جوان اموات کا المیہ
”میرے خیال میں ہماری نسل مر رہی ہے۔“—جوحانہ پی۔، کونیکٹیکٹ یونیورسٹی، یو.ایس.اے۔ کی ۱۸سالہ طالبہ۔
آسٹریلیا کی جزائری ریاست تسمانیہ کے دارالحکومت ہوبرٹ کے گردونواح میں واقع ایک فارم پر ایک پولیس افسر نے ایک خوفناک منظر دیکھا۔ ایک گھر کے اندر ۱۰ سے ۱۸ سال کی چار لڑکیاں مُردہ پڑی تھیں، جنہیں اُنکے باپ نے قتل کرنے کے بعد خود کو بھی سر پر گولی مار کر ہلاک کر لیا تھا اور اُسکی لاش بھی قریب ہی پڑی تھی۔ اس نے اپنا دایاں ہاتھ کلہاڑی سے کاٹ ڈالا تھا۔ قتل اور خودکشی کے اس واقع نے تسمانیہ کی تمام آبادی کو ہلا کر رکھ دیا۔ تاہم اس سے لوگوں کے ذہنوں میں ایک پریشانکُن سوال نے جنم لیا—کیوں؟ اُن چار معصوم لڑکیوں کو کیوں مرنا پڑا؟
بیلجیئم میں لوگ ابھی تک اس واقعہ کو فراموش نہیں کر پائے جس میں ضمانت پر رہا ہونے والے ایک شخص نے چھ لڑکیوں کو جنسی بدسلوکی کا نشانہ بنانے کے بعد چار کو قتل کر دیا تھا۔ پھر وہی سوال—کیوں؟ ارجنٹینا میں بعض مائیں یقین رکھتی ہیں کہ ڈرٹی وارa میں ۳۰،۰۰۰ لوگ لاپتہ ہو گئے جن میں زیادہتر انکے اپنے بیٹے اور بیٹیاں شامل ہیں۔ اُن میں سے بعض بدنصیب لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، نشہآور چیزیں کھلائی گئیں اور بعدازاں ہوائی جہاز کے ذریعے سمندر میں پھینک دیا گیا۔ بہتیروں کو زندہ ہی پھینک دیا گیا۔ انہیں کیوں مرنا پڑا؟ اُنکی مائیں ابھی تک جواب کی منتظر ہیں۔
ورلڈ کانگرس آف مدرز نے ۱۹۵۵ میں جنگ کی بطالت کو ظاہر کرتے ہوئے اعلان کِیا کہ کانگرس ”اُن ماؤں کی آواز ہے جو جنگ اور جنگی تیاریوں کے بُرے اثرات سے اپنے چھوٹے بڑے بچوں کو بچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔“ ستمظریفی تو یہ ہے کہ کانگرس کے بعد ساری دُنیا میں خونین فسادات میں ہلاک ہونے والے نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے—نوعِانسان کیلئے بہت بڑا نقصان۔
جوان اموات کی طویل تاریخ
تاریخ کے اوراق نوجوانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ حتیٰکہ ہماری نامنہاد روشنخیال بیسویں صدی میں بھی نسلی اور قبائلی فسادات میں نوجوانوں کو خاص طور پر ہلاک کِیا جا رہا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نوجوانوں کو اپنے بزرگوں کی کوتاہیوں اور خواہشات کی قیمت میں اپنی جانیں دینا پڑتی ہیں۔
دی نیو ریپبلک جریدہ رپورٹ دیتا ہے کہ ایک افریقی ملک میں مذہبی نوعمر سپاہیوں کا ایک گروہ جو خود کو لارڈز ریزیسٹینس آرمی کہلاتا ہے اس بات پر ایمان رکھتا ہے کہ گولی انکا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ تعجب نہیں کہ مضمون کا عنوان ہے ”نوعمروں کا اُجاڑ“! اپنے بیٹے بیٹیوں سے محروم خاندان—جو کسی بھی طرح گولیوں کو روک نہیں پاتے—بجا طور پر پوچھتے ہیں: ہمارے نوجوانوں کا مرنا کیوں ضروری تھا؟ اس سب کا کیا مقصد تھا؟
نوجوانوں میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان اس تمام مصیبت اور تکلیف میں مزید اضافہ کر دیتا ہے۔
[فٹنوٹ]
a نامنہاد ڈرٹی وار فوجی جنتا (۱۹۷۶-۱۹۸۳) کے راج میں واقع ہوئی جس میں ایسے ہزاروں افراد کو ہلاک کر دیا گیا جن پر محض حکومتی تختہ اُلٹنے کا شُبہ تھا۔ دیگر متاثرین کی تعداد کا اندازہ ۱۰،۰۰۰ سے ۱۵،۰۰۰ کے درمیان ہے۔