ممالک میں، زیادہ سے زیادہ بچے شادی کے بندھن کے بغیر پیدا ہوتے ہیں، بعض کم سِن نوعمروں سے۔ بہت سی نوعمر لڑکیاں کئی ایک بچے پیدا کرتی ہیں جنکے والد مختلف ہوتے ہیں۔ تمام دُنیا سے رپورٹیں ظاہر کرتی ہیں کہ لاکھوں بےخانماں بچے سڑکوں پر مارے مارے پھرتے ہیں؛ بہتیرے بدسلوکی کرنے والے گھروں سے بھاگے ہوئے ہیں یا ایسے خاندانوں سے نکال دئیے گئے ہیں جو مزید اُنکی کفالت نہیں کر سکتے۔
۱۳. کونسے عام مسائل خاندانوں کی خوشی چھین لیتے ہیں؟
۱۳ جیہاں، خاندان بحران کا شکار ہے۔ جو کچھ پہلے بیان کِیا گیا ہے اُس کے علاوہ، عنفوانِشباب کی بغاوت، بچوں کیساتھ بدسلوکی، رفیقِحیات کیطرف سے تشدد، شرابخواری، اور دیگر تباہکُن مسائل بہت سے خاندانوں کی خوشی چھین لیتے ہیں۔ بچوں اور بالغوں کی بڑی تعداد کیلئے، خاندان جائےتحفظ ہونے سے کہیں بعید ہے۔
۱۴. (ا) بعض لوگوں کے مطابق، خاندانی بحران کی کیا وجوہات ہیں؟ (ب) پہلی صدی کے ایک وکیل نے آجکل کی دُنیا کو کیسے بیان کِیا، اور اُسکے الفاظ کی تکمیل کا خاندانی زندگی پر کیا اثر پڑا ہے؟
۱۴ خاندانی بحران کیوں؟ بعض موجودہ خاندانی بحران کا الزام عورت کے ملازمت کے میدان میں اُترنے پر لگاتے ہیں۔ دیگر آجکل کی اخلاقی تنزلی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اور مزید وجوہات بھی بیان کی گئی ہیں۔ تقریباً دو ہزار سال پہلے، ایک مشہور وکیل نے پیشگوئی کی کہ بہت سے دباؤ خاندان پر مشکل لائینگے، جب اُس نے لکھا: ”اخیر زمانہ میں بُرے دن آئیں گے۔ کیونکہ آدمی خودغرض۔ زردوست۔ شیخیباز، مغرور۔ بدگو۔ ماںباپ کے نافرمان۔ ناشکر۔ ناپاک۔ طبعی محبت سے خالی۔ سنگدل۔ تہمت لگانے والے۔ بےضبط۔ تند مزاج۔ نیکی کے دشمن۔ دغاباز۔ ڈھیٹھ۔ گھمنڈ کرنے والے۔ خدا کی نسبت عیشوعشرت کو زیادہ دوست رکھنے والے ہونگے۔“ (۲-تیمتھیس ۳:۱-۴) کیا کوئی شک کریگا کہ یہ الفاظ آجکل تکمیلپذیر ہیں؟ ایسی حالتوں والی دُنیا میں، کیا یہ کوئی حیرانی کی بات ہے کہ بہت سے خاندان بحران کا شکار ہیں؟
خاندانی خوشی کا راز
۱۵-۱۷. اِس کتاب میں، کس بااختیار ہستی کی طرف توجہ مبذول کرائی جائے گی جس کے پاس خاندانی خوشی کا راز ہے؟
۱۵ خاندان میں خوشی کیسے حاصل کریں اِسکی بابت مشورت ہر طرف سے پیش کی جاتی ہے۔ مغرب میں عملی ہدایت اور نصیحت فراہم کرنے والی کُتب اور رسائل کا غیرمختتم سلسلہ مشورت پیش کرتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ انسانی مشیر ایک دوسرے کی تردید کرتے ہیں، اور جو مشورت آج عملی ہے کل ناقابلِعمل خیال کی جا سکتی ہے۔
۱۶ لہٰذا، ہم قابلِاعتماد خاندانی راہنمائی کہاں تلاش کر سکتے ہیں؟ ہاں تو، کیا آپ کوئی ۱،۹۰۰ سال پہلے مکمل ہونے والی کتاب سے توقع رکھیں گے؟ یا کیا آپ محسوس کریں گے کہ اِس طرح کی کتاب مکمل طور پر متروک ہوگی؟ سچ تو یہ ہے کہ خاندانی خوشی کا حقیقی راز اِسی طرح کے ماخذ میں پایا جاتا ہے۔
۱۷ وہ ماخذ بائبل ہے۔ تمامتر ثبوت کے مطابق، خدا خود اِس کا الہام بخشنے والا ہے۔ بائبل میں ہم درجذیل بیان پاتے ہیں: ”ہر ایک صحیفہ جو خدا کے الہام سے ہے تعلیم اور الزام اور اصلاح اور راستبازی میں تربیت کرنے کیلئے فائدہمند بھی ہے۔“ (۲-تیمتھیس ۳:۱۶) اِس اشاعت میں ہم آپکی حوصلہافزائی کرینگے کہ آجکل خاندانوں کو درپیش دباؤ اور مسائل کا مقابلہ کرتے وقت غور کریں کہ ’اصلاح کرنے‘ میں بائبل آپکی مدد کیسے کر سکتی ہے۔
۱۸. شادی کے سلسلے میں مشورت کے طور پر بائبل کو ایک سند کے طور پر تسلیم کرنا کیوں معقول ہے؟
۱۸ اگر آپ اِس امکان کو مسترد کرنے کی طرف مائل ہیں کہ بائبل خاندانوں کو خوشحال بنانے میں مدد فراہم کر سکتی ہے تو اِس بات پر غور کریں: جس نے بائبل کا الہام بخشا وہی شادی کے بندوبست کا بانی ہے۔ (پیدایش ۲:۱۸-۲۵) بائبل بیان کرتی ہے کہ اُس کا نام یہوؔواہ ہے۔ (زبور ۸۳:۱۸) وہ خالق اور ’باپ‘ ہے ’جس سے آسمان اور زمین کا ہر خاندان نامزد ہے۔‘ (افسیوں ۳:۱۴، ۱۵) یہوؔواہ نے نوعِانسانی کے آغاز ہی سے خاندانی زندگی کا مشاہدہ کِیا ہے۔ وہ اُن مسائل سے واقف ہے جو پیدا ہو سکتے ہیں اور اُنہیں حل کرنے کیلئے مشورت دی ہے۔ پوری تاریخ کے دوران، جنہوں نے اپنی خاندانی زندگی میں خلوصدلی سے بائبل اصولوں کا اطلاق کِیا ہے اُنہوں نے زیادہ خوشی حاصل کی ہے۔
۱۹-۲۱. شادی کے مسائل کو حل کرنے کے سلسلے میں بائبل کی قوت کی بابت جدید تجربات کیا ظاہر کرتے ہیں؟
۱۹ مثال کے طور پر، اؔنڈونیشیا میں ایک خاتونِخانہ بڑی زبردست قمارباز تھی۔ سالہاسال تک اُس نے اپنے تین بچوں سے غفلت برتی اور اپنے شوہر سے مستقل جھگڑتی رہتی تھی۔ ایسی صورتحال میں اُس نے بائبل کا مطالعہ شروع کر دیا۔ جوکچھ بائبل نے بیان کِیا ہے وہ خاتون بتدریج اُس پر ایمان لے آئی۔ جب اُس نے اُسکی مشورت کا اطلاق کِیا تو وہ ایک بہتر بیوی بن گئی۔ بائبل اصولوں پر مبنی، اُسکی کاوشیں، اُسکے پورے خاندان کیلئے بڑی خوشی کا سبب بنیں۔
۲۰ سپینؔ سے ایک خاتونِخانہ بیان کرتی ہے: ”ہماری شادی کو ابھی ایک سال ہوا تھا کہ ہم سنگین مسائل سے دوچار ہو گئے۔“ اُسکی اور اُسکے شوہر کی بیشتر باتیں مشترک نہیں تھیں اور وہ بہت کم باتچیت کرتے ماسوائے اُس وقت جب وہ جھگڑتے تھے۔ ایک چھوٹی بیٹی ہونے کے باوجود بھی، اُنہوں نے باضابطہ علیٰحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ تاہم، اِس سے پیشتر کہ یہ واقع ہوتا اُنکی حوصلہافزائی کی گئی کہ بائبل کا جائزہ لیں۔ اُنہوں نے شادیشُدہ مردوں اور عورتوں کیلئے اِسکی مشورت کا مطالعہ کِیا اور اِسکا اطلاق کرنا شروع کر دیا۔ جلد ہی وہ پُرامن طور پر باتچیت کر سکتے تھے اور اُنکا چھوٹا سا خاندان پُرمسرت طور پر متحد ہو گیا۔
۲۱ بائبل عمررسیدہ لوگوں کی بھی مدد کرتی ہے۔ مثال کے طور پر، ایک جاپانی جوڑے کے تجربے پر غور کریں۔ شوہر تُندمزاج تھا اور بعضاوقات متشدّد بھی۔ پہلے اِس جوڑے کی بیٹیوں نے اپنے والدین کی مخالفت کے باوجود بائبل کا مطالعہ کرنا شروع کِیا۔ اِسکے بعد، شوہر بیٹیوں کے ساتھ شامل ہو گیا، لیکن بیوی نے مخالفت جاری رکھی۔ تاہم، سالوں کے دوران، اُس نے اپنے خاندان پر بائبل اصولوں کے اچھے اثر کو دیکھا۔ اُسکی بیٹیوں نے اُسکا خوب خیال رکھا، اور اُس کا شوہر نہایت نرممزاج بن گیا۔ ایسی تبدیلیوں نے عورت کو اپنے طور پر بائبل کا جائزہ لینے کی تحریک دی، اور اِسکا اُس پر ویسا ہی اچھا اثر ہوا۔ اِس عمررسیدہ خاتون نے بارہا بیان کِیا: ”ہم حقیقی شادیشُدہ جوڑا بن گئے۔“
۲۲، ۲۳. اپنی خاندانی زندگی میں خوشی حاصل کرنے کے لئے بائبل تمام قومی پسمنظر کے لوگوں کی مدد کیسے کرتی ہے؟
۲۲ یہ افراد اُس جمِغفیر میں شامل ہیں جنہوں نے خاندانی خوشی کا راز معلوم کر لیا ہے۔ اُنہوں نے بائبل کی مشورت کو قبول کِیا ہے اور اِسکا اطلاق کِیا ہے۔ یہ سچ ہے کہ وہ بھی سب کی طرح اِسی متشدّد، بداخلاق، معاشی دباؤ کے تحت دُنیا میں رہتے ہیں۔ علاوہازیں، وہ ناکامل ہیں، لیکن وہ خاندانی بندوبست کے بانی کی مرضی بجا لانے کی کوشش کرنے میں خوشی پاتے ہیں۔ جیسےکہ بائبل بیان کرتی ہے، یہوؔواہ خدا ہی ہے جو ”تجھے مفید تعلیم دیتا [ہے] اور تجھے اُس راہ میں جس میں تجھے جانا ہے لے چلتا [ہے]۔“–یسعیاہ ۴۸:۱۷۔
۲۳ اگرچہ بائبل تقریباً دو ہزار سال پہلے مکمل ہوئی تھی، توبھی اِس کی مشورت واقعی جدید ہے۔ علاوہازیں، اِسے تمام لوگوں کے لئے لکھا گیا تھا۔ بائبل کوئی امریکی یا مغربی کتاب نہیں ہے۔ یہوؔواہ نے ”ایک ہی اصل سے آدمیوں کی ہر ایک قوم . . . پیدا کی،“ اور وہ سب جگہ کے انسانوں کی ساخت سے واقف ہے۔ (اعمال ۱۷:۲۶) بائبل اصول ہر ایک کیلئے کارگر ثابت ہوتے ہیں۔ اگر آپ اُن کا اطلاق کرتے ہیں تو آپ کو بھی خاندانی خوشی کا راز معلوم ہو جائے گا۔
کیا آپ اِن سوالوں کا جواب دے سکتے ہیں؟
آجکل خاندان کیساتھ کیا واقع ہو رہا ہے؟–۲-تیمتھیس ۳:۱-۴۔
خاندانی بندوبست کا آغاز کس نے کِیا؟–افسیوں ۳:۱۴، ۱۵۔
خاندانی خوشی کا راز کیا ہے؟–یسعیاہ ۴۸:۱۷۔
[صفحہ ۴ پر صرف تصویر ہے]