یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو96 8/‏4 ص.‏ 15-‏18
  • نقل‌مکانی کے سربستہ رازوں کی تہہ تک پہنچنا

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • نقل‌مکانی کے سربستہ رازوں کی تہہ تک پہنچنا
  • جاگو!‏—‏1996ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ‏”‏ابابیل، تم اپنا گھونسلا کیوں چھوڑتی ہو؟“‏
  • چند جوابات
  • ‏”‏طیور نقشوں“‏ کا راز
  • سربستہ‌راز کے پیچھے دماغ
  • ‏’‏پرندوں پر غور کریں‘‏
    جاگو!‏—‏2014ء
  • پرندوں کا مشاہدہ سب کیلئے ایک دلکش مشغلہ؟‏
    جاگو!‏—‏1998ء
جاگو!‏—‏1996ء
جاگو96 8/‏4 ص.‏ 15-‏18

نقل‌مکانی کے سربستہ رازوں کی تہہ تک پہنچنا

سپینؔ میں جاگو!‏ کے مراسلہ‌نگار سے

ایک بہت ہی پُرانا گیت ہے جو ابابیلوں کے سان جوآن کیپسٹرانو، کیلیفوؔرنیا، یو.‏ایس.‏اے.‏ میں، قدیم مشن سان جوآن کیپسٹرانو شہر میں واپس آنے کی بابت بتاتا ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ یقینی طور پر، ہر سال ۱۹ مارچ کو، وہ وہاں اپنے گھونسلوں میں واپس آ جاتی ہیں۔‏

یورپی ابابیلیں بھی اسی طرح کے ٹائم‌ٹیبل پر عمل کرتی ہیں۔ ایک ہسپانوی کہاوت پیشینگوئی کرتی ہے کہ ۱۵ مارچ تک ایک بار پھر ابابیل کا گیت سنائی دیگا۔‏

نصف‌کرۂ شمالی میں، دیہاتی لوگوں نے ہمیشہ ابابیل، موسمِ‌بہار کی آمد کی روایتی خبر لانے والی کی واپسی کو خوش‌آمدید کہا ہے۔ لیکن چند متجسس لوگ یہ بھی سوچتے ہیں کہ موسمِ‌سرما کے دوران اپنے غائب ہونے کے بعد وہ کہاں تھیں۔ بعض نے تو یہ خیال کِیا کہ وہ سرماخوابی کر گئی ہیں۔ دیگر نے یہ رائے دی کہ وہ چاند پر چلی گئی ہیں—‏کسی نے یہ اندازہ لگایا کہ وہ دو ماہ میں وہاں پہنچ سکتی ہیں۔ ۱۶ویں صدی کے سویڈؔن کے ایک آرچ بشپ نے دعویٰ کِیا کہ ابابیلیں، جھیلوں اور دلدلوں کی تہہ میں اکٹھے سمٹ کر سردیاں پانی کے نیچے گزارتی ہیں۔ اُس کے مقالے میں ایک تصویر بھی شامل تھی جو کہ مچھیروں کو ابابیلوں سے بھرے جال کو باہر کھینچ کر نکالنے کی نقشہ‌کشی کرتی تھی۔ یہ خیالات اب شاید عجیب‌وغریب دکھائی دیں، سچائی اس کے بالکل ایسے برعکس تھی جیسے کہ ایک من‌گھڑت کہانی۔‏

اس صدی کے دوران ماہرِعلم‌اُلطیور نے ہزاروں ابابیلوں کا ٹانگوں میں چھلا ڈالکر خاص مطالعہ کِیا ہے۔ ان چھلا پہنے ہوئے پرندوں کی چھوٹی، لیکن معنی‌خیز تعداد اپنے موسمِ‌سرما کے گھروں میں پائی گئی۔ اگرچہ یہ ناقابلِ‌یقین دکھائی دیتی ہے، برؔطانیہ اور رؔوس کی ابابیلیں اپنے گھر سے ہزاروں میل دُور—‏افرؔیقہ کے انتہائی جنوب‌مشرقی حصے میں اکٹھے ملکر سردیاں گزارتی ہوئی دیکھی گئی تھیں۔ اُن کی بعض شمال امریکی ہمزاد دُور جنوب کی طرف اؔرجنٹینا یا چلیؔ تک پرواز کر جاتی ہیں۔ اور محض ابابیلیں ہی ایسے شاندار سفر کرنے والے پرندے نہیں ہیں۔ نصف‌کرۂ شمالی کے لاکھوں لاکھ پرندے نصف‌کرۂ جنوبی میں سردیاں گزارتے ہیں۔‏

ماہرِعلم‌اُلطیور یہ جان کر حیران رہ گئے کہ ابابیل جیسا چھوٹا پرندہ اگلے موسمِ‌بہار میں اُسی گھونسلے تک واپس آنے سے پہلے ۲۲،۵۰۰ کلومیٹر کا دوطرفہ سفر کر سکتا ہے۔ یہ جاننا کہ ابابیلیں کہاں گئی ہیں محض اَور زیادہ پیچیدہ سوالات پیدا کر دیئے۔‏

‏”‏ابابیل، تم اپنا گھونسلا کیوں چھوڑتی ہو؟“‏

کیا چیز ایک پرندے کے دُنیا کے دوسرے سرے تک سفر کرنے کا باعث بنتی ہے؟ یا، جیسے‌کہ ایک ہسپانوی کہاوت اسے پیش کرتی ہے، ”‏ابابیل، تم اپنا گھونسلا کیوں چھوڑتی ہو؟“‏ سردی کی وجہ سے یا خوراک تلاش کرنے کیلئے؟ بِلاشُبہ، موسمِ‌سرما کی بجائے اُنکی خوراک کی خاطرخواہ رسد کی ضرورت ہی اس کا جواب ہے، کیونکہ بہت سے چھوٹے پرندے جنہیں یخ‌بستہ موسمِ‌سرما سے بچنے کیلئے مشکل کا سامنا ہوتا ہے نقل‌مکانی نہیں کرتے۔ لیکن پرندوں کی نقل‌مکانی محض خوراک کی تلاش نہیں ہے۔ نقل‌مکانی کرنے والے انسانوں کے برعکس، پرندے اُس وقت تک آگے جانے کا انتظار نہیں کرتے رہتے جبتک ایّام بُرے نہیں ہو جاتے۔‏

سائنسدانوں نے معلوم کر لیا ہے کہ یہ دِن کا چھوٹا ہونا ہی ہے جو نقل‌مکانی کرنے پر اکساتا ہے۔ موسمِ‌خزاں میں جب دِن چھوٹے ہو جاتے ہیں تو اسیر پرندے بے‌چین ہو جاتے ہیں۔ یہ اُس وقت بھی ایسا ہی ہوتا ہے جب مصنوعی ماحول پیدا کِیا جاتا ہے اور جب محققین نے پرندوں کو پالا ہوتا ہے۔ پنجروں میں بند پرندے اُس طرف مُنہ کر لیتے ہیں جسطرف وہ جبلّی طور پر جانتے ہیں کہ اُنہیں اپنی نقل‌مکانی کی اُڑان لینی چاہئے۔ واضح طور پر، سال کے مخصوص وقت کے دوران ایک اور خاص سمت میں نقل‌مکانی کرنے کی خواہش جبلّی ہے۔‏

پرندے کیسے طویل فاصلوں کا سفر کامیابی کیساتھ طے کر لیتے ہیں؟ بہتیرے جغرافیائی خصوصیات سے خالی سمندروں اور صحراؤں پر سے بھی نقل‌مکانی کرتے ہیں اور وہ رات دِن ایسا کرتے ہیں۔ بعض اقسام میں پرندوں کے چھوٹے بچے بھی تجربہ‌کار بالغوں کی مدد کے بغیر خودبخود سفر کرتے ہیں۔ طوفانوں یا مخالف ہواؤں کے باوجودوہ کسی نہ کسی طرح اپنے راستے پر گامزن رہتے ہیں۔‏

سفر—‏بالخصوص بڑے سمندروں یا صحراؤں کے پار—‏ہرگز آسان نہیں ہوتا۔ اس سے اچھی طرح واقف ہونے میں انسان کو ہزاروں سال لگے۔ بِلاشُبہ، اُصطرلاب اور مقناطیسی قُطب‌نما جیسی جہازرانی کے سفر کی معاون چیزوں کے بغیر کرؔسٹوفر کولمبس نے سمندر پاراسقدر دُور جانے کا جان جوکھوں کا کام کبھی نہ کِیا ہوتا۔‏a پھربھی، اُسکے پہلے بحری سفر کے اختتام کے قریب، یہ پرندے ہی تھے جنہوں نے اُسے بہاؔماز کا راستہ دکھایا۔ قدیم وقتوں کے جہازرانوں کے طریقے پر عمل کرتے ہوئے، جب اُس نے نقل‌مکانی کرنے والے خشکی کے پرندوں کو اس سمت میں اُڑتے دیکھا تو اُس نے اپنا رُخ جنوب‌مغرب کیطرف موڑ لیا۔‏

کامیاب جہازرانی کیلئے سبک‌رفتاری کو قائم رکھنے اور ٹھیک جگہ کا تعیّن کرنے کیلئے ایک نظام درکار ہوتا ہے۔ سادہ الفاظ میں یوں کہہ لیں کہ آپ کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ اپنی منزلِ‌مقصود کے مقابلے میں آپ اس وقت کہاں ہیں اور وہاں تک پہنچنے کیلئے کس سمت کو جانا ہوگا۔ ہم انسان آلات کے بغیر ایسا کام کرنے کے قابل نہیں ہیں—‏لیکن پرندے واضح طور پر ہیں۔ بڑے صبر کیساتھ، سائنسدانوں نے بتدریج ایسی معلومات اکٹھی کی ہیں جو اس چیز پر روشنی ڈالتی ہیں کہ پرندے کیسے صحیح سمت میں اُڑنے کا تعیّن کرتے ہیں۔‏

چند جوابات

دُوردراز سے گھر لوٹنے والے کبوتر ”‏امریکی چوہے،“‏ اُن سائنسدانوں کیلئے تحقیق کا پسندیدہ انتخاب ہیں جو پرندوں کے نقل‌مکانی کرنے کے سربستہ رازوں کو افشا کرنے کا میلان رکھتے ہیں۔ متحمل کبوتروں کو دودھیا شیشے والی ”‏عینکیں“‏ لگا دی گئیں تاکہ وہ مخصوص نشانوں کو نہ دیکھ سکیں۔ دیگر کو مقناطیسی بیک‌پیکس لگا دیئے گئے جو اُنہیں راہنمائی کیلئے زمین کے مقناطیسی میدان کو استعمال کرنے سے روکتے ہیں۔ اس بات کا یقین کرنے کیلئے کہ اُنکے پاس باہر نکلنے کے راستے کو جاننے کا کوئی طریقہ باقی نہ رہے، بعض کو تو اپنی آزادی کے مقام سے سفر کرتے وقت نشہ دے دیا گیا۔ باتدبیر کبوتروں نے اپنے اپنے طریقے سے ہر ایک رکاوٹ پر قابو پا لیا، اگرچہ بعض رکاوٹوں کے باہم مل جانے نے اُنہیں کامیابی کیساتھ واپس گھر کی طرف لوٹنے سے روکے رکھا۔ واضح طور پر، پرندے صرف ایک ہی طرح کی پرواز کرنے کے نظام کے دستِ‌نگر نہیں ہیں۔ وہ کونسے طریقے استعمال کرتے ہیں؟‏

مصنوعی سورجوں یا رات کے آسمانوں کو استعمال کرنے سے تجربات ظاہر کرتے ہیں کہ پرندے دن کے دوران سورج سے اور رات کے دوران ستاروں کی مدد سے پرواز کر سکتے ہیں۔ کیا ہواگر آسمان پر بادل چھا جاتے ہیں؟ پرندے زمین کے مقناطیسی میدان کو استعمال کرتے ہوئے بھی راستے کا تعیّن کر سکتے ہیں، گویا کہ وہ مکلّف قُطب‌نما رکھتے ہوں۔ اُسی گھونسلے یا چھت تک واپس آنے کیلئے اُنہیں خصوصی نشانوں کو بھی پہچاننے کے قابل ہونا چاہئے۔ مزیدبرآں، محققین نے یہ دریافت کر لیا ہے کہ پرندے آوازوں اور خوشبوؤں کیلئے انسانوں کی نسبت کہیں زیادہ حساس ہوتے ہیں—‏اگرچہ وہ نہیں جانتے کہ یہ صلاحیت کس حد تک پرواز کیلئے استعمال ہوتی ہے۔‏

‏”‏طیور نقشوں“‏ کا راز

اگرچہ یہ تحقیق اس بات کا تعیّن کرنے میں بڑی حد تک مددگار ثابت ہوئی کہ کیسے پرندے ایک مخصوص سمت میں اُڑ سکتے ہیں، تاہم ایک پریشان‌کُن مسئلہ ابھی باقی ہے۔ قابلِ‌اعتماد قُطب‌نما رکھنا ایک بات ہے، لیکن گھر پہنچنے کیلئے آپکو نقشے کی بھی ضرورت ہے—‏پہلے اس بات کا تعیّن کرنے کیلئے کہ آپ کہاں ہیں اور پھر بہترین راستے کا گراف بنانے کیلئے۔‏

پرندے کونسے ”‏طیور نقشوں“‏ کا استعمال کرتے ہیں؟ گھر سے سینکڑوں میل دُور انجان جگہ پر پہنچائے جانے کے بعد وہ کیسے جانتے ہیں کہ وہ کہاں پر ہیں؟ وہ کیسے بہترین راستے کا تعیّن کرتے ہیں، جبکہ بظاہر اُنکی راہنمائی کرنے کیلئے اُنکے پاس کوئی نقشے یا رہبر نشان نہیں ہوتے؟‏

ماہرِحیاتیات جیمزؔ ایل.‏ گُولڈ بیان کرتا ہے کہ پرندوں کی ”‏نقشے کی حس غالباً حیوانی طرزِعمل میں انتہائی مشکل اور شوق‌آفریں راز کے طور پر اپنی حیثیت برقرار رکھتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔“‏

سربستہ‌راز کے پیچھے دماغ

ایک چیز جو بہت واضح ہے وہ یہ ہے کہ نقل‌مکانی ایک جبلّی طرزِعمل ہے۔ پرندوں کی بہت سی اقسام پیدائشی طور پر سال کے مختلف اوقات پر نقل‌مکانی کرنے کا پروگرام رکھتی ہیں اور وہ کامیابی کیساتھ پرواز کرنے کیلئے درکار حواس اور مہارتوں کیساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ یہ جبلّی صلاحیت کہاں سے آتی ہے؟‏

معقول طور پر، یہ جبلّی دانش صرف ایک دانشمند خالق کیطرف سے ہی آ سکتی ہے جو پرندوں کے توارثی ضابطے کو ”‏ترتیب“‏ دے سکتا ہے۔ خدا نے خاص طور پر بزرگ اؔیوب سے سوال کِیا:‏ ”‏کیا باز تجھ سے اُڑنا سیکھتا ہے جب وہ جنوب کیطرف اپنے بازو پھیلاتا ہے؟“‏—‏ایوب ۳۹:‏۲۶‏، ٹوڈیزانگلش‌ورشن۔‏

پرندوں کی نقل‌مکانی پر سو برسوں کی زبردست تحقیق کے بعد، سائنسدان پرندوں کے ننھے ذہنوں کی قدر کرنے لگے ہیں۔ نقل‌مکانی کے بنیادی راستوں کی منصوبہ‌بندی کرنے کے بعد، سائنسدان صرف اُن ناقابلِ‌یقین فاصلوں پر حیران ہی ہو سکتے ہیں جو بعض پرندے طے کرتے ہیں۔ نسل‌درنسل، بہار اور خزاں میں، لاکھوں نقل‌مکانی کرنے والے پرندے کُرہ کے مشرق سے مغرب تک سفر کرتے ہیں۔ وہ دِن کے دوران سورج یا رات کے دوران ستاروں کے ذریعے پرواز کرتے ہیں۔ ابرآلود موسم میں وہ زمین کے مقناطیسی میدان کو استعمال کرتے ہیں اور وہ فوراً خشکی کے خصوصی مناظر کو پہچاننا سیکھ لیتے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ وہ بُو یا انفراسونک لہروں (‏انسانی کان کو سنائی دینے سے کم رفتار والی لہریں)‏ سے خود کو شناسا کر لیتے ہوں۔‏

وہ کیسے اپنے سفر کا ”‏نقشہ“‏ بناتے ہیں یہ ابھی تک راز ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ تمام ابابیلیں کہاں جاتی ہیں؛ ہم یہ نہیں جانتے کہ وہ کیسے وہاں پہنچتی ہیں۔ تاہم، جب ہم خزاں میں ابابیلوں کو جمع ہوتے دیکھتے ہیں تو ہم خدا کی حکمت پر تعجب کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کر سکتے جس نے اُنکی نقل‌مکانی کو ممکن بنایا۔‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a اُصطرلاب عرض‌بلد کا حساب لگانے کیلئے استعمال کِیا جاتا تھا۔‏

‏[‏بکس]‏

دُنیا کے نقل‌مکانی کرنے والے چیمپیئن

فاصلہ۔‏ ۱۹۶۶ کے شمالی موسمِ‌گرما میں، نارتھ ویلزؔ، برؔطانیہ کلاں میں، ایک آرکٹک ٹرن (‏ایک قسم کی مرغابی)‏ کی جھلک دکھائی دی۔ اُسی سال دسمبر میں، وہ دوبارہ نمودار ہوئی—‏کافی موزوں حد تک—‏نیو ساؤتھ ویلزؔ، اسٹرؔیلیا میں۔ چھ ماہ میں اس نے ۱۸،۰۰۰ کلومیٹر سے زیادہ سفر کِیا تھا۔ آرکٹک ٹرنز کیلئے ایسا کارِنمایاں غالباً بالکل عام سی بات ہے۔ سال کے دوران، ان میں سے چند پرندے باقاعدہ طور پر دُنیا کے گرد چکر لگا لیتے ہیں۔‏

رفتار۔‏ امریکی گولڈن پلوورز شاید تیزترین نقل‌مکانی کرنے والے ہیں۔ ان میں سے بعض پرندوں نے ہوؔائی کو ایلیوٹیئن جزائر، اؔلاسکا سے الگ کرنے والے، ۳،۲۰۰ کلومیٹر سمندر کا سفر ۹۱ کلومیٹر فی گھنٹے کی اوسط رفتار کیساتھ—‏صرف ۳۵ گھنٹوں میں طے کِیا ہے!‏

قوتِ‌برداشت۔‏ شمال اؔمریکہ کی بلیک‌پول واربلرز جنکا وزن ایک اونس کا تہائی حصہ ہوتا ہے، سب سے زیادہ قوتِ‌برداشت سے اُڑنے والے ہیں۔ جنوبی اؔمریکہ کی طرف اپنے سفر پر، وہ بغیر رُکے اُوقیانوس کے پار صرف ساڑھے تین دِن میں ۳،۷۰۰ کلومیٹر اُڑتے ہیں۔ برداشت کی اس غیرمعمولی آزمائش کا موازنہ ایک میل فی چار منٹ کے حساب سے بغیر رُکے دوڑنے والے ایک شخص کے ساتھ کِیا گیا ہے۔ اُڑان بھی اپنے وزن کی بابت محتاط لوگوں کا خواب ہے—‏ایک واربلر اپنے جسم کا تقریباً آدھا وزن ضائع کرتی ہے۔‏

وقت کی پابندی۔‏ ابابیل کے علاوہ، ہوائی لقلق (‏اُوپر دکھایا گیا ہے)‏ بھی وقت کی پابندی کرنے کیلئے مشہور ہے۔ یرؔمیاہ نبی نے ہوائی لقلق کا ذکر ایک ایسے پرندے کے طور پر کِیا جو ”‏اپنے مقررہ وقتوں کو جانتا ہے“‏ اور اپنے ”‏آنے کا وقت“‏ پہچان لیتا ہے۔ (‏یرمیاہ ۸:‏۷‏)‏ ابھی بھی تقریباً نصف ملین ہوائی لقلق ہر موسمِ‌بہار میں اسرائیل میں سے ہو کر گزرتے ہیں۔‏

سفری مہارتیں۔‏ مینکس شیئرواٹرز کیلئے گھر جیسی کوئی اَور جگہ نہیں ہے۔ برؔطانیہ کلاں میں اپنے گھونسلے سے اُٹھائے گئے مادہ پرندے کو کوئی ۵،۰۰۰ کلومیٹر دُور بوسٹنؔ یو.‏ایس.‏اے.‏ میں چھوڑ دِیا گیا۔ اُس نے ساڑھے بارہ دِن میں اُوقیانوس کو پار کِیا اور گھونسلے میں پہنچ گئی اس ہوائی خط سے پہلے جو اُسکی رہائی کی بابت تفصیلات دے رہا تھا۔ یہ کامیابی اسلئے بھی حیران‌کُن تھی کیونکہ یہ پرندے کبھی بھی اپنے نقل‌مکانی کے سفر میں شمال اُوقیانوس کو پار نہیں کرتے ہیں۔‏

‏[‏تصویر]‏

نقل‌مکانی کرتی ہوئی کونجیں مخصوص V کی شکل میں

‏[‏تصویر]‏

ہوائی لقلق وقت کی پابندی کیساتھ ہر سال اپنے گھونسلے میں واپس آ جاتا ہے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں