کہانی نمبر ۱۲
ایک بہت بڑا مینار
بہت سال گزر گئے۔ نوح کے بیٹوں کے بہت سے بچے ہوئے۔ اور جب یہ بچے بڑے ہوئے تو اُن کے بھی بچے ہوئے۔ اب زمین پر بہت سے لوگ ہو گئے تھے اور سب لوگ ایک ہی زبان بولتے تھے۔
نوح کے ایک پڑپوتے کا نام نمرود تھا۔ نمرود بہت بُرے آدمی تھے کیونکہ وہ انسانوں کو مار ڈالتے تھے اور جانوروں کا شکار کرتے تھے۔ نمرود چاہتے تھے کہ سب لوگ اُن کی بات مانیں۔ اِس لئے اُنہوں نے اپنے آپ کو بادشاہ بنا لیا۔ خدا نمرود کو ذرا بھی پسند نہیں کرتا تھا۔
نمرود چاہتے تھے کہ سب لوگ ایک ہی جگہ پر رہیں تاکہ وہ اُن پر حکومت کر سکیں۔ اِس لئے اُنہوں نے لوگوں سے کہا کہ ”ایک شہر بناؤ اور اِس میں ایک بڑا سا مینار بناؤ۔“ تصویر کو دیکھیں، لوگ اینٹیں بنا رہے ہیں۔
لیکن یہوواہ خدا یہ نہیں چاہتا تھا کہ سب لوگ ایک ہی جگہ پر رہیں۔ وہ چاہتا تھا کہ لوگ پوری زمین پر پھیل جائیں۔ لیکن لوگوں نے خدا کی بات نہیں مانی۔ اُنہوں نے کہا کہ ”آؤ، ہم اپنے لئے شہر بنائیں اور اُس میں ایک مینار بنائیں جس کی چوٹی آسمان جتنی اُونچی ہو۔ پھر ہم بہت مشہور ہو جائیں گے۔“ یہ لوگ چاہتے تھے کہ دوسرے لوگ اُن کی تعریف کریں۔ وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ لوگ خدا کی تعریف کریں۔
خدا نے لوگوں کو مینار بنانے سے روک دیا۔ کیا آپ کو پتہ ہے کہ خدا نے یہ کیسے کِیا؟ پہلے تو لوگ ایک زبان بولتے تھے لیکن اچانک وہ الگالگ زبانیں بولنے لگے۔ اب وہ ایک دوسرے کی بات نہیں سمجھ سکتے تھے۔ اِس وجہ سے شہر میں گڑبڑ مچ گئی۔ اِسی لئے اُن کے شہر کا نام بابل رکھا گیا۔ لفظ بابل کا مطلب ہے: گڑبڑ۔
اب بہت سے لوگوں نے شہر بابل چھوڑ دیا۔ وہ دوسری جگہوں میں جا کر رہنے لگے۔ جو لوگ ایک جیسی زبان بولتے تھے، وہ مل کر ایک جگہ رہنے لگے۔