یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو 8/‏1/‏99 ص.‏ 14-‏17
  • بحیرۂ‌روم—‏کُھلے زخموں والا بند سمندر

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • بحیرۂ‌روم—‏کُھلے زخموں والا بند سمندر
  • جاگو!‏—‏1999ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • سیاحوں کا حملہ
  • تیل‌بردار جہازوں کی بھاری آمدورفت
  • کمزور ماحولیات
  • پانی میں موت
  • ایک عملی منصوبہ
  • سمندر میں تباہی—‏زمین پر المیہ
    جاگو!‏—‏2004ء
  • بحیرۂ‌روم کا بیش‌قیمت تیل
    جاگو!‏—‏2008ء
جاگو!‏—‏1999ء
جاگو 8/‏1/‏99 ص.‏ 14-‏17

بحیرۂ‌روم‏—‏کُھلے زخموں والا بند سمندر

یونان میں جاگو!‏ کے مراسلہ‌نگار سے

یونان سے مراکش تک کے ساحل ہزاروں ڈالفنز کے ڈھانچوں سے بھرے پڑے ہیں، بحیرۂ‌ایجین میں زہریلی موجِ‌احمر، بحیرۂ‌ایڈریاٹک میں لاکھوں ٹن کے حساب سے موجود لعابی مادہ، کچھوے اور سگ‌ماہی ناپیدگی کے دھانے پر، پانی میں دور دور تک زندگی کے کوئی آثار نہیں، بحیرۂ‌روم میں کیا واقع ہو رہا ہے؟ کیا آلودگی اور تباہی اس کا مقدر ہے؟‏

‏”‏دُنیا میں انسانی زندگی کا قدیم‌ترین گہوارہ۔“‏ ماہرِحیوانیات ڈیوڈ اٹین‌برا بحیرۂ‌روم اور اُسکے ساحلوں کو ان الفاظ میں بیان کرتا ہے۔ تین برِاعظموں تک رسائی کو ممکن بناتے ہوئے، اِس سمندر نے مصر، یونان اور روم کے عروج‌وزوال میں کلیدی کردار ادا کِیا۔ آج کی بیشتر ثقافتوں اور تہذیبوں کی ابتدا اسی سے ہوئی ہے۔ تاہم حالیہ دہے کی بیجا ترقی، سیاحوں کی بھرمار، حد سے زیادہ ماہی‌گیری اور آلودگی نے بحیرۂ‌روم کو بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس کے تدارک کیلئے متفکر سائنسدانوں اور متعلقہ اقوام کی تگ‌ودو کے باوجود اُنہیں ابھی تک کوئی خاطرخواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔‏

بحیرۂ‌روم خشکی سے گھرا ہوا سب سے بڑا سمندر ہے۔ اسکے ۲۸،۰۰۰ میل طویل ساحل پر، جو ۲۰ ممالک کی مشترکہ قدرتی سرحد ہے، ۱۶۰ ملین سے زیادہ لوگ آباد ہیں اور ایک اندازے کے مطابق ۲۰۲۵ تک یہ تعداد دُگنی ہو جائیگی۔ بحیرۂ‌روم دراصل مدوجزر کے بغیر ہے اور یہ اوقیانوس کی نسبت جو اس کے پانی کا بنیادی سرچشمہ ہے، زیادہ گرم اور نمکین ہے۔ چونکہ اسکا پانی ہر ۸۰ یا ۹۰ سال بعد تبدیل ہوتا ہے اسلئے یہ آلودگی سے جلدی متاثر ہوتا ہے۔ ”‏اس میں پھینکا جانے والا کچرا طویل مدت تک اُس میں پڑا رہتا ہے،“‏ نیشنل جیوگرافک بیان کرتا ہے۔‏

سیاحوں کا حملہ

گرم‌مرطوب ساحل، حسین مناظر، بحیرۂ‌روم کی روایتی مہمان‌نوازی اور قدیم تاریخ نے سارے علاقے کو چھٹیاں گزارنے کا مقبول‌ترین مقام بنا دیا ہے۔ ہر سال ۱۰۰ ملین لوگ یہاں آتے ہیں جن میں ساحل کی سیر کرنے والے مقامی لوگ اور غیرملکی سیاح شامل ہیں اور توقع ہے کہ آئندہ ۲۵ سالوں میں یہ تعداد تین گُنا ہو جائیگی۔ کیا موسمِ‌گرما کی اس تفریح‌گاہ کی تباہی میں لوگوں کے اس ہجوم کا بھی کوئی ہاتھ ہے؟ حقائق پر غور کریں۔‏

انسانوں کے یہ گروہ اسقدر گندگی پھیلاتے ہیں کہ بحیرۂ‌روم کے ممالک کیلئے اس سے چھٹکارا پانا مشکل ہے۔ انکی وجہ سے پیدا ہونے والے گندے پانی کا ۸۰ فیصد—‏ہر سال ۵۰۰ ملین ٹن—‏صفائی کے بغیر ہی سمندر میں ڈال دیا جاتا ہے!‏ بیشتر سیاح خشک موسم میں آتے ہیں جو علاقے کے پہلے ہی سے محدود آبی وسائل کی آلودگی کا سبب بنتا ہے۔ یہ آلودہ پانی صحت کیلئے خطرناک ہے۔ بحیرۂ‌روم کے بعض حصوں میں تیراکی کان، ناک اور گلے کی بیماریوں پر منتج ہوتی ہے، علاوہ‌ازیں یرقان، پیچش اور کبھی‌کبھار ہیضہ جیسی بیماریاں بھی ہو سکتی ہیں۔‏

تاہم بحیرۂ‌روم کے بیشتر ممالک کی معیشت کا انحصار سیاحت پر ہے۔ مشل بے‌ٹس، اقوامِ‌متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے کا سابق نائب ڈائریکٹر جنرل، ایسے ممالک کی بابت بیان کرتا ہے:‏ ”‏اُنکا واحد ذریعۂ‌آمدنی سیاحت ہے لیکن اسکا انحصار اس بات پر ہے کہ منافع کے لالچ میں غیرمنظم تعمیر سے ساحل کو تباہ نہ کِیا جائے۔“‏

تیل‌بردار جہازوں کی بھاری آمدورفت

بحیرۂ‌روم مشرقِ‌وسطیٰ اور یورپ کے درمیان نقل‌وحمل کا اہم ذریعہ ہے اسی لئے اس میں جہازوں کی آمدورفت بہت زیادہ رہتی ہے۔ دُنیا کا ۲۰ فیصد سے زیادہ تیل اس راستے سے گزرتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال بحیرۂ‌روم میں بہہ جانے والے بے‌کار تیل کی مقدار ۱۹۸۹ میں الاسکا میں ایکسین والڈز سے بہہ جانے والے تیل کی نسبت ۱۷ گُنا زیادہ ہے۔ ۱۹۸۰ سے ۱۹۹۵ کے دوران بحیرۂ‌روم میں ۱۴ ٹینکروں کا تیل بہہ گیا اور ہر سال جہازوں سے کئی ملین ٹن خام تیل سمندر میں پھینک دیا جاتا ہے کیونکہ اکثر بندرگاہوں پر بے‌کار تیل کو جمع کرنے یا ٹینک کو صاف کرنے کی سہولیات موجود نہیں ہوتیں۔‏

اس صورتحال کا بدترین پہلو یہ ہے کہ آبنائے جبل‌الطارق کے ذریعے بحیرۂ‌روم سے اوقیانوس میں گِرنے والا پانی بہت گہرا ہوتا ہے۔ چونکہ تیل تیرتا ہے لہٰذا سمندر اپنے گہرے صاف پانی سے محروم ہو جاتا ہے جبکہ سطح پر جمع ہونے والا تیل اسی میں رہتا ہے۔ ”‏بحیرۂ‌روم میں غذائی تسلسل اب تیل سے پیدا ہونے والی آلودگی کی نظر ہو گیا ہے،“‏ ازرائلز انسٹیٹیوٹ آف اوشنوگرافی (‏بحری جغرافیہ)‏ کے سابق ڈائریکٹر کولیٹ سریوا بیان کرتے ہیں۔ ”‏جو مچھلی اور گھونگھے ہم کھاتے ہیں یہ تیل اُسکے گوشت کا حصہ ہے۔“‏ اقوامِ‌متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (‏یواین‌ای‌پی)‏ نے ۱۹۹۰ میں رپورٹ پیش کی کہ بحیرۂ‌روم سے حاصل ہونے والی ۹۳ فیصد خولدار مچھلیوں میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مُتعیّنہ معیار سے بھی زیادہ فضلاتی بیکٹریا تھا۔‏

کمزور ماحولیات

اس تباہ‌کُن آلودگی کیساتھ ساتھ بحیرۂ‌روم کے ساحل کو بھی شدید نقصان پہنچایا گیا ہے جہاں ۱۵ویں صدی س.‏ع.‏ تک یہاں پر جنگلات بکثرت پائے جاتے تھے۔ زرعی زمین حاصل کرنے، شہروں کو وسیع کرنے یا وینس کے بادبانی بحری جہاز بنانے کیلئے سازوسامان کی خاطر جنگلات کی کٹائی نے اسے ناقابلِ‌تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ بارش کے ذریعے منتقل ہونے والے ٹھوس مادوں کے علاوہ ڈٹرجنٹ، کیڑےمار ادویات اور بھاری دھاتوں جیسے آلودہ کرنے والے عناصر بھی دریاؤں کے راستے سمندر میں آ گرتے ہیں۔ فرانس کا دریائے روآن، مصر کا دریائے‌نیل، اٹلی کا دریائے‌پو، سپین کا دریائے‌ایبرو اور دیگر دریا زرعی اور صنعتی فضلات کی وسیع مقدار اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔‏

اس آلودگی کا براہِ‌راست نتیجہ امواجِ‌احمر ہیں جنہوں نے بحیرۂ‌ایڈریاٹک اور بحیرۂ‌ایجین کے مختلف علاقوں کو شدید متاثر کِیا ہے اور ساحلوں کو بدبودار، لیس‌دار دلدل میں بدل دیا ہے۔ ایسا تغذیاتی عمل کے باعث واقع ہوتا ہے جس سے تحلیل ہونے والا فاضل مادہ پانی کی ساری آکسیجن جذب کر لیتا ہے اور نتیجتاً اُس علاقے کے نباتات اور حیوانات ہلاک ہو جاتے ہیں۔ اس خطرے کی زد میں آنے والے دیگر علاقوں میں خلیج لاینز (‏فرانس)‏، جھیل تیونس (‏تیونیشیا)‏، خلیج ازمر (‏ترکی)‏ اور جھیل وینس (‏اٹلی)‏ شامل ہیں۔‏

ساحلی ماحول اس قدر کمزور ہو چکا ہے کہ بحیرۂ‌روم کی مختلف انواع کی جگہ دیگر انواع لے سکتی ہیں۔ اس کی ایک مثال ”‏قاتل“‏ الجی، کولرپا ٹیکسی‌فولیا ہے جو دیگر سمندری نباتات کو ختم کر دیتی ہے۔ مناکو کے ساحل پر حادثاتی طور پر وجود میں آنے کے بعد اب سمندر کی تہہ میں پھیلنا شروع ہو گئی ہے۔ یہ زہریلی ہے اسی لئے کوئی بھی جانور اسے نہیں کھاتا جسکی وجہ سے یہ وسیع پیمانے پر پھیل چکی ہے۔ ”‏ہو سکتا ہے کہ ہم ماحولیاتی تباہی کا آغاز دیکھ رہے ہوں،“‏ فرانس میں یونیورسٹی آف نائس کے سمندری حیاتیات کا پروفیسر الیگزینڈر مینزے کہتا ہے۔‏

مزید بُری خبریں بھی ہیں۔ سمندری حیاتیات کے ماہر شارل-‏فرنسوا بودوریسک کے مطابق ۳۰۰ سے زائد سمندری جاندار بحیرۂ‌روم میں شامل ہو گئے ہیں جو دراصل اسکا حصہ نہیں تھے۔ بہتیرے نہر سوئز کے ذریعے بحیرۂ‌احمر سے آئے ہیں۔ بعض محققین کا خیال ہے کہ اس آلودگی کا کوئی سدِباب نہیں ہے اور یہ اگلی صدی کے بڑے بڑے ماحولیاتی مسائل میں سے زیادہ بڑا ثابت ہوگا۔‏

پانی میں موت

بحیرۂ‌روم کی نباتات کو بہت سے خطرات کا سامنا ہے، ان میں سے ایک پوسیڈونیا سمندری گھاس کی تباہی ہے جو سمندر کے پھیپھڑوں، نعمت‌خانہ، نرسری اور پناہ‌گاہ کا کام دیتی ہے اور جہاں ہزاروں سمندری اقسام کی افزائش ہوتی ہے۔ اپنے لنگروں سے پودوں کو اُکھاڑ دینے والی تفریحی کشتیوں کی طرح گودیوں اور حفاظتی بندوں کا گھاس کے ان میدانوں پر حملہ بھی اُنہیں تباہ کر سکتا ہے۔‏

سمندری حیوانات کو بھی اُتنا ہی خطرہ لاحق ہے۔ بحیرۂ‌روم کی راہب اوودبلا جو دُنیا میں خطرے میں مبتلا انواع میں ۱۲ویں نمبر پر ہے ناپیدگی کی حد تک پہنچ گئی ہے۔ ۱۹۸۰ میں بحیرۂ‌روم میں ۱،۰۰۰ راہب اوودبلا‌ئیں تھیں تاہم شکاریوں اور ماہی‌گیروں نے اُنکی تعداد کو کم کر دیا ہے اور آجکل صرف ۷۰ یا ۸۰ باقی ہیں۔ لوگرہیڈ کچھوئے اب صرف یونان اور ترکی کے ساحلوں پر انڈے دیتے ہیں جہاں پر وہ سیاحوں کے پاؤں تلے کچلے جاتے ہیں۔ کچھوے اکثر مچھلیاں پکڑنے کے جال میں پھنس جاتے ہیں اور انجام‌کار مقامی ریستورانوں کی فہرستِ‌طعام میں شامل ہو جاتے ہیں۔ منٹس شرمپ، رف پین شیل اور ڈیٹ موسل کو بھی خطرے میں مبتلا انواع کی فہرست میں شامل کر دیا گیا ہے۔‏

ایک عملی منصوبہ

اس تشویشناک صورتحال سے نمٹنے کے لئے ۱۹۷۵ میں UNEP کی سرپرستی میں ایک میڈیٹرےنین ایکشن پلان (‏MAP)‏ تیار کِیا گیا۔ یہ بحیرۂ‌روم کے ممالک اور یورپی یونین کے دیگر ممبران سے توقع رکھتا ہے کہ وہ نہ صرف سمندر کو آلودگی سے بچائیں گے بلکہ یہ بھی خیال رکھیں گے کہ ساحلی ترقی ماحول پر اثرانداز نہ ہو۔ ۱۹۹۰ میں میڈیٹرےنین اینوائیرمین‌ٹل ٹیکنیکل اسس‌ٹنس پروگرام (‏METAP)‏ کا آغاز کِیا گیا جسکے بعد ۱۹۹۳ میں METAP II کا آغاز ہوا۔ قدرتی محفوظ مقامات، پناہ‌گاہیں اور بحری نیشنل پارکس بنانے کی کوششیں ڈالفن، ویلز، راہب اوودبلا‌ؤں، کچھوں اور خطرے میں مبتلا دیگر انواع کو بچانے کے قابلِ‌تحسین نتائج پر منتج ہوئی ہیں۔‏

تاہم منصوبے پر پوری طرح عمل نہ ہوا۔ ۱۹۹۰ کی دہائی کے اوائل تک MAP بالکل ناکام ہو گیا تھا کیونکہ اسکی معاون اقوام اپنے واجبات ادا نہیں کر پائی تھیں۔ اس منصوبے کے اہلکاروں کے مطابق، اسکا ایک بھی مقصد تکمیل کو نہ پہنچا۔ لیوبومر جیف‌ٹک MAP کے نائب منتظم نے بہتری کیلئے اقدام اُٹھانے کے سلسلے میں بحیرۂ‌روم کی اقوام کی رضامندی کے بارے میں آگاہ کِیا:‏ ”‏حد سے زیادہ رجائیت‌پسند نہ بنیں۔“‏ اگر یہ ممالک عمل کرنے کیلئے متفق ہو بھی جائیں توبھی جو نقصان پہلے ہو چکا ہے اُسکا ازالہ کرنے کیلئے ہی کئی دہے لگ جائینگے۔ نیو سائنٹسٹ میگزین بیان کرتا ہے:‏ ”‏اسوقت، بحیرۂ‌روم کی جنگلی حیات کی طرح MAP بھی پانی میں مردہ نظر آتا ہے۔“‏

پس بحیرۂ‌روم کا مستقبل کیا ہے؟ کیا یہ بدبودار، گدلی الجی سے بھرا مُردہ سمندر بن جائیگا؟ اگر اسکے مستقبل کا انحصار انسان پر ہو تو شاید ایسا ہی ہو۔ تاہم اس سیارے کا خالق، یہوواہ خدا اس کی فکر رکھتا ہے کیونکہ ”‏سمندر .‏ .‏ .‏ اُسی نے بنایا“‏ ہے۔ (‏زبور ۹۵:‏۵‏)‏ اُس نے وعدہ کِیا ہے کہ جلد ہی وہ ”‏زمین کے تباہ کرنے والوں کو تباہ“‏ کریگا۔ (‏مکاشفہ ۱۱:‏۱۸‏)‏ ان غیرذمہ‌دار انسانوں کے خاتمے کے بعد جو دوسری چیزوں کے ساتھ ساتھ سمندر کو بھی آلودہ کرتے ہیں، خدا ہماری زمین پر ماحولیاتی توازن اور حیاتیاتی‌تنوع کو بحال کریگا۔ اُسوقت ”‏سمندر اور جوکچھ اُن میں چلتا پھرتا ہے“‏ اپنی اصلی، بے‌داغ حالت کے ساتھ ”‏اُسکی تعریف“‏ کرینگے۔—‏زبور ۶۹:‏۳۴‏۔‏

‏[‏صفحہ 17 پر تصویریں]‏

بینی‌ڈورم، سپین میں ہوٹل

لوریٹ ڈی مار، کوسٹا براوا، سپین

بیجا ترقی آلودگی پر منتج ہوئی ہے

‏[‏صفحہ 17 پر تصویریں]‏

سپین کے آلودہ پانی اور (‏نیچے)‏ جنوآ، اٹلی میں تیل کی تہہ

‏[‏صفحہ 16 پر تصویریں]‏

بحیرۂ‌روم کی راہب اوودبلا‌ئیں ناپیدگی کے دھانے پر ہیں

لوگرہیڈ کچھوے خطرے میں ہیں

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں