یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو 8/‏10/‏00 ص.‏ 12-‏14
  • کیا مجھے بیرونِ‌مُلک چلے جانا چاہئے؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • کیا مجھے بیرونِ‌مُلک چلے جانا چاہئے؟‏
  • جاگو!‏—‏2000ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • اپنے محرکات کا جائزہ لیں
  • کیا آپ تیار ہیں؟‏
  • حقائق دریافت کریں!‏
  • فیصلہ کرنا
  • ‏’‏پار اُتر کر مکدنیہ میں آئیں‘‏
    ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۲۰۱۱
  • کیا آپ غیرملکی میدان میں خدمت انجام دے سکتے ہیں؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • نوجوانو!‏ یہوواہ کے لائق چال چلیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2003ء
جاگو!‏—‏2000ء
جاگو 8/‏10/‏00 ص.‏ 12-‏14

نوجوان لوگ پوچھتے ہیں .‏ .‏ .‏

کیا مجھے بیرونِ‌مُلک چلے جانا چاہئے؟‏

‏”‏میں کسی دوسری جگہ رہنا چاہتا تھا۔“‏—‏سیم۔‏

‏”‏مَیں صرف متجسس تھی۔ مَیں کوئی نئی چیز دیکھنا چاہتی تھی۔“‏—‏میرین۔‏

‏”‏ایک قریبی دوست نے مجھے بتایا کہ کبھی‌کبھار گھر سے دُور رہنا اچھا ہوتا ہے۔“‏—‏اینڈرئیس۔‏

‏”‏مجھے مہم‌جوئی کا بہت شوق تھا۔“‏—‏ہیگن۔‏

کیا آپ نے کبھی عارضی طور پر بھی کسی دوسرے مُلک میں رہنے کا سوچا ہے؟ ہر سال ہزاروں نوجوان لوگ ایسا کرتے ہیں۔ اجنبی مُلک میں اپنے تجربے کی بابت اینڈرئیس بیان کرتا ہے:‏ ”‏مَیں دوبارہ ایسا کرنا چاہوں گا۔“‏

بعض نوجوان پیسہ کمانے یا غیرملکی زبان سیکھنے کی غرض سے عارضی طور پر نقل‌مکانی کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، کئی ایک ممالک میں او پیئر پروگرام [‏کسی غیرملکی کا اجنبی ملک میں کسی کے گھر میں رہ کر طعام‌وقیام کے عوض گھریلو کام‌کاج کرکے خاندان کی زبان سیکھنے کا پروگرام]‏ بڑے مقبول ہیں۔ اِن کی مدد سے غیرملکی نوجوانوں کو کسی خاندان کیلئے گھر کا کام کرنے کے عوض طعام‌وقیام کی سہولت حاصل ہونے کے علاوہ اپنا باقیماندہ وقت مقامی زبان سیکھنے میں صرف کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ ایسے نوجوان بھی ہیں جو تعلیم حاصل کرنے کیلئے بیرونِ‌ملک چلے جاتے ہیں۔ دیگر کام کی تلاش میں نقل‌مکانی کرتے ہیں تاکہ وہ مالی طور پر اپنے خاندانوں کی مدد کر سکیں۔ اس کے علاوہ جن لوگوں کا فارغ‌التحصیل ہونے کے بعد کوئی منصوبہ نہیں ہوتا وہ محض تفریح کی خاطر بیرونِ‌ملک چلے جاتے ہیں۔‏

دلچسپی کی بات ہے کہ بعض مسیحی نوجوان اپنی خدمتگزاری کو وسیع کرنے کی خاطر ایسے ممالک میں منتقل ہو گئے ہیں جہاں مبشروں کی قلّت ہے۔ نقل‌مکانی کی وجہ خواہ کچھ بھی ہو، ایک خودمختار نوجوان کے طور پر اجنبی ملک میں رہنا سبق‌آموز ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ آپکے ثقافتی تجربے کی وسعت میں خاطرخواہ اضافہ کر سکتا ہے۔ آپ شاید کسی غیرملکی زبان پر عبور حاصل کر لیں جسکی بدولت آپ کیلئے ملازمت کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔‏

تاہم، کسی دوسرے ملک میں رہنا ہمیشہ اچھا تجربہ ثابت نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر، سوزین نے متبادل طالبعلم کے طور پر ایک سال گزارا۔ وہ کہتی ہے:‏ ”‏مجھے پورا یقین تھا کہ یہ شروع سے آخر تک نہایت دلچسپ تجربہ ثابت ہوگا۔ مگر ایسا نہیں تھا۔“‏ بعض نوجوانوں کا استحصال کِیا گیا ہے یا پھر اُنہیں سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ لہٰذا، رخت‌سفر باندھنے سے پہلے اس کے فوائدونقصانات پر غور کرنا دانشمندی ہوگی۔‏

اپنے محرکات کا جائزہ لیں

فوائدونقصانات پر غور کرنے میں یقیناً بیرونِ‌ملک جانے کے اپنے محرکات کی جانچ کرنا بھی شامل ہے۔ روحانی مفادات یا خاندانی ذمہ‌داریوں کو پورا کرنے کے لئے سفر کرنا الگ بات ہے۔ مگر جن نوجوانوں کا شروع میں ذکر کِیا گیا ہے اُن کی مانند بیشتر لوگ محض مہم‌جوئی، خودمختاری یا سیروتفریح کی غرض سے نقل‌مکانی کرنا چاہتے ہیں۔ یہ غلط تو نہیں ہے۔ بہرحال، واعظ ۱۱:‏۹ نوجوانوں کی حوصلہ‌افزائی کرتی ہے کہ ’‏اپنی جوانی میں خوش ہوں۔‘‏ تاہم، ۱۰ آیت آگاہ کرتی ہے:‏ ”‏غم کو اپنے دل سے دُور کر اور بدی اپنے جسم سے نکال ڈال کیونکہ لڑکپن اور جوانی دونوں باطل ہیں۔“‏

تاہم اگر بیرونِ‌ملک جانے کا محرک والدین کی پابندیوں سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے تو شاید آپ ”‏بدی“‏ کو دعوت دے رہے ہیں۔ کیا آپکو یسوع کی مسرف بیٹے والی تمثیل یاد ہے؟ اس میں متذکرہ نوجوان بدیہی طور پر زیادہ آزادی حاصل کرنے کی خاطر، خودغرضانہ طور پر اپنا گھر چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔ تاہم، جلد ہی اُس پر مصیبت آن پڑتی ہے اور وہ بھوک، غربت اور روحانی علالت کا شکار ہو جاتا ہے۔—‏لوقا ۱۵:‏۱۱-‏۱۶‏۔‏

علاوہ‌ازیں، ایسے لوگ بھی ہیں جو گھریلو مسائل سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے نقل‌مکانی کرتے ہیں۔ اس حوالے سے ہیکی برگ اپنی کتاب واٹس اَپ میں لکھتی ہے، ”‏اگر آپ محض پریشانی کی وجہ سے دُور جانا چاہتے ہیں .‏ .‏ .‏ اور آپ کا خیال ہے کہ دوسری جگہ سب کچھ ٹھیک ہوگا تو یہ محض خام‌خیالی ہے!‏“‏ بہتر یہ ہوگا کہ مسائل کا مقابلہ کریں۔ ناپسندیدہ حالتوں سے فرار اختیار کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔‏

دیگر نقصاندہ محرکات لالچ اور مادہ‌پرستی ہیں۔ دولت کی خواہش سے تحریک پاکر، بیشتر نوجوان ایسے غیرحقیقت‌پسندانہ تصورات میں اُلجھ جاتے ہیں کہ صنعتی ممالک میں زندگی بڑی ٹھاٹ‌باٹ والی ہوگی۔ بعض کے خیال میں تمام مغربی لوگ دولتمند ہوتے ہیں۔ مگر یہ سچ نہیں ہے۔ نقل‌مکانی کرنے کے بعد، بہتیرے نوجوان خود کو ایک اجنبی ملک میں غربت سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے سرتوڑ کوشش کرتے ہوئے پاتے ہیں۔‏a بائبل آگاہ کرتی ہے:‏ ”‏زر کی دوستی ہر قسم کی بُرائی کی جڑ ہے جسکی آرزو میں بعض نے ایمان سے گمراہ ہوکر اپنے دلوں کو طرح طرح کے غموں سے چھلنی کر لیا۔“‏—‏۱-‏تیمتھیس ۶:‏۱۰‏۔‏

کیا آپ تیار ہیں؟‏

ایک اَور پہلو بھی غور طلب ہے:‏ کیا آپ واقعی اتنے پُختہ ہیں کہ بیرونِ‌ملک پیش آنے والی مشکلات، مسائل اور نامساعد حالات کا مقابلہ کر سکیں؟ غالباً آپکو کسی دوسرے خاندان یا روم‌میٹ کیساتھ رہنا اور اُنکے معمول کے مطابق اپنے‌آپ کو ڈھالنا پڑے۔ پس اِس وقت آپ اپنے گھر میں اپنے خاندان کیساتھ کیسے گزربسر کر رہے ہیں؟ کیا آپکے والدین یہ شکایت کرتے ہیں کہ آپ لاپرواہ اور خودپسند ہیں؟ کیا آپ کھانے میں نقص نکالتے ہیں؟ کیا آپ گھر کے کام‌کاج میں ہاتھ بٹاتے ہیں؟ اگر یہ چیزیں اس وقت آپ کیلئے مسئلہ ہیں تو ذرا تصور کریں کہ دوسرے ملک میں جا کر یہ آپ کیلئے کتنی مشکل پیدا کر سکتی ہیں!‏

اگر آپ ایک مسیحی ہیں تو کیا آپ اپنی روحانیت کو برقرار رکھنے کے قابل ہونگے؟ یا کیا آپ کے والدین کو بائبل مطالعے، مسیحی اجلاسوں اور مُنادی کے کام کے سلسلے میں کوتاہی نہ کرنے کی بابت آپکو اکثر یاددہانی کرانی پڑتی ہے؟ کیا آپ روحانی طور پر اتنے مضبوط ہیں کہ بیرونِ‌ملک میں ایسے دباؤ اور آزمائشوں کی مزاحمت کر سکیں جو شاید آپکو اپنے وطن میں درپیش نہیں ہیں؟ ایک اجنبی ملک میں سکول کے پہلے دن ایک مسیحی نوجوان کو جو ایک متبادل طالبعلم کے طور پر دوسرے ملک گیا تھا، یہ بتایا گیا کہ وہ منشیات کہاں سے حاصل کر سکتا ہے۔ بعدازاں اُسکی ایک ہم‌مکتب نے اُسے ڈیٹ پر چلنے کی دعوت دی۔ اس مسیحی نوجوان کے آبائی وطن میں ایک لڑکی کبھی بھی اتنی بے‌باکی سے ایسی بات نہیں کرتی۔ یورپ نقل‌مکانی کرنے والے ایک افریقی لڑکے نے بھی بیان کِیا:‏ ”‏ہمارے ملک میں گندی تصاویر کبھی بھی سرِعام نہیں دیکھی جاتیں۔ لیکن یہاں تو ہر جگہ نظر آتی ہیں۔“‏ اگر ایک شخص ”‏ایمان میں مضبوط“‏ نہیں ہے تو دوسرے ملک نقل‌مکانی کرنا اُس کیلئے روحانی بربادی کا باعث بن سکتا ہے۔—‏۱-‏پطرس ۵:‏۹‏۔‏

حقائق دریافت کریں!‏

نقل‌مکانی کرنے سے پہلے آپکو تمام حقائق جاننے کی ضرورت ہے۔ دوسروں کی باتوں پر نہ جائیں۔ مثال کے طور پر، اگر آپ متبادل طالبعلم کے پروگرام پر غور کر رہے ہیں تو اس پر کتنا خرچ آئیگا؟ آپ شاید یہ جان کر حیران ہوں کہ اس پر اکثر ہزاروں ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ آپکو یہ بھی دریافت کرنے کی ضرورت ہے جو تعلیم آپ بیرونِ‌ملک میں حاصل کرینگے آیا اُسے آپکے ملک میں تسلیم بھی کِیا جائیگا یا نہیں۔ اس کے علاوہ، ملک—‏اُسکے قوانین، ثقافت اور رسم‌ورواج—‏کی بابت زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ وہاں رہنے کے سلسلے میں کتنے اخراجات ہونگے؟ آپکو کونسے ٹیکس ادا کرنے ہونگے؟ آپکو وہاں صحت سے متعلق کن مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے، جنہیں زیرِغور لانا چاہئے؟ جو لوگ وہاں رہ چکے ہیں اُن سے بات‌چیت کرنا بھی آپ کیلئے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔‏

اسکے بعد رہائش کا مسئلہ آتا ہے۔ متبادل طالبعلموں کے میزبان والدین عموماً کسی معاوضے کی توقع نہیں کرتے۔ تاہم، بائبل اُصولوں کا احترام نہ کرنے والے اشخاص کیساتھ قیام کرنا شدید دباؤ اور تناؤ کا باعث بن سکتا ہے۔ اسکی بجائے کسی دوست یا رشتہ‌دار کیساتھ قیام کرنا اچھا ہوگا۔ مگر اُن کیلئے بوجھ بننے سے گریز کریں خواہ وہ آپکو قیام کرنے کیلئے مجبور ہی کیوں نہ کریں۔ یہ اُن کیساتھ آپکے رشتے میں کشیدگی یا دراڑ پیدا کر سکتا ہے۔—‏امثال ۲۵:‏۱۷‏۔‏

اگر آپ بیرونِ‌ملک رہائش کے دوران پیسہ کمانے کا سوچ رہے ہیں تو دُنیاوی حکومتوں کے تابع رہنے کی مسیحی ذمہ‌داری کو نہ بھولیں۔ (‏رومیوں ۱۳:‏۱-‏۷‏)‏ کیا قانون آپکو اُس ملک میں کام کرنے کی اجازت دیتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو کن شرائط کے تحت؟ اگر آپ غیرقانونی طور پر کام کرتے ہیں تو آپ ایک دیانتدار مسیحی کے طور پر اپنے اصولوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ بنیادی تحفظ بھی کھو بیٹھیں گے یعنی آپ ایکسیڈنٹ انشورنس جیسی سہولیات سے محروم ہو جائینگے۔ اگر کام کرنے کی اجازت ہو تو بھی آپکو احتیاط اور ہوشیاری سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ (‏امثال ۱۴:‏۱۵‏)‏ بددیانت آجر اکثر غیرملکی لوگوں سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔‏

فیصلہ کرنا

پس یہ بات تو واضح ہے کہ بیرونِ‌ملک نقل‌مکانی کرنا ایک اہم فیصلہ ہے اور اسے معمولی خیال نہیں کرنا چاہئے۔ اپنے والدین کیساتھ بیٹھ کر متوقع فوائد اور خطرات پر احتیاط کے ساتھ غور کریں۔ کوشش کریں کہ آپ کا جوش آپ کے فہم‌وفراست پر غالب نہ آنے پائے۔ دیانتداری کیساتھ اپنے محرکات کا جائزہ لیں۔ اپنے والدین کی بات کو غور سے سنیں۔ اُن سے کوسوں دُور ہونے کے باوجود وہ آپ کے لئے اپنی ذمہ‌داری محسوس کرینگے۔ گزربسر کرنے کے لئے یقیناً آپ کو اُنکی طرف سے مالی مدد درکار ہوگی۔‏

جب تمام پہلوؤں پر غور کِیا جاتا ہے تو شاید فوراً نقل‌مکانی کرنا زیادہ دانشمندانہ بات دکھائی نہ دے۔ یہ مایوس‌کُن ہو سکتا ہے مگر آپ اَور بہت سے دلچسپ کام کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، کیا آپ نے اپنے ملک کے دلچسپ مقامات کی سیروسیاحت کرنے کی بابت سوچا ہے؟ یا کیوں نہ ابھی سے کوئی دوسری زبان سیکھنا شروع کر دی جائے؟ شاید وقت آنے پر بیرونِ‌ملک جانے کا موقع بھی مل جائے۔‏

تاہم، اگر آپ نقل‌مکانی کا فیصلہ کر ہی لیتے ہیں تو پھر کیا کِیا جا سکتا ہے؟ آپ اویک!‏،‏ جولائی ۲۲، ۲۰۰۰، صفحہ ۲۵-‏۲۷ کے مضمون ‏”‏ہاؤ کین آئی میک سکسیس آف مائے سٹے ابراڈ؟“‏ ‏[‏مَیں بیرونِ‌ملک میں اپنے قیام کو کیسے کامیاب بنا سکتا ہوں؟]‏ سے مفید مشورے اور تجاویز حاصل کر سکتے ہیں۔‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a واچ‌ٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک انکارپوریٹڈ کے شائع‌کردہ اپریل ۱، ۱۹۹۱ کے دی واچ‌ٹاور کے شمارے میں مضمون ”‏متموّل ملک میں نقل‌مکانی کرنے کی لاگت کا حساب لگانا“‏ دیکھیں۔‏

‏[‏صفحہ ۱۳ پر تصویر]‏

بعض نوجوان بادشاہتی مُنادی کو فروغ دینے کیلئے نقل‌مکانی کرتے ہیں

‏[‏صفحہ ۱۴ پر تصویر]‏

نقل‌مکانی کے فوائد اور خطرات کی بابت اپنے والدین سے بات‌چیت کریں

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں