دُنیا بوڑھی ہوتی جا رہی ہے
ہسپانوی سیاح ژاں پونس دے لےآں نے ۱۵۱۳ میں شمالی امریکہ کے ایک وسیعوعریض غیرمعروف ساحل پر جا نکلا۔ ایک رپورٹ کے مطابق جو علاقہ اُس نے دریافت کِیا وہ پھولوں سے ڈھکا ہوا تھا اس لئے اُس نے اس کا نام فلوریڈا رکھ دیا جس کا ہسپانوی زبان میں مطلب ہے ”پھولدار۔“ نام تلاش کرنا تو آسان تھا۔ تاہم، اُس کی مہم کا مقصد—عمررسیدہ لوگوں کو جوان بنانے کی قوت رکھنے والے پانی کا چشمہ—ممکنالحصول نہیں تھا۔ کئی مہینوں کی سرتوڑ کوشش کے بعد، سیاح نے جوانی کے فرضی چشمے کی تلاش ختم کر دی اور اپنے سمندری سفر میں آگے بڑھ گیا۔
اگرچہ پونس دے لےآں کے زمانے کی طرح آجکل بھی جوانی کے چشمے محض ایک فریب ہیں، مصنف بیتے فریدان کے مطابق انسان نے ”بڑھاپے کا چشمہ“ ضرور دریافت کر لیا ہے۔ اُس نے یہ بات دُنیابھر میں عمررسیدہ لوگوں کی تعداد میں ڈرامائی اضافے کے پیشِنظر کہی تھی۔ لہٰذا، اس وقت لوگوں کی اکثریت بڑھاپے کو پہنچ رہی ہے اور یوں عالمی آبادی کی ساخت تبدیل ہو رہی ہے۔ درحقیقت، دُنیا بوڑھی ہوتی جا رہی ہے۔
”انسانیت کی عظیمترین کامیابی“
ماہرینِشماریات کی تفصیلات حقیقت کو عیاں کرتی ہیں۔ اس صدی کے شروع میں، دولتمند ممالک میں بھی، پیدائش کے وقت متوقع عمر ۵۰ برس سے کم تھی۔ آجکل، یہ بڑھ کر ۷۵ برس سے زیادہ ہو گئی ہے۔ اسی طرح، چین، ہنڈرس، انڈونیشیا اور ویتنام جیسے ترقیپذیر ممالک میں پیدائش کے وقت متوقع عمر چار عشرے پہلے کی نسبت ۲۵ برس زیادہ ہے۔ ہر مہینے، عالمی پیمانے پر ایک ملین لوگ ۶۰ برس کی عمر کو پہنچ رہے ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ نوجوان لوگوں کی بجائے ۸۰ برس اور اس سے زیادہ عمر والے لوگ زمین پر تیزی سے بڑھنے والی آبادی کے گروہ کو تشکیل دیتے ہیں۔
ماہرِشماریات ایلین کریمنس سائنس میگزین میں بیان کرتی ہے، ”متوقع عمر میں اضافہ انسانیت کی عظیمترین کامیابی ہے۔“ اقوامِمتحدہ اس سے اتفاق کرتی ہے اور اس کامیابی پر توجہ مبذول کرانے کیلئے اُس نے ۱۹۹۹ کے سال کو عمررسیدہ اشخاص کا عالمی سال قرار دیا ہے۔—صفحہ ۳ پر بکس دیکھیں۔
نقطۂنظر میں تبدیلی کی ضرورت
تاہم، اس کامیابی میں انسان کی متوقع عمر میں تبدیلی سے زیادہ کچھ شامل ہے۔ یہ درحقیقت بڑھاپے کی بابت انسانی نقطۂنظر میں تبدیلی کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔ سچ ہے کہ بوڑھا ہونے کا خیال ابھی بھی بہتیرے لوگوں کو پریشان اور خوفزدہ کر دیتا ہے کیونکہ بڑھاپا عموماً جسمانی اور ذہنی کمزوری پر منتج ہوتا ہے۔ تاہم، بڑھاپے کا مطالعہ کرنے والے محققین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بوڑھا ہونا اور بیمار ہونا دو مختلف باتیں ہیں۔ لوگ جس طرح بوڑھے ہوتے ہیں اُس میں کافی زیادہ فرق پایا جاتا ہے۔ محققین کہتے ہیں کہ سنوارانہ عمر اور حیاتیاتی عمر میں فرق ہے۔ (دیکھیں بکس ”بڑھاپا کیا ہے؟“) باالفاظِدیگر، بوڑھا ہونا اور صحت کا گِرنا ضروری طور پر ایک ساتھ واقع نہیں ہوتے۔
درحقیقت، بوڑھا ہونے کیساتھ ساتھ آپ اپنی زندگی کی حالت کو بہتر بنانے والے اقدام اُٹھا سکتے ہیں۔ سچ ہے کہ یہ اقدام آپکو جوان تو نہیں بنائینگے، تاہم یہ آپکو بوڑھا ہونے کے باوجود صحتمند ضرور رکھ سکتے ہیں۔ اگلا مضمون ان اقدام میں سے چند ایک پر توجہ دلاتا ہے۔ اس وقت بڑھاپے کا موضوع آپ کیلئے خصوصی توجہ کا حامل نہ ہونے کے باوجود اسکی بابت پڑھنا اچھا ہے کیونکہ جلد ہی یہ آپ کیلئے نہایت اہم بن جائیگا۔
[صفحہ 3 پر بکس/تصویریں]
عمررسیدہ اشخاص کا عالمی سال
یواین کے سکریٹری جنرل کوفی عنان نے حال ہی میں عمررسیدہ اشخاص کے عالمی سال کا آغاز کرتے ہوئے کہا: ”اب خود ۶۰ برس کا ہونے کی وجہ سے . . . مَیں بھی اُنہی اعدادوشمار کا حصہ ہوں جنکا مَیں نے ذکر کِیا ہے۔“ بہتیرے لوگ کوفی عنان جیسے ہی ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ ۲۱ویں صدی کے شروع تک، بیشتر ممالک میں ہر ۵ میں سے ۱ شخص ۶۰ برس یا اس سے زیادہ کا ہو جائیگا۔ اُن میں سے بعض کو دیکھبھال کی ضرورت ہوگی، تاہم اُن سب کو اُن طریقوں کو جاننے کی ضرورت ہوگی جن سے وہ اپنی خودمختاری، وقار اور بارآوری کو قائم رکھ سکتے ہیں۔ اس ’آبادیاتی انقلاب‘ سے پیدا ہونے والے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے اور ”معاشرے میں بڑھاپے کی قدروقیمت“ کو سمجھنے میں پالیسی بنانے والوں کی مدد کرنے کیلئے، یواین جنرل اسمبلی نے ۱۹۹۲ میں یہ فیصلہ کِیا کہ ۱۹۹۹ کے سال کو عمررسیدہ لوگوں کا عالمی سال قرار دیا جائے۔ اس خاص سال کا موضوع ہے، ”تمام عمر کے لوگوں پر مشتمل معاشرے کی جانب قدم۔“
[تصویر]
کوفی عنان
[صفحہ 4 پر بکس/تصویریں]
بڑھاپا کیا ہے؟
ایک محقق بیان کرتا ہے، ”جب بڑھاپے کی بات آتی ہے تو حیاتیاتی اعتبار سے مستقبل کی بابت پیشگوئیاں کرنے کا عمل نہایت غیرواضح ہے۔“ ایک دوسرا محقق بیان کرتا ہے، ”کوئی بھی شخص اسے مکمل طور پر نہیں سمجھتا۔“ تاہم، گیرونٹولوجسٹس (بڑھاپے اور اسکے مسائل کا مطالعے کرنے والے سائنسدان) نے اسکی تشریح پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم اُنکا کہنا ہے کہ بڑھاپے سے مُراد وہ سنوارانہ وقت ہے جس کے دوران کوئی شخص زندہ رہتا ہے۔ تاہم، بڑھاپا محض سالوں کے گزرنے سے زیادہ کچھ ہے۔ کوئی بھی شخص کسی بچے کی بابت یہ نہیں کہتا کہ وہ بوڑھا ہو رہا ہے کیونکہ بڑھاپا قوتِحیات کی تنزلی پر منتج ہوتا ہے۔ بڑھاپا ایک ایسی بھاری قیمت ہے جو گزرتے ہوئے سالوں کیساتھ کسی شخص کو ادا کرنی پڑتی ہے۔ بعض لوگ اپنی سنوارانہ عمر کے لحاظ سے جوان نظر آتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اکثر یہ سننے میں آتا ہے کہ لوگ کسی شخص کی بابت کہتے ہیں کہ وہ ”اپنی عمر سے بوڑھا نظر نہیں آتا۔“ سنوارانہ عمررسیدگی اور حیاتیاتی عمررسیدگی کے مابین فرق ہوتا ہے، محققین کے نزدیک حیاتیاتی عمررسیدگی جسمانی تبدیلیوں کے باعث واقع ہونے والی عمررسیدگی کا مفہوم پیش کرتی ہے۔
حیوانیات کے پروفیسر سٹیون این. آسٹڈ سنرسیدگی کو ”وقت گزرنے کیساتھ ساتھ عملاً بدن کے ہر عمل کے بتدریج تنزلی“ کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ تاہم، بڑھاپے پر تحقیق کرنے والے نیشنل انسٹیٹیوٹ کا ڈاکٹر رچرڈ ایل. سپراؤٹ کہتا ہے کہ بڑھاپا ”ہمارے نظام کے اُن حصوں کی سُسترو تنزلی ہے جو ہمیں ذہنی اور جذباتی دباؤں کیلئے مناسب ردِعمل دکھانے کے قابل بناتے ہیں۔“ تاہم، بیشتر ماہرین اس بات سے متفق ہیں کہ بڑھاپے کی واضح تشریح کرنا ابھی تک ایک چیلنج ہی ہے۔ سالماتی حیاتیات کا ماہر، ڈاکٹر جان میڈینا اسکی وجہ بیان کرتا ہے: ”سر سے پاؤں تک، پروٹین سے ڈیایناے تک، پیدائش سے موت تک، ۶۰ کھرب خلیوں پر مشتمل انسان کے بوڑھا ہونے کے عمل میں اَنگنت قوتیں کارفرما ہوتی ہیں۔“ پس یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ بہت سے ماہرین یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ بڑھاپا ”تمام حیاتیاتی مسائل میں سب سے پیچیدہ ہے“!