بادشاہتی مناد رپورٹ دیتے ہیں
فرانس میں گواہ سب لوگوں کے پاس جاتے ہیں
جمعہ، جنوری ۲۹، ۱۹۹۹ کی صبح سے لیکر، ویکاینڈ تک جاری رکھتے ہوئے، فرانس میں یہوواہ کے گواہوں نے گرمجوشی سے ایک اشتہار کی ۱۲ ملین کاپیاں گلیکوچوں اور بعدازاں گھروں میں تقسیم کیں جس کا عنوان تھا اَے فرانس کے لوگو، تمہیں گمراہ کِیا جا رہا ہے! ایسی مہم کیوں؟
پیرس میں اس جمعہ کی صبح ایک پریس کانفرنس میں، اس مہم کی وجہ بیان کی گئی۔ ایک گواہ نمائندے نے بیان کِیا: ”آج ہم اپنی بابت سچائی کو آشکارا کرنا اور جو ہتکآمیز بیانات ہماری بابت پھیلائے گئے ہیں انہیں خاموش کرانا چاہتے ہیں۔ ہم تنقید قبول کرنے کیلئے تیار ہیں لیکن ہماری نیکنامی کو نقصان پہنچانے والے جھو ٹے تبصرے ہم مزید برداشت نہیں کریں گے۔“
اگرچہ فرانس میں یہوواہ کے گواہ مسیحی مذہب کی تیسری بڑی اکثریت ہیں تو بھی سکول میں اکثر گواہ بچوں کی توہین کی جاتی ہے اور انہیں مستقل پریشان کِیا جاتا ہے۔ بالغوں نے اپنی ملازمتیں گنوا دیں اور انکے مذہب کی وجہ سے انہیں دھمکایا جاتا ہے۔ آپ یقین نہیں کریں گے کہ جو مذہبی عطیات انہیں حاصل ہوتے ہیں اس پر بھی ۶۰ فیصد ٹیکس عائد کِیا گیا ہے۔ مہم اس امتیاز کیساتھ کیسے نپٹتی ہے؟
اشتہار بیان کرتا ہے: ”فرانس میں رہنے والے ۲،۵۰،۰۰۰ یہوواہ کے گواہ اور انکے رفقاء اس غیرمنصفانہ طریقے کے خلاف احتجاج کرتے ہیں جس سے فرانس میں ۱۹۰۰ سے موجود انکا مسیحی مذہب ۱۹۹۵ سے لیکر خطرناک فرقوں کیساتھ شمار کِیا گیا ہے۔ . . . وہ اس مسلسل پریشانی کے خلاف احتجاج کرتے ہیں جس کا انہیں نشانہ بنایا گیا ہے۔“ فرانس میں گواہوں کے خلاف لگائے جانے والے بہتانآمیز الزامات اور ان پُرفریب طریقوں کو بےنقاب کِیا گیا ہے جن سے سُراغرسانوں نے اُنکی منفی تشہیر کرنے کی کوشش کی تھی۔ اشتہار کا اختتام ان الفاظ کیساتھ ہوتا ہے: ”آجکل دو ملین سے زائد یہوواہ کے گواہ اور انکے رفقاء یورپ میں رہتے ہیں۔ وہ انجیل کی اقدار سربلند رکھتے ہوئے ان حکومتوں کے قوانین کا احترام کرتے ہیں جن کے وہ شہری ہیں۔ فرانس کے لوگو، آپ نے حقائق دیکھ لئے ہیں۔ ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم آپ کے سامنے یہ حقائق پیش کریں!“
فوری، مثبت جوابیعمل
پہلے ہی دِن لاکھوں اشتہار بانٹے گئے۔ صرف پیرس ہی میں، دوپہر تک ۷،۰۰۰ سے زائد گواہوں نے ۳.۱ ملین اشتہار لوگوں کے ہاتھوں میں تھما دئے۔ گلی کوچوں میں اتنے سارے گواہوں کو اشتہار بانٹتے ہوئے دیکھنا یقیناً نئی چیز تھی۔ قومی اور مقامی اخبارات اور ٹیلیویژن سمیت میڈیا نے رابطہ رکھنے کی مہم کیلئے سازگار ردِعمل دکھایا۔ اخبار لی پروگرس دے لےآں نے بیان کِیا: ”یہ قدم . . . ایک لفظ کی بابت غلطفہمی کو سامنے لاتا ہے۔ گزشتہ دس برسوں میں لفظ ’فرقہ‘ نے . . . ٹیڑھا، خطرناک، اور نقصاندہ مفہوم اختیار کر لیا ہے۔ . . . یہوواہ کے گواہ معاشرے کو نقصان پہنچانے والے خطرناک قسم کے لوگ نہیں ہیں۔“
یہوواہ کے گواہوں سے واقف لوگ انکی پُرامن فطرت کی قدر کرتے اور قائمکردہ معاشرتی نظموضبط کے لئے ان کا گہرا احترام کرتے ہیں۔ لہٰذا، بہتیروں نے گلیکوچوں میں اپنی قدردانی کا اظہار کِیا اور مہم میں حصہ لینے والے ہزاروں گواہوں کی حمایت کی۔ لوگوں کی طرف سے ٹیلیفون کالیں، فیکس اور خطوط فوراً موصول ہوئے جن میں اشتہار کے لئے شکرگزاری کا اظہار کِیا گیا تھا۔ سب سے بڑھکر، اس نے خلوصدل اشخاص کو گواہوں کی بابت حقائق جاننے کا موقع دیا جو خودساختہ اور احمقانہ خیالات کو کچلنے کے لئے پیش کئے گئے تھے اور جن کے اعتقادات کی بدگوئی کی گئی تھی وہ اُن باتوں کے لئے اپنے احساسات کا اظہار کرنے کے قابل تھے جو اُن کے نزدیک نہایت اہم ہیں۔