یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو98 8/‏10 ص.‏ 6-‏8
  • جب اُمید اور محبت ختم ہو جاتی ہے

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • جب اُمید اور محبت ختم ہو جاتی ہے
  • جاگو!‏—‏1998ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • زندگی بچانے والی خوبی؟‏
  • مایوسی جنم لے سکتی ہے
  • خودکشی—‏نوجوانوں کی وبا
    جاگو!‏—‏1998ء
  • کیا خودکشی فرار کا واحد راستہ ہے؟‏
    جاگو!‏—‏2008ء
  • جب اُمید اور محبت بحال ہو جاتی ہے
    جاگو!‏—‏1998ء
  • سوالات از قارئین
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2002ء
مزید
جاگو!‏—‏1998ء
جاگو98 8/‏10 ص.‏ 6-‏8

جب اُمید اور محبت ختم ہو جاتی ہے

کینیڈا کی ایک ۱۷سالہ لڑکی نے اپنے مرنے کی خواہش کی وجوہات کو قلمبند کِیا۔ دیگر وجوہات کے علاوہ اُس نے ان چیزوں کو فہرست میں لکھا:‏ ’‏احساسِ‌تنہائی اور مستقبل کا خوف؛ ساتھی کارکنوں سے کمتر ہونے کا احساس؛ نیوکلیائی جنگ؛ اووزن پرت کی تباہی؛ مَیں انتہائی بدصورت ہوں لہٰذا مجھے کبھی کوئی شریکِ‌حیات نہیں ملیگا اور بالآخر مَیں تنہا رہ جاؤنگی؛ میرے خیال میں کوئی ایسی چیز نہیں جس کیلئے زندہ رہا جائے لہٰذا اسکی تلاش میں وقت کیوں ضائع کِیا جائے؛ میری موت سب کے بوجھ کو ہلکا کر دیگی؛ پھر کبھی کوئی میرے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچائے گا۔‘‏

کیا بعض ایسی وجوہات ہو سکتی ہیں جنکے باعث نوجوان خود کو ہلاک کر رہے ہیں؟ کینیڈا میں ”‏ٹریفک حادثات کے بعد، نوجوانوں میں موت کا عام سبب خودکشی ہے۔“‏—‏دی گلوب اینڈ میل۔‏

جنوبی آسٹریلیا کی فلنڈرز یونیورسٹی کے پروفیسر ریاض حسن نے اپنے مقالے ”‏ان‌لیوڈ لائیوز:‏ ٹرینڈز ان یوتھ سوسائیڈ [‏بن کھلے غنچے:‏ نوجوانوں میں خودکشی کے رجحانات]‏“‏ میں لکھا:‏ ”‏اس مسئلے سے متعلق بہتیری معاشرتی وجوہات ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ وجوہات نوعمروں میں خودکشی کے رجحان میں اضافے پر منتج ہوئی ہیں۔ یہ نوجوانوں میں بیروزگاری کی بلند شرح؛ آسٹریلیوی خاندان میں تبدیلی؛ نشہ‌آور ادویات کے جائزوناجائز استعمال میں اضافہ؛ نوجوانوں میں تشدد میں اضافہ؛ نفسیاتی امراض؛ اور ’‏نظریاتی آزادی‘‏ اور ’‏عملی خودمختاری‘‏ میں انفصال ہیں۔“‏ مقالہ مزید بیان کرتا ہے کہ بہت سے تجزیوں کے نتائج مستقبل کی بابت مایوسی کے احساس کو ظاہر کرتے ہیں اور تجویز کرتے ہیں کہ ”‏نوجوانوں کی اکثریت اپنے اور اس دُنیا کے مستقبل سے خوفزدہ اور لرزاں ہے۔ وہ نیوکلیائی جنگ سے تباہ‌شُدہ دُنیا کا تصور کرتے ہیں جو آلودگی اور ماحولیاتی شکستگی کے باعث خستہ‌حال ہے، انسانیت سے عاری معاشرہ جس میں ٹیکنالوجی بے‌قابو اور بیروزگاری عام ہے۔“‏

سولہ سے چوبیس سال کی عمر کے لوگوں کے ایک گروہ کی رائے کے مطابق، خودکشی کے مزید اسباب امیر اور غریب کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج، بڑھتے ہوئے سنگل پیرنٹ گھرانے، اسلحے کی ثقافت کا فروغ، بچوں کیساتھ جنسی بدسلوکی اور ”‏کل پر عدم‌یقینی“‏ کی عام حالت ہیں۔‏

نیوزویک رپورٹ دیتا ہے کہ ریاستہائے متحدہ میں ”‏[‏نوعمروں کی خودکشی میں]‏ آتشی اسلحے کی موجودگی ایک اہم عنصر ہے۔ خودکشی کرنے والے نوعمر جن میں ظاہری طور پر کوئی ذہنی‌انتشار نہیں تھا جب اُنکا موازنہ خودکشی نہ کرنے والے بچوں سے کِیا گیا تو صرف ایک ہی بات فرق تھی:‏ گھر میں بھری ہوئی پستول کی موجودگی۔ کیا ہی غلط مقولہ کہ پستول لوگوں کو قتل نہیں کرتی۔“‏ لاکھوں گھرانوں میں بھرے ہوئے پستول ہیں!‏

خوف اور لاپرواہ معاشرہ زدورنج نوجوانوں کو خودکشی کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ غور کریں:‏ پُرتشدد جرائم جو ۱۲ سے ۱۹ سال کے لوگوں کیساتھ واقع ہوتے ہیں وہ باقی تمام آبادی کیساتھ واقع ہونے والے جرائم سے دُگنے ہیں۔ میکلنز میگزین کے مطابق، تحقیقات ظاہر کرتی ہیں کہ ”‏۱۴ سے ۲۴سالہ نوجوان خواتین زنابالجبر کا زیادہ نشانہ بنتی ہیں۔“‏ ”‏خواتین زیادہ‌تر اُن لوگوں کے حملوں کا نشانہ بنتی اور زندگی کھو بیٹھتی ہیں جو اُن سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں۔“‏ اسکا نتیجہ؟ یہ اور دیگر خدشات ”‏ان لڑکیوں کا اعتماد اور احساسِ‌تحفظ چھین لیتے ہیں۔“‏ ایک تحقیق کے مطابق، زنابالجبر سے بچ نکلنے والی خواتین میں سے ایک تہائی نے خودکشی کی بابت سوچا تھا۔‏

نیوزی‌لینڈ سے ایک رپورٹ نوجوانوں کی خودکشی کے حوالے سے ایک اَور امکان پیش کرتی ہے:‏ ”‏ہر طرف سرایت کر جانے والی مادہ‌پرستی، دُنیاوی اقدار جو نوجوانوں کی کامیابی کو دولت، خوبصورتی اور اختیار کی کسوٹی پر پرکھتی ہیں، بہت سے نوجوانوں کیلئے خود کو بے‌وقعت اور معاشرے سے الگ‌تھلگ محسوس کرنے کا سبب بنتی ہیں۔“‏ مزیدبرآں دی فیوچرسٹ بیان کرتا ہے:‏ ”‏[‏نوجوانوں]‏ میں فوری تسکین کیلئے سب کچھ جلد حاصل کرنے کا میلان پایا جاتا ہے۔ اُنکے پسندیدہ ٹی‌وی پروگرام سوپ اوپراز [‏سلسلہ‌وار ڈرامے]‏ ہوتے ہیں۔ وہ پسند کریں گے کہ انکی دُنیا بھی ایسے خوبصورت اشخاص سے پُر ہو جو جدیدترین فیشن کا لباس پہنیں، بہت سا پیسہ اور شہرت رکھتے ہوں اور مشقت‌طلب کام نہ ہو۔“‏ ایسی غیرحقیقی، ناقابلِ‌حصول توقعات مایوسی کا سبب بنتی ہیں اور خودکشی کی طرف لے جا سکتی ہیں۔‏

زندگی بچانے والی خوبی؟‏

شیکسپیئر نے لکھا:‏ ”‏محبت بارش کے بعد دھوپ کی طرح راحت بخشتی ہے۔“‏ بائبل بیان کرتی ہے:‏ ”‏محبت کو زوال نہیں۔“‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۳:‏۸‏)‏ اس خوبی میں خودکشی کی طرف مائل نوجوان لوگوں کے مسائل—‏محبت اور رابطے کیلئے اُن کی شدید خواہش—‏کا حل ہے۔ دی امریکن میڈیکل ایسوسی‌ایشن انسائیکلوپیڈیا آف میڈیسن بیان کرتا ہے:‏ ”‏خودکشی کرنے والے لوگ عام طور پر شدید تنہائی محسوس کرتے ہیں اسلئے ایک ہمدرد اور فہیم سامع سے گفتگو کرنے کا موقع بعض‌اوقات اس مایوس‌کُن عمل کو روکنے کیلئے کافی ہوتا ہے۔“‏

نوجوانوں کو محبت اور اپنائیت کے احساس کی انتہائی ضرورت ہوتی ہے۔ اس محبت سے خالی اور تخریبی دنیا میں گزرنے والے ہر دن کیساتھ اس ضرورت کی تکمیل مشکل ہوتی جا رہی ہے—‏ایسی دُنیا جس میں اُنہیں بہت کم یا کچھ بھی حق حاصل نہیں۔ خاندان کے ٹوٹنے یا طلاق کی وجہ سے والدین کی طرف سے استرداد نوعمری میں خودکشی کا سبب بننے والا ایک عنصر ہو سکتا ہے۔ نیز اس استرداد کے مختلف پہلو ہو سکتے ہیں۔‏

ایسے والدین کی بابت غور کریں جو اپنے بچوں کے ساتھ گھر میں شاذونادر ہی ہوتے ہیں۔ ماں اور باپ شاید اپنی ملازمت میں پوری طرح مگن ہوں یا ایسی تفریح سے لطف‌اندوز ہو رہے ہوں جس سے بچے نگاہِ‌تغافل کا شکار ہو جائیں۔ اُنکی اولاد کیلئے بلا‌واسطہ پیغام واضح استرداد ہے۔ ممتاز صحافی اور محقق ہیو میکائے بیان کرتا ہے کہ ”‏والدین زیادہ سے زیادہ خودپسند بنتے جا رہے ہیں۔ وہ اپنے طرزِزندگی کو محفوظ رکھنے کیلئے اپنی ذات کو پہلے درجے پر رکھتے ہیں۔ .‏ .‏ .‏ ناخوشگوار حقیقت تو یہ ہے کہ بچوں کو اچھا خیال نہیں کِیا جاتا۔ زندگی مشکل ہے اور لوگ اپنی ذات میں مگن ہیں۔“‏

علاوہ‌ازیں، بعض معاشروں میں مردانہ تکبّر کی وجہ سے بعض مرد نگہداشت کرنے کا کردار پسند نہیں کرتے۔ صحافی کیٹ لیگ اسے عمدگی سے بیان کرتا ہے:‏ ”‏ملازمت‌پیشہ مرد عموماً نگہداشت کرنے کے کاموں کی بجائے زندگی بچانے والے یا آگ سے مڈبھیڑ کرنے والے کاموں کا انتخاب کرتے ہیں۔ .‏ .‏ .‏ وہ دوسرے لوگوں کی نگہداشت کے کاموں کی نسبت بیرونی قوتوں کے خلاف نبردآزما ہونے کے زبردست مگر خاموش کارنامے انجام دینے کو ترجیح دیتے ہیں۔“‏ بے‌شک آجکل لوگوں کی نگہداشت کرنے والا سب سے اہم کام ماں یا باپ ہونا ہے۔ ناقص طریقے سے بچوں کی نگہداشت کرنا سراسر بچے کا استرداد کرنا ہے۔ نتیجتاً آپ کا بیٹا یا بیٹی شاید اپنے بارے میں منفی رائے قائم کر لے یا معاشرتی مہارتوں کے فقدان کا شکار ہو جائے۔ دی ایجوکیشن ڈائجسٹ بیان کرتا ہے:‏ ”‏اپنی بابت مثبت رائے کے بغیر بچوں کے پاس اپنے بہترین مفاد میں فیصلہ کرنے کی بنیاد نہیں ہوتی۔“‏

مایوسی جنم لے سکتی ہے

محقق تسلیم کرتے ہیں کہ مایوسی خودکشی کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ آسٹریلیا میں نوجوانوں کی بابت لکھنے والی جیل میسن نے بیان کِیا:‏ ”‏مایوسی افسردگی کی نسبت خودکشی کرنے کی بابت خیالات سے زیادہ تعلق رکھتی ہے۔ بعض‌اوقات مایوسی کو افسردگی کی ایک علامت خیال کِیا جاتا ہے۔ .‏ .‏ .‏ یہ عام طور پر نوجوانوں کے مستقبل بالخصوص معاشی مستقبل کے بارے میں نااُمیدی اور دل‌شکنی کی اور عالمی صورتحال کے بارے میں کسی حد تک مایوسی کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔“‏

دیانتداری کے سلسلے میں عوامی لیڈروں کی خراب مثالیں نوجوانوں کو اخلاقیات اور آداب‌واطوار کے اپنے معیاروں کو بلند کرنے کی تحریک نہیں دیتیں۔ لہٰذا ”‏مَیں کیوں کوشش کروں؟“‏ کا رویہ پیدا ہو جاتا ہے۔ ریاکاری کو بھانپ لینے کی نوجوانوں کی صلاحیت کے بارے میں ہارپرز میگزین تبصرہ کرتا ہے:‏ ”‏نوجوان اپنی صلاحیت سے ریاکاری دریافت کر لیتے ہیں اور ماہر قاری ہیں—‏کتابوں کے نہیں۔ وہ جس چیز کو پڑھ لیتے ہیں وہ اُس دُنیا سے ابھرنے والے اشارے ہیں جس میں انہیں اپنی کفالت کرنا ہے۔“‏ تاہم ان اشاروں کا مطلب کیا ہے؟ مصنفہ سٹیفینی ڈارک نے مشاہدہ کِیا ہے:‏ ”‏زندگی کیسے بسر کی جائے، اس کی بابت معلومات کا ایک سیلاب رواں ہے۔ اگرچہ لوگ پہلے سے کہیں زیادہ تعلیم‌یافتہ اور امیر ہیں توبھی مایوسی ہر طرف پھیلی ہوئی ہے۔“‏ نیز سیاسی اور مذہبی معاشرے کے اعلیٰ حلقوں میں قابلِ‌تقلید نمونوں کی کمی ہے۔ ڈارک بعض متعلقہ سوالات پوچھتی ہے:‏ ”‏ہم ان بے‌معنی تکالیف سے حکمت، ازسرِنو بحالی کی صلاحیت اور مقصدیت کو کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟ اس خودغرض، بے‌ادب اور لالچی دُنیا میں ہم کیسے محبت کو فروغ دے سکتے ہیں؟“‏

آپ ان سوالات کے جواب اگلے مضمون میں پائیں گے جو شاید آپ کو حیرت میں مبتلا کر دیں۔‏

‏[‏صفحہ 6 پر عبارت]‏

‏”‏نوجوانوں کی اکثریت اپنے اور اس دُنیا کے مستقبل سے خوفزدہ اور لرزاں ہے“‏

‏[‏صفحہ 7 پر عبارت]‏

‏”‏ایک ہمدرد اور فہیم سامع سے گفتگو کرنے کا موقع بعض‌اوقات اس مایوس‌کُن عمل کو روکنے کیلئے کافی ہوتا ہے“‏

‏[‏صفحہ 7 پر تصویریں]‏

پُرتپاک محبت اور رحم زندگی کی قدر کرنے کیلئے کسی نوجوان کی مدد کر سکتے ہیں

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں