دودھ کی دھار سے پاؤڈر کا ایک چمچ
نیو زیلینڈ میں جاگو! کے مراسلہنگار سے
ہزاروں سال سے اور عملاً ہر قوم میں، دودھ انسانی خوراک کا بنیادی جُز رہا ہے۔ بلاشُبہ، دودھ ماؤں کے پستانوں سے نکلتا ہے اور اُنکے بچوں کیلئے مکمل خوراک ہوتا ہے۔ تاہم، دیگر مخلوقات کے برعکس، انسانوں نے مختلف قسم کے ممالیہ—خاصکر گایوں، اونٹنیوں، بکریوں، لاماؤں، قطبی ہرنیوں، بھیڑوں، اور بھینسوں—سے اس انتہائی غذائیتبخش خوراک کو حاصل کِیا ہے۔ براہِراست دودھ پینے کے علاوہ، لوگ اس سے بنائی ہوئی بہتیری چیزوں سے لطف اٹھاتے ہیں جن میں زیادہ مشہور مکھن، پنیر، دہی اور آئس کریم ہیں۔
گائے کے عام دودھ میں ۸۷ فیصد پانی اور ۱۳ فیصد ٹھوس اجزا شامل ہوتے ہیں۔ یہ ٹھوس اجزا نشاستوں، لحمیات، روغنیات، حیاتین اور ہڈیوں کی نشوونما اور مضبوطی کیلئے اہم کیلسیم جیسے معدنیات پر مشتمل ہوتے ہیں۔ گائے اتنا مقوی دودھ نہیں دیتی۔ جن جانوروں کی اُوپر فہرست دی گئی ہے ان میں سے قطبی ہرنی کو اس سلسلے میں فضلیت حاصل ہے جس کے غذائیت سے بھرپور دودھ میں ۳۷ فیصد ٹھوس اجزا ہوتے ہیں!
دودھ خواہ کسی بھی جانور کا ہو یہ ریفریجرٹر کے بغیر زیادہ دیر تک محفوظ نہیں رہتا۔ اس مسئلے کا مقبولِعام حل پاؤڈر والا دودھ ہے۔ لیکن آپ کس طرح دودھ کو پاؤڈر میں تبدیل کرتے ہیں؟ آیئے نیو زیلینڈ، ویکاٹو، میں ایک جدید پروسیسنگ پلانٹ کا مختصر سا دورہ کریں۔ دنیا میں یہ اپنی طرز کا بہت بڑا پلانٹ ہے جو خوراک کی عالمی صنعت کیلئے ہر روز مقوی اجزا سے بھرپور ۴۰۰ ٹن پاؤڈر والا دودھ پیدا کرتا ہے۔
سیال سے پاؤڈر
ہر روز متعدد ٹرک قطار باندھے اسٹیل سے پالششُدہ ٹریلر ٹینکیوں میں نیو زیلینڈ کے ڈیری فارموں سے تازہ دودھ پلانٹ تک لیکر آتے ہیں جہاں دودھ کو غیرموصل گوداموں میں تازہ رکھا جاتا ہے۔ یہاں سے دودھ کو ایسے آلے میں ڈالا جاتا ہے جہاں دودھ اور بالائی کو علیٰحدہ کر لیا جاتا ہے اور پھر تیارشُدہ مصنوع کو معیاری بنانے کیلئے مخصوص مقداروں میں دوبارہ ملایا جاتا ہے۔ پاؤڈر والا دودھ بنائے جانے سے پہلے اسے عارضی ذخیروں میں رکھا جاتا ہے۔
پاسچرائیزیشن (تخمیر پیدا کرنے والے جراثیم کو تلف کرنے کا عمل) کے مطابق دودھ کو ہوا کے دباؤ کے بغیر اُبالا جاتا ہے۔ ہوا کے دباؤ کے بغیر کیوں؟ اس عمل سے حرارت سے پہنچنے والا نقصان کم ہو جاتا ہے اور دودھ عام درجۂحرارت سے بھی کافی کم درجۂحرارت پر اُبلتا ہے۔ جب بخارات کا یہ مرحلہ مکمل ہو جاتا ہے تو دودھ میں ۴۸ فیصد گاڑھاپن ہوتا ہے۔ اب یہ گاڑھا مادہ خشک کئے جانے کیلئے تیار ہے۔
خشک کئے جانے کا عمل گاڑھے دودھ کو ایک پائپ کے ذریعے کئی منزلوں والے اسٹینلیس اسٹیل کے ڈرائیر کے اُوپر والے حصے میں ڈالے جانے سے ہوتا ہے جہاں سے اِسے ڈرائیر کی اندرونی گرم ہوا میں پھوار کی شکل میں پھینکا جاتا ہے۔ اب دودھ میں ۶ فیصد نمی رہ جاتی ہے اور یہ پاؤڈر بن جاتا ہے۔ ایک بار پھر اسی مرحلے سے گزرنے کے بعد نمی ۳ فیصد رہ جاتی ہے جس کے بعد پاوڈر کو پیکنگ اور ترسیل کیلئے تیار کرنے کی خاطر آہستہ آہستہ ٹھنڈا کِیا جاتا ہے۔ دودھ کی غذائیت میں کمی سے بچنے کیلئے تمام عمل میں بڑی احتیاط برتی جاتی ہے۔
شاید آپ ایک ایسے علاقے میں رہتے ہوں جہاں تازہ دودھ بآسانی دستیاب ہے۔ لیکن بہتیرے لوگ دوردراز علاقوں میں رہتے ہیں جہاں تازہ دودھ حاصل کرنا مشکل اور مہنگا ہے۔ تعجبانگیز پاؤڈر والے دودھ کی بدولت انکے مسائل حل ہو گئے ہیں۔ وہ صرف پاؤڈر کے چند چمچ پانی میں ملاتے ہیں تو دوبارہ دودھ بن جاتا ہے جو تازہ دودھ کی طرح مزیدار نہ ہونے کے باوجود قابلِتحسین کام انجام دیتا ہے۔
[صفحہ 15 پر تصویریں]
یہ کئی منزلوں والا ڈرائیر فی گھنٹہ نو ٹن دودھ خشک کر سکتا ہے