یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو 8/‏1/‏99 ص.‏ 6-‏9
  • مذہبی آزادی—‏برکت یا لعنت؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • مذہبی آزادی—‏برکت یا لعنت؟‏
  • جاگو!‏—‏1999ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • رواداری کی تکلیف‌دہ ابتدا
  • نسبتی آزادی
  • مذہبی آزادی کیلئے خطرات
  • ‏”‏مثالی شہریوں“‏ کو خطرناک کہا گیا
  • واقعیت کی اہمیت
  • مذہبی آزادی آپ کیلئے کیا مطلب رکھتی ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
  • آجکل مذہبی تعصب
    جاگو!‏—‏1999ء
  • خداداد آزادی کے مقصد کو بیفائدہ نہ ہونے دیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
  • یہوواہ کی خدمت کریں جو آزادی کا سرچشمہ ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2018ء
مزید
جاگو!‏—‏1999ء
جاگو 8/‏1/‏99 ص.‏ 6-‏9

مذہبی آزادی‏—‏برکت یا لعنت؟‏

مذہبی آزادی کے نظریے کی ابتدا کیساتھ ہی دنیائے‌مسیحیت میں بڑی ہلچل مچ گئی۔ یہ اِدعاپسندی، تعصب اور غیرروادری کے خلاف جِدوجہد تھی۔ اِس نے خونین مذہبی لڑائیوں میں لاکھوں جانیں لے لیں۔ یہ اذیتناک تاریخ ہمیں کیا سکھاتی ہے؟‏

‏”‏اذیت‌مسیحی تاریخ کی دائمی حقیقت رہی ہے،“‏ اپنی کتاب پیگنز اینڈ کرسچینز میں روبن لین فاکس لکھتا ہے۔ ابتدائی مسیحیوں کو ایک فرقہ قرار دیتے ہوئے اُن پر امن‌عامہ کے لئے خطرے کا الزام لگایا جاتا تھا۔ (‏اعمال ۱۶:‏۲۰، ۲۱؛‏ ۲۴:‏۵‏، ۱۴:‏ ۲۸:‏۲۲)‏ نتیجتاً، بعض تشدد کا نشانہ بنے اور رومی اکھاڑوں میں جنگلی جانوروں کا لقمہ ہو گئے۔ ایسی شدید اذیت کی حالت میں، عالمِ‌دین ٹرٹولین (‏صفحہ ۸ پر تصویر دیکھیں)‏ جیسے بعض لوگوں نے مذہبی آزادی کیلئے پُرزور استدعا کی۔ اُس نے ۲۱۲ س.‏ع.‏ میں لکھا:‏ ”‏اپنے اعتقادات کے مطابق پرستش کرنا ہر انسان کا بنیادی حق اور قدرت کی دین ہے۔“‏

قسطنطین کے عہد میں ۳۱۳ س.‏ع.‏ میں فرمانِ‌میلان کی بدولت رومی دُنیا کی طرف سے مسیحیوں کی اذیت اختتام کو پہنچی جس سے مسیحیوں اور بُت‌پرست لوگوں کو یکساں مذہبی آزادی حاصل ہوئی۔ رومی سلطنت میں ”‏مسیحیت“‏ کے قانونی طور پر تسلیم کئے جانے کی وجہ سے صورتحال یکسر بدل گئی۔ تاہم، تقریباً ۳۴۰ س.‏ع.‏ میں ایک نام‌نہاد مسیحی مصنف نے بُت‌پرستوں کو اذیت دینے کا تقاضا کِیا۔ آخرکار، ۳۹۲ س.‏ع.‏ میں، فرمانِ‌قسطنطنیہ کے ذریعے شہنشاہ تھیودوسیس اوّل نے سلطنت کے اندر بُت‌پرستی پر پابندی عائد کر دی اور مذہبی آزادی فروغ پانے سے پہلے ہی ختم ہو گئی۔ رومی ”‏مسیحیت“‏ کے ریاستی مذہب بن جانے کے ساتھ ہی چرچ اور ریاست نے اذیت کی مہم کا آغاز کر دیا جو صدیوں چلتی رہی جسکا نقطۂ‌عروج ۱۱ویں سے ۱۳ویں صدی کی خونین صلیبی جنگیں اور ۱۲ویں صدی میں شروع ہونے والے مذہبی احتساب کے مظالم تھے۔ جن لوگوں نے عام روایت‌پسندی، کٹر مذہبی عقیدے کی اجارہ‌داری کے خلاف آواز اُٹھائی اُنہیں مُلحد قرار دیا گیا اور اُس وقت کی مذہبی عدالتوں کا نشانہ بنے جبکہ بے‌گناہوں پر الزام‌تراشی کی جا رہی تھی۔ ایسے محرکات کی پُشت پر کیا تھا؟‏

مذہبی تعصب کیلئے یہ عذر پیش کِیا گیا کہ مذہبی اتحاد مُلک کی انتہائی مضبوط بنیاد ہے جبکہ مذہبی اختلافات امن‌عامہ کیلئے خطرہ ہیں۔ برطانیہ میں، ۱۶۰۲ میں ملکہ الزبتھ کے وزراء میں سے ایک نے دلیل پیش کی:‏ ”‏جب دو مذاہب کو روا رکھا جاتا ہے تو ریاست کبھی بھی محفوظ نہیں ہوتی۔“‏ درحقیقت، مذہبی مخالفین پر پابندی عائد کرنا یہ معلوم کرنے سے زیادہ آسان تھا کہ آیا وہ ریاست یا مروجہ مذہب کیلئے واقعی خطرہ ہیں۔ دی کیتھولک انسائیکلوپیڈیا بیان کرتا ہے:‏ ”‏دُنیاوی اور کلیسیائی اربابِ‌اختیار خطرناک اور بے‌ضرر مُلحد لوگوں کے مابین ذرا بھی فرق نہیں کرتے تھے۔“‏ تاہم جلد ہی تبدیلی آنے والی تھی۔‏

رواداری کی تکلیف‌دہ ابتدا

یورپ میں تبدیلی کو عمل میں لانے والا عنصر پروٹسٹنٹ‌ازم، ایک فرقہ‌پرست تحریک کے ذریعے آنے والا انقلاب تھا جو کبھی ختم نہیں ہوا۔ حیران‌کُن تیزی کے ساتھ، پروٹسٹنٹ اصلاحی تحریک نے ضمیر کی آزادی کے نظریے کو نمایاں حیثیت دیتے ہوئے یورپ کو مذہبی اعتبار سے ٹکڑےٹکڑے کر دیا۔ مثال کے طور پر، مشہور مصلح مارٹن لوتھر نے ۱۵۲۱ میں یہ کہتے ہوئے رائے‌زنی کی:‏ ”‏میرا ضمیر خدا کے کلام کا پابند ہے۔“‏ اس تقسیم نے تیس سالہ جنگ (‏۱۶۱۸-‏۱۶۴۸)‏، ظالمانہ مذہبی جنگوں کے ایک ایسے سلسلے کو بھی ہوا دی جس نے یورپ کو تباہ‌وبرباد کر دیا۔‏

تاہم، جنگ کے دوران، بہتیروں کو اس بات کا احساس ہو گیا کہ لڑائی اس کا حل نہیں ہے۔ لہٰذا، فرانس میں فرمانِ‌نانتے (‏۱۵۹۸)‏ جیسے کئی ایک فرمان جاری کئے گئے جن کے ذریعے جنگ سے تباہ‌حال یورپ میں امن قائم کرنے کی ناکام کوششیں کی گئیں۔ ان ہی فرمان میں سے زمانۂ‌جدید کے نظریۂ‌رواداری نے بتدریج جنم لیا۔ شروع میں، ”‏رواداری“‏ منفی مفہوم رکھتی تھی۔ مشہور معتقدانسانیت ایراسمس نے ۱۵۳۰ میں لکھا، ”‏اگر مخصوص حالات کے تحت ہمیں فرقوں سے رواداری برتنی پڑتی تو .‏ .‏ .‏ یہ بُرا—‏بلکہ بہت ہی بُرا—‏ہوتا، مگر جنگ جتنا بُرا نہیں۔“‏ اس منفی مفہوم کی وجہ سے، ۱۵۶۱ میں فرنچ‌مین پال ڈی فوایکس جیسے بعض لوگوں نے ”‏رواداری“‏ کی بجائے ”‏مذہبی آزادی“‏ کی بابت گفتگو کرنے کو ترجیح دی۔‏

تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، رواداری کو بُرائی کی بجائے آزادیوں کا محافظ خیال کِیا جانے لگا۔ اسے اب کمزوری کیلئے ایک رعایت کی بجائے ایک ضمانت کے طور پر خیال کِیا جاتا تھا۔ جب مختلف مذہب کے نظریے اور فرق سوچ رکھنے کے حق کو جدید معاشرے کی بنیاد کے طور پر تقویت ملی تو جنونی رُجحان مٹ گیا۔‏

اٹھارویں صدی کے خاتمے پر، رواداری کو آزادی اور مساوات کیساتھ منسلک کِیا جانے لگا۔ اِس کا قوانین اور معاہدوں کی صورت میں اظہار کِیا گیا، جیسے‌کہ فرانس میں انسان اور شہریوں کے حقوق کا مشہور معاہدہ (‏۱۷۸۹)‏ یا ریاستہائے متحدہ کا حقیقت‌نامہ (‏۱۷۹۱)‏۔ جب اِس طرح کی دستاویزات ۱۹ویں صدی کے بعد سے آزاد سوچ پر اثرانداز ہوئیں تو رواداری اور پھر آزادی کو لعنت کی بجائے ایک برکت خیال کِیا گیا۔‏

نسبتی آزادی

آزادی بیش‌قیمت ہونے کے باوجود نسبتی ہے۔ سب کیلئے بڑی آزادی کو بطور عذر استعمال کرتے ہوئے ریاست ایسے قوانین کی منظوری دیتی ہے جو بعض انفرادی آزادیوں کو محدود کر دیتے ہیں۔ ذیل میں آزادی سے متعلق بعض معاملات کو بیان کِیا گیا ہے جن پر آجکل بہت سے یورپی ممالک میں بحث چل رہی ہے:‏ حکومتی قانون‌سازی کا نجی زندگی میں کس حد تک عمل‌دخل ہونا چاہئے؟ یہ کتنی اثرآفرین ہے؟ یہ آزادی پر کیسے اثرانداز ہوتی ہے؟‏

انفرادی اور اجتماعی آزادی پر بحث کو ذرائع‌ابلا‌غ میں بہت نمایاں کِیا گیا ہے۔ اکثر کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر بعض مذہبی گروہوں کے خلاف ذہنی‌صفائی، پیسہ بٹورنے، بچوں کیساتھ بدسلوکی اور دیگر بہت سے سنگین جرائم کا الزام لگایا گیا ہے۔ اخباروں میں اقلیتی مذہبی گروہوں سے متعلق خبروں کو بہت بڑھاچڑھا کر پیش کِیا جاتا ہے۔ ”‏مَسلک“‏ یا ”‏فرقے“‏ جیسے گھٹیا لیبل اب روزمرّہ بات‌چیت کا حصہ بن گئے ہیں۔ رائے‌عامہ کے دباؤ کے تحت، حکومتوں نے نام‌نہاد خطرناک مسلکوں کی فہرستیں تیار کی ہیں۔‏

فرانس کو اپنی رواداری کی روایت اور مذہب اور ریاست کی علیٰحدگی پر ناز ہے۔ یہ بڑے فخر سے ”‏آزادی، مساوات، اخوت“‏ کے علمبردار کے طور پر اپنی بڑائی کرتا ہے۔ تاہم، فریڈم آف ریلیجن اینڈ بلیف—‏اے ورلڈ رپورٹ کتاب کے مطابق اُس ملک میں ”‏نئی مذہبی تحریکوں کے استرداد کو فروغ دینے کیلئے سکولوں میں ایک تعلیمی مہم“‏ چلانے کی سفارش کی گئی ہے۔ تاہم، بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اِس قسم کی کارروائی مذہبی آزادی کیلئے خطرہ ہے۔ کس لحاظ سے؟‏

مذہبی آزادی کیلئے خطرات

حقیقی مذہبی آزادی اُسی وقت حاصل ہوتی ہے جب حکومت قانون کا احترام اور فرمانبرداری کرنے والے تمام مذہبی گروہوں کیساتھ ایک جیسا سلوک کرتی ہے۔ تاہم اُس وقت یہ آزادی ختم ہو جاتی ہے جب ریاست اپنی مرضی سے یہ طے کر لیتی ہے کہ مذہبی تنظیموں میں سے کسے ایک مذہب کی حیثیت حاصل نہیں ہے اور پھر اُسے اُن مراعات سے محروم کر دیتی ہے جو عموماً ریاست مذاہب کو دیتی ہے۔ ”‏جب ریاست ڈرائیور حضرات کو لائسنس دینے کی طرح مذاہب کی تصدیق کرنے کے حق کا بیجا دعویٰ کرتی ہے تو مذہبی آزادی کا مقدس نظریہ کھوکھلا نظر آتا ہے،“‏ ٹائم میگزین نے ۱۹۹۷ میں بیان کِیا۔ ایک فرنچ اپیل کورٹ نے حال ہی میں بیان کِیا کہ ایسا کرنا ”‏دانستہ یا نادانستہ طور پر مطلق‌العنانی پر منتج ہوتا ہے۔“‏

جب ذرائع‌ابلا‌غ پر ایک گروہ کی اجارہ‌داری ہوتی ہے تو اُس وقت بھی بنیادی آزادیوں کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے، بیشتر ممالک میں یہی حالت بڑھتی جا رہی ہے۔ مثال کے طور پر، صورتحال مذہبی طور پر کیا درست ہے اِس بات کی وضاحت کرنے کی کوشش میں کہ مسلکوں کی مخالف تنظیموں نے خود کو پراسیکیوٹر، جج اور جیوری بنا کر ذرائع‌ابلا‌غ کے ذریعے عوام پر اپنا متعصّب نظریہ مسلّط کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم، فرنچ اخبار لی مونڈ کے مطابق ایسا کرنے سے یہ تنظیمیں بعض‌اوقات ”‏اُسی فرقہ‌واریت“‏ کا مظاہرہ کرتی ہیں ”‏جس کے خلاف وہ مبیّنہ طور پر نبردآزما ہیں اور یوں ’‏عوامی تفتیش‘‏ کی فضا پیدا کرنے کا خطرہ مول لیتی ہیں۔“‏ اخبار نے سوال کِیا:‏ ”‏کیا اقلیتی مذہبی گروہوں کی معاشرے میں سرِعام رسوائی .‏ .‏ .‏ ضروری آزادیوں کے لئے خطرہ نہیں ہے؟“‏ زیشرفٹ فُور ریلیجن‌سائیکالوجی (‏جریدہ برائے نفسیاتِ‌مذہب)‏ میں مذکورہ مارٹن کرائلے نے بیان کِیا:‏ ”‏فرقوں کی کڑی تفتیش ’‏نام‌نہاد فرقوں اور نفسیاتی گروہوں‘‏ کی بڑی تعداد کی نسبت زیادہ تشویشناک ہے۔ سادہ سی بات ہے:‏ جو شہری قانون کی بے‌حرمتی نہیں کرتے اُنہیں پُرامن حالت میں چھوڑ دینا چاہئے۔ مذہب اور نظریات کو جرمنی میں بھی آزاد ہونا اور آزاد رہنا چاہئے۔“‏ آئیے ایک مثال پر غور کریں۔‏

‏”‏مثالی شہریوں“‏ کو خطرناک کہا گیا

سپین کے معروف اےبی‌سی اخبار میں کیتھولک حکام کی رائے میں کس مذہبی گروہ کو ”‏تمام فرقوں سے زیادہ خطرناک“‏ کہا گیا تھا؟ شاید آپکو یہ جانکر حیرانی ہو کہ اےبی‌سی یہوواہ کے گواہوں کی بات کر رہا تھا۔ اُنکے خلاف لگائے جانے والے الزامات غیرجانبدارانہ، واقعیت‌پسندانہ بنیاد رکھتے ہیں؟ دیگر ذرائع کی طرف سے درج‌ذیل بیانات پر غور کریں:‏

‏”‏گواہ لوگوں کو دیانتداری سے ٹیکس ادا کرنے، جنگوں یا جنگوں کی تیاریوں میں حصہ نہ لینے، چوری نہ کرنے اور عام طور پر ایک ایسا طرزِزندگی اختیار کرنے کی تعلیم دیتے ہیں جسے اگر دوسرے بھی اختیار کر لیں تو یہ معاشرتی زندگی کے معیاروں میں بہتری پر منتج ہو سکتا ہے۔“‏ سرجیو آل‌بسانو، ٹالنٹو، نومبر-‏دسمبر ۱۹۹۶۔‏

‏”‏بعض مواقع پر درپردہ پھیلائی گئی سنسنی‌خیز خبروں کے برعکس، [‏یہوواہ کے گواہ]‏ حکومتی اداروں کے لئے مجھے ذرا بھی خطرہ دکھائی نہیں دیتے۔ وہ ایسے شہری ہیں جو امن‌پسند، فرض‌شناس اور حکام کا احترام کرتے ہیں۔“‏—‏بیلجیئم سے پارلیمنٹ کا ایک ڈپٹی۔‏

‏”‏یہوواہ کے گواہ واضح طور پر فیڈرل ریپبلک میں سب سے زیادہ دیانتدار لوگ ہیں۔“‏—‏جرمن اخبار سنڈل فنکر زیٹنگ۔‏

‏”‏آپ [‏یہوواہ کے گواہوں]‏ کو قابلِ‌تقلید شہری کے طور پر خیال کر سکتے ہیں۔ وہ مستعدی کیساتھ ٹیکس ادا کرتے، بیماروں کی دیکھ‌بھال کرتے، ناخواندگی کے خلاف جدوجہد کرتے ہیں۔“‏—‏یو.‏ایس.‏ اخبار سان فرانسسکو ایگزامینر۔‏

‏”‏ازدواجی بندھنوں کو مستحکم رکھنے کے سلسلے میں یہوواہ کے گواہوں کو دیگر مذہبی تنظیموں کی نسبت زیادہ کامیابی کا تجربہ ہوتا ہے۔“‏—‏امریکن ایتھنولاجسٹ۔‏

‏”‏یہوواہ کے گواہ افریقی ممالک کے تمام شہریوں سے زیادہ دیانتدار اور محنتی ہیں۔“‏—‏ڈاکٹر برائن ولسن، آکسفورڈ یونیورسٹی۔‏

‏”‏اِس ایمان کے معتقد لوگ عشروں کے دوران ضمیر کی آزادی کو فروغ دینے کیلئے بڑے معاون ثابت ہوئے ہیں۔“‏—‏ناٹ ہین‌ٹاف، فری سپیچ فار می—‏بٹ ناٹ فار دی۔‏

‏”‏اُنہوں نے ہماری جمہوریت کو بچانے کیلئے ناقابلِ‌تردید مدد فراہم کی ہے۔“‏—‏پروفیسر سی.‏ ایس.‏ بریڈن، دیز آلسو بلیو۔‏

مندرجہ‌بالا حوالہ‌جات کی روشنی میں، یہوواہ کے گواہوں کو پوری دُنیا میں مثالی شہری تسلیم کِیا جاتا ہے۔ علاوہ‌ازیں، وہ بائبل کے اپنے مُفت تعلیمی کام اور خاندانی اقدار کو فروغ دینے کیلئے مشہور ہیں۔ اُنکے خواندگی کے پروگراموں سے لاکھوں کی مدد ہوئی ہے، جبکہ اُنکے انسان دوست کاموں نے عشروں سے خاص طور پر افریقہ میں، ہزاروں کی مدد کی ہے۔‏

واقعیت کی اہمیت

معاشرہ بددیانت لوگوں سے بھرا پڑا ہے جو معصوم لوگوں کے لئے وبالِ‌جان بنے ہوئے ہیں۔ نتیجتاً، جب مذہبی بات آتی ہے تو چوکس رہنے کی قطعی ضرورت ہے۔ لیکن جب کچھ صحافی واقعیت‌پسندانہ ماہرین کے ساتھ صلاح‌مشورہ کرنے کی بجائے تعداد کی بابت فکرمند چرچ اہلکاروں یا فرقوں کے خلاف تنظیموں سے معلومات پر اکتفا کرتے ہیں جنکی واقعیت قابلِ‌اعتراض ہے تو یہ مذہبی آزادی کے لئے کتنا واقعیت‌پسندانہ یا مددگار ہوتا ہے؟ مثال کے طور پر، یہوواہ کے گواہوں کو ”‏تمام فرقوں سے زیادہ خطرناک“‏ کہنے والے اخبار نے تسلیم کِیا کہ اس کے بیانات کا ماخذ ”‏[‏کیتھولک]‏ چرچ کے ماہرین“‏ ہیں۔ علاوہ‌ازیں، ایک فرنچ میگزین نے بیان کِیا کہ مبیّنہ فرقوں سے متعلق زیادہ‌تر معلومات فرقوں کی مخالف تنظیموں کی طرف سے ہوتی ہیں۔ کیا یہ آپ کو واقعیت‌پسندانہ معلومات حاصل کرنے کا سب سے غیرجانبدارانہ طریقہ دکھائی دیتا ہے؟‏

بنیادی انسانی حقوق میں دلچسپی رکھنے والی بین‌الاقوامی عدالتیں اور یواین جیسی تنظیمیں کہتی ہیں کہ ”‏مذہب اور فرقے کے مابین فرق اتنا مصنوعی ہے کہ اسے قبول نہیں کِیا جا سکتا۔“‏ پس بعض ہتک‌آمیز لفظ ”‏فرقہ“‏ استعمال کرنے پر بضد کیوں ہیں؟ یہ اِس بات کا مزید ثبوت ہے کہ مذہبی آزادی خطرے میں ہے۔ تاہم، اِس لازمی آزادی کی حفاظت کیسے کی جا سکتی ہے؟‏

‏[‏صفحہ 8 پر تصویر]‏

مذہبی آزادی کے حامی

یورپ کے اندر ۱۶ویں صدی میں مذہبی آویزش کے نتیجے میں ہونے والے قتلِ‌عام کی وجہ سے مذہبی آزادی کیلئے زوردار شورشرابا ہوا تھا۔ ایسی استدعائیں مذہبی آزادی سے متعلق بات‌چیت پر ابھی تک اثرانداز ہوتی ہیں۔‏

سابیسٹیئن چاٹیلون (‏۱۵۱۵-‏۱۵۶۳)‏:‏ ”‏مُلحد کون ہے؟ مَیں اِسکے علاوہ کسی اَور نتیجے پر نہیں پہنچا کہ ہم اپنے ساتھ متفق‌الرائے نہ ہونے والے تمام لوگوں کو مُلحد خیال کرتے ہیں۔ .‏ .‏ .‏ اگر آپکو ایک شہر یا علاقے میں سچا ایماندار خیال کِیا جاتا ہے تو دوسرے میں آپکو کافر خیال کِیا جائیگا۔“‏ ایک مشہور بائبل مترجم اور رواداری کے پُرجوش حامی، چاٹیلون نے مذہبی آزادی پر بحث میں کلیدی عناصر میں سے ایک کا ذکر کِیا:‏ کون اسکی تشریح کرتا ہے کہ مُلحد کون ہے؟‏

ڈرک والکرٹسزن کارن‌ہرٹ (‏۱۵۲۲-‏۱۵۹۰)‏:‏ ”‏ہم سمجھتے ہیں کہ ماضی میں .‏ .‏ .‏ خود مسیح نے یروشلیم میں اور اِسکے بعد یورپ میں بہت سے شہیدوں نے .‏ .‏ .‏ اپنی سچی باتوں سے [‏معاشرے]‏ میں ہلچل پیدا کر دی تھی۔ .‏ .‏ .‏ لفظ ’‏ہلچل‘‏ کے معنی کی واضح اور درست تشریح کرنے کی ضرورت ہے۔“‏ کارن‌ہرٹ نے دلیل پیش کی کہ مذہبی اختلاف کو امن‌عامہ میں خلل کے مساوی خیال نہیں کِیا جانا چاہئے۔ اُس نے استفسار کِیا:‏ کیا فرض‌شناسی کیساتھ قانون کی تابعداری اور احترام کرنے والے لوگ امن‌عامہ کیلئے واقعی خطرہ ہیں؟‏

‏[‏صفحہ 8 پر تصویر]‏

پیئر ڈی بیلوائے (‏۱۵۴۰-‏۱۶۱۱)‏:‏ یہ ”‏یقین کرنا جہالت ہے کہ مذہبی تنوع ریاست میں افراتفری پیدا کرتا ہے اور اِسے بڑھاوا دیتا ہے۔“‏ بیلوائے، ایک فرنچ وکیل نے مذہبی جنگوں (‏۱۵۶۲‏-‏۱۵۹۸)‏ کے وقت لکھتے ہوئے، دلیل پیش کی کہ درحقیقت، جبتک حکومت مذہبی دباؤ کے تحت کام نہیں کرتی تب تک مذہبی یکسانیت سے ریاستی ہم‌آہنگی ممکن نہیں ہو سکتی۔‏

تھامس ہیلویز (‏تقریباً ۱۵۵۰-‏۱۶۱۶)‏:‏ ”‏اگر اُس [‏بادشاہ]‏ کے لوگ تمام انسانی قوانین کی فرمانبرداری اور وفاداری کرنے والی رعایا ہیں تو اُسے اُن سے اِس سے زیادہ کا تقاضا نہیں کرنا چاہئے۔“‏ ہیلویز، انگلش بپٹسٹس کے بانیوں میں سے ایک، نے بادشاہ کو ہر چرچ اور فرقے کو آزادی دینے اور لوگوں اور املاک پر کشوری اختیار پر اکتفا کرنے کی تلقین کرتے ہوئے ریاست اور چرچ کی علیٰحدگی کی حمایت میں لکھا۔ اس کی تحریروں نے دورِحاضر کے سوال پر زور دیا:‏ ریاست کا لوگوں کی روحانی زندگیوں پر کس حد تک اختیار ہونا چاہئے؟‏

نامعلوم مُصنف (‏۱۵۶۴)‏:‏ ”‏جب تک کسی شخص کو اُسکے پسندیدہ مذہب پر چلنے کی اجازت نہیں دی جاتی تب تک اُسے اُسکے ناپسندیدہ مذہب پر چلنے سے اجتناب کرنے کی اجازت دے دینا بھی ضمیر کی آزادی کا اجراء کرنے کیلئے کافی نہ ہوگا۔“‏

‏[‏صفحہ 8 پر تصویر]‏

ٹرٹولین

‏[‏صفحہ 8 پر تصویر]‏

چاٹیلون

‏[‏صفحہ 8 پر تصویر]‏

ڈی بیلوائے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں