موسیقی کی بابت متوازن نظریہ رکھیں
آجکل موسیقی کی صنعت کروڑوں کا کاروبار ہے۔ مقبول موسیقار اور اُن کے کام کو ترقی دینے والے بہت پیسہ کما رہے ہیں۔ تاہم، یہ حقیقت ہے کہ بعض بڑے کامیاب موسیقاروں کی زندگیاں بھی رنجوالم، غیرطبعی موت اور خودکُشی کا لقمہ بن گئی ہیں۔ نیز یہ بات بھی کافی حد تک ثابت ہو چکی ہے کہ کچھ موسیقی اخلاقی، جذباتی اور روحانی اعتبار سے گھٹیا ہے اور تشددآمیز، سماجدُشمن رُجحان کا باعث بن سکتی ہے۔
تاہم، موسیقی کی بابت متوازن نظریہ رکھنا اچھا ہے۔ اگرچہ اِس فن کے بہت سے بُرے اور نقصاندہ پہلو ہیں توبھی کچھ موسیقی زندگی کو پُررونق بنا سکتی ہے اور کسی حد تک اس میں خوشی اور تسکین لاتی ہے۔ یہ ہمیں جذباتی اور روحانی طور پر تقویت دے سکتی ہے۔ چند مثالوں پر غور کیجئے۔
بائبل کے ۱۵۰ مزامیر—نظموں، مُقدس گیتوں اور مناجاتوں—کا اَدبی شاہکار ہیں۔ دورِحاضر میں انہیں سینکڑوں زبانوں میں بڑی خوشی سے پڑھا جاتا ہے۔ تاہم، قدیمی عبرانی لوگ اِن مزامیر کو نہ صرف پڑھتے تھے بلکہ گاتے بھی تھے۔ اکثر وہ سازوں کی خوبصورت ہمآہنگی کے ساتھ گایا کرتے تھے جو خدا یہوواہ کی الفاظ میں بیانکردہ حکمت کو تربیتیافتہ گویوں کے ذریعے سامعین کے باطن میں اُتارنے کا اثرآفرین طریقہ تھا۔ عبرانی موسیقی غیرمتمدن یا اساسی نہیں تھی بلکہ اس کا معیار اور انداز اُس وقت کی قریبی اقوام کی موسیقی کے مقابلے میں کہیں اعلیٰ تھا۔
بعدازاں، پہلی صدی کے مسیحی بھی خدا کی حمد اور جذباتی تناؤ کو کم کرنے کے لئے مزامیر اور دیگر مُقدس گیت گایا کرتے تھے۔ یوں موسیقی نے اُن کی زندگیوں کو بھی خوشگوار بنا دیا تھا۔ اس طرح سے بائبل پر مبنی گیت گانے سے اُنہوں نے خدا کے علم کو اپنے دلوں میں گہرا کِیا جس کی اُنہیں اپنی زندگیوں میں راہنمائی کے لئے واقعی ضرورت تھی۔—متی ۲۶:۳۰؛ اعمال ۱۶:۲۵۔
قدیم یونانیوں کا خیال تھا کہ موسیقی انسان کی شخصیت کو نکھارتی ہے اور ایک مرد یا عورت کو تکمیل بخشتی ہے۔ آجکل ۲۰ویں صدی کی یہ دُنیا سائنس، معاشیات اور منطق کی تعلیم حاصل کرنے پر تو بہت ہی زور دیتی ہے مگر فنونِلطیفہ کے ذریعے شخصیت کے جذباتی پہلوؤں کی نشوونما کو اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔
متوازن رہیں
کوئی اچھی دُھن یا راگ سننا مفید اور مسرتبخش ہو سکتا ہے۔ تاہم، کوئی شخص ایک آلۂموسیقی بجانے یا اپنے دوستوں کے ساتھ ملکر گانے سے اَور بھی زیادہ خوشی حاصل کر سکتا ہے۔ موسیقی کا علم حاصل کرنا حقیقی خوشی کا ایک وسیع موقع فراہم کر سکتا ہے۔
یقیناً، زندگی کی دیگر اچھی چیزوں کی طرح، تفریح کے اِس حلقے میں بھی اعتدالپسندی، اچھی بصیرت اور انتخابپسندی کی ضرورت ہے۔ اس بات کا اطلاق نہ صرف موسیقی کے انتخاب پر ہی ہوتا ہے بلکہ اس کے علاوہ موسیقی سننے اور کوئی ساز بجانے کیلئے صرف کئے جانے والے وقت پر بھی ہوتا ہے۔
اگر کوئی خاص قسم کی موسیقی آپ کے جذبات، افعال اور تعلقات پر منفی اثرات ڈال رہی ہے تو پھر کوئی دوسری قسم کی موسیقی منتخب کرنے کی ضرورت ہے۔ چنانچہ اپنے دلودماغ کی حفاظت کے لئے اپنے جذبات کی حفاظت کیجئے اور اپنے جذبات کی حفاظت کے لئے اپنے کانوں کی حفاظت کیجئے!
اس بات کا اطلاق بالخصوص شاعری پر ہوتا ہے۔ شاعری آپ کو ایسے لوگوں کے سانچے میں ڈھال سکتی ہے جو زندگی اور اخلاقیات کے سلسلے میں آپ کے نظریات سے متفق نہیں بلکہ وہ بیدینی اور بدچلنی کی حمایت کرتے ہیں۔ بعضاوقات تو گیت کا عنوان ہی غلط قسم کے احساسات پیدا کر سکتا ہے۔
خدا کا کلام، بائبل خدا کو خوش کرنے کی خواہش رکھنے والے لوگوں کو پُرزور ہدایت فراہم کرتا ہے کہ ”اپنے بدن ایسی قربانی ہونے کے لئے نذر کرو جو زندہ اور پاک اور خدا کو پسندیدہ ہو۔ یہی تمہاری معقول عبادت ہے۔“ (رومیوں ۱۲:۱) واقعی، ہمارے جذبات اُس ’زندہ قربانی‘ کا حصہ ہیں۔ پس اگر کبھی اپنے اندر ایسا محسوس کرتے ہیں کہ موسیقی کے اثر سے ہمارے جذبات ہماری عقل اور قوتِاستدلال پر حاوی ہوکر ہمیں گمراہ کر رہے ہیں توپھر موسیقی سننے کی عادات میں ردوبدل کرنے کا یہی وقت ہے۔ یاد رکھیں: موسیقی کی طاقت آپ کے دلودماغ پر اچھا یا بُرا اثر ڈال سکتی ہے!
[صفحہ 10 پر بکس/تصویر]
سیکھنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا
”تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ باقاعدہ سُریلی موسیقی سننا ایک بچے کی سیکھنے کی صلاحیت میں اضافہ کر سکتا ہے۔ تاہم بیشتر گھروں میں اُنہیں ایسی موسیقی سننے کو کبھی نہیں ملتی۔“ —آڈیو، مارچ ۱۹۹۹۔