موسیقی کی طاقت
”سحرانگیز موسیقی بےقراری اور پریشانی کے عالم میں سکون بخش سکتی ہے۔“
تقریباً ۳۰۰ سال پہلے ولیم کانگریو نے ہیم ٹو ہارمنی میں یوں تحریر کِیا۔ صدیوں پہلے، قدیم یونانی اَدب نے دعویٰ کِیا تھا کہ ”موسیقی میں ریاضت سب سے زیادہ اثرآفرین ہے کیونکہ سُر اور تال انسان کے باطن میں اُتر جاتے ہیں۔“
اُن والدین نے اِس بات کی صداقت کو سمجھ لیا ہے جنہوں نے اپنے نوجوان بچوں کو مسلسل ہیوی میٹل میوزک سننے کی وجہ سے بدمزاج اور لاپرواہ بنتے دیکھا ہے۔ یہ بات ۱۹۳۰ اور ۱۹۴۰ کے عشروں میں جرمنی میں بھی دیکھنے میں آئی تھی جب لوگوں کی بڑی تعداد کو ایڈولف ہٹلر کی مسحورکُن تقاریر سننے کیلئے آمادہ کرنے کی خاطر نازیوں نے فوجی مارچ میں ہیجانخیز موسیقی کو استعمال کیا تھا۔
بِلاشُبہ، موسیقی دلودماغ پر اثر کر سکتی ہے اور اچھائی یا بُرائی کی ترغیب دینے کیلئے استعمال کی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، کچھ موسیقی کی بابت خیال کِیا جاتا ہے کہ اُسے سننے سے بچوں کی ذہنی اور جذباتی نشوونما فروغ پاتی ہے۔ بعضاوقات ہکلانے والے بھی ایسے جملے گا سکتے ہیں جو وہ بول نہیں سکتے۔
انتھونی سٹور اپنی کتاب میوزک اینڈ دی مائنڈ میں بیان کرتا ہے کہ بعضاوقات ایسے مریضوں پر موسیقی کے حیرتانگیز اثرات ہوتے ہیں جنکا اعصابی امراض کے باعث حرکاتوسکنات کا عمل متاثر ہو جاتا ہے۔ سٹور ایک مریضہ کا حوالہ دیتا ہے: ”لرزے کے مرض کے باعث وہ چلپھر نہیں سکتی تھی لیکن جوانی میں سنی ہوئی دُھنیں یاد آنے پر وہ تھوڑا بہت چلنے لگتی تھی۔ یہ دُھنیں اچانک اُسکے چلنےپھرنے کی صلاحیت کو بحال کر دیتی تھیں۔
تشویش کی ایک وجہ
پس ایسے لگتا ہے کہ ہم چند فوائد کو موسیقی کی طاقت سے منسوب کر سکتے ہیں۔ تاہم، اس بات کا اندیشہ بھی ہے کہ بدعنوان یا حریص لوگ موسیقی کی طاقت کو ایک مُہلک ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔ کچھ تحقیقات سے سماجدشمن طرزِعمل اور بعض اقسام کی موسیقی میں براہِراست تعلق واضح ہو گیا ہے۔
ایسے دعوؤں کی حمایت میں سائیکولوجی آف ویمن کوارٹرلی رپورٹ پیش کرتا ہے: ”معقول طور پر یہ نتیجہ اخذ کِیا جا سکتا ہے کہ راک ویڈیوز دیکھنا شہوتانگیز تصاویر دیکھنے والا اثر رکھتا ہے، لہٰذا جن مردوں کو متشدّد راک ویڈیوز دکھائی گئیں اُنہوں نے عورتوں کیلئے زیادہ کرخت اور معاندانہ رُجحانات کا مظاہرہ کِیا جبکہ غیرمتشدّد راک ویڈیوز دیکھنے والے مردوں میں ایسے رُجحانات نسبتاً کم تھے۔“
ایسا اثر مردوں تک محدود نہیں ہے۔ عورتیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ وہی رپورٹ مزید بیان کرتی ہے: ”مردوزن یکساں طور پر اِن گیتوں میں خواتین کی کمقدری کی بابت پیش کئے جانے والے منفی پیغامات کو قبول کر سکتے ہیں۔“
جریدہ سیکس رولز اِس رائے سے اتفاق کرتے ہوئے بیان کرتا ہے: ”حالیہ تحقیق نے آشکارا کِیا ہے کہ غیرتسلیبخش خاندانی ماحول اور میوزک ویڈیوز سے ازحد لگاؤ خصوصاً جواںسال لڑکیوں میں جنسی اعتبار سے اباحتی رجحانات والے طرزِعمل کا باعث بنا ہے۔“ ریاستہائےمتحدہ کے ایک ڈسٹرکٹ جج نے ریپ میوزک کی تشددآمیز اور شہوتانگیز شاعری کی وجہ سے ایک ریپ البم کو ”سماجی معیاروں کے لحاظ سے بیہودہ قرار دیا۔“
کیا جج نے انتہاپسندی سے کام لیا تھا؟ ہرگز نہیں! جریدہ ایڈولیسنس اِس نتیجہ پر پہنچا کہ ”جواںسال اور اُن کے والدین دونوں ہی بیان کرتے ہیں کہ ہیوی میٹل اور ریپ میوزک سننے والے نوجوانوں کی زندگیوں میں خاطرخواہ اضطرابی کیفیت پائی جاتی ہے۔“ ایسی اضطرابی کیفیت کا تعلق ”جارحانہ اور تباہکُن رُجحانات“ اور تعلیمی میدان میں کامیابی کی کمی سے ہے۔
درحقیقت بعض اقسام کی موسیقی، جنس، خودکشی اور سماجدشمن رُجحان کے مابین تعلقات کا بہت ٹھوس ثبوت موجود ہے۔ لیکن کیا اِس کا یہ مطلب ہے کہ ہر طرح کی موسیقی کے منفی اثرات ہی ہوتے ہیں؟ دیکھیں کہ اگلے مضامین اِس کی بابت کیا بیان کرتے ہیں۔
[صفحہ 4 پر عبارت]
موسیقی دلودماغ پر اچھا یا بُرا اثر ڈال سکتی ہے