ذمہداریوں کے بغیر حقوق؟
”انسانی خاندان کے تمام اراکین کے فطری وقار اور مساوی اور ناقابلِانتقال حقوق کی قدرشناسی دُنیا میں آزادی، انصاف اور امن کی بنیاد ہے۔“ دسمبر ۱۹۹۸ میں اپنی ۵۰ویں سالگرہ کا اعلان کرتے ہوئے یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس کا پیشلفظ یہ بیان کرتا ہے۔ تاہم، حال ہی میں، تمام برِاعظموں کی نمائندگی کرنے والے ۲۴ سابقہ صدور اور وزیرِاعظموں نے تجویز پیش کی ہے کہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کیساتھ ساتھ، اقوامِمتحدہ کو عالمی پیمانے پر انسانی ذمہداریوں کو بھی تسلیم کرنا چاہئے۔ بہتیرے ایسے منصوبے کی ضرورت کیوں محسوس کرتے ہیں؟
انسانی حقوق کے یورپی کمیشن کے رُکن، پروفیسر زان-کلوڈ سویا بیان کرتے ہیں، ”حقوق اور ذمہداریاں سیامی توام (لازموملزوم) ہیں۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ نصف صدی بعد ہی اس حقیقت کو فراموش کر دیا گیا ہے یا پھر یہ غیرمناسب دکھائی دیتی ہے۔ بہتیرے اپنے حقوق کا مطالبہ تو کرتے ہیں مگر ان سے وابستہ ذمہداریوں کو پورا کرنے کا احساس نہیں رکھتے۔“ فرائض کی اس کوتاہی کو بہتیروں نے محسوس کِیا ہے۔ ”خاص طور پر نوجوانوں کے اندر مستقبل کی منصوبہسازی، تسلیمشُدہ نظریات کیلئے واضح اشتیاق پایا جاتا ہے جن سے دُنیا کو مغلوب کرنے والے لالچ، خودغرضی، بھائیچارے کے فقدان کے پیچھے کارفرما قوتوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ . . . ایک عالمگیر ضابطۂاخلاق کی ضرورت کی بابت یہ پُرزور بحث اس بات کا برملا اعتراف ہے کہ کسی چیز کی کمی ہے،“ پیرس کا ڈیلی انٹرنیشنل ہیرلڈ ٹرائبیون بیان کرتا ہے۔ نتیجتاً، سیاستدان، عالمِدین اور فلاسفر ایک ”یونیورسل ایتھکس پروجیکٹ“ پر باتچیت کر رہے ہیں، جیسےکہ اقوامِمتحدہ کی ایجوکیشنل، سائنٹیفک اور کلچرل آرگنائزیشن اسے نام دیتی ہے، تاکہ اس خلا کو پُر کِیا جائے اور اس بات کا تعیّن کِیا جائے کہ انسانی ذمہداریاں درحقیقت کیا ہیں۔ تاہم، اُنہیں بعض مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
اس بات کا تعیّن کرنا تو نسبتاً آسان ہوتا ہے کہ کونسے انسانی حقوق کا تحفظ کِیا جانا چاہئے البتہ یہ طے کرنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا کہ عالمی پیمانے پر کونسی انسانی ذمہداریوں کو قبول کِیا جانا چاہئے۔ تاہم، ذمہداریوں کی بابت مجوزہ معاہدے کی بعض اقدار کی ابتدا اُسی لازمان اور ہمہگیر سنہرے اُصول سے ہوتی ہے جسے یسوع نے تقریباً دو ہزار سال پہلے پیش کِیا: ”پس جوکچھ تُم چاہتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ کریں وہی تُم بھی اُنکے ساتھ کرو۔“—متی ۷:۱۲۔
بائبل اکثر انسانی حقوق کا تحفظ کرنے والے قوانین کی حمایت کرنے کے ساتھ ساتھ ذاتی ذمہداریوں کے نظریے پر بھی زور دیتی ہے۔ شاگرد یعقوب بیان کرتا ہے کہ ”جو کوئی بھلائی کرنا جانتا ہے اور نہیں کرتا اُس کے لئے یہ گُناہ ہے۔“ (یعقوب ۴:۱۷) پس جیسے یسوع دوسروں کے ساتھ بھلائی کرنے کے طریقوں کی تلاش میں رہتا تھا اُسی طرح سچے مسیحیوں کو بھی اپنے ساتھی انسانوں کے ساتھ نیکی کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اپنے حقوق پر اکتفا کرنے کے علاوہ، وہ اس بات کو سمجھتے ہیں کہ حقوق کے ساتھ ذمہداریاں بھی آتی ہیں اور یہ کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے اعمال کے لئے خدا کے حضور ذمہدار ہے۔