خودکشی—نوجوانوں کی وبا
ہمارے نوجوانوں کی تباہی کیلئے جنگ، قتلوغارت اور دیگر مظالم کیا کم تھے کہ نوجوانوں میں خودکشی کے ذریعے خود کو ختم کرنے کا رجحان بھی چل نکلا ہے۔ منشیات اور الکحل کا استعمال نوجوانوں کو ذہنی اور جسمانی طور پر تباہ کر دیتا ہے جو بیشتر نوجوانوں کی موت پر منتج ہوتا ہے۔ متوفّی اشخاص کیلئے ایک عام وجہ d’OD ہے—قصداً یا حادثاً زیادہ مقدار میں دوا کھا لینے سے مر جانا۔
اپریل ۲۸، ۱۹۹۵ کی ماربیڈٹی اینڈ مارٹیلٹی ویکلی رپورٹ نے بیان کِیا کہ ”ریاستہائے متحدہ میں ۱۵ سے ۱۹ سال کی عمر کے نوجوانوں میں موت کا تیسرا بڑا سبب خودکشی ہے۔“ ڈاکٹر جے. جے مان دی ڈیکیڈ آف دی برین میں لکھتا ہے: ”ہر سال ۳۰،۰۰۰ سے زیادہ [۱۹۹۵ میں تعداد ۳۱،۲۸۴ تھی] امریکی خودکشی کر لیتے ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ عام طور پر نوجوان اسکا شکار ہوتے ہیں . . . اُن ۳۰،۰۰۰ سے دس گُنا زیادہ نوجوان خودکشی کی کوشش کرنے کے باوجود بچ جاتے ہیں۔ . . . خودکشی کرنے کے خطرے میں مبتلا مریضوں کی شناخت کرنا ایک تشخیصی چیلنج ہے کیونکہ تشخیصوعلاج کے ماہرین کیلئے یہ جاننا آسان نہیں ہوتا کہ شدید ڈپریشن میں مبتلا مریضوں میں سے کون خودکشی کی کوشش کریگا اور کون نہیں کریگا۔“
کونیکٹیکٹ، یو.ایس.اے. میں نیو میلفورڈ ہسپتال کے نفسیاتی امراض کے شعبے کے سربراہ سائمن سوبو نے مشاہدہ کِیا: ”مَیں جب سے اس شعبے سے وابستہ ہوں، گزشتہ ۱۳ سال کی نسبت اس سال [۱۹۹۵] موسمِبہار میں خودکشی کی سب سے زیادہ کوششیں کی گئی ہیں۔“ ریاستہائے متحدہ میں ہر سال ہزاروں نوعمر خودکشی کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسی ہر کوشش مدد اور توجہ کی پکار ہے۔ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے کون مدد کو پہنچے گا؟
ایک عالمگیر مسئلہ
دُنیا کے دیگر بہت سے ممالک میں بھی صورتحال ایسی ہی ہے۔ انڈیا ٹوڈے کے مطابق، ۱۹۹۰ میں انڈیا کے اندر لگبھگ ۳۰،۰۰۰ نوجوانوں نے خودکشی کی۔ کینیڈا، فنلینڈ، فرانس، اسرائیل، نیدرلینڈز، نیوزیلینڈ، سپین، سوئٹزرلینڈ اور تھائیلینڈ کے اندر نوجوانوں میں خودکشی کرنے کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ اقوامِمتحدہ کے ادارۂامدادِبچگان (یونیسیف) کی ۱۹۹۶ کی رپورٹ بیان کرتی ہے کہ فنلینڈ، لٹویا، لیتھونیا، نیوزیلینڈ، روس اور سلووینیا میں خودکشی کی شرح سب سے زیادہ ہے۔
آسٹریلیا بھی دُنیا کے اُن ممالک میں سے ہے جہاں نوجوانوں میں خودکشی کی شرح بہت زیادہ ہے۔ دی کینبرا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، ۱۹۹۵ کے دوران اس ملک میں نوجوان لڑکوں کی اموات کا ۲۵ فیصد اور نوجوان لڑکیوں کی اموات کا ۱۷ فیصد خودکشی کے باعث واقع ہوا ہے۔ آسڑیلیا کے لڑکوں میں ”کامیاب“ خودکشی کی شرح لڑکیوں کی نسبت پانچ گنا زیادہ ہے۔ بہتیرے ممالک میں ایسی ہی شرح پائی جاتی ہے۔
کیا اسکا مطلب یہ ہے کہ لڑکیوں کی نسبت لڑکے خودکشی کرنے کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں؟ ضروری نہیں۔ دستیاب اعدادوشمار دونوں کے درمیان خودکشی کی کوششوں میں انتہائی معمولی فرق ظاہر کرتے ہیں۔ تاہم، ”ڈبلیوایچاو [عالمی ادارۂصحت] کی طرف سے تازہترین اعدادوشمار کے مطابق، صنعتی اقوام میں لڑکیوں کی نسبت نوجوان لڑکوں میں خودکشی کرنے کے امکانات چار فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔“—یونیسیف کی شائعکردہ دی پروگریس آف نیشنز۔
تاہم یہ ہولناک اعدادوشمار بھی مسئلے کی پوری تصویرکشی نہیں کر سکتے۔ نوجوانوں کی خودکشی کی بابت طبّی اور تجزیاتی زبان میں درج اعدادوشمار کو پڑھنا زیادہ آسان ہے۔ تاہم ان بےرحم اعدادوشمار کے پیچھے شکستہ خاندان، دکھ، تکلیف، درد اور باقی رہ جانے والوں کی مایوسی کو شاید ہی محسوس کِیا جاتا ہو جبکہ وہ ایسا قدم اٹھانے کی وجوہات کی تلاش میں رہتے ہیں۔
پس کیا نوجوانوں کی خودکشی جیسے المناک واقعات کو روکا جا سکتا ہے؟ بعض اہم عناصر کی شناخت کی گئی ہے جو اس افسوسناک صورتحال پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
[صفحہ 5 پر بکس]
خودکشی کے محرکات
خودکشی کے محرکات کی بابت بہت سے نظریات پائے جاتے ہیں۔ ”معاشرتی طور پر خود کو الگ محسوس کرنا، کسی عزیز (خاصکر شریکِحیات) کی موت، بچپن میں خاندان کا بکھر جانا، تشویشناک جسمانی بیماری، بڑھاپا، بیروزگاری، مالی مشکلات اور منشیات کا استعمال جیسے مسائل کیلئے کسی شخص کا ردِعمل خودکشی پر منتج ہوتا ہے۔“—دی امریکن میڈیکل ایسوسیایشن انسائیکلوپیڈیا آف میڈیسن۔
ماہرِعمرانیات ایمل درقاھم کے مطابق، خودکشی کی چار بنیادی اقسام ہیں:
۱۔ خودپرستانہ خودکشی—”خیال ہے کہ یہ کسی شخص کے معاشرے سے لاتعلق ہو جانے کا نتیجہ ہوتی ہے۔ خودستائی کے شکار افراد تنہا ہوتے ہیں اور نہ تو اپنے معاشرے سے کوئی رشتہ رکھتے ہیں اور نہ ہی اس پر انحصار کرتے ہیں۔“ وہ تنہائی پسند ہوتے ہیں۔
۲۔ خودایثارانہ خودکشی—”ایسا شخص کسی خاص گروہ سے اسقدر وابستہ ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی طرح کی قربانی سے دریغ نہیں کرتا۔“ اس کی مثالیں دوسری عالمی جنگ میں جاپانی کماکازی ہواباز اور ایسے مذہبی انتہاپسند ہیں جنہوں نے متوقع دشمن کو ختم کرنے کیساتھ ساتھ خود کو بھی آگ میں جھونک دیا۔ دیگر مثالیں وہ ہیں جنہوں نے کسی خاص تحریک پر توجہ دلانے کیلئے خود کو قربان کر دیا ہے۔
۳۔ اضطراری خودکشی—”اضطراری خودکشی کرنے والا فرد کسی بحران کیساتھ معقول طریقے سے نپٹنے کا اہل نہیں ہوتا لہٰذا مسئلے کے حل کے طور پر خودکشی کا انتخاب کرتا ہے۔ [ایسا] اُس وقت واقع ہوتا ہے جب معاشرے کیساتھ اُس فرد کے تعلق میں اچانک اور پریشانکُن تبدیلی واقع ہوتی ہے۔“
۴۔ تقدیری خودکشی—”گمان ہے کہ یہ معاشرے میں ایسے ضابطوں کی کثرت کے باعث واقع ہوتی ہے جو اُس فرد کی آزادی کی راہ میں حائل ہوتے ہیں۔“ ایسے لوگ ”محسوس کرتے ہیں کہ انکا کوئی معقول مستقبل نہیں ہے۔“—ایڈولسینٹ سوسائیڈ: ایسیسمنٹ اینڈ انٹروینشن از ایلن ایل. برمین اَور ڈیوڈ اے. جوبز۔
[صفحہ 5 پر تصویر]
بعض نقصاندہ کام جو نوجوانوں کو خودکشی کی طرف لے جا سکتے ہیں