موسیقی ہم پر کیوں اثرانداز ہوتی ہے
موسیقی اور زبان انسانوں کو ہی ودیعت ہوئی ہے۔ اِن میں سے کسی کے بغیر بھی دنیا کا تصور کرنا مشکل ہے۔ کتاب دی میوزکل مائنڈ بیان کرتی ہے، ”زبان اور موسیقی دونوں نوعِانسان کی اوصاف ہیں جو ایک ہمہگیر حقیقت دکھائی دیتی ہے۔“ یہ ہمارے رابطے کے ضروری پہلو ہیں۔ پس یہ کہا جا سکتا ہے کہ زبان کی طرح جب موسیقی ”بولتی“ ہے تو ہمارے جذبات ”سنتے“ ہیں۔
موسیقی کیوں اور کیسے ہمارے جذبات سے کلام کرتی ہے؟ اِس سوال کے جواب کیلئے ہم چند پہلوؤں پر غور کریں گے: (۱) موسیقی کے اجزائےترکیبی اور ہمارا دماغ انہیں کیسے عمل میں لاتا ہے؛ (۲) ہماری جذباتی ساخت اور ثقافتی پسمنظر جو موسیقی کے سلسلے میں ہمارے جوابیعمل پر اثرانداز ہوتا ہے؛ نیز (۳) زبان جو ہمارے جوابیعمل پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔
موسیقی کے اجزائےترکیبی
موسیقی کی خصوصیات کو اکثر ”موسیقی کے اجزائےترکیبی“ خیال کِیا جاتا ہے۔ اِس اجزائےترکیبی میں دراصل آلے کی مخصوص آواز یا سُر شامل ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر فرنچ ہارن سے ”گونجدار اور گہری“ آواز نکلتی ہے جو بگل کی ”بلند اور تیز“ آواز سے بالکل فرق ہوتی ہے۔ اِن دونوں کا تعلق پھونک سے بجائے جانے والے سازوں کے گروہ سے ہونے کے باوجود ہر ایک سے اُونچے سُر نکلتے ہیں جو شدت میں فرق ہوتے ہیں۔ اسی سے ہر آلہ اپنی ایک منفرد ”آواز“ پیدا کرتا ہے۔ موسیقار سامعین کے جذبات کو اُبھارنے کے لئے بعض صوتی اثرات پیدا کرنے کی غرض سے اِنہی صفات کو استعمال کرتے ہیں۔
اِن اجزائےترکیبی میں سے سب سے پہلے ہم جس جز سے آشنا ہوتے ہیں وہ تال ہے جسے شاید ہم اپنی ماں کے رحم میں اُس کے دل کی دھڑکن سے سنتے رہتے ہیں۔ تاہم یہ کہا جاتا ہے کہ موسیقی میں تال کے لئے ہمارا ردِعمل تحتالشعوری طور پر ہمارے دل کی دھڑکن اور عملِتنفّس سے اثرانداز ہو سکتا ہے۔ اِس لئے یہ کوئی اتفاقیہ بات نہیں ہے کہ بیشتر لوگ موسیقی میں ایک منٹ میں ۷۰ اور ۱۰۰ کے درمیان زیروبم پسند کرتے ہیں—ایک صحتمند بالغ شخص کے دل کے دھڑکنے کی اوسط رفتار۔ پرسیپچوئیل اینڈ موٹر سکلز جریدہ بھی تقریباً یہی خیال پیش کرتا ہے۔
مختلف آلات اور اُن سے پیدا ہونے والی آوازوں اور سُروں کا جائزہ لینے سے اِن اجزائےترکیبی سے پیدا ہونے والی مختلف اقسام کی موسیقی واضح ہو جاتی ہے۔ الغوزہ پر موزارٹ دُھن کی دوسری گت میں الغوزہ کی دلگداز آواز شدید جذبات اور احساسات اُبھار سکتی ہے۔ جاپانی شاکوہاچی بانسری کی دردناک آواز دل پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔ سکسوفون کی بھرائی ہوئی آواز غمانگیز دُھن کو کافی دیر تک بہتیروں کے ذہن میں تازہ رکھتی ہے۔ جرمن بینڈ میں بار بار تُوبا کی بھاری آواز اکثر پُرجوش کیفیت پیدا کرتی ہے۔ وائلن پر بجنے والی سٹراؤس والٹز زندہدلانہ دُھنیں بیشتر سامعین کو رقص کرنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ نورڈوف—رابنز میوزک تھراپی سینٹر، نیو یارک کے کلائیو ای. رابنز کے مطابق ”موسیقی پورے انسان سے کلام کرتی ہے“ جس کی وجہ سے ایسے اثرات پیدا ہوتے ہیں۔
سازوں کی ہمآہنگی، غیرہمآہنگی اور شیریںنوائی
سازوں کی ہمآہنگی سے خوشگوار آوازیں پیدا ہوتی ہیں جبکہ غیرہمآہنگی ناگوار آوازیں پیدا کرتی ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے تھے کہ اِن دونوں اجزاء کا کچھ موسیقی میں امتزاج ہوتا ہے؟ کسی ہمآہنگ دُھن میں آپ کی توقع سے بھی زیادہ غیرہمآہنگی پائی جا سکتی ہے۔ ہمآہنگی اور غیرہمآہنگی کا مسلسل ملاپ اکثر تناؤ میں تغیرپذیر اضافے کا باعث بنتا ہے جو نہایت خفیف ہونے کے باوجود ہمارے جذبات کو متاثر کرتا ہے۔ جذبات میں یہ ہلکا سا اُتارچڑھاؤ تسکین بخشتا ہے جبکہ غیرہمآہنگ موسیقی اعصاب پر بالکل ایسے ہی ناگوار احساسات پیدا کر سکتی ہے جیسے سلیٹ یا تختہسیاہ پر ناخن رگڑنے سے پیدا ہوتے ہیں۔ علاوہازیں، محض ہمآہنگ موسیقی بھی اُکتاہٹ پیدا کر سکتی ہے۔
شیریںنوائی (میلوڈی) سلسلہوار مفرد سُروں کی ہمآہنگی ہوتی ہے۔ بعض مستند ذرائع کے مطابق یہ لفظ ایک یونانی لفظ میلوس سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ”گیت“ ہے۔ بعض لغات بیان کرتی ہیں کہ شیریںنوائی سے مُراد شریں موسیقی یا کوئی بھی شریں آواز ہے۔
تاہم، صرف آوازوں کے تسلسل سے ہی شیریں نغمہ نہیں بنتا۔ مثال کے طور پر، سلسلہوار سُروں کے درمیان بار بار کے طویل وقفوں سے کوئی راگ ڈرامائی تو ہو سکتا ہے مگر شیریں نہیں ہو سکتا۔ اِس کے برعکس، صرف چند ایک طویل وقفوں والے سُروں سے سُریلا راگ بن سکتا ہے۔ سُروں اور وقفوں کی مختلف ترتیب سے راگ میں خوشی یا غم کا اَنگ پیدا ہوتا ہے۔ ہمآہنگی بھی راگ کی طرح زیروبم پیدا کرتی ہے جو سُر میں اُتارچڑھاؤ کی وجہ سے ہمارے جذبات پر اثرانداز ہوتی ہے۔
یہ سارے اجزائےترکیبی باہم ملکر ایسے طاقتور اثرات مرتب کرتے ہیں جو ہمارے جذبات کو اُبھار سکتے ہیں یا پھر تسکین پہنچا سکتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا دماغ مختلف طریقوں سے موسیقی سے متاثر ہوتا اور اِسے عمل میں لاتا ہے۔
موسیقی اور دماغ
بعض کا خیال ہے کہ زبان اور قوتِاستدلال بالخصوص دماغ کے بائیں حصے کے زیرِاثر ہوتے ہیں جبکہ موسیقی دماغ کے دائیں حصے کے زیرِاثر ہوتی ہے جس کا تعلق زیادہتر جذبات اور احساسات سے ہوتا ہے۔ خواہ ایسا ہے یا نہیں، ایک بات واضح ہے کہ موسیقی سامعین میں بےساختہ ردِعمل پیدا کر دیتی ہے۔ پرسیپچوئیل اینڈ موٹر سکلز جریدہ اِسے یوں بیان کرتا ہے: ”موسیقی تیز اور مؤثر انداز میں احساسات اور جذبات پیدا کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔ ایک کتاب میں جو بات کئی جملوں میں سمجھائی جاتی ہے . . . وہی بات موسیقی میں اکثر ایک ہی تال یا دُھن سے سمجھائی جا سکتی ہے۔“
دیکھنے اور سننے اور اِن سے پیدا ہونے والے ردِعمل کے مابین تعلق کی بابت کتاب میوزک اینڈ دی مائنڈ یہ دلچسپ تبصرہ کرتی ہے: ”دیکھنے اور جذباتی ترغیب کی بہنسبت سننے اور جذباتی ترغیب کے درمیان زیادہ گہرا تعلق ہے۔ . . . کسی زخمی جانور یا تکلیف میں مبتلا چپچاپ شخص کو دیکھنا بہت ہی کم جذباتی ردِعمل کا باعث بنتا ہے۔ لیکن اگر وہ چیخنے چلّانے لگیں تو دیکھنے والوں پر عموماً بہت گہرا اثر ہوتا ہے۔“
موسیقی، شاعری اور آپ
ایک مکتبِفکر کے مطابق ایک مخصوص دُھن تمام سامعین پر ایک جیسا اثر کرتی ہے۔ تاہم، ایک اَور مکتبِفکر کی رائے ہے کہ کسی دُھن یا گیت کے لئے ردِعمل اُس شخص کی موجودہ ذہنی حالت یا گزشتہ تجربے کی عکاسی کرتا ہے۔ اِس کی ایک مثال تو یہ ہو سکتی ہے کہ جب کسی شخص کا کوئی عزیز وفات پا جاتا ہے اور وہ بعدازاں اپنی عبادتگاہ میں کوئی گیت سنتا ہے۔ ممکن ہے کہ اس گیت سے پُرانی یادیں تازہ ہو جائیں اور سوگوار شخص کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگیں۔ دیگر لوگ جو اس حالت میں مبتلا نہ ہوں وہ شاید اسی گیت کو خوشدلی سے گائیں۔
علاوہازیں، پہلے بیانکردہ فرنچ ہارن اور بگل کی خصوصیات پر غور کیجئے۔ آپ شاید اِس بات سے متفق نہ ہوں کہ فرنچ ہارن سے گونجدار اور گہری آواز نکلتی ہے۔ آپ کو شاید اُس کی آواز چنچل یا شوخ لگتی ہو جبکہ بگل آپ کے اندر گہرے جذبات اُبھارتا ہو۔ پس ہمارے اندر مختلف احساسات ہیں جنہیں موسیقی اُبھار سکتی ہے اور جن کے لئے ہم اپنے مخصوص انداز سے ردِعمل دکھاتے ہیں۔
موسیقی الفاظ یا خیالات کو جذبات کے ساتھ مربوط کرنے میں مدد دیتی ہے۔ لہٰذا ٹیلیوژن اور ریڈیو پر بہت کم اشتہارات موسیقی کے بغیر پیش کئے جاتے ہیں۔ اکثراوقات محض الفاظ زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوتے۔ لیکن جب اشتہارات کے ساتھ موسیقی سنائی دیتی ہے تو سامعین کے جذبات کو اُبھارنا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔ یہ بات واقعی دُرست ہے کہ اکثر تشہیر کا مقصد خریداری کو ایک منطقی عمل کی بجائے ایک جذباتی عمل بنانا ہوتا ہے!
تشہیر اگرچہ لوگوں کی جیب پر بُرا اثر ڈال سکتی ہے جبکہ شاعری اور موسیقی کا تو اس سے بھی بدتر اثر ہوتا ہے۔ جرنل آف یوتھ اینڈ ایڈولیسنس بیان کرتا ہے کہ بار بار ایک ہی طرح کی شاعری سے نغمہنگار نوجوانوں کو دوسروں کی آراء کو نظرانداز کرنا اور اپنے ہی ”مؤقف پر ڈٹے“ رہنا سکھاتے ہیں۔ ایک اَور جریدے کے مطابق ”ہیوی میٹل سے زیادہ نزاعانگیز ریپ شاعری“ میں پیش کئے جانے والے پیغامات سامعین کی جذباتی ساخت کو متاثر کرتے ہیں اور سماجدُشمن رویے کا باعث بنتے ہیں۔
اگر کوئی شخص صرف موسیقی سنے اور شاعری کو نظرانداز کر دے تو کیا منفی ردِعمل سے بچا جا سکتا ہے؟ حقیقت تو یہ ہے کہ ہیوی میٹل اور ریپ میوزک کے الفاظ مشکل سے ہی سنائی دیتے ہیں۔ موسیقی کے زوروشور میں تو وہ بالکل مدغم ہو جاتے ہیں۔ بہرحال، الفاظ سنائی دیں یا نہ دیں تال اور دُھن پھربھی اپنا مقصد انجام دیتی ہے!
کیسے؟ بعض عنوانات ہی مخصوص تاثر پیدا کر دیتے ہیں۔ علاوہازیں، خود موسیقی میں بھی اکثر خاص پیغام ہوتا ہے۔ کیا پیغام ہوتا ہے؟ نوجوانوں کا ایک جریدہ بیان کرتا ہے: ”یہ طاقت، اختیار اور جنسی فتح کا پُرزور شعریپیکر ہوتا ہے۔“ ایک اَور جریدہ کہتا ہے: ”بنیادی موضوعات . . . انتہائی بغاوت ، تشدد، کیمیائی اجزا کا غلط استعمال، جنسی آزادی، کجروی اور شیطانیت ہوتے ہیں۔“
بعض نوجوان دعویٰ کرتے ہیں کہ اگرچہ یہ سچ ہے مگر اُن پر اِس کا منفی اثر نہیں ہوتا۔ وہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ ایسی موسیقی مفید ہے کیونکہ یہ اپنے شخصیتی اوصاف کا مظاہرہ کرنے میں اُن کی مدد کرتی ہے۔ کیا یہ سچ ہے؟ جرنل آف یوتھ اینڈ ایڈولیسنس بیان کرتا ہے: ”جن بچوں کو سکول میں ہر روز غیرمعیاری کارکردگی کا طعنہ سننا پڑتا ہے وہ دن کے آخر پر ہیوی میٹل سننے سے بالخصوص محظوظ ہوتے ہیں جس میں غصے، مخالفت اور حصولِطاقت کو فروغ دیا جاتا ہے۔“ یہ مزید بیان کرتا ہے: ”ستمظریفی یا حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ اپنے ہی وجود کی تلاش میں اور اِسے زیادہ محفوظ اور قابلِاعتماد بنانے کی کوشش میں نوجوان موسیقی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اپنے خلوت کے لمحات میں حقیقی منفرد تجربات کی جستجو کرنے کی بجائے نوجوان موسیقی کی صنعت کے تیارشُدہ تصورات کو اپنانے کی کوشش کرتے ہیں۔“ باالفاظِدیگر، یہ نوجوان سوچ اور احساس کے لئے دوسروں کے دستِنگر ہوتے ہیں۔
آیئے راک کنسرٹس کا جائزہ لیں۔ اِن پر حاضر ہونے والے ہزاروں لوگوں پر اِس کا کیا اثر ہوتا ہے؟ کتاب میوزک اینڈ دی مائنڈ جواب دیتی ہے: ”اِس میں کوئی شک نہیں کہ موسیقی علیٰحدہ علیٰحدہ نہیں بلکہ ایک ساتھ ہجوم کے جذبات کو انتہا تک پہنچا کر بڑی اثرآفرینی سے اُن کی عقل کو سُن کر دیتی ہے اور یوں وہ اپنے ہوشوحواس کھو کر وقتی لذت میں مگن ہو جاتے ہیں جو دراصل اُن کے لئے نہایت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔“ راک کنسرٹ پر بےحیائی کے کچھ مناظر اِس بیان کی صداقت کا مُنہ بولتا ثبوت ہیں۔
پس دلودماغ کو آلودگی سے بچانے کے لئے ہمیں موسیقی کے انتخاب میں احتیاط برتنی چاہئے۔ ہم یہ کیسے کر سکتے ہیں؟ ہمارا آخری مضمون اِن سوالوں کے جواب دیگا۔
[صفحہ 7 پر تصویر]
موسیقی اکثر سامعین کو رقص کرنے پر مجبور کر دیتی ہے