کیا آپ غیرملکی میدان میں خدمت انجام دے سکتے ہیں؟
”مَیں ہمیشہ سے ہی مشنری خدمت شروع کرنے کا خواہاں تھا۔ ایک غیرشادیشدہ شخص کے طور پر مَیں نے ٹیکساس، یو.ایس.اے. میں خدمت شروع کی جہاں مُنادوں کی بہت زیادہ ضرورت تھی۔ شادی کے بعد میری بیوی نے بھی وہاں خدمت شروع کر دی۔ جب ہماری بیٹی پیدا ہوئی تو مَیں نے سوچا، ’بس اب میری خدمتگزاری ختم ہو جائے گی۔‘ لیکن یہوواہ ارادوں کو پورا کرتا ہے خصوصاً وہ ارادے جو اُس کی مرضی سے تعلق رکھتے ہیں۔“—اِس وقت جیسی اپنی بیوی اور تین بچوں کے ساتھ ایکواڈور میں خدمت کرتا ہے۔
”مَیں گلئیڈ اسکول میں مشنری ٹریننگ کے بغیر بیرونِملک خدمت کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتی تھی۔ جب مَیں اپنے بائبل طالبعلموں میں سے کسی کو تقریر پیش کرتے یا مُنادی کرتے دیکھتی تو میرا دل خوشی سے بھر جاتا اور مَیں یہوواہ کا شکر ادا کرتی کہ اُس نے مجھے یہ موقع بخشا۔“—کیرن، ایک غیرشادیشدہ خاتون ہے جس نے جنوبی امریکہ میں آٹھ سال پائنیر خدمت انجام دی۔
”ریاستہائےمتحدہ میں ۱۳ سال تک کُلوقتی خدمت انجام دینے کے بعد مَیں نے اور میری بیوی نے یہ محسوس کِیا کہ ہمیں ایک نیا چیلنج قبول کرنا چاہئے۔ ہم اتنے خوش کبھی نہ تھے؛ یہ واقعی زندگی گزارنے کا ایک نہایت عمدہ طریقہ ہے۔“—ٹوم، اپنی بیوی لنڈا کے ہمراہ ایمیزن کے علاقہ میں پائنیر خدمت سرانجام دے رہا ہے۔
یہ قدردانی کے اظہارات اُن لوگوں کی طرف سے ہیں جنہیں حالات نے مشنری ٹریننگ کے لئے واچٹاور بائبل اسکول آف گلئیڈ سے تربیت حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی۔ تاہم، اُنہوں نے غیرملکی خدمت کرنے کی خوشی اور چیلنج کا تجربہ کِیا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہوا؟ کیا آپ بھی یہ خدمت کر سکتے ہیں؟
درست محرکات کی ضرورت
غیرملکی خدمت میں کامیابی کیلئے مہمجوئی کے جذبہ کے علاوہ اور بھی کچھ درکار ہے۔ جو ثابتقدم رہے ہیں وہ صحیح محرکات کی بِنا پر ایسا کرنے کے قابل ہوئے ہیں۔ پولس رسول کی طرح وہ خود کو نہ صرف خدا بلکہ انسانوں کا بھی قرضدار خیال کرتے ہیں۔ (رومیوں ۱:۱۴) وہ مُنادی کا الہٰی حکم اپنے علاقہ کی خدمتگزاری میں شرکت کرنے سے بھی پورا کر سکتے تھے۔ (متی ۲۴:۱۴) لیکن وہ رحمدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آگے بڑھکر اُن لوگوں کی مدد کرنا چاہتے تھے جنہیں خوشخبری سننے کا موقع نہیں ملا۔
ایک پھلدار علاقے میں کام کرنے کی خواہش اکثر ایک اَور محرک ثابت ہوتا ہے۔—اور یہ موزوں بھی ہے۔ ہم میں سے کون تالاب کے اُس حصہ کے نزدیک جانا پسند نہیں کریگا جہاں کسی ماہیگیر کو کامیابی حاصل ہوئی ہو؟ اِسی طرح دوسرے علاقوں میں غیرمعمولی ترقی کی حوصلہافزا رپورٹ بہتیروں کو تحریک دیتی ہے کہ وہاں جائیں جہاں ”مچھلیوں کا بڑا غول“ موجود ہے۔—لوقا ۵:۴-۱۰۔
لاگت کا حساب لگائیں
بہتیرے ممالک میں غیرملکی مذہبی رضاکاروں کو ملازمت کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ لہٰذا، بیرونِملک خدمت کرنے کے خواہشمند لوگوں کو عموماً مالی طور پر خودکفیل ہونا چاہئے۔ اِس معاشی چیلنج کا مقابلہ کیسے کیا گیا ہے؟ بہتیروں نے ضروری فنڈ حاصل کرنے کیلئے اپنے مکان فروخت کر دئے ہیں یا اُنہیں کرائے پر دے رکھا ہے۔ دیگر نے اپنے کاروبار فروخت کر دئے ہیں۔ بعض نے تو اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے پسانداز کِیا ہے۔ اِسکے علاوہ دیگر ایک یا دو سال بیرونِملک خدمت کرکے واپس اپنے ملک آجاتے ہیں اور نوکری کرکے مالی وسائل جمع کرنے کے بعد پھر بیرونِملک خدمت کرنے کیلئے چلے جاتے ہیں۔
کسی ترقیپذیر ملک میں رہنے کا ایک یقینی فائدہ معاشی اخراجات ہیں جو عموماً ایک ترقییافتہ ملک سے کافی کم ہوتے ہیں۔ اِسی وجہ سے بعض تھوڑی سی پنشن پر بھی اچھاخاصا گزارہ کر سکتے ہیں۔ یقیناً کسی شخص کے اخراجات کا انحصار بڑی حد تک اُس معیارِزندگی پر ہے جسکا وہ انتخاب کرتا ہے۔ ترقیپذیر ممالک میں بھی بہت آراموآسائش والی رہائشگاہیں زیادہ قیمت پر ہی مل سکتی ہے۔
واضح طور پر، کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے لاگت کا حساب لگا لینا چاہئے۔ تاہم، اِس میں معاشی قیمتوں کا حساب لگانے سے زیادہ کچھ شامل ہے۔ ایسے لوگوں کے تبصرے روشنخیالی بخش سکتے ہیں جنہوں نے جنوبی امریکہ میں خدمت انجام دی ہے۔
سب سے بڑا چیلنج
”میرے لئے ہسپانوی زبان سیکھنا واقعی ایک حقیقی آزمائش تھی،“ فنلینڈ سے ایک بھائی مارکو یاد کرتا ہے۔ ”مَیں نے خود ہی یہ سوچ لیا کہ چونکہ مجھے وہاں کی زبان نہیں آتی تھی اسلئے خدمتگزار خادم کے طور پر خدمت کرنے میں مجھے کچھ وقت لگے گا۔ مَیں کس قدر حیران ہوا جب صرف دو ماہ بعد مجھے کتابی مطالعہ کرانے کے لئے کہا گیا! تاہم، کئی مرتبہ مَیں شرمندہ بھی ہوا۔ ناموں کی وجہ سے مجھے خاص طور پر مشکل ہوتی تھی۔ ایک دن مَیں نے بھائی سانکو کو ’بھائی چانکو (سوأر)،‘ کہہ دیا اور مَیں وہ وقت کبھی نہیں بھول سکتا جب مَیں نے بہن سلامیہ کو ’ملاسیہ (بدکار)‘ کہہ کر پکارا تھا۔ خوشقسمتی سے بھائی بہن بہت صابر تھے۔“ آخرکار مارکو نے اس ملک میں بطور سرکٹ اوورسیئر اپنی بیوی سلین کے ہمراہ آٹھ سال تک خدمت انجام دی۔
جیسی کی بیوی کرس، جسکا پہلے ذکر کِیا گیا ہے، بیان کرتی ہے: ”مجھے ہمارے سرکٹ اوورسیئر کا پہلا دورہ یاد ہے جب ہمیں یہاں آئے ہوئے صرف تین ماہ گزرے تھے۔ مجھے اندازہ ہو رہا تھا کہ بھائی تمثیلوں کے ذریعہ کچھ دلکش باتیں بتا کر ہمارے دلنشین کرنے کی کوشش کر رہے تھے مگر مَیں اُن کی باتچیت کو سمجھ نہیں سکتی تھی۔ وہیں ہال میں ہی مَیں آنسوؤں سے رونے لگی۔ وہ خاموش آنسو نہیں تھے بلکہ مَیں سسکیوں سے رو رہی تھی۔ اجلاس کے بعد مَیں نے سرکٹ اوورسیئر کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ میں کیوں رو رہی تھی۔ وہ میرے ساتھ بڑی ہمدردی سے پیش آئے اور وہی کہا جو دوسرے بھی کہہ رہے تھے، ’ٹین پسینسیا، ہرمانا‘ (’بہن، صبر کرو‘)۔ جب ہم دو تین سال کے بعد پھر ملے تو ۴۵ منٹ تک باتیں کرتے رہے، ہم اِس حقیقت سے بیحد خوش تھے کہ اب ہم تبادلۂ خیال کر سکتے تھے۔“
”مطالعہ ضروری ہے،“ ایک اور بھائی بیان کرتا ہے۔ ”جتنی زیادہ کوشش ہم زبان سیکھنے کیلئے کرتے ہیں ہمارے رابطے کی صلاحیتوں میں اُتنی ہی زیادہ ترقی ہوتی ہے۔“
سب اِس بات سے متفق ہیں کہ ایسی کوششیں کئی فائدے لاتی ہیں۔ جب کوئی شخص ایک نئی زبان سیکھنے کی کوشش کرتا ہے تو فروتنی، صبر اور مستقل مزاجی کو فروغ ملتا ہے۔ خوشخبری کی منادی کرنے کا ایک وسیع دروازہ بھی کُھل جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ہسپانوی زبان سیکھنے سے کوئی شخص ایک ایسی زبان میں رابطہ قائم کرنے کے قابل ہو جاتا ہے جو پوری دُنیا میں ۴۰۰ ملین سے زائد لوگ بول سکتے ہیں۔ بہتیرے لوگ جو بعد میں اپنے ملک واپس لوٹ گئے تھے وہ ابھی بھی ایسے لوگوں کی مدد کرنے کے قابل ہیں جن کی مادری زبان ہسپانوی ہے۔
گھر کی یاد کی بابت کیا ہے؟
”جب ہم ۱۹۸۹ میں پہلی مرتبہ ایکواڈور آئے،“ ڈیبرا بیان کرتی ہے جس نے اپنے شوہر گیری کے ہمراہ ایمیزن کے علاقہ میں خدمت کی، ”مجھے گھروالوں کی یاد ستاتی تھی۔ میں نے کلیسیائی بھائی بہنوں پر زیادہ بھروسہ کرنا سیکھ لیا ہے۔ وہ میرے خاندان جیسے بن گئے۔“
کیرن، جسکا پہلے ذکر ہوا ہے وہ بیان کرتی ہے: ”مَیں نے روزانہ خدمتگزاری میں حصہ لینے سے گھر کی یاد کو بھلانے کی کوشش کی۔ اِسطرح مَیں گھر کے خیالوں میں گم نہیں رہتی تھی۔ مجھے یہ بھی یاد ہے کہ میرے والدین بیرونِملک میرے کام کی وجہ سے مجھ پر فخر کرتے تھے۔ میری والدہ نے ہمیشہ اِن الفاظ سے میری حوصلہ افزائی کی ہے: ’یہوواہ مجھ سے بہتر تمہارا خیال رکھ سکتا ہے۔‘“
جاپان کی مکیکو مزاحیہ انداز میں بیان کرتی ہے: ”میدانی خدمتگزاری میں پورا دن صرف کرنے کے بعد میں بہت تھک جاتی ہوں۔ لہٰذا جب میں گھر پہنچتی ہوں اور مجھے گھروالوں کی یاد ستانے لگتی ہے تو عموماً مجھے نیند آ جاتی ہے۔ تاہم، یہ احساس زیادہ دیر نہیں رہتا۔“
بچوں کی بابت کیا ہے؟
جہاں تک بچوں کا تعلق ہے تو اُن کی تعلیمی ضروریات پر دھیان دینا چاہئے۔ اِس سلسلے میں بعض نے بچوں کو گھر ہی میں تعلیم دینے کا انتخاب کِیا ہے جبکہ دوسروں نے اپنے بچوں کو مقامی اسکول میں داخل کرایا ہے۔
آل، اپنے دو بچوں اور اپنی بیوی اور والدہ کے ساتھ جنوبی امریکہ چلا گیا۔ وہ بیان کرتا ہے: ”ہم نے محسوس کِیا کہ بچوں کو اسکول میں داخل کرانے سے اُن کو زبان سیکھنے میں زیادہ مدد حاصل ہوئی۔ صرف تین ماہ میں وہ روانی سے وہاں کی زبان بول سکتے تھے۔“ اِس کے برعکس، مائک اور کیری کے دو نوعمر لڑکے ایک نامور مراسلاتی اسکول کے ذریعہ تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ اُن کے والدین بیان کرتے ہیں: ”ہم نے محسوس کیا کہ ایسی پڑھائی صرف بچوں پر نہیں چھوڑی جا سکتی۔ اِس نصاب میں ہم نے بھی حصہ لینا تھا اور خیال رکھنا تھا کہ لڑکے مقررہ نصاب سے مکمل طور پر واقف ہیں۔“
آسٹریلیا سے ڈیوڈ اور جینیٹا اپنے دو لڑکوں کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ ”ہم چاہتے تھے کہ ہمارے لڑکے ذاتی طور پر دیکھیں کہ دوسرے لوگ کسطرح سے زندگی بسر کرتے ہیں۔ یہ فرض کرنا آسان ہے کہ جس طرزِزندگی سے ہماری پرورش ہوئی ہے وہی زندگی کا معیار ہے لیکن درحقیقت ہم تھوڑے لوگوں میں شامل ہیں۔ اُنہوں نے یہ بھی سمجھ لیا ہے کہ خواہ کوئی بھی ملک یا ثقافت ہو خدائی اصول پوری دنیا میں کیسے مفید ثابت ہوتے ہیں۔“
”مَیں صرف چار سال کا تھا جب میرے خاندان نے ۱۹۶۹ میں انگلینڈ چھوڑا،“ کین یاد کرتا ہے۔ ”اگرچہ مجھے بڑا افسوس ہوا کہ ہم گھاس کی چھت والی مٹی کی جھونپڑی میں تو نہیں رہتے تھے جس کا مَیں نے تصور کِیا تھا، میرے خیال سے میری تعلیموتربیت عام بچوں سے کہیں زیادہ دلچسپ طریقے سے ہوئی تھی۔ مجھے اُن بچوں کے لئے بڑا افسوس ہوتا تھا جنہیں ایسا موقع نہیں ملا تھا! مشنری اور اسپیشل پائنیر بہنبھائیوں کے ساتھ اچھی رفاقت کی وجہ سے مَیں نے نو سال کی عمر میں امدادی پائنیر خدمت شروع کر دی۔“ کین اب ایک سفری نگہبان ہے۔
”ایکواڈور واقعی اب ہمارا گھر ہے،“ جیسی کی بیٹی گیبریلہ اتفاق کرتی ہے۔ ”مَیں کتنی خوش ہوں کہ میرے والدین نے یہاں آنے کا فیصلہ کیا۔“
اِس کے برعکس، ایسے بچے بھی تھے جو کئی وجوہات کی بِنا پر اپنے ماحول سے مطابقت پیدا نہیں کرسکے اور اُن کے خاندانوں کو اپنے ملک واپس جانا پڑا۔ اِسی وجہ سے بیرونِملک منتقل ہونے سے پہلے اُس ملک میں جا کر جائزہ لینا دانشمندانہ بات ہوتی ہے۔ اِس طرح کہ فیصلے ذاتی معلومات کی بنیاد پر کئے جاسکتے ہیں۔
ہجرت کرنے کی برکات
واقعی بیرونِملک منتقل ہونے میں کئی چیلنج اور قربانیاں شامل ہیں۔ کیا یہ قدم اُٹھانے والے لوگوں کے لئے ایسا کرنا کارآمد ثابت ہوا ہے؟ آئیے اُنہی سے سنتے ہیں۔
جیسی: ”امباکٹو شہر میں گزارے جانے والے اُن دس سالوں میں ہم نے ۲ کلیسیاؤں سے ۱۱ کلیسیائیں بنتی دیکھی ہیں۔ ہمیں اُن میں سے پانچ کلیسیاؤں کو شروع کرنے کا شرف حاصل ہوا ہے اور ہم نے دو کنگڈم ہال تعمیر کرنے میں بھی خدمت انجام دی ہے۔ ہمیں ہر سال اوسطاً دو بائبل طالبعلموں کی مدد کرنے اور اُنہیں بپتسمہ تک پہنچانے کی خوشی بھی حاصل ہوئی ہے۔ مجھے صرف ایک افسوس ہے کہ مَیں یہاں دس سال پہلے کیوں نہیں آیا۔“
لنڈا بیان کرتی ہے: ”خوشخبری کیلئے لوگوں کی قدردانی اور ہماری اپنی کوششیں ہماری بڑی حوصلہافزائی کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر جنگل میں ایک چھوٹے سے قصبہ میں الفونسو نامی ہمارے ایک بائبل طالبعلم نے یہ سمجھ لیا کہ اُس کے علاقہ میں عوامی تقریروں کا منعقد ہونا فائدہمند ہوگا۔ وہ ابھی حال ہی میں اپنے نئے لکڑی کے گھر میں منتقل ہوا تھا جو اُس گاؤں میں سے چند میں سے ایک تھا۔ یہ سوچتے ہوئے کہ اُسی کا مکان ہی یہوواہ کی پرستش کے شایانِشان ہے وہ پھر اپنی گھاس کی جھونپڑی میں واپس آ گیا اور اپنا گھر کنگڈم ہال کے طور پر استعمال کرنے کے لئے بھائیوں کو دے دیا۔“
جم: ”ریاستہائےمتحدہ میں صرف کئے جانے والے وقت کی نسبت یہاں پر ہم درحقیقت لوگوں سے باتچیت کرنے میں دس گُنا زیادہ وقت صرف کرتے ہیں۔ مزیدبرآں، یہاں زندگی کی رفتار کافی سُست ہے۔ بِلاشُبہ یہاں مطالعہ اور میدانی خدمتگزاری کیلئے زیادہ وقت دستیاب ہے۔“
سینڈرا: ”بائبل سچائی کی بدولت لوگوں کی زندگیوں میں آنے والی تبدیلی کو دیکھکر مجھے بیحد اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ ایک بار مَیں نے امیڈا نامی پرچون کی دکان کی ماکن، ایک ۶۹ سالہ خاتون کے ساتھ بائبل مطالعہ کِیا۔ وہ باقاعدگی سے دس حصہ دُودھ میں دو حصہ پانی ملاتی تھی۔ اِسکے علاوہ وہ اِس پانی والے دُودھ کی کم مقدار دے کر اپنے گاہکوں کو مزید دھوکا دیتی تھی۔ لیکن جب امیڈا نے کتاب علم جو ہمیشہ کی زندگی کا باعث ہے کے باب ۱۳ کے ذَیلی عنوان ’دیانتداری خوشی پر منتج ہوتی ہے‘ کے تحت مواد کا مطالعہ کِیا تو اُس نے غلط کام چھوڑ دئے۔ کچھ عرصہ بعد اُسے بپتسمہ پاتے دیکھنا کتنی خوشی کی بات تھی!“
کیرن: ”یہاں پر مجھے یہوواہ پر جتنا اعتماد ظاہر کرنا پڑا تھا اور اُس نے مجھے جس قدر استعمال کِیا، ایسا پہلے کبھی نہیں تھا۔ اِسطرح یہوواہ سے میری دوستی اَور زیادہ مضبوط اور گہری ہوگئی۔“
آپ کی بابت کیا ہے؟
سالہا سال سے یہوواہ کے گواہ بیرونِملک خدمت کرنے کے لئے جاتے رہے ہیں۔ بعض ایک یا دو سال جبکہ دیگر غیرمُعیّنہ مدت تک ٹھہرتے ہیں۔ بیرونِملک میں بادشاہتی مفادات کو فروغ دینے کے مقصد کے لئے آنے والے اپنے ساتھ اپنا تجربہ، روحانی پختگی اور مالی وسائل لاتے ہیں۔ اُنہوں نے ایسے علاقوں میں خدمت کی ہے جہاں پر مقامی بادشاہتی پبلشر نوکری نہ ملنے کی وجہ سے خدمت نہیں کر سکتے۔ بہتیروں نے گاڑیاں خریدی ہیں تاکہ اُن علاقوں میں کام کرسکیں جو ناقابلِ رسائی ہیں۔ شہری زندگی کو پسند کرنے والے دیگر لوگ ایسی بڑی کلیسیاؤں میں استحکامبخش عنصر ثابت ہوئے ہیں جن میں بزرگکم ہیں۔ تاہم، سب اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اُنہوں نے روحانی برکات کی شکل میں بہت کچھ حاصل کِیا ہے۔
کیا آپ بیرونِملک خدمت کرنے کا شرف حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ اگر آپ کے حالات اجازت دیتے ہیں تو کیوں نہ ایسی نقلمکانی کے امکان کی بابت دریافت کریں؟ سب سے پہلا اور ضروری قدم یہ ہوگا کہ آپ اُس ملک میں سوسائٹی کے برانچ دفتر کو خط لکھیں جس ملک میں آپ خدمت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ آپ کو ملنے والی مخصوص معلومات آپ کی کامیابی کے امکانات کا تعیّن کرنے میں آپ کی مدد کریں گی۔ مزیدبرآں دی واچٹاور اگست ۱۵، ۱۹۸۸ کے شمارے میں ”اپنے وطن اور اپنے رشتےداروں میں سے نکل جاؤ،“ کے مضمون میں اِس سلسلے میں کئی عملی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ موزوں منصوبہسازی اور یہوواہ کی برکات کے ذریعہ شاید آپ بھی بیرونِملک خدمت کی خوشی کا تجربہ کرسکتے ہیں۔
[صفحہ 24 پر تصویر]
بہتیرے ایکواڈور کے دارالحکومت کوئٹو میں خدمت انجام دے رہے ہیں
[صفحہ 24 پر تصویر]
ماکیکو کوہستان اینڈیز میں مُنادی کرتے ہوئے
[صفحہ 25 پر تصویر]
ٹوم اور لنڈا ایک ویران راستے سے شُعئر انڈین آبادی کی سمت جا رہے ہیں
[صفحہ 26 پر تصویر]
ہلبگ کا خاندان پچھلے پانچ سالوں سے ایکواڈور میں خدمت کر رہا ہے