ایک زبان جسے آپ دیکھتے ہیں!
آپ نے اپنی مادری زبان کیسے سیکھی؟ غالباً شِیرخوارگی کے زمانے میں خاندان اور دوستوں کی باتیں سننے سے۔ بیشتر لوگ زبان سننے سے سیکھتے ہیں اور بولنے سے اسکا اظہار کرتے ہیں۔ تصورات اور نظریات تشکیل دیتے وقت سننے کی صلاحیت رکھنے والے اشخاص ادا کئے جانے والے الفاظ اور جملوں کو بولنے سے پہلے اپنے ذہن میں اُنکی مشق کرتے ہیں۔ تاہم، جب ایک بچہ بہرہ پیدا ہوتا ہے تو کیا ذہن خیالات کو کسی دوسرے طریقے سے تشکیل دے سکتا ہے؟ کیا کوئی ایسی زبان ہے جو تجریدی اور مادی نظریات کو آواز پیدا کئے بغیر ایک ذہن سے دوسرے ذہن تک منتقل کر سکتی ہے؟
سنی نہیں پر دیکھی گئی
انسانی دماغ کے عجائب میں سے ایک ہماری زبان سیکھنے کی صلاحیت اور اسے مطابقتپذیر بنانے کی قابلیت ہے۔ تاہم سنے بغیر، کسی زبان کو سیکھنا عموماً کانوں کا نہیں بلکہ آنکھوں کا کام ہوتا ہے۔ خوشی کی بات ہے کہ انسان میں رابطے کی خواہش بہت شدید ہے جو ہمیں کسی بھی ظاہری رکاوٹ پر قابو پانے کے قابل بناتی ہے۔ اس ضرورت کے پیشِنظر بہرے لوگوں نے پوری دُنیا میں بہتیری اشاروں کی زبانیں ترتیب دی ہیں۔ بہرے خاندانوں میں پیدا ہونے یا اپنے علاقے کے خاص سکولوں میں اکٹھے رہنے کی وجہ سے جب وہ ایک دوسرے سے ملتےجلتے ہیں تو اس کے نتیجے میں ایک پیچیدہ زبان فروغ پاتی ہے—اشاروں کی زبان۔
ریاستہائے متحدہ کے کارل کیلئے یہ زبان اُسکے والدین کی طرف سے ایک تحفہ تھی۔a پیدائشی طور پر بہرہ ہونے کے باوجود وہ چھوٹی عمر ہی سے چیزوں کی شناخت کر سکتا، علامات کو مربوط کر سکتا اور تجریدی خیالات کا امریکن سائن لینگوئج (اےایسایل) میں اظہار کر سکتا تھا۔ بیشتر بہرے بچے جنکے والدین اشاروں کا استعمال کرتے ہیں ۱۰ سے ۱۲ ماہ کی عمر ہی سے اشاروں کا استعمال شروع کر دیتے ہیں۔ کتاب جرنی اِن ٹو دی ڈیف ورلڈ میں وضاحت کی گئی ہے کہ ”ماہرِلسانیات بھی اب اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ فطری طور پر کسی زبان سے واقف ہونے اور اسے اپنے بچوں میں منتقل کرنے کی صلاحیت دماغ کی گہرائیوں میں پنہاں ہے۔ یہ بات اہم نہیں کہ یہ صلاحیت اشاروں کی زبان کی صورت میں نمایاں ہوگی یا عام بولچال کی صورت میں۔“
سفائیٹ روس میں بہرے خاندان کی تیسری پُشت میں پیدا ہوئی۔ اپنے بہرے بھائی کے ساتھ اُس نے رشین سائن لینگوئج سیکھی۔ تین سال کی عمر میں بہرے بچوں کی نرسری میں داخل ہونے کے وقت تک اُس نے فطری طور پر سیکھی ہوئی اشاروں کی زبان میں کافی مہارت حاصل کر لی تھی۔ سفائیٹ تسلیم کرتی ہے: ”دوسرے بہرے بچے اشاروں کی زبان نہیں جانتے تھے اور مجھ سے سیکھتے تھے۔“ بہتیرے بہرے بچوں کے والدین قوتِسماعت کے حامل تھے اور اشاروں کو استعمال نہیں کرتے تھے۔ اکثراوقات سکول میں چھوٹے بہرے بچے بڑے بہرے بچوں سے اشاروں کی زبان سیکھتے ہیں جو اُنہیں آسانی سے گفتگو کرنے کے قابل بناتی ہے۔
آجکل قوتِسماعت کے حامل بہت سے والدین اپنے بچوں کے ساتھ اشارے استعمال کرنا سیکھ رہے ہیں۔ نتیجتاً، یہ بہرے چھوٹے بچے سکول جانے سے پہلے ہی مؤثر طور پر گفتگو کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ یہ بات کینیڈا میں اینڈریو کے معاملے میں سچ تھی جسکے والدین سن سکتے ہیں۔ اُنہوں نے اشاروں کی زبان سیکھی اور بہت چھوٹی عمر سے اُسکے ساتھ اسے استعمال کِیا جس نے اُسے ایسی بنیاد فراہم کی جس سے وہ آئندہ سالوں میں زبان سیکھ سکتا تھا۔ اب پورا خاندان کسی بھی موضوع پر ایک دوسرے کے ساتھ اشاروں کی زبان میں گفتگو کر سکتا ہے۔
بہرے لوگ بولی جانیوالی کسی بھی زبان میں سوچنے کی ضرورت محسوس کئے بغیر تجریدی اور مادی خیالات کو تشکیل دینے کے قابل ہوتے ہیں۔ جیسے ہم سب اپنی زبان میں خیالات کو تشکیل دیتے ہیں اُسی طرح بہرے لوگ اپنی اشاروں کی زبان میں سوچتے ہیں۔
بہت سی زبانیں
دُنیابھر میں بہرے لوگوں کے گروہوں نے یا تو اپنی اشاروں کی زبان کو خود ترتیب دیا ہے یا دیگر اشاروں کی زبانوں کی خصوصیات کو اپنے اندر ضم کر لیا ہے۔ آجکل اےایسایل کے ذخیرۂالفاظ کا کچھ حصہ ۱۸۰ سال پہلے کی فرنچ سائن لینگوئج سے حاصل کِیا گیا تھا۔ اسے ریاستہائے متحدہ میں پہلے ہی سے استعمال ہونے والی زبان کیساتھ ملا دیا گیا اور اب یہ اےایسایل بن گئی ہے۔ اشاروں کی زبانیں سالوں کے دوران فروغ پاتی ہیں اور پُشتدرپُشت اصلاحات کا تجربہ کرتی ہیں۔
عام طور پر، اشاروں کی زبانیں بولی جانیوالی زبان کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتیں۔ مثال کے طور پر پورٹوریکو میں اےایسایل استعمال کی جاتی ہے جبکہ ہسپانوی زبان بولی جاتی ہے۔ اگرچہ انگلینڈ اور ریاستہائے متحدہ میں انگریزی بولی جاتی ہے، مؤخرالذکر میں برٹش سائن لینگوئج استعمال ہوتی ہے جو اےایسایل سے بہت مختلف ہے۔ نیز، میکسیکن سائن لینگوئج لاطینی امریکہ کی بہت سی اشاروں کی زبانوں سے مختلف ہے۔
اشاروں کی زبان کا مطالعہ کرنے والا کوئی بھی شخص اسکی پیچیدگیوں اور فصیح اندازِبیاں سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ بیشتر موضوعات، خیالات یا نظریات کا اظہار اشاروں کی زبان سے کِیا جا سکتا ہے۔ خوشی کی بات ہے کہ بہرے لوگوں کیلئے ویڈیو کیسٹس پر لٹریچر فراہم کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے جس میں کہانیاں سنانے، شاعری کرنے، تاریخی سرگزشتیں بیان کرنے اور بائبل سچائی سکھانے کیلئے اشاروں کی قدرتی زبان کو استعمال کِیا جاتا ہے۔ بہت سے ممالک میں اشاروں کی زبان کی شرح خواندگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
جو کبھی سنا نہیں گیا اُسے پڑھنا
قوتِسماعت رکھنے والے لوگ پڑھتے وقت الفاظ کی آواز کو یاد رکھتے ہوئے سماعی حافظے کو استعمال کرتے ہیں۔ لہٰذا، وہ پڑھے جانے والے مواد میں سے بیشتر کو سمجھ لیتے ہیں کیونکہ اُنہوں نے اسے پہلے سنا ہوتا ہے۔ بیشتر زبانوں میں تحریرکردہ الفاظ اُن نظریات کو واضح نہیں کرتے یا اُن سے مشابہت نہیں رکھتے جنکی وہ عکاسی کرتے ہیں۔ قوتِسماعت کے حامل بہتیرے لوگ اس غیرواضح نظام یا تحریری ضابطے کو بولی جانے والی زبانوں کی آواز کے ساتھ مربوط کرنے سے سیکھتے ہیں تاکہ سمجھ کے ساتھ پڑھ سکیں۔ ذرا تصور کریں، آپ نے اپنی پوری زندگی میں بولی جانیوالی زبان کا کوئی لفظ یا آواز نہیں سنی! کسی ناقابلِسماعت زبان کے غیرواضح تحریری ضابطے کو سیکھنا نہایت مشکل اور مایوسکُن ہو سکتا ہے۔ اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں ہے کہ ایسی زبان کو پڑھنا بہرے لوگوں کیلئے بہت بڑا چیلنج ہوتا ہے، بالخصوص اُنکے لئے جو اپنی قوتِسماعت بچپن ہی میں کھو چکے ہیں یا جنہوں نے کبھی سنا ہی نہیں!
دُنیابھر میں بہرے بچوں کیلئے بیشتر تعلیمی اداروں نے بچے کے زبان سیکھنے کے ابتدائی مراحل میں اشاروں کی زبان استعمال کرنے کے فوائد کو سمجھ لیا ہے۔ (صفحہ ۲۰ اور ۲۲ پر بکس دیکھیں۔) ایسے اداروں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ بچے کے سامنے اشاروں کی زبان استعمال کرنا اور لسانی بنیاد ڈالنا تعلیمی اور معاشرتی کامرانیوں اور پھر تحریری زبان سیکھنے کا باعث بنتا ہے۔
بہرے لوگوں کی تعلیم کی بابت اقوامِمتحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم نے بیان کِیا: ”اشاروں کی زبان کو نظرانداز کرنا، یا بہرے لوگوں کیلئے تعلیمی پروگراموں میں فعال شرکت کرنے سے کنارہکشی کرنا اب قابلِقبول نہیں ہے۔“ یہ بات قابلِذکر ہے کہ والدین اپنے بہرے بچے کیلئے جس بھی طرزِتعلیم کا انتخاب کریں، بچے کی نشوونما میں ماں اور باپ دونوں کی بھرپور شرکت بڑی اہمیت کی حامل ہے۔—نومبر ۸، ۱۹۹۶ کے اویک! میں مضمون ”اپنے بچے تک پہنچنے کیلئے مَیں نے ایک اَور زبان سیکھی،“ کو دیکھیں۔
بہروں کی دنیا کو سمجھنا
جب بہرے بچے بڑے ہو جاتے ہیں تو اکثراوقات وہ تسلیم کرتے ہیں کہ والدین کی طرف سے جس چیز کی اُنہیں سب سے زیادہ ضرورت تھی وہ رابطہ تھا۔ جب ایک بہرے شخص جیک کی عمررسیدہ ماں قریبالمرگ تھی تو اُس نے اُسکے ساتھ گفتگو کرنے کی کوشش کی۔ اُس نے اُسے کچھ بتانے کی کوشش کی مگر لکھ نہ سکی اور اشاروں کی زبان سے بھی واقف نہ تھی۔ پھر وہ کوما میں چلی گئی اور بعدازاں مر گئی۔ یہ آخری مایوسکُن لمحات جیک پر مسلّط ہو گئے۔ اس تجربے نے اُسے بہرے بچوں کے والدین کو یہ مشورہ دینے کی تحریک دی: ”اگر آپ اپنے بچے کیساتھ نظریات، جذبات، خیالات اور محبت کا پُرمعنی تبادلہ کرنا چاہتے ہیں اور روانی سے گفتگو کرنا چاہتے ہیں تو اسے اشاروں میں بیان کریں۔ . . . میرے لئے بہت دیر ہو چکی ہے۔ کیا آپ کیلئے بھی بہت دیر ہو چکی ہے؟“
عرصۂدراز سے بہتیرے لوگ بہروں کی بابت غلطفہمی کا شکار ہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ بہرے لوگ کچھ نہیں جانتے کیونکہ وہ سن نہیں سکتے۔ والدین اپنے بہرے بچوں کا حد سے زیادہ خیال رکھتے ہیں یا دوسرے لوگوں کے ساتھ اُنکی رفاقت سے ڈرتے ہیں۔ بعض معاشروں میں غلطی سے بہرے لوگوں کو ”گونگا“ بھی کہا جاتا ہے اگرچہ بہرے لوگ قوتِگویائی سے محروم نہیں ہوتے۔ وہ محض سن نہیں سکتے۔ بعض لوگ اشاروں کی زبان کو محض فرسودہ یا بولی جانے والی زبان سے کمتر زبان خیال کرتے ہیں۔ اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں کہ ایسی ناواقفیت کی بنا پر بعض بہرے لوگ ستمرسیدہ محسوس کرتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ کوئی بھی اُنہیں نہیں سمجھتا۔
ریاستہائے متحدہ میں ۱۹۳۰ میں پرورش پانے والے ایک بچے کے طور پر جوزف کو بہرے بچوں کے ایک اسپیشل سکول میں داخل کرا دیا گیا جس نے اشاروں کی زبان استعمال کرنے کو ممنوع قرار دیا۔ اُسے اور اُسکے ہمجماعتوں کو اکثراوقات اشاروں کا استعمال کرنے کی وجہ سے اُسوقت بھی ڈانٹا جاتا جب وہ اپنے اساتذہ کی بات بھی سمجھ نہیں پاتے تھے۔ وہ سمجھنے اور سمجھے جانے کی شدید خواہش رکھتے تھے! ایسے ممالک جہاں بہرے بچوں کیلئے تعلیم محدود ہے وہاں بعض بہت کم تعلیم کیساتھ پروان چڑھتے ہیں۔ مثال کے طور پر، مغربی افریقہ میں اویک! کے ایک مراسلہنگار نے کہا: ”افریقہ میں بہرے لوگوں میں سے بیشتر کے لئے زندگی مشکل اور قابلِرحم ہے۔ غالباً معذور افراد میں سے بہرے لوگوں کو سب سے زیادہ نظرانداز کِیا جاتا ہے اور سب سے کم سمجھا جاتا ہے۔“
ہم سب یہ ضرورت محسوس کرتے ہیں کہ ہمیں سمجھا جائے۔ افسوس کی بات ہے کہ بعض لوگ جب کسی بہرے شخص کو دیکھتے ہیں تو وہ صرف ایسے شخص کو دیکھ رہے ہوتے ہیں جو ”کچھ بھی نہیں کر سکتا۔“ نظر آنے والی معذوری ایک بہرے شخص کی حقیقی صلاحتیوں کو ماند کر سکتی ہے۔ اسکے برعکس بہتیرے بہرے لوگ اپنے آپ کو ایسے لوگ خیال کرتے ہیں جو ”سب کچھ کر سکتے“ ہیں۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ روانی سے رابطہ رکھنے، عزتِنفس پیدا کرنے اور تعلیمی، معاشرتی اور روحانی طور پر کامیابی حاصل کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے بہتیرے بہرے لوگ جس بدسلوکی کا نشانہ بنے ہیں وہ بعض کیلئے قوتِسماعت کے حامل لوگوں پر بھروسہ نہ کرنے پر منتج ہوا ہے۔ تاہم جب قوتِسماعت کے حامل لوگ بہروں کی ثقافت، اشاروں کی زبان سمجھنے اور بہرے لوگوں کو ایسے لوگ خیال کرنے کیلئے مخلص دلچسپی ظاہر کرتے ہیں جو ”سب کچھ کر سکتے“ ہیں تو اس سے سب مستفید ہوتے ہیں۔
اگر آپ ایک اشاروں کی زبان سیکھنا چاہتے ہوں تو یاد رکھیں کہ زبان ہمارے سوچنے کے طریقے اور نظریات کا تجزیہ کرنے کی عکاسی کرتی ہے۔ اچھی طرح اشاروں کی زبان سیکھنے کیلئے ایک شخص کو اُسی زبان میں سوچنے کی ضرورت ہے۔ اسی وجہ سے محض اشاروں کی زبان کی لغت سے اشارے سیکھ لینا اُس زبان کو صحیح طریقے سے استعمال کرنے میں مددگار ثابت نہیں ہوگا۔ کیوں نہ اُن—بہرے لوگوں—سے سیکھیں جو اپنی روزمرّہ زندگی میں اشاروں کی زبان استعمال کرتے ہیں؟ اپنی پیدائش سے ہی اشاروں کی زبان استعمال کرنے والوں سے اس زبان کو سیکھنا سوچنے اور نظریات کا ایک مختلف تاہم فطری طریقے سے تجزیہ کرنے میں آپکی مدد کرتا ہے۔
دُنیابھر میں بہرے لوگ ایک اشاروں کی جامع زبان استعمال کرنے سے اپنے لئے امکانات اور مواقع کو وسیع کر رہے ہیں۔ آئیے اور اُنکی اشاروں کی زبانوں کو خود دیکھئے۔
[فٹنوٹ]
a ایک اندازے کے مطابق صرف ریاستہائے متحدہ ہی میں ایک ملین بہرے لوگ ہیں جو ایک منفرد ”تہذیب اور زبان“ کے حامل ہیں۔ عموماً یہ لوگ پیدائشی بہرے ہوتے ہیں۔ مزیدبرآں، ایک اندازے کے مطابق ۲۰ ملین لوگوں کی سماعت متاثر ہو جاتی ہے تاہم وہ بنیادی طور پر اپنی مادری زبان میں گفتگو کرتے ہیں۔—اے جرنی اِِن ٹو دی ڈیف ورلڈ۔ از ہارلن لین، رابرٹ ہوفمسٹر اور بین باہان۔
[صفحہ 20 پر بکس]
”نیویارک میں بہروں کو پہلے اشاروں کی زبان اور پھر انگریزی سکھائی جاتی ہے“
یہ شہسرخی دی نیویارک ٹائمز کے مارچ ۵، ۱۹۹۸ کے شمارے میں شائع ہوئی۔ فیلیسیا۔آر۔لی نے لکھا: ”اسے بہرے طالبعلموں کی تعلیم میں تاریخی حیثیت حاصل ہوگی کہ بہرے بچوں کے لئے شہر کے واحد سکول کا جائزہ لیا جائیگا تاکہ تمام اساتذہ اشاروں اور نشانات پر مبنی اشاروں کی زبان سے“ پڑھانا شروع کریں۔ وہ وضاحت کرتی ہے کہ بہتیرے ماہرینِتعلیم کے مطابق تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ بہرے لوگوں کی ابتدائی زبان زبانی نہیں بلکہ مرئی ہوتی ہے اور سکول جو امریکن سائن لینگوئج کے ترجیحی طریقہ کو استعمال کرتے ہیں طالبعلموں کو دوسرے سکولوں سے زیادہ بہتر تعلیم دیتے ہیں۔
”وہ کہتے ہیں کہ بہرے طالبعلموں کیساتھ معذوروں جیسا نہیں بلکہ دو زبانیں بولنے والے طالبعلموں جیسا سلوک کِیا جانا چاہئے۔“
نارتھایسٹرن یونیورسٹی، بوسٹن کے پروفیسر ہارلن لین نے کہا: ”میرے خیال میں [نیویارک سکول] اس تحریک کا علمبردار ہے۔“ اُس نے اویک! کو بتایا کہ حتمی نصبالعین یہ ہے کہ انگریزی کو دوسری پڑھی جانیوالی زبان کے طور پر سکھایا جائے۔
[صفحہ 21 پر بکس/تصویریں]
یہ واقعی ایک زبان ہے!
قوتِسماعت کے حامل بعض لوگ اس غلط نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اشاروں کی زبان کسی خاموش ڈرامے کی کوئی پیچیدہ قسم ہے۔ اسے تصویری زبان بھی کہا گیا ہے۔ اگرچہ اشاروں کی زبان چہرے، جسم، ہاتھوں اور ماحول کا مؤثر استعمال کرتی ہے توبھی جن خیالات کا منتقل کرنا مقصود ہوتا ہے اشاروں کی اکثریت اُن سے بالکل یا بہت کم مشابہت رکھتی ہے۔ مثال کے طور پر امریکن سائن لینگوئج (اےایسایل) میں ”بنانا“ کا خیال پیش کرنے والا اشارہ مٹھی کی شکل میں دونوں ہاتھوں کو استعمال کرتا ہے جس میں ایک مٹھی دوسری کے اُوپر گھمائی جاتی ہے۔ عام ہونے کے باوجود بھی یہ اشارہ اشاروں کی زبان سے ناواقف شخص کے لئے بےمعنی ہے۔ رشئین سائن لینگوئج (آرایسایل) میں ”ضرورت“ کے خیال کی تصویرکشی کرنے والے اشارے میں دونوں ہاتھوں کے انگوٹھے تیسری انگلی کو چھوتے اور دائرے میں متوازی گھومتے ہیں۔ (اس صفحے کی تصاویر کو دیکھیں۔) لہٰذا بہت سے تجریدی نظریات کو تصویری زبان میں پیش نہیں کِیا جا سکتا۔ مادی چیزوں کے اشارے اس سے مستثنیٰ ہونگے جو توضیحی ہو سکتے ہیں جیسے وہ اشارے جو ”گھر“ یا ”بچے“ کو ظاہر کرنے کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔—اس صفحے کی تصویر کو دیکھیں۔
زبان کا ایک اَور معیار کسی ایک گروہ کے قبولکردہ باضابطہ ذخیرۂالفاظ کا استعمال ہے۔ اشاروں کی زبانیں گرامر کے ایسے پیچیدہ قواعد کو ظاہر کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر، کسی اےایسایل جملے کا موضوع بالعموم پہلے بیان کِیا جاتا ہے اور پھر اُسکے بارے میں تبصرہ کِیا جاتا ہے۔ نیز، وقت کے حساب سے چیزوں کو ترتیب دینا بھی بیشتر اشاروں کی زبانوں کی بنیادی خصوصیت ہے۔
چہرے کے تاثرات سوال اور حکم، ایک شرطیہ جملے یا سادہ بیان میں فرق کرنے کیلئے گرامر کے قواعد کا کام بھی دیتے ہیں۔ اشاروں کی زبان کی مرئی خصوصیت نے ان اور دیگر منفرد خاصیتوں کو پیدا کرنے میں مدد دی ہے۔
[تصویریں]
اےایسایل میں ”بنانا“
آر ایسایل میں ”ضرورت“
اےایسایل میں ”گھر“
اےایسایل میں ”بچہ“
[صفحہ 22 پر بکس]
حقیقی زبانیں
”غلط نظریات کے برعکس، اشاروں کی زبانیں خاموش ڈرامے یا اشارے، ماہرینِتعلیمات کی ایجادات یا اردگرد کے ماحول میں بولی جانیوالی زبانوں کی علامات نہیں ہیں۔ وہ ہر اُس جگہ پائی جاتی ہیں جہاں پر بہرے لوگ رہتے ہیں اور ہر ایک مختلف، مکمل زبان ہے جو دُنیابھر میں بولی جانے والی زبانوں کے قواعد کو استعمال کرتی ہے۔“
نکاراگوا میں ”سکولوں نے [بہرے] بچوں کو لبشناسی اور گفتارشناسی میں تربیت دینے پر توجہ مرتکز کی مگر ہر معاملے میں جہاں بھی اسے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی یہ ناکام ہے۔ تاہم اس سے کوئی فرق نہ پڑا۔ کھیل کے میدان یا سکول کی بس میں بچے اشاروں کا اپنا نظام ایجاد کر رہے تھے . . . اور جلد ہی یہ نظام لینجوا کے ڈی سیگنوس نکاراگوانسے کہلایا جانے لگا۔“ بہرے بچوں کی نوجوان نسل نے ایک زیادہ رواں زبان کو فروغ دیا ہے جسے اڈیوما ڈی سیگنوس نکاراگوانسے کہا جاتا ہے۔—دی لینگوئج انسٹنکٹ از سٹیون پنکر۔
[صفحہ 23 پر تصویریں]
یہ اےایسایل میں اشارہ، ”سٹور پر جانے کے بعد وہ کام پر جائیگا،“ کرنے کا ایک طریقہ ہے
۱ سٹور
۲ وہ
۳ جانا
۴ ختم
۵ جانا
۶ کام