یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو 8/‏7/‏99 ص.‏ 11-‏13
  • کیا آپ ہمیشہ زندہ رہنے کی اُمید رکھ سکتے ہیں؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • کیا آپ ہمیشہ زندہ رہنے کی اُمید رکھ سکتے ہیں؟‏
  • جاگو!‏—‏1999ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ‏”‏حقیقتاً بڑے سوال“‏ کا سامنا کرنا
  • موت کا بنیادی سبب
  • سزا اور وعدہ
  • ہمیشہ کی زندگی کا راز
  • جسطرح آپ ابد تک زندہ رہ سکتے ہیں
    جاگو!‏—‏1996ء
  • کیا ہمیشہ کی زندگی واقعی ممکن ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • ہم کیوں بوڑھے ہوتے اور مرتے ہیں؟‏
    جاگو!‏—‏1996ء
  • طویل زندگی کیلئے جستجو کو کیسے کامیاب بنائیں؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
مزید
جاگو!‏—‏1999ء
جاگو 8/‏7/‏99 ص.‏ 11-‏13

کیا آپ ہمیشہ زندہ رہنے کی اُمید رکھ سکتے ہیں؟‏

‏”‏انسانی جسم کے اندر کوئی ایسا عمل ضرور کارفرما ہے جس سے زیادہ سے زیادہ ۱۱۵ تا ۱۲۰ سال کے ممکنہ عرصۂ‌حیات کا تعیّن ہوتا ہے،“‏ خلوی حیاتیات کا پروفیسر، ڈاکٹر جیمز آر.‏ سمتھ بیان کرتا ہے۔ ”‏ایک حد تو ہے مگر ہمیں کوئی اندازہ نہیں کہ کونسی چیز اسے مُتعیّن کرتی ہے۔“‏ لہٰذا، ماہرِحیاتیات ڈاکٹر راجر گاسڈن بیان کرتا ہے کہ اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ ”‏سائنسدانوں کو ابھی تک عمر کو بڑھانے کا طریقہ تلاش کرنا ہے مگر ان میں سے بمشکل ہی کوئی اس پر دھیان دیتا ہے۔“‏ کیا اس صورتحال میں کوئی تبدیلی آئیگی؟‏

‏”‏حقیقتاً بڑے سوال“‏ کا سامنا کرنا

اگرچہ بڑھاپے کے علاج کی اُمید دینے والے نظریات کی کمی تو نہیں ہے توبھی زیادہ‌تر ماہرین گرونٹولوجیکل سوسائٹی آف امریکہ (‏بڑھاپے پر تحقیق کرنے والا امریکی ادارہ)‏ کے صدر ڈاکٹر جین ڈی.‏ کوہن سے اتفاق کرتے ہیں کہ ”‏بڑھاپے کے یہ تمام مبیّنہ علاج بیکار ثابت ہوئے ہیں۔“‏ کیوں؟ یو.‏ایس۔ نیوز اور ورلڈ رپورٹ میں سائنسی مضمون لکھنے والی نینسی شوٹ بیان کرتی ہے:‏ ”‏ابھی تک کوئی بھی نہیں جانتا کہ کونسی چیز بڑھاپے اور اسکے ناگزیر انجام، موت کا سبب بنتی ہے۔ نیز کسی بھی مرض کا سبب جانے بغیر اس کا علاج کرنا سازگار حالات میں بھی بے‌مقصد ہوتا ہے۔“‏ ڈاکٹر گاسڈن بھی بیان کرتا ہے کہ بڑھاپا ابھی تک ایک معمہ ہی ہے:‏ ”‏یہ ہم سب پر آتا ہے مگر اس کا بنیادی سبب سربستہ راز ہے۔“‏ وہ بیان کرتا ہے کہ اس ”‏حقیقتاً بڑے سوال“‏ پر بہت کم توجہ دی جاتی ہے کہ ”‏یہ کیوں واقع ہوتا ہے۔“‏a

بدیہی طور پر، جس طرح ہر انسانی فعل کی ایک حد ہوتی ہے جیسے‌کہ وہ کتنی تیز بھاگ سکتے ہیں، کتنی اونچی چھلانگ لگا سکتے ہیں، کتنی گہرائی میں غوطہ لگا سکتے ہیں، اسی طرح اس بات کی بھی ایک حد ہے کہ محض انسانی سوچ اور استدلال سے کتنی وضاحت کی جا سکتی ہے۔ لہٰذا، ”‏حقیقتاً بڑے سوال کیوں“‏ کا جواب بظاہر اس حد سے باہر ہے۔ لہٰذا، جواب حاصل کرنے کا واحد طریقہ اس ماخذ کی طرف رجوع کرنا ہے جو انسانی علم کی حدود سے بالاتر ہے۔ حکمت کی قدیم‌ترین کتاب، بائبل، آپ کو بالکل یہی کرنے کا مشورہ دیتی ہے۔ خالق، ”‏زندگی [‏کے]‏ چشمہ“‏ کا ذکر کرتے ہوئے بائبل ہمیں یقین‌دہانی کراتی ہے:‏ ”‏اگر تم اُسکے طالب ہو تو وہ تم کو ملیگا۔“‏ (‏زبور ۳۶:‏۹؛‏ ۲-‏تواریخ ۱۵:‏۲‏)‏ تو پھر، خدا کے کلام، بائبل کی تحقیق انسان کے مرنے کی اصل وجہ کی بابت کیا آشکارا کرتی ہے؟‏

موت کا بنیادی سبب

بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ جب خدا نے پہلے انسانوں کو خلق کِیا تو اُس نے ”‏ابدیت کو .‏ .‏ .‏ اُنکے دل میں جاگزین کِیا۔“‏ (‏واعظ ۳:‏۱۱‏)‏ تاہم، خالق نے انسان کے پہلے والدین کو ہمیشہ زندہ رہنے کی خواہش سے زیادہ کچھ عطا کِیا؛ اُس نے اُنہیں اس کا موقع بھی عطا کِیا۔ وہ کامل بدن اور ذہن کیساتھ خلق کئے گئے اور اُنہوں نے پُرامن ماحول میں زندگی بسر کرنے سے لطف اُٹھایا۔ خالق نے مقصد ٹھہرایا کہ یہ پہلے انسان ہمیشہ زندہ رہیں اور وقت آنے پر انکی کامل اولاد زمین کو معمور کر دے۔—‏پیدایش ۱:‏۲۸؛‏ ۲:‏۱۵‏۔‏

تاہم، آخری حد کے بغیر زندگی مشروط تھی۔ اسکا انحصار خدا کی فرمانبرداری پر تھا۔ اگر آدم خدا کی نافرمانی کرے گا تو وہ ”‏مر“‏ جائے گا۔ (‏پیدایش ۲:‏ ۱۶، ۱۷‏)‏ افسوس کی بات ہے کہ پہلے انسان واقعی نافرمانی کے مُرتکب ہوئے۔ (‏پیدایش ۳:‏۱-‏۶‏)‏ ایسا کرنے سے وہ گنہگار بن گئے کیونکہ ”‏گناہ شرع کی مخالفت“‏ ہے۔ (‏۱-‏یوحنا ۳:‏۴‏)‏ اسکے نتیجے میں، اُنکے پاس ابدی زندگی کا امکان نہ رہا کیونکہ ”‏گناہ کی مزدوری موت ہے۔“‏ (‏رومیوں ۶:‏۲۳‏)‏ لہٰذا، پہلے انسانوں کو سزا سناتے وقت خدا نے کہا:‏ ”‏تُو خاک ہے اور خاک میں پھر لوٹ جائیگا۔“‏—‏پیدایش ۳:‏۱۹‏۔‏

یوں، پہلے انسانوں کے گناہ کرنے کے بعد، پہلے سے بیان‌کردہ گناہ کا اثر ان کے جینز میں نقش ہو گیا اور اس طرح آخری حد مقرر ہو گئی۔ اس کے نتیجے میں، وہ بڑھاپے کے ماتحت ہو گئے جس کا انجام موت ہے۔ علاوہ‌ازیں، اپنے ابتدائی فردوسی گھر سے نکالے جانے کے بعد جس کا نام عدن تھا، پہلے انسانوں کو ایک اَور حالت—‏عدن کے باہر دشوارگزار ماحول—‏کا سامنا ہوا جس نے ان کی زندگیوں کو بُری طرح متاثر کِیا۔ (‏پیدایش ۳:‏۱۶-‏۱۹،‏ ۲۳، ۲۴‏)‏ ناقص ورثے اور کٹھن ماحول دونوں نے ملکر پہلے انسانوں اور ان کی آئندہ اولاد کو متاثر کِیا۔‏

سزا اور وعدہ

چونکہ یہ نقصاندہ تبدیلیاں پہلے انسانوں کے بچے پیدا کرنے سے پہلے ان کی زندگیوں میں واقع ہوئی تھیں اسلئے وہ اپنے جیسی ہی ناکامل، گنہگار اور بڑھاپے کے عمل کے ماتحت اولاد پیدا کر سکتے تھے۔ اسی لئے بائبل بیان کرتی ہے کہ ”‏موت سب آدمیوں میں پھیل گئی اسلئے‌کہ سب نے گُناہ کِیا۔“‏ (‏رومیوں ۵:‏۱۲؛‏ زبور ۵۱:‏۵ سے مقابلہ کریں۔)‏ کتاب دی باڈی مشین—‏یور ہیلتھ ان پرسپیکٹوِ بیان کرتی ہے:‏ ”‏ہم اپنی خلیاتی ساخت میں درج اپنی موت کا پروانہ لئے پھرتے ہیں۔“‏

تاہم، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ایک آخری حد کے بغیر زندگی—‏بڑھاپے اور موت کے بغیر زندگی—‏کی کوئی اُمید نہیں ہے۔ اوّل، اس بات پر یقین کرنا معقول ہے کہ انسانی زندگی اور دیگر تعجب‌انگیز اقسام کی زندگی کا فہیم‌وعقیل خالق ہر طرح کی توارثی خامیوں کو ٹھیک کر سکتا اور انسانی زندگی کو ہمیشہ تک قائم رکھنے کیلئے درکار توانائی فراہم کر سکتا ہے۔ دوم، خالق نے بالکل ایسا ہی کرنے کا وعدہ کِیا ہے۔ پہلے انسانوں پر سزائے‌موت عائد کرنے کے بعد، خدا نے متعدد بار آشکارا کِیا کہ انسانوں کیلئے زمین پر ابدی زندگی کے سلسلے میں اُس کا مقصد تبدیل نہیں ہوا ہے۔ مثال کے طور پر وہ یقین‌دہانی کراتا ہے:‏ ”‏صادق زمین کے وارث ہونگے اور اُس میں ہمیشہ بسے رہینگے۔“‏ (‏زبور ۳۷:‏۲۹‏)‏ اس وعدے کی تکمیل کا تجربہ کرنے کیلئے آپ کو کیا کرنے کی ضرورت ہے؟‏

ہمیشہ کی زندگی کا راز

دلچسپی کی بات ہے کہ سائنسی مضامین کا مصنف رونلڈ کوٹیولک ۳۰۰ محققین کا انٹرویو لینے کے بعد بیان کرتا ہے:‏ ”‏سائنسدان عرصۂ‌دراز سے جانتے ہیں کہ آمدنی، پیشہ اور تعلیم لوگوں کی صحت اور عرصۂ‌حیات کی بابت پیش‌ازوقت معلومات فراہم کرنے والے اہم ترین عناصر ثابت ہوئے ہیں۔ .‏ .‏ .‏ لیکن یہ تعلیم ہی ہے جو عمردرازی کی پیش‌ازوقت نشاندہی کرنے والے عنصر کے طور پر اُبھر رہی ہے۔“‏ اس نے وضاحت کی:‏ ”‏جس طرح ہماری خوراک زندگی کو خطرے میں ڈالنے والے وبائی جراثیموں کے خلاف لڑنے کیلئے ہمارے مدافعتی نظام کو طاقت فراہم کرتی ہے، اسی طرح تعلیم ہمیں نقصاندہ انتخابات سے بچاتی ہے۔“‏ ایک محقق کے مطابق ”‏تعلیم کیساتھ آپ دُنیا میں اپنی راہ کا تعیّن کرنا“‏ اور ”‏امکانی رکاوٹوں پر غالب آنا سیکھتے ہیں۔“‏ لہٰذا، مصنف کاٹیولک کے بیان کے مطابق تعلیم ”‏ایک طرح سے صحتمندانہ، لمبی زندگی کا راز ہے۔“‏

مستقبل میں ہمیشہ کی زندگی حاصل کرنے کی جانب پہلا قدم بھی تعلیم—‏بائبل تعلیم—‏ہے۔ یسوع مسیح نے بیان کِیا:‏ ”‏ہمیشہ کی زندگی یہ ہے کہ وہ تجھ خدایِ‌واحد اور برحق کو اور یسوؔع مسیح کو جسے تُو نے بھیجا ہے جانیں۔“‏ (‏یوحنا ۱۷:‏۳‏)‏ خالق، یہوواہ خدا، یسوع مسیح اور خدا کی طرف سے فراہم‌کردہ فدیے کے انتظام کی بابت علم حاصل کرنا ہی تعلیم کی وہ واحد قسم ہے جو کسی شخص کو ابدی زندگی کی راہ پر پہلا قدم اُٹھانے کیلئے تیار کریگی۔—‏متی ۲۰:‏۲۸؛‏ یوحنا ۳:‏۱۶‏۔‏

یہوواہ کے گواہوں نے بائبل تعلیم کا ایسا ہی پروگرام ترتیب دیا ہے جو اس زندگی‌بخش بائبل علم کو حاصل کرنے میں آپکی مدد کر سکتا ہے۔ اس مُفت پروگرام کی بابت مزید جاننے کیلئے اُنکے کسی کنگڈم ہال میں جائیں یا اُن سے درخواست کریں کہ کسی مناسب وقت پر آپ سے ملاقات کریں۔ آپ دیکھیں گے کہ بائبل میں اس بات کی ٹھوس شہادت پائی جاتی ہے کہ وہ وقت نزدیک ہے جب زندگی میں پھر کبھی رکاوٹیں اور مقررہ حد نہیں ہوگی۔ سچ ہے کہ موت نے ہزاروں سال سے حکمرانی کی ہے لیکن جلد ہی یہ ہمیشہ کیلئے شکست کھائیگی۔ جوانوں اور بوڑھوں دونوں کیلئے کیا ہی حیرت‌انگیز امکان!‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a بڑھاپے اور اس کے اثرات پر تحقیق کرنے والے ماہرین نے کئی نظریات (‏ایک اندازے کے مطابق ۳۰۰ سے زائد!‏)‏ تشکیل دے رکھے ہیں جو یہ بیان کرتے ہیں کہ بڑھاپا کیسے واقع ہو سکتا ہے۔ تاہم، یہ نظریات ہرگز یہ نہیں بتاتے کہ یہ کیوں واقع ہوتا ہے۔‏

‏[‏صفحہ 13 پر تصویریں]‏

بائبل تعلیم ہمیشہ کی زندگی حاصل کرنے کی جانب پہلا قدم ہے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں