یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو 8/‏7/‏99 ص.‏ 5-‏11
  • لمبی عمر اور اچھی صحت سے فائدہ اٹھائیں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • لمبی عمر اور اچھی صحت سے فائدہ اٹھائیں
  • جاگو!‏—‏1999ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • رکاوٹوں کی شناخت
  • عادات کا اثر
  • ماحول سے فرق پڑتا ہے
  • کم‌خرچ طبّی نگہداشت سے زیادہ شفا ممکن‌الحصول
  • دُنیا بوڑھی ہوتی جا رہی ہے
    جاگو!‏—‏1999ء
  • ایک مُہلک اتحاد
    جاگو!‏—‏1998ء
  • ورزش—‏ایک بھرپور زندگی گزارنے کا نسخہ
    جاگو!‏—‏2005ء
  • یہوواہ خدا اپنے عمررسیدہ خادموں کی قدر کرتا ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2008ء
جاگو!‏—‏1999ء
جاگو 8/‏7/‏99 ص.‏ 5-‏11

لمبی عمر اور اچھی صحت سے فائدہ اٹھائیں

تصور کریں کہ انسانی زندگی رکاوٹوں کو عبور کرنے والی ایک طویل دوڑ ہے۔ تمام دوڑنے والے اکٹھے دوڑ کا آغاز کرتے ہیں، تاہم، باربار رکاوٹیں عبور کرنے سے اور کبھی‌کبھار رکاوٹوں سے ٹکرا جانے کی وجہ سے دوڑنے والوں کی رفتار سُست پڑ جاتی ہے اور بیشتر دوڑ سے خارج ہو جاتے ہیں۔‏

اسی طرح، انسانی زندگی کا بھی ایک نقطۂ‌آغاز ہوتا ہے اور پھر راستے میں رکاوٹیں آتی رہتی ہیں۔ انسان کی زندگی میں یکے‌بعددیگرے رکاوٹیں آتی ہیں۔ ہر چھلانگ اُسے کمزور کرتی ہے اور ایک وقت آتا ہے کہ وہ ہمت ہار جاتا ہے۔ رکاوٹیں جتنی اُونچی ہوتی ہیں اتنی ہی جلدی وہ دوڑ سے خارج ہو جاتا ہے یا مر جاتا ہے۔ اگر ایک شخص ترقی‌یافتہ دُنیا میں رہتا ہے تو خارج ہونے کا مقام تقریباً عمر کے ۷۵ویں سال میں آتا ہے۔ وقت کے اس عرصے کو انسان کا اوسط دورِحیات کہا جاتا ہے جسکا موازنہ اُس فاصلے کیساتھ کِیا جا سکتا ہے جسے زیادہ‌تر دوڑنے والے طے کرتے ہیں۔‏a (‏زبور ۹۰:‏۱۰ سے مقابلہ کریں۔)‏ تاہم، بعض لوگ زیادہ دیر تک دوڑتے ہیں اور کچھ تو انسانی زندگی کے انتہائی مقام کو پہنچ جاتے ہیں جو ۱۱۵ تا ۱۲۰ سال ہے—‏ایک ایسا کارنامہ جو دُنیا کے اخباروں کی شہ‌سُرخی بننے کیلئے کافی ہوتا ہے۔‏

رکاوٹوں کی شناخت

اس صدی کے آغاز کی نسبت اب لوگ دوڑ میں تقریباً دوگُنا زیادہ قائم رہ سکتے ہیں۔ کیوں؟ بنیادی طور پر اسلئے کہ انسان رکاوٹوں کو کم کرنے کے قابل ہو گیا ہے۔ تاہم، یہ رکاوٹیں کیا ہیں؟ نیز کیا اُنہیں مزید کم کِیا جا سکتا ہے؟‏

عالمی ادارۂ‌صحت (‏ڈبلیوایچ‌او)‏ کے صحت‌عامہ کے ایک ماہر نے وضاحت کی کہ متوقع انسانی عمر کو متاثر کرنے والی چند ایک خاص رکاوٹیں یا عناصر عادات، ماحول اور طبّی نگہداشت ہیں۔‏b لہٰذا، جتنی زیادہ آپکی عادات معقول ہونگی، آپکا ماحول اُتنا ہی زیادہ اچھا ہوگا اور جتنی اچھی آپکی طبّی نگہداشت ہوگی رکاوٹیں اُتنی ہی کم ہونگی اور آپکی زندگی اُتنی ہی طویل ہوگی۔ لوگوں کے حالات ایک دوسرے سے بڑی حد تک مختلف ہونے کے باوجود—‏سڈنی کے بینک ڈائریکٹر سے لیکر ساؤ پولو کے پھیری والے تک—‏سب اپنی زندگی میں حائل رکاوٹوں کو کم کرنے کیلئے کچھ نہ کچھ کر سکتے ہیں۔ کیسے؟‏

عادات کا اثر

دی نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن بیان کرتا ہے:‏ ”‏اچھی عادات والے لوگ نہ صرف زیادہ دیر تک زندہ رہتے ہیں بلکہ ایسے اشخاص میں معذوری ملتوی ہو کر زندگی کے آخری چند سالوں تک محدود ہو جاتی ہے۔“‏ واقعی، کھانے، پینے، سونے، تمباکونوشی اور ورزش کی عادات میں تبدیلی لانے سے پہلی رکاوٹ کو عبور کِیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، ورزش کی عادات پر غور کیجئے۔‏

جسمانی ورزش کی عادات۔ مناسب جسمانی ورزش نہایت مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ (‏دیکھیں بکس ”‏کتنی اور کس قسم کی ورزش؟“‏)‏ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ گھر کے اندر اور گردونواح میں سادہ ورزشیں، ’‏عمررسیدہ‘‏ اشخاص کو ازسرِنو توانائی اور جوش حاصل کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ مثلاً، ۷۲ تا ۹۸ برس کی عمر کے لوگوں کے ایک گروہ نے محسوس کِیا کہ وہ صرف دس ہفتے تک وزن اُٹھانے والی چند ایک ورزشیں کرنے کے بعد تیز چل سکتے اور آسانی کیساتھ سیڑھیاں چڑھ سکتے تھے۔ یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں!‏ ورزش کے پروگرام کے بعد کے معائنوں نے یہ ثابت کر دیا کہ اس میں شریک لوگوں کی عضلاتی توانائی دوگُنا سے بھی زیادہ ہو گئی تھی۔ زیادہ‌تر بیٹھی رہنے والی ۷۰ سال کی خواتین کا ایک گروہ ہفتے میں دو مرتبہ ورزش کرتا تھا۔ ایک سال بعد، اُنہوں نے جسمانی قوت، توانائی، توازن اور ہڈیوں کی مضبوطی حاصل کر لی تھی۔ یہ تحقیق کرنے والی ماہرِعضویات مریم نیلسن بیان کرتی ہے کہ ”‏جب ہم نے ورزش شروع کی تو ہمیں خطرہ تھا کہ اس سے ریشہ‌دار نسیج کی مضبوط پٹی کو نقصان پہنچے گا، وتر زخمی ہو جائینگے اور عضلات کی شکست‌وریخت ہو گی۔ مگر نتیجہ اسکے برعکس رہا کہ ہمیں طاقتور اور صحتمند لوگ ملے۔“‏

بڑھاپے اور ورزش کی بابت متعدد سائنسی مطالعوں کے نتائج کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے ایک نصابی کتاب بیان کرتی ہے:‏ ”‏ورزش بڑھاپے کے عمل کو سُست‌رفتار بنا دیتی ہے، زندگی کو بڑھاتی ہے اور موت سے پہلے دوسروں کے دستِ‌نگر ہونے کے عرصے کو کم کر دیتی ہے۔“‏

ذہنی ورزش کی عادات۔ عضلات اور دماغ دونوں کے سلسلے میں یہ بات سچ ثابت ہوتی ہے کہ اگر انہیں استعمال نہ کِیا جائے تو انکی کارکردگی کم ہو جاتی ہے۔ اگرچہ بڑھاپے سے کسی حد تک حافظہ کمزور ہو جاتا ہے، تاہم یو.‏ایس.‏ نیشنل انسٹیٹیوٹ آن ایجنگ کی تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ بوڑھے دماغ میں بھی بڑھاپے کے اثرات سے نپٹنے کیلئے بہت زیادہ صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ لہٰذا، علم‌الاعصاب کا پروفیسر ڈاکٹر انٹونیو آر.‏ڈاماسیو نتیجہ اخذ کرتا ہے:‏ ‏”‏بوڑھے لوگ انتہائی معنی‌خیز اور صحتمندانہ دماغی صلاحیتوں سے لطف‌اندوز ہو سکتے ہیں۔“‏ کیا چیز بوڑھے دماغوں کی متواتر لچک کا باعث بنتی ہے؟‏

ایک دماغ میں ۱۰۰ ارب دماغی خلیے یا نیورانز ہوتے ہیں جن کے درمیان کئی کھرب جوڑ ہوتے ہیں۔ یہ جوڑ دوسری چیزوں کیساتھ ساتھ حافظے کو تشکیل دینے کیلئے نیورانز کو ایک دوسرے سے ”‏بات کرنے“‏ کے قابل بناتے ہوئے ٹیلی‌فون کی تاروں کی مانند کام کرتے ہیں۔ جب دماغ بوڑھا ہوتا ہے تو یہ نیورانز ناکارہ ہو جاتے ہیں۔ (‏دیکھیں بکس، ”‏دماغ کے خلیوں کی بابت نیا نقطۂ‌نظر۔“‏)‏ اسکے باوجود، بوڑھے دماغ نیوران کے نقصان کو پورا کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ جب بھی کوئی نیوران ناکارہ ہو جاتا ہے تو آس‌پاس کے نیوران دوسرے نیورانز کیساتھ نئے جوڑ بنا لینے اور ناکارہ ہو جانے والے نیوران کا کام پورا کرنے سے جوابی‌عمل دکھاتے ہیں۔ درحقیقت اس طرح، دماغ کسی کام کی ذمہ‌داری ایک حصے سے دوسرے حصے میں منتقل کر دیتا ہے۔ اسلئے، بیشتر عمررسیدہ لوگ نوجوان لوگوں کی طرح دماغی کام انجام دیتے ہیں مگر ہو سکتا ہے کہ وہ ایسا کرنے کیلئے دماغ کے مختلف حصوں کو استعمال کریں۔ ایک بوڑھے دماغ کو ٹینس کے ایک بوڑھے کھلاڑی سے تشبِیہ دی جا سکتی ہے جو اپنی پھرتی میں کمی کو ایسی مہارتیں استعمال کرنے سے پورا کرتا ہے جنکی شاید نوجوان کھلاڑیوں میں کمی ہو۔ جی‌ہاں، عمررسیدہ کھلاڑی مختلف تکنیکیں استعمال کرکے اپنے سے چھوٹے کھلاڑیوں سے زیادہ سکور بناتا ہے۔‏

ایسی کارکردگی کو بدستور قائم رکھنے کیلئے عمررسیدہ لوگ کیا کر سکتے ہیں؟ بڑھاپے اور اسکے مسائل پر تحقیق کرنے والی ڈاکٹر میریلن البرٹ ۷۰ سے ۸۰ برس کی عمر کے ۱،۰۰۰ سے زائد لوگوں کا جائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچی کہ ذہنی ورزش اس بات کا تعیّن کرنے والے عناصر میں سے ایک ہے کہ کونسے عمررسیدہ اشخاص اپنی ذہنی صلاحیت کو قائم رکھنے کے لائق ہیں۔ (‏دیکھیں بکس ”‏دماغ کو لچک‌دار رکھنا۔“‏)‏ ذہنی ورزش دماغ کی ’‏ٹیلی‌فون کی تاروں‘‏ کو زندہ رکھتی ہے۔ اسکے برعکس، ماہرین کا کہنا ہے کہ ذہنی تنزلی اُس وقت شروع ہوتی ہے ”‏جب لوگ ریٹائر ہونے کے بعد آرام‌پسند اور دنیا کے معاملات سے بالکل لاتعلق ہو جاتے ہیں۔“‏—‏انسائڈ دی برین۔‏

چنانچہ بڑھاپے اور اسکے مسائل پر تحقیق کرنے والے ڈاکٹر جیک راؤ کی وضاحت کے مطابق اچھی بات یہ ہے کہ ”‏جو عناصر ہمارے قابو میں ہیں یا جن میں ہم ردوبدل کر سکتے ہیں اُنہیں کامیاب بڑھاپا گزارنے کی ہماری صلاحیت کو بہتر بنانا چاہئے۔“‏ مزیدبرآں، اچھی عادات پیدا کرنا کبھی بھی بے‌محل نہیں ہوتا۔ ایک محقق کا کہنا ہے کہ ”‏اگر آپ اپنی زندگی کے زیادہ‌تر ایّام کے دوران بُری عادات کا شکار رہنے کے باوجود بعد کے سالوں میں بدل جاتے ہیں تو پھربھی آپ کسی حد تک صحتمندانہ طرزِزندگی کے فوائد سے ضرور مستفید ہونگے۔“‏

ماحول سے فرق پڑتا ہے

اگر آج لندن میں پیدا ہونے والی ایک لڑکی کو ماضی میں قرونِ‌وسطیٰ کے لندن میں منتقل کر دیا جائے تو اُسکی متوقع عمر آج کی عمر سے تقریباً آدھی رہ جائیگی۔ یہ فرق اُس لڑکی کی طبیعی حالت میں اچانک تبدیلی سے رونما نہیں ہوگا بلکہ مزید دو رکاوٹوں—‏ماحول اور طبّی نگہداشت—‏میں اچانک تبدیلی کی وجہ سے ہوگا۔ سب سے پہلے ماحول پر غور کریں۔‏

طبیعی ماحول۔ ماضی میں، انسان کا طبیعی ماحول—‏مثلاً اُس کا گھر—‏صحت کا سب سے بڑا مسئلہ تھا۔ تاہم، حالیہ عشروں کے دوران، طبیعی ماحول سے پیدا ہونے والے خطرات بڑی حد تک کم ہو گئے ہیں۔ بہتر صفائی، صاف‌ستھرا پانی اور گھر میں موذی حشرات کی کمی نے انسان کے ماحول کو بہتر بنا دیا ہے، اُسکی صحت میں اضافہ کِیا ہے اور اُسکی زندگی کو طوالت بخشی ہے۔ نتیجتاً، دُنیا کے بیشتر حصوں میں، انسان اب لمبی عمر پانے کے قابل ہے۔‏c تاہم، اس رکاوٹ کو عبور کرنے کیلئے طبیعی ماحول سے زیادہ کچھ شامل ہے۔ یہ صحتمندانہ معاشرتی اور مذہبی ماحول کو قائم رکھنے کا بھی تقاضا کرتا ہے۔‏

معاشرتی ماحول۔ آپکا معاشرتی ماحول ان لوگوں سے تشکیل پاتا ہے جن کیساتھ آپ رہتے، کام کرتے، کھاتے‌پیتے، پرستش کرتے اور کھیلتے ہیں۔ ایک بنیادی عنصر یہ ہے کہ آپکے طبیعی ماحول میں بہتری اُس وقت آتی ہے جب آپکو صاف‌ستھرا پانی دستیاب ہوتا ہے، اِسی طرح، آپکا معاشرتی ماحول قابلِ‌قدر ساتھی دستیاب ہونے کی صورت میں بہتر ہو سکتا ہے۔ دوسرے لوگوں کیساتھ اپنی خوشیاں اور غم، ارادے اور ناکامیاں بانٹنے کے قابل ہونا ماحولیاتی رکاوٹ کی بلندی کو کم کرتا اور آپکو زیادہ دیر تک زندہ رہنے میں مدد دیتا ہے۔‏

تاہم، اسکے برعکس یہ بات بھی درست ہے کہ ساتھیوں کا فقدان تنہائی اور معاشرتی طور پر الگ‌تھلگ ہو جانے کا سبب بن سکتا ہے۔ اگر آپکے اِردگرد کے لوگ آپکی پرواہ نہ کریں تو آپ پریشان ہو جائینگے۔ عمررسیدہ لوگوں کی نگہداشت کیلئے رہائشی ادارے میں رہنے والی ایک خاتون نے اپنی ایک واقف‌کار کو لکھا:‏ ”‏مَیں ۸۲ برس کی ہوں اور مجھے اس ادارے میں رہتے ہوئے ۱۶ برس ہو گئے ہیں۔ وہ ہمارے ساتھ اچھا برتاؤ کرتے ہیں، تاہم کبھی‌کبھار تنہائی ناقابلِ‌برداشت ہوتی ہے۔“‏ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس خاتون کی حالت بالخصوص مغربی دُنیا کے کئی ایک عمررسیدہ لوگوں کی حالت کی عکاسی کرتی ہے۔ وہ اکثر ایسے معاشرتی ماحول میں رہتے ہیں جو اُنہیں برداشت تو کرتا ہے مگر اُنکی کوئی قدر نہیں کرتا۔ نتیجتاً، ”‏تنہائی ایک ایسی بنیادی حالت ہے جو کہ ترقی‌یافتہ دُنیا میں عمررسیدہ اشخاص کی فلاح‌وبہبود کیلئے متواتر خطرہ بنی ہوئی ہے،“‏ دی انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آن ایجنگ کا جیمز کائیک بیان کرتا ہے۔‏

سچ ہے کہ آپ شاید جبری ریٹائرمنٹ، چلنے پھرنے میں کمزوری، دیرینہ دوستوں کی کمی یا ازدواجی ساتھی کی موت جیسے حالات کا سدِباب کرنے کے قابل نہ ہوں جو آپکو تنہائی کا شکار بناتے ہیں، تاہم آپ اس رکاوٹ کو اتنا نیچے لانے کیلئے کچھ اقدام کر سکتے ہیں جسے عبور کرنا آسان ہوگا۔ یہ بات یاد رکھیں کہ محض بڑھاپا ہی احساسِ‌تنہائی کا باعث نہیں ہوتا؛ بعض نوجوان لوگ بھی تنہا محسوس کرتے ہیں۔ اس مسئلے کا سبب بڑھاپا نہیں بلکہ معاشرتی علیٰحدگی ہے۔ ایسی علیٰحدگی سے بچنے کیلئے آپ کیا کر سکتے ہیں؟‏

‏”‏لوگوں کیلئے اپنی رفاقت کو خوشگوار بنائیں،“‏ ایک بوڑھی بیوہ مشورہ دیتی ہے۔ ”‏بہت کم لوگ کسی چڑچڑے شخص کی رفاقت سے خوش ہوتے ہیں۔ آپکو خوش نظر آنے کیلئے حقیقی کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ سچ ہے کہ یہ جدوجہد کا تقاضا کرتا ہے، تاہم آپ جتنی کوشش کرینگے آپکو اُس سے اُتنا ہی فائدہ حاصل ہوگا۔ کر بھلا سو ہو بھلا۔“‏ وہ مزید کہتی ہے:‏ ”‏اس بات کا یقین کرنے کیلئے کہ جن لوگوں سے مَیں ملتی ہوں، خواہ جوان ہوں یا بوڑھے، میرے پاس اُن کیساتھ گفتگو کرنے کیلئے باہمی دلچسپی کے حامل موضوعات ہوں، مَیں معلوماتی رسالے اور خبریں پڑھنے سے تازہ‌ترین حالات سے باخبر رہتی ہوں۔“‏

چند اَور تجاویز پیشِ‌خدمت ہیں:‏ جو کچھ دوسرے لوگ پسند کرتے ہیں اُس میں دلچسپی لینا سیکھیں۔ سوالات پوچھیں۔ جہاں تک ممکن ہو فیاض بنیں۔ اگر آپ کے پاس مالی چیزوں کی افراط نہیں ہے تو آپ اپنا آپ پیش کر سکتے ہیں؛ دینا خوشی بخشتا ہے۔ خط لکھیں۔ کوئی مشغلہ اپنائیں۔ دوسرے لوگوں سے ملاقات کرنے یا اُن کیساتھ باہر جانے کی دعوت قبول کریں۔ اپنے گھر کو ملاقاتیوں کیلئے تازگی‌بخش اور پُرکشش بنائیں۔ ضرورتمند لوگوں کے پاس جائیں اور مدد کی پیشکش کریں۔‏

مذہبی ماحول۔ بے‌شمار شہادتیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ مذہبی سرگرمیاں عمررسیدہ اشخاص کو ”‏زندگی کے حقیقی مقصد اور اہمیت“‏ کو سمجھنے اور ”‏خوشی،“‏ ”‏اپنائیت،“‏ ”‏زندگی میں بہت زیادہ اطمینان“‏ اور ”‏دوسروں کیساتھ مشترکہ زندگی اور خوشحالی کے احساس“‏ کا تجربہ کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ کیوں؟ کتاب لیٹر لائف—‏دی ریالیٹیز آف ایجنگ بیان کرتی ہے:‏ ”‏مذہب لوگوں کو فلسفہ‌حیات کے علاوہ رجحانات، اقدار، اور عقائد کا ایک سلسلہ فراہم کرتا ہے جو اُنہیں اپنے اِردگرد کی دُنیا سے باخبر رہنے اور اسے سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔“‏ مزیدبرآں، مذہبی سرگرمیاں عمررسیدہ اشخاص کو دوسرے لوگوں کی قربت میں لاتی ہیں اور یوں ”‏معاشرتی علیٰحدگی اور تنہائی کے امکان کو کم کرتی ہیں۔“‏

چنانچہ لویز اور ایولن کیلئے، جو دونوں ۸۰ برس کی بیوائیں ہیں اور یہوواہ کے گواہوں کی ایک کلیسیا کی رُکن ہیں، ایسی تحقیق محض اُس بات کی تصدیق کرتی ہے جسے وہ عشروں سے جانتی ہیں۔ لویز بیان کرتی ہے:‏ ”‏مَیں کنگڈم ہال میں بوڑھے اور جوان، ہر طرح کے لوگوں سے بات‌چیت کرکے بہت خوش ہوتی ہوں۔‏d اجلاس اہم معلومات پر مبنی ہوتے ہیں۔ اجلاسوں کے بعد ہم باہمی رفاقت میں ہنسی قہقہوں سے بھی محظوظ ہوتے ہیں۔ یہ نہایت مسرت‌بخش وقت ہوتا ہے۔“‏ ایولن بھی اپنی مذہبی سرگرمیوں سے مستفید ہوتی ہے۔ وہ بیان کرتی ہے:‏ ”‏اپنے آس‌پڑوس میں لوگوں کیساتھ بائبل کی بابت گفتگو کرنا مجھے تنہائی سے بچاتا ہے۔ تاہم اس سے بھی زیادہ، یہ مجھے خوشی بخشتا ہے۔ زندگی کے حقیقی مقصد کو سمجھنے میں دوسروں کی مدد کرنا ایک اطمینان‌بخش کام ہے۔“‏

بِلاشُبہ، لویز اور ایولن کی زندگی بامقصد ہے۔ اسکے نتیجے میں خوشی کے جن احساسات کا اُنہیں تجربہ ہوتا ہے وہ ماحول سے متعلق دوسری رکاوٹ کو کم کرتا ہے اور اُنہیں زندگی کی دوڑ میں دوڑتے رہنے میں مدد دیتا ہے۔—‏مقابلہ کریں زبور ۹۲:‏۱۳، ۱۴‏۔‏

کم‌خرچ طبّی نگہداشت سے زیادہ شفا ممکن‌الحصول

اس صدی کے دوران طبّی سائنس میں ترقی نے اس تیسری رکاوٹ یعنی طبّی نگہداشت کو بھی ڈرامائی طور پر کم کر دیا ہے مگر عالمی پیمانے پر نہیں۔ کئی ایک غریب ممالک میں، دی ورلڈ ہیلتھ رپورٹ ۱۹۹۸ بیان کرتی ہے، ”‏متوقع عمر ۱۹۷۵-‏۱۹۹۵ کے درمیان واقعی کم ہو گئی تھی۔“‏ ڈبلیوایچ‌او کے ڈائریکٹر جنرل نے تبصرہ کِیا کہ ”‏آجکل کم ترقی‌یافتہ ممالک میں ۴ میں سے ۳ لوگ ۵۰ برس کی عمر سے پہلے مر رہے ہیں جبکہ نصف صدی پہلے عالمی پیمانے پر لوگوں کی متوقع عمر اتنی ضرور ہوتی تھی۔“‏

تاہم، غریب ممالک میں عمررسیدہ اور نوجوان لوگوں کی ایک بڑی تعداد اِس وقت دستیاب کم‌خرچ طبّی نگہداشت سے فائدہ اُٹھا کر اس رکاوٹ پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے۔ مثال کے طور پر، تپِ‌دق (‏ٹی‌بی)‏ کے علاج کے سلسلے میں ایک نئی دریافت پر غور کریں۔‏

عالمی پیمانے پر، ایڈز، ملیریا اور گرم‌مرطوب علاقوں کی بیماریوں کی نسبت مجموعی طور پر ٹی‌بی زیادہ لوگوں کی جان لیتی ہے—‏ہر روز ۸،۰۰۰ لوگ۔ ٹی‌بی سے متاثرہ ہر ۱۰۰ مریضوں میں سے ۹۵ دُنیا کے ترقی‌پذیر ممالک میں رہتے ہیں۔ تقریباً ۲۰ ملین لوگ اب تیزی سے پھیلنے والی ٹی‌بی سے متاثرہ ہیں اور کوئی ۳۰ ملین لوگ اگلے دس سالوں کے دوران اسکی وجہ سے مر سکتے ہیں، یہ تعداد بولیویا، کمبوڈیا اور ملاوی کے ملکوں کی مجموعی آبادی کے برابر ہے۔‏

بِلاشُبہ ڈبلیوایچ‌او ۱۹۹۷ میں یہ اعلان کرکے خوش تھا کہ اس نے مریض کے ہسپتال میں داخل ہوئے بغیر یا اعلیٰ تکنیک پر مبنی طبّی نگہداشت کے بغیر ہی چھ ماہ میں ٹی‌بی کا علاج کرنے کی حکمتِ‌عملی دریافت کر لی ہے۔ ڈبلیوایچ‌او کی اشاعت، دی ٹی‌بی ٹریٹمنٹ اوبزروَر نے بیان کِیا کہ ”‏اب پہلی مرتبہ دُنیا کے پاس نہ صرف دولتمند ممالک میں بلکہ غریب ممالک میں بھی ٹی‌بی کی وبا کو ختم کرنے والے قابلِ‌اعتماد آلات اور علاج موجود ہیں۔“‏ یہ علاج—‏جسے بعض ”‏اس عشرے میں شعبہ‌صحت کی سب سے بڑی دریافت“‏ سمجھتے ہیں—‏DOTS ہے۔‏e

ٹی‌بی کے دیگر مروّجہ علاج معالجوں کی نسبت اس علاج پر کم لاگت آتی ہے، پھربھی بالخصوص ترقی‌پذیر ممالک میں رہنے والے لوگوں کیلئے اسکے نتائج نہایت اُمیدافزا ہیں۔ ڈبلیوایچ‌او کے عالمی ٹی‌بی پروگرام کا ڈائریکٹر ڈاکٹر اراتا کوچی بیان کرتا ہے:‏ ”‏ٹی‌بی پر قابو پانے کے سلسلے میں کسی بھی دوسرے علاج سے صحتیابی کی ایسی بلند شرح حاصل نہیں ہوئی۔ غریب‌ترین ممالک میں بھی DOTS سے صحتیابی کی شرح ۹۵ فیصد تک ہے۔“‏ سن ۱۹۹۷ کے آخر تک، ۸۹ ممالک میں DOTS کو اختیار کر لیا گیا تھا۔ آجکل یہ تعداد ۹۶ کو پہنچ گئی ہے۔ ڈبلیوایچ‌او توقع کرتا ہے کہ یہ علاج انتہائی ترقی‌پذیر ممالک کے کئی ملین دیگر غریب لوگوں کیلئے بھی دستیاب ہوگا اور یوں اُنہیں زندگی کی دوڑ میں درپیش اس تیسری رکاوٹ پر قابو پانے کے قابل بنائیگا۔‏

اپنی عادات کو بدلنے، اپنے ماحول میں بہتری لانے اور اپنی طبّی نگہداشت کو بہتر بنانے سے، بِلاشُبہ انسان اپنے اوسط دورِحیات اور متوقع عمر کو بڑھانے کے قابل ہوا ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا کبھی انسان کیلئے یہ ممکن ہوگا کہ وہ انتہائی انسانی دورِحیات کو بھی بڑھا سکے—‏شاید اتنا کہ زندگی کی کوئی مقررہ حد نہ ہو؟‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a اگرچہ ”‏متوقع عمر“‏ اور ”‏اوسط دورِحیات“‏ جیسی اصطلا‌حوں کو اکثر ادل‌بدل کر استعمال کِیا جاتا ہے، تاہم ان دونوں میں فرق ہے۔ ”‏متوقع عمر“‏ اُن سالوں کی طرف اشارہ کرتی ہے جو ایک شخص زندہ رہنے کی توقع کرتا ہے، جبکہ ”‏اوسط دورِحیات“‏ اُن اوسط سالوں کی تعداد کی طرف اشارہ کرتا ہے جنکے دوران کسی مُلک کے لوگ درحقیقت زندہ رہتے ہیں۔ لہٰذا، متوقع عمر کے تخمینے اوسط دورِحیات پر مبنی ہوتے ہیں۔‏

b ان عناصر کے علاوہ جنہیں قابو میں رکھا جا سکتا ہے، انسان کی لاتبدیل موروثی ساخت بھی واضح طور پر، اُسکی صحت اور زندگی کی میعاد کو متاثر کرتی ہے۔ اس پر اگلے مضمون میں بات کی جائیگی۔‏

c سادہ اقدام کے ذریعے گھر کے ماحول کو بہتر بنانے کے طریقوں کی بابت مزید معلومات کیلئے، ستمبر ۲۲، ۱۹۸۸ اور اکتوبر ۱۹۹۵ کے جاگو!‏ کے شماروں میں مضامین ”‏صفائی کے چیلنج کا سامنا کرنا“‏ اور ”‏جو چیز آپ کی صحت کا تعیّن کرتی ہے—‏جو کچھ آپ کر سکتے ہیں،“‏ کو دیکھیں۔‏

d جس جگہ یہوواہ کے گواہ اپنے ہفتہ‌وار اجلاس منعقد کرتے ہیں اُسے کنگڈم ہال کہتے ہیں۔ ان اجلاسوں پر سب لوگ آ سکتے ہیں اور یہاں چندے نہیں لئے جاتے۔‏

e DOTS ڈائریکٹلی اوبزروڈ ٹریٹمنٹ، شارٹ-‏کورس کا مخفف ہے۔ DOTS کے سلسلے میں مزید معلومات کیلئے، مئی ۲۲، ۱۹۹۹ کے اویک!‏ میں مضمون ”‏ٹی‌بی کے خلاف جنگ میں ایک نیا دفاع“‏ کو دیکھیں۔‏

‏[‏صفحہ 6 پر بکس/‏تصویر]‏

کتنی اور کس قسم کی ورزش؟‏

نیشنل انسٹیٹیوٹ آن ایجنگ (‏این‌آئی‌اے)‏ بیان کرتا ہے:‏ ”‏ہر روز اعتدال کیساتھ تیس منٹ ورزش کرنا ایک اچھا نصب‌العین ہے۔“‏ تاہم ضروری نہیں کہ آپ تیس منٹ تک لگاتار ورزش کرتے رہیں۔ ورزش کے ۱۰ منٹ کے تین مختصر سیشن بھی اُتنے ہی مفید ثابت ہونگے جتنا کہ ورزش کا ۳۰ منٹ کا ایک سیشن۔ آپ کس قسم کی ورزش کر سکتے ہیں؟ این‌آئی‌اے کا کتابچہ ڈونٹ ٹیک اِٹ ایزی:‏ ایکسرسائز!‏ (‏اسے آسان نہ سمجھیں:‏ ورزش کریں!‏)‏ سفارش کرتا ہے:‏ ”‏لفٹ کی بجائے سیڑھیوں سے جانا یا گاڑی کی بجائے پیدل چلنا جیسی مختصر مگر تیزرفتار کارگزاریوں کو ایک دن میں ۳۰ منٹ کی ورزش میں شامل کِیا جا سکتا ہے۔ درخت کے پتے اُٹھانا، بچوں کیساتھ پھرتی سے کھیلنا، باغ میں کام کرنا اور گھر کا کام کاج کرنا آپکے روزانہ کے معمول کا حصہ ہو سکتے ہیں۔“‏ تاہم، ورزش کا کوئی بھی پروگرام شروع کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا اچھا ہوگا۔‏

‏[‏تصویر]‏

مناسب جسمانی کام عمررسیدہ لوگوں کو جوش‌وولولہ حاصل کرنے میں مدد دے سکتا ہے

‏[‏صفحہ 7 پر بکس/‏تصویر]‏

دماغ کو لچک‌دار رکھنا

ہزاروں عمررسیدہ اشخاص پر کی گئی سائنسی تحقیق سے کئی ایسے عناصر دریافت ہوئے ہیں جو بوڑھے ذہن کو لچک‌پذیر رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ ان میں ”‏پڑھنے، سفر کرنے، ثقافتی تقریبات، تعلیم، کلبوں اور پیشہ‌ورانہ تنظیموں میں فعال شرکت“‏ شامل ہے۔ ”‏جتنے مختلف کام آپ کر سکتے ہیں کریں۔“‏ ”‏کام کرتے رہیں۔ کبھی فارغ نہ بیٹھیں۔“‏ ”‏ٹی‌وی بند رکھیں۔“‏ ”‏کوئی کورس کر لیں۔“‏ خیال یہ ہے کہ ایسی سرگرمیاں نہ صرف انسان کو حوصلہ دیتی ہیں بلکہ دماغ کے اندر بھی نئے جوڑ پیدا کرتی ہیں۔‏

‏[‏تصویر]‏

ذہنی ورزش دماغ کو لچک‌پذیر رکھنے میں مدد دیتی ہے

‏[‏صفحہ 8 پر بکس/‏تصویر]‏

عمررسیدہ کیلئے صحت سے متعلق تجاویز

یو.‏ایس.‏ کے شعبہ‌صحت اور انسانی خدمات کا ایک حصہ، دی نیشنل انسٹیٹیوٹ آن ایجنگ بیان کرتا ہے کہ ”‏طویل مدت تک صحتمند اور زندہ رہنے کے امکانات کو بہتر بنایا جا سکتا ہے“‏ مگر اسکے لئے باشعور مشورت پر عمل کرنے کی ضرورت ہے جیسے‌کہ ذیل میں درج ہے:‏

● متوازن خوراک کھائیں جس میں پھل اور سبزیاں شامل ہوں۔‏

● اگر آپ الکحلی مشروبات کا استعمال کرتے ہیں تو اس میں اعتدال‌پسند بنیں۔‏

● تمباکونوشی نہ کریں۔ اسے کسی بھی وقت چھوڑا جا سکتا ہے۔‏

● باقاعدہ ورزش کریں۔ ورزش کا پروگرام شروع کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔‏

● خاندان اور دوستوں سے رابطہ رکھیں۔‏

● کام، کھیل اور سماجی میل‌جول کے سلسلے میں فعال رہیں۔‏

● زندگی کی بابت مثبت نظریہ اپنائیں۔‏

● مسرت‌بخش کام کریں۔‏

● اپنی صحت کا باقاعدہ معائنہ کرائیں۔‏

‏[‏صفحہ 9 پر بکس]‏

دماغ کے خلیوں کی بابت نیا نقطۂ‌نظر

نفسیات اور علم‌الاعصاب کی پروفیسر، ڈاکٹر میریلن البرٹ کہتی ہے:‏ ”‏ہمارا خیال تھا کہ آپ اپنی زندگی میں ہر دن دماغ کے تمام حصوں میں خلیوں کو ضائع کرتے ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہے—‏صحتمندانہ بڑھاپے کیساتھ کچھ نہ کچھ نقصان تو ضرور ہوتا ہے مگر اس حد تک نہیں بلکہ دماغ کے بہت ہی خاص حصوں میں ایسا واقع ہوتا ہے۔“‏ علاوہ‌ازیں، حالیہ دریافتیں ظاہر کرتی ہیں کہ پُرانا اور پُختہ نظریہ کہ انسان نئے دماغی خلیے پیدا نہیں کر سکتے ”‏حقیقت پر مبنی“‏ نہیں ہے، نومبر ۱۹۹۸ کا سائنٹفک امریکن بیان کرتا ہے۔ اعصابی سائنسدان کہتے ہیں کہ اب اُنہوں نے اس بات کا ثبوت حاصل کر لیا ہے کہ عمررسیدہ لوگ بھی ”‏سینکڑوں کے حساب سے اضافی نیوران پیدا کرتے ہیں۔“‏

‏[‏صفحہ 11 پر بکس]‏

عمررسیدہ اور دانا؟‏

بائبل بیان کرتی ہے کہ ”‏بڈھوں میں سمجھ ہوتی ہے اور عمر کی درازی میں دانائی۔“‏ (‏ایوب ۱۲:‏۱۲‏)‏ اس بات میں کتنی صداقت پائی جاتی ہے؟ محققین نے ”‏بصیرت، قابلِ‌اعتماد فہم، دانش اور تقابلی اہمیت کی حامل اقدار کو پرکھنے کی لیاقت اور مسائل کے حل کیلئے مؤثر حکمتِ‌عملی تجویز کرنے“‏ والی خوبیوں کی جانچ کرنے کیلئے عمررسیدہ اشخاص پر تحقیق کی۔ یو۔ایس۔نیوز اینڈ ورلڈ رپورٹ کے مطابق اس تحقیق نے ظاہر کِیا کہ ”‏عمررسیدہ لوگ ذہنی ہمہ‌گیری کے اعتبار سے زیادہ محتاط ہوتے ہیں اور حالاتِ‌حاضرہ سے ہم‌آہنگ مشورت دینے کے سلسلے میں اکثر نوجوان لوگوں پر سبقت لے جاتے ہیں۔“‏ تحقیق نے یہ بھی ظاہر کِیا ہے کہ ”‏فیصلہ کرنے میں اگرچہ عمررسیدہ اشخاص کو نوجوانوں کی نسبت زیادہ وقت لگتا ہے مگر انکا فیصلہ عموماً بہتر ہوتا ہے۔“‏ چنانچہ بائبل میں ایوب کی کتاب اُجاگر کرتی ہے کہ عمررسیدہ واقعی دانا ہوتے ہیں۔‏

‏[‏صفحہ 5 پر تصویر]‏

انسانی زندگی اُس دوڑ کی مانند ہے جس میں رکاوٹیں ہی رکاوٹیں ہوتی ہیں

‏[‏صفحہ 9 پر تصویر]‏

‏”‏لوگوں کیلئے اپنی رفاقت کو خوشگوار بنائیں،“‏ ایک بیوہ کا مشورہ

‏[‏صفحہ 10 پر تصویریں]‏

‏”‏زندگی کے حقیقی مقصد کو سمجھنے میں دوسروں کی مدد کرنا ایک اطمینان‌بخش کام ہے۔“‏—‏ایولن

‏[‏صفحہ 10 پر تصویریں]‏

‏”‏مَیں اپنے کنگڈم ہال میں بوڑھے اور جوان، ہر طرح کے لوگوں سے بات‌چیت کرکے خوش ہوتی ہوں۔“‏—‏لویز

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں