آجکل مذہبی تعصب
”ہر شخص کو رائےزنی، اچھے بُرے میں امتیاز اور مذہبی آزادی کا حق حاصل ہے؛ اس حق میں اپنے مذہب یا اعتقاد کو بدلنے کی آزادی اور اکیلے یا دوسروں کیساتھ ملکر علانیہ یا علیٰحدہ اپنے مذہب یا اعتقاد کا تعلیم، عمل، پرستش اور رسمورواج کی صورت میں اظہار کرنے کی آزادی شامل ہے۔“ یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس، ۱۹۴۸، آرٹیکل ۱۸۔
کیا آپ کو اپنے ملک میں مذہبی آزادی حاصل ہے؟ دُنیا کے بیشتر ممالک محض دکھاوے کے لئے اس اعلیٰ اصول کی تائید کرتے ہیں جسے کئی مرتبہ بینالاقوامی معاہدوں میں شامل کِیا گیا ہے۔ تاہم، یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ ایسے متعدد ممالک میں جہاں تعصب اور امتیاز جیسی تلخ حقیقتیں موجود ہیں لاکھوں لوگ آجکل مذہبی آزادی سے محروم ہیں۔ اس کے برعکس، بہتیرے لوگ مختلف نسلوں، طبقوں یا مذاہب پر مشتمل ایسے معاشروں میں رہتے ہیں جہاں قانون آزادی کی ضمانت دیتا ہے اور بظاہر رواداری کو قومی ثقافت میں اہم مقام حاصل ہوتا ہے۔
تاہم، ان مقامات پر بھی بعض لوگ مذہبی آزادی کو درپیش خطرات سے متاثر ہوتے ہیں۔ انسانی حقوق سے متعلق یواین کمیشن کے سابق سپیشل رپورٹر اینجلو ڈی ایلمیڈا ریبرو نے بیان کِیا: ”مذہب یا عقیدے کا امتیاز تمام معاشی، معاشرتی اور نظریاتی نظاموں اور دُنیا کے تمام حصوں میں پایا جاتا ہے۔“ ایڈیٹرز کیون بوائل اور جولیٹ شین ۱۹۹۷ میں شائع ہونے والی اپنی کتاب فریڈم آف ریلیجن اینڈ بیلیف—اے ورلڈ رپورٹ میں بیان کرتے ہیں: ”بیسویں صدی کے اختتام پر . . . مذہبی بنیاد پر اقلیتوں کی ایذارسانی [اور] عقائد پر پابندی اور ہر سو سرایت کر جانے والا امتیاز روزمرّہ کا معمول ہیں۔“
تاہم مذہبی امتیاز محض مذہبی اقلیتوں کو ہی متاثر نہیں کرتا۔ انسانی حقوق سے متعلق یواین کمیشن کے مذہبی تعصب کے حوالے سے سپیشل رپورٹر پروفیسر عبدالفتح عامر کا خیال ہے کہ ”کوئی بھی مذہب تشدد سے محفوظ نہیں ہے۔“ لہٰذا جہاں آپ رہتے ہیں وہاں پر بھی بعض مذاہب کے لئے تعصب اور عدمرواداری کا سامنا کرنا غالباً ایک عام بات ہے۔
امتیاز کی مختلف اقسام
مذہبی امتیاز مختلف اقسام کا ہو سکتا ہے۔ بعض ممالک تمام مذاہب کو چھوڑ کر ایک کو واحد ریاستی مذہب قرار دیتے ہیں۔ دیگر ممالک میں، بعض مذاہب کی کارگزاری پر پابندی عائد کرنے کے لئے قوانین نافذ کئے جاتے ہیں۔ بعض ممالک نے ایسے قوانین جاری کئے ہیں جن کی توضیح اپنی مرضی سے کی جاتی ہے۔ اسرائیل میں ”تبدیلئمذہب کی ترغیب دینے والے“ بروشر یا مواد کی درآمد، اشاعت، تقسیم یا تحویل کو قابلِسزا قرار دینے والے مجوزہ قانون سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی انتہا پر غور کریں۔ اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں کہ اخبار انٹرنیشنل ہیرلڈ ٹرائبیون بیان کرتا ہے: ”اسرائیل میں یہوواہ کے گواہوں کو ڈرایا دھمکایا گیا اور اُن کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔“ لاڈ کے شہر میں یہوواہ کے گواہوں کے ایک کنگڈمہال میں تین مرتبہ نقبزنی کی گئی اور دو مرتبہ جنونی الٹراآرتھوڈکس زیلوتیس نے اُسے تہوبالا کِیا۔ پولیس نے مداخلت کرنے سے انکار کر دیا۔
کتاب فریڈم آف ریلیجن اینڈ بیلیف تعصب کی دیگر مثالیں بھی پیش کرتی ہے: ”الحاد اور مُلحد صرف ماضی کا تصور نہیں ہیں . . . بلکہ فرق راہ اختیار کر لینے والوں کیلئے استرداد، اذیت اور امتیاز آج بھی تعصب کا بنیادی سبب ہے۔ مشرقی یورپ کے متعدد ممالک اور یونان اور سنگاپور میں یہوواہ کے گواہوں کی طرح پاکستان میں اقلیتیں اور مصر، ایران اور ملیشیا میں [بہائی] اسکی چند مثالیں ہیں۔“ واقعی، دُنیا کے بیشتر حصوں میں مذہبی آزادی خطرے میں ہے۔
اس تمام کے پیشِنظر، اقوامِمتحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم کے ڈائریکٹر جنرل فیڈیریکو میئر نے اعلان کِیا کہ مستقبل قریب کی اُبھرتی ہوئی نئی دُنیا ”مخلصانہ لگن کی تحریک نہیں دیتی۔ . . . آزادی کی لہر نے نفرت کی چنگاریوں کو پھر سے روشن کر دیا ہے۔“ ان خدشات کی تصدیق کرتے ہوئے ایسسکس یونیورسٹی، برطانیہ کے ہیومن رائٹس سنٹر کے ڈائریکٹر نے بیان کِیا: ”تمام ثبوتوں سے ایک ہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ اس جدید دُنیا میں . . . مذہبی تعصب کم ہونے کی بجائے بڑھ رہا ہے۔“ ایسا بڑھتا ہوا تعصب مذہبی آزادی، شاید آپکی مذہبی آزادی کو خطرے میں ڈالتا ہے۔ تاہم، مذہبی آزادی اتنی اہم کیوں ہے؟
کیا چیز خطرے میں ہے؟
”کسی بھی معاشرے کو آزاد قرار دینے سے قبل مذہبی آزادی کا بنیادی تقاضا پورا کرنا لازمی ہے۔ . . . مذہبی آزادی اور اپنے ایمان کی منادی کے بغیر ضمیر کے حقوق اور حقیقی جمہوریت کا تصور بھی نہیں کِیا جا سکتا،“ ماہرِعمرانیات برائن ولسن نے اپنی کتاب ہیومن ویلیوز ان اے چینجنگ ورلڈ میں بیان کِیا۔ نیز جیساکہ حال ہی میں ایک فرانسیسی عدالت نے تسلیم کِیا، ”اعتقاد کی آزادی عوامی آزادیوں کے بنیادی عنصر میں سے ایک ہے۔“ لہٰذا، خواہ آپ مذہبی رُجحان رکھتے ہیں یا نہیں آپ کو مذہبی آزادی کے تحفظ میں دلچسپی رکھنی چاہئے۔
مذہبی آزادی کی بابت کسی مُلک کا رجحان اسکی شہرت اور بیناالاقوامی ساکھ پر بھی گہرا اثر ڈالتا ہے۔ یورپ میں ۱۹۹۷ میں تحفظ اور تعاون کیلئے ۵۴ اقوام پر مشتمل تنظیم کے ایک اجلاس میں پیش کی جانے والی رپورٹ نے بیان کِیا: ”انسانی حقوق کے مجموعے میں پائی جانے والی اقدار میں مذہبی آزادی سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے جو انسانی وقار کیلئے نہایت ضروری ہے۔ تنظیم جو ایسے حقوق کی خلافورزی کرتی یا انکی خلافورزی کو جائز قرار دیتی ہے وہ بنیادی انسانی حقوق کا احترام کرنے والی قانونی طور پر انصافپسند اور جمہوری ریاستوں میں شامل ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔“
مذہبی آزادی بڑی حد تک کسی عمارت کی بنیاد کے ایک حصے کی طرح ہے۔ شہری، سیاسی، ثقافتی اور معاشی آزادیاں اس پر تعمیر کی جاتی ہیں۔ اگر بنیاد کھوکھلی ہو تو پوری عمارت کو نقصان پہنچتا ہے۔ پروفیسر فرانسسکو مارجوٹابرولیو اسے نہایت موزوں الفاظ میں یوں بیان کرتا ہے: ”جب کبھی [مذہبی] آزادی کو نقصان پہنچایا جاتا ہے تو اس سے دیگر آزادیاں بھی متاثر ہوتی ہیں۔“ اگر دیگر آزادیوں کا تحفظ مقصود ہے تو پہلے مذہبی آزادی کا تحفظ ضروری ہے۔
کسی چیز کے بہترین تحفظ کا تعیّن کرنے کیلئے اُس چیز کو سمجھنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔ مذہبی آزادی کی جڑیں کیا ہیں؟ یہ کیسے اور کس قیمت پر وجود میں آئی؟
[صفحہ 4 پر تصویر]
مذہبی تعصب کی تاریخ بہت پُرانی ہے