کہانی نمبر ۱۶
اِضحاق کی شادی
تصویر کو دیکھیں۔ کیا آپ کو پتہ ہے کہ یہ لڑکی کون ہے؟ اِس کا نام رِبقہ ہے۔ رِبقہ جس آدمی کی طرف جا رہی ہیں، وہ اِضحاق ہیں۔ رِبقہ اور اِضحاق کی شادی ہونے والی ہے۔ آئیں، دیکھتے ہیں کہ اِن دونوں کا رشتہ کیسے ہوا۔
ابرہام ملک کنعان میں رہتے تھے۔ وہاں کے لوگ بُتوں کی پوجا کرتے تھے۔ اِس لئے ابرہام نہیں چاہتے تھے کہ اِضحاق وہاں کی کسی لڑکی سے شادی کریں۔ وہ چاہتے تھے کہ اُن کے بیٹے اِضحاق کی شادی ایک اچھی لڑکی سے ہو۔ اِس لئے ابرہام نے اپنے نوکر سے کہا کہ ”حاران جاؤ۔ وہاں میرے رشتہدار رہتے ہیں۔ اُن کی کسی لڑکی کو لاؤ تاکہ اِضحاق اُس سے شادی کرے۔“
ابرہام کے نوکر نے دس اُونٹ لئے اور فوراً روانہ ہو گئے۔ ایک لمبے سفر کے بعد وہ اُس جگہ پہنچ گئے جہاں ابرہام کے رشتہدار رہتے تھے۔ وہاں ایک چشمہ اور بہت بڑا کنواں تھا۔ شام کا وقت تھا اور عورتیں پانی بھرنے کے لئے کنویں پر آ رہی تھیں۔ ابرہام کے نوکر نے یہوواہ خدا سے یہ دُعا کی: ”اے خدا! میری مدد کر۔ جس لڑکی سے تُو چاہتا ہے کہ اِضحاق کی شادی ہو، وہ مجھے اور میرے اُونٹوں کو پانی پلائے۔“
اُسی وقت رِبقہ پانی بھرنے کے لئے کنویں پر آئیں۔ جب ابرہام کے نوکر نے رِبقہ سے پانی مانگا تو رِبقہ نے اُن کو پانی پلایا۔ پھر رِبقہ نے اُونٹوں کو بھی پانی پلایا۔ اُن کو باربار پانی بھرنا پڑا کیونکہ اُونٹ بہت پیاسے تھے۔ رِبقہ بہت محنتی تھیں، ہےنا؟
جب رِبقہ نے سارے اُونٹوں کو پانی پلا دیا تو ابرہام کے نوکر نے اُن سے پوچھا کہ ”بیٹی! تمہارے ابو کا کیا نام ہے؟ کیا مَیں تمہارے ابو کے گھر رات رُک سکتا ہوں؟“ رِبقہ نے اُن سے کہا کہ ”میرے ابو کا نام بیتوایل ہے اور ہمارے گھر میں بہت جگہ ہے۔ آپ ہمارے ساتھ رہ سکتے ہیں۔“ ابرہام کے نوکر کو پتہ تھا کہ بیتوایل، ابرہام کے بھائی نحور کے بیٹے تھے۔ اب وہ جان گئے کہ یہوواہ خدا نے اُن کو ابرہام کے رشتہداروں کے پاس پہنچا دیا ہے۔ اِس لئے اُنہوں نے یہوواہ خدا کو سجدہ کِیا اور اُس کا شکریہ ادا کِیا۔
رات کو ابرہام کے نوکر نے بیتوایل اور رِبقہ کے بھائی لابن کو بتایا کہ وہ اُن سے ملنے کیوں آئے ہیں۔ رِبقہ کے ابو اور بھائی نے رشتہ قبول کر لیا۔ پھر جب اُنہوں نے رِبقہ سے پوچھا تو اُنہوں نے بھی شادی کے لئے ہاں کر دی۔ اگلی صبح ابرہام کے نوکر اور رِبقہ ملک کنعان کو روانہ ہو گئے۔
جب وہ کنعان پہنچے تو شام کا وقت تھا۔ رِبقہ نے دیکھا کہ ایک آدمی میدان میں سیر کر رہا ہے۔ وہ اِضحاق تھے۔ اِضحاق، رِبقہ کو دیکھ کر خوش ہوئے۔ اِضحاق کی امی تین سال پہلے مر گئی تھیں۔ اِس لئے اِضحاق دُکھی رہتے تھے۔ لیکن اب اُن کو رِبقہ سے پیار ہو گیا اور وہ خوش رہنے لگے۔