کلکتہ—تضادات سے بھرپور بارونق شہر
انڈیا میں جاگو! کے مراسلہنگار سے
برطانوی مصنف رڈیارڈ کپلنگ کے مطابق یہ ”تاریک رات کا شہر،“ ”گنجان اور وباخیز قصبہ“ تھا۔ تاہم، اُردو کے مشہور شاعر مرزا غالب کے نزدیک یہ ”ایک فرحتبخش شہر،“ ”آسمانی شہر“ تھا۔ مصنف ڈومنک لپر نے شہر کی سیاحت کو ہر بار ”ایک نیا سحرآفرین تجربہ پایا،“ جبکہ پیٹر ٹی وائٹ نے نیشنل جیوگرافک میں لکھتے ہوئے، دیگر لوگوں کا حوالہ دیا جو اسے ”دہشتناک، ڈراؤنا، خوفناک اور دُنیا کا سب سے غلیظ شہر“ کہتے ہیں۔ بےشک، کلکتہ (بنگالی، کالیکتہ) تضادات سے بھرپور شہر ہے۔
تاسیسِشہر
مغربی بنگال کی ریاست میں انڈیا کے شمالمشرقی ساحل پر واقع کلکتہ، انڈیا کی قدیم تاریخ کا حصہ نہیں تھا۔ دہلی اور تانجور کی نسبت یہ نیا شہر ہے۔ بیشتر شہروں کی طرح کلکتہ بھی ایک دریا، عظیم گنگا کی بدولت معرضِوجود میں آیا۔ خلیج بنگال کے قریب گنگا دو شاخوں میں تقسیم ہو جاتا ہے اور اسکے بعد بہت سی شاخوں میں تقسیم ہو کر دُنیا کے سب سے بڑے ڈیلٹا کو تشکیل دیتا ہے۔ اس ڈیلٹا کا مغربی کنارہ ایک دریا ہے جو پہلے بھاگبرتھیگنگا اور اب ہگلی کے نام سے مشہور ہے اور جنوب میں سمندر میں جا گرتا ہے۔
پندرویں اور سولہویں صدی میں پُرتگالی، ڈچ اور برطانوی تاجر بحری راستے سے ہگلی پہنچے اور مقامی حکمرانوں کی اجازت سے تجارتی مراکز قائم کر لئے۔ برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کے ایک افسر جاب شرناک نے تجارتی مرکز قائم کرنے کی غرض سے سوتانتی گاؤں کا انتخاب کِیا۔ چند رکاوٹوں کے بعد وہ سوتانتی سے گوندپور اور کالیکتہ کے دیہاتوں میں چلا گیا اور ایک تجارتی مرکز قائم کرنے کی بجائے برطانوی نوآبادی کے قیام کی بنیاد ڈالی۔ کلکتہ ۲۴ اگست ۱۶۹۰ کو معرضِوجود میں آیا!
۱۶۹۸ میں لگانداری کا قانونی معاہدہ طے پایا اور ۱۷۵۷ تک برطانیہ مغل حکمرانوں کو لگان ادا کرتا رہا۔ برطانیہ نے ترقیپذیر شہر کو عسکری حفاظت فراہم کرنے کیلئے فورٹ ولیم تعمیر کِیا۔ تاجر فورٹ ولیم کے باعث تحفظ محسوس کرتے ہوئے بڑی بڑی کوٹھیاں تعمیر کرنے لگے۔ اس وقت تک قصبے اور گردونواح کے دیہاتوں کی آبادی ۴،۰۰،۰۰۰ تک پہنچ چکی تھی اور ہگلی میں ہر سال ۵۰ جہاز تجارت کی غرض سے آتے تھے۔
کلکتہ کا بلیک ہول
۱۷۵۶ بنگال کے ایک نوجوان ناعاقبتاندیش حکمران سراجالدولہ نے کلکتہ پر حملہ کر دیا۔ اگرچہ بیشتر لوگ فرار ہو گئے لیکن فورٹ ولیم میں پناہ لینے والے یورپی باشندوں کو ہتھیار ڈالنے پڑے اور اُنہیں جون کی شدید گرمی میں تنگوتاریک جیل میں قید کر دیا گیا۔ اگلے دن پتہ چلا کہ ان میں سے بہتیرے دم گھٹنے سے مر چکے تھے۔ یوں وہ جیل کلکتہ کے بلیک ہول کے نام سے مشہور ہو گئی۔
اس واقعہ نے ایسٹ انڈیا کمپنی کو مشتعل کر دیا اور ۱۷۵۷ میں رابرٹ کلائیو کے زیرِکمان برطانوی سپاہی قصبے پر دوبارہ قبضہ کرنے کیلئے آ گئے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ اسکے بعد جنگِپلاسی انڈیا میں برطانوی حکومت کے آغاز کا نشان تھی۔ تاہم کلکتہ کیساتھ کیا ہوا؟ یہ ۱۷۷۳ میں برٹش انڈیا کا دارالحکومت بنا اور ۱۹۱۱ تک رہا۔
کلکتہ کا نیا روپ
شہر میں پیسے کی ریلپیل ہو جانے سے عالیشان عمارتیں تعمیر کی گئیں جس کی وجہ سے کلکتہ کو محلات کے شہر کا نام دیا گیا۔ وسیعوعریض سڑکیں تعمیر کی گئیں اور عجائبگھر اور کتبخانے قائم کئے گئے۔ ان میں سے بعض جاذبِتوجہ عمارتیں آج بھی اس بات کا مُنہ بولتا ثبوت ہیں۔
برطانوی حکومت کے ۱۹۰ سال بعد، موہن داس گاندھی اور جواہر لال نہرو کی قیادت میں انڈیا نے ۱۹۴۷ میں آزادی حاصل کر لی اور اس کے ساتھ ہی برصغیر کی تقسیم وجود میں آئی۔ محمد علی جناح کی قیادت میں پاکستان (مشرقی اور مغربی پاکستان) کی اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آیا۔ اسکے بعد مشرقی پاکستان ۱۹۷۱ میں بنگلہدیش بن گیا۔ ان واقعات کے باعث کلکتہ میں مہاجرین کا سیلاب امڈ آیا؛ آجکل اس میٹروپولیٹن علاقے کی آبادی اندازاً ۱،۲۰،۰۰،۰۰۰ سے زیادہ ہے۔
کسی مناسب روزگار کے بغیر اتنے زیادہ لوگوں کا اچانک شہر میں آ جانا بہت سے مسائل کا سبب بنا۔ رہائش کی کمیابی کی وجہ سے بہت سے لوگ شہر کے غلیظترین علاقوں میں گتے یا پٹسن سے بنے ہوئے گھروں میں رہتے تھے جہاں صفائی، بجلی یا پانی کا انتظام برائےنام یا بالکل نہیں تھا۔ دیگر ہزاروں لوگ سڑکوں پر رہتے تھے۔ ۱۹۶۷ میں شہری منصوبہبندی کے نو بینالاقوامی ارکان نے کلکتہ کی صورتحال کی بابت کہا کہ ”اس کی معیشت، رہائشی انتظام، صفائیستھرائی، ذرائع نقلوحمل اور زندگی کی بنیادی ضروریات تباہی کے دہانے پر کھڑی ہیں“ اور مستقبل تاریک نظر آتا تھا۔
رہائشی سہولیات بڑھانے کیلئے بالخصوص کم آمدنی والے لوگوں کیلئے بنجر زمین کے وسیع رقبے کو استعمال میں لایا گیا۔ نیز زمین کی بھرائی کیلئے دریا کی تہ سے مٹی نکالنے سے جہازرانی بہتر ہوگئی۔
۱۹۹۰ کے دہے کے اوائل میں انڈیا میں بہت زیادہ بینالاقوامی سرمایہکاری کی گئی جس سے کلکتہ بھی مستفید ہوا۔ لہٰذا کلکتہ میں وسیع پیمانے پر صفائی کا کام کِیا گیا۔ شہر کے غلیظ علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو شہر کے باہر آباد کِیا گیا، کوڑےکرکٹ سے بجلی اور کھاد بنائی جانے لگی اور آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں اور کھلی جگہ میں لگے دھواں دینے والے چولہوں پر پابندی لگا دی گئی۔ سڑکوں کو کشادہ کِیا گیا اور خریداری کے مراکز تعمیر کئے گئے۔ شہریوں کے گروہوں نے شہر کی صفائی اور رنگوروغن کا کام کِیا۔ کلکتہ کو تباہی کے دہانے سے زندگی کی طرف واپس لایا گیا اس حد تک کہ ’قریبالمرگ‘، ’تباہی کے قریب‘ شہر پھر سے بارونق بن گیا۔ ۱۹۹۷ میں ملکی فوائد اور شہری سہولیات پر رپورٹ میں اسے انڈیا کے دوسرے بڑے شہروں سے کہیں بہتر قرار دیا گیا۔
اہم تجارتی شہر
ہمسایہ ممالک سے آنے والے پناہگزینوں، انڈیا کی دوسری ریاستوں سے آنے والے نوآبادکاروں، مقامی بنگالیوں اور طویل عرصہ سے مقیم چین اور آرمینیا کے لوگوں کی وجہ سے یہ بڑا شہر زبانوں، تہذیبوں، مذاہب اور طباخی کا مرکز بن گیا ہے۔ کیا چیز ان لاکھوں لوگوں کو کلکتہ کھینچ لائی؟ تجارت! تمام دُنیا سے بحری جہاز اس بندرگاہ پر آتے جہاں مشرق کا مغرب سے ملاپ ہوتا تھا۔ برآمدات میں قلمی شورہ، پٹسن، چائے، چینی، نیل، کپاس اور ریشم شامل تھا۔ کلکتہ میں درآمدوبرآمد سڑک، ریل اور سمندر کے راستے ہوتی تھی۔ آزادی کے بعد لوہے اور سٹیل کی بہت بڑی صنعت لگائی گئی اور ملکی استعمال اور برآمد کیلئے قیمتی معدنیات نکالی گئیں۔
تجارت میں اضافے کی بنیاد بندرگاہ تھی۔ شروع میں برطانوی تاجر اپنے جہازوں کو ہگلی کے گہرے حصے میں لنگرانداز کر کے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے سامان کو دریا کے کنارے پر پہنچایا کرتے تھے۔ ۱۷۵۸ میں کلکتہ میں مرکز قائم کِیا گیا جو وقت کیساتھ ساتھ انڈیا کی سب سے بڑی بندرگاہ بن گیا۔ روزافزوں ترقی اور گنگا پر بنے ہوئے بند سے آنے والا اضافی پانی کلکتہ کے بینالاقوامی ساحلی اور اندرونی آبی رسلورسائل کو وسیع کرنے میں معاون ثابت ہوئے ہیں۔
ذرائعآمدورفت—قدیموجدید
۱۲ ملین سے زیادہ لوگوں کے اس شہر میں ذرائعآمدورفت بہت بڑا مسئلہ ہے۔ کلکتہ میں وہ تمام ذرائعآمدورفت موجود ہیں جو عموماً کسی جدید شہر میں پائے جاتے ہیں! سیاح ہاتھ سے کھینچے جانے والے رکشوں کو دیکھ کر بہت حیران ہوتے ہیں کیونکہ رکشا چلانے والے یہ پھرتیلے آدمی ٹریفک کے ہجوم میں راستہ بناتے ہوئے اکثر مسافروں کو بس یا ٹیکسی سے بھی جلدی اُنکی منزل پر پہنچا دیتے ہیں۔ ۱۹۰۰ میں سامان کی نقلوحمل کیلئے متعارف کرائے جانے کے بعد جلد ہی رکشا لوگوں کے سفر کا ذریعہ بن گیا؛ خیال ہے کہ شہر کی سڑکوں پر تقریباً ۲۵،۰۰۰ رکشے رواںدواں ہیں! اگرچہ یہ ٹریفک کی رفتار کو کم کرنے کا باعث بنتے ہیں مگر یہ ۵۰،۰۰۰ آدمیوں کیلئے روزگار فراہم کرتے ہیں اور اس سے بھی زیادہ لوگوں کیلئے آمدورفت کا ذریعہ بنتے ہیں۔
ہر روز، چھوٹی کشتیاں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو کلکتہ کے مین ریلوے سٹیشن سے مرکزی کاروباری علاقے تک لے جاتی ہیں۔ سڑک پر ٹریفک کے مسائل کم کرنے کے لئے دریائی ذرائع آمدورفت میں اضافہ کِیا گیا ہے کیونکہ ہر روز ۵۰،۰۰۰ کاریں اور ہزاروں کی تعداد میں ٹرک دُنیا کے سب سے پُرہجوم ہوڑا پل پر سے گزرنے کے لئے جدوجہد کرتے ہیں۔
شہر کی سب سے پسندیدہ چیز الیکٹرک ٹرامز ہیں۔ اگرچہ یہ ہمیشہ آرامدہ نہیں ہوتیں لیکن یہ آلودگی نہیں پھیلاتیں اور کم خرچ ہیں اس کے ساتھ ساتھ ان میں کافی گنجائش ہوتی ہے۔ اس لئے یہ روزانہ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو شہر میں سفر کی سہولت مہیا کرتی ہیں۔ ٹرام کے دروازے میں لٹک کر سفر کرنا خاص مہارت کا تقاضا کرتا ہے! حال ہی میں میٹرو ریل سسٹم کی تکمیل سے کافی بہتری پیدا ہوئی جو کہ ایک گھنٹے میں ۶۰،۰۰۰ سے زائد مسافروں کو شہربھر میں سفر کی سہولت مہیا کرتا ہے۔
کلکتہ کی مختلف ثقافتیں
کلکتہ میں تعلیمی مواقع میسر ہونے کی وجہ سے بہتیرے لوگوں کیلئے سائنس اور قانون کے شعبوں میں جانے کی راہ کھول گئی ہے اور فنونِلطیفہ نے اتنی ترقی کی ہے کہ یہ شہر برصغیر کی ثقافت کا مرکز بن گیا ہے۔ ۱۴۰ سال پُرانی کلکتہ یونیورسٹی دُنیا کی بڑی یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے جس میں اڑھائی لاکھ سے زیادہ طالبعلم زیرِتعلیم ہیں۔
اگر ممبئی انڈیا کی کمرشل فلموں کا مرکز ہے تو کلکتہ واقعی معیاری آرٹ فلموں کا مرکز ہے۔ ستےجیت رائے اور مرنل سین کے نام پوری دُنیا میں فن کے لئے اپنی خدمات کی بدولت مشہور ہیں۔ کلکتہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس کے شاعروں کی تعداد روم اور پیرس کے شاعروں کی مجموعی تعداد سے زیادہ ہے، یہاں نیو یارک اور لندن کی نسبت زیادہ ادبی رسالے شائع ہوتے ہیں اور کالج سڑیٹ پر دُنیا میں سکینڈہینڈ کتابوں کے سب سے بڑے بازار واقع ہیں۔
غیرمعمولی قابلِدید چیزیں
کلکتہ کی ایک نمایاں عمارت وکٹوریہ میموریل ہے جو سفید سنگِمرمر سے اطالوی نشاۃثانیہ کی طرز پر تعمیر کی گئی ہے۔ یہ وسیع عجائبگھر انڈیا میں برطانوی راج کی یادگار ہے جس کا افتتاح ۱۹۲۱ میں ہوا تھا۔ کلکتہ کے عجائبگھروں میں بہت بڑے انڈین میوزیم سمیت ۳۰ دوسرے عجائبگھر شامل ہیں۔ ذولوجیکل گارڈنز [چڑیا گھروں] کی طرح انڈیا کے بوٹینیکل گارڈنز [باغات] بھی دیکھنے کے لائق ہیں جن میں ۲۴۰ سال پُرانے اور ۱۴۰۰ فٹ قطر کے برگد کے درخت پائے جاتے ہیں۔ ۱۲۸۰ ایکڑ رقبے پر پھیلے ہوئے میدان کو کلکتہ کے پھیپھڑے سمجھا جاتا ہے اور یہ انڈیا کا سب سے بڑا دیہی علاقہ ہے۔ کلکتہ کی اہم خاصیت برلا پلینٹیریم ہے جو دُنیا کے بڑے بڑے پلینٹیریمز میں سے ایک ہے۔ کرکٹ کے شائقین کی دلچسپی کے لئے ایڈن گارڈن کا کرکٹ گراؤنڈ موجود ہے جس میں ۱،۰۰،۰۰۰ سے زیادہ پُرجوش تماشائی بینالاقوامی میچ دیکھ سکتے ہیں۔
ایک اَور خوبصورت عمارت سائنس سٹی ہے جو ایشیا کا سب سے بڑا پُرکشش سائنسی مرکز ہے جس میں لوگ زلزلے کا تجربہ کر سکتے ہیں، کسی جزیرے کو ڈوبتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں، گردباد بنتے دیکھ سکتے ہیں اور ماحول اور بہت سے جانداروں کی عادات کی بابت حیرانکن حقائق سے واقف ہو سکتے ہیں۔ تاہم ہندوؤں کیلئے کلکتہ کی سب سے پُرکشش چیز دُرگا پوجا کا تہوار ہے جب شہر پانچ دنوں کیلئے مذہبی جوشوخروش کا مرکز بن جاتا ہے اور اسکے باعث معمول کی زیادہتر سرگرمیاں رُک جاتی ہیں۔
کلکتہ میں خریدوفروخت کے لئے کیا کچھ دستیاب ہے؟ تقریباً سب کچھ! تو پھر پُرہنگام ہجوم میں سے گزرنے کیلئے تیار ہو جائیں جہاں آپکو خوبصورت رنگبرنگی ساڑھیوں میں ملبوس خواتین نظر آئیں گی۔ چینی لوگوں کی دوکانوں سے چمڑے کے عمدہ جوتوں سمیت آپ چمڑے کی مصنوعات مناسب قیمت پر خرید سکتے ہیں۔ سٹینلیس سٹیل کی چیزیں، پارچہجات، نہایت خوشنما برتن اور خوبصورتی سے تراشے گئے زیورات ان چیزوں میں سے محض چند ایک ہیں جو ایک شخص ایسی ”خریداروں کی جنت“ سے خرید سکتا ہے۔
نفیس خوراک
کلکتہ کو خوراک کے شائقین کی جنت بھی کہا جاتا ہے، لہٰذا اسکے کھانوں کا مزا لئے بغیر اسے چھوڑنا ممکن نہیں۔ بنگالی خوراک کا بہت احترام کرتے ہیں اور کسی شخص کے بارے میں اندازہ اس سے لگاتے ہیں کہ وہ شخص کھانا پکانے میں کتنی مہارت رکھتا ہے! کلکتہ میں مچھلی خوراک کا لازمی حصہ ہے اور بڑے بڑے بازاروں میں مچھلی، گوشت اور سبزیوں کی بےشمار اقسام موجود ہیں۔ اچھی طرح پیس کر تیارکردہ تازہ مصالحے معمولی سبزیوں کے ذائقے کو بھی دوبالا کر دیتے ہیں۔ چینی کھانوں کی بہتات ہے۔ کلکتہ کے لذیذ کھانوں میں سب سے اہم اُسکی مشہور مٹھائیاں ہیں۔ رسگلے جو بنگال کی پہچان ہیں، دہی کا پانی سکھا کر بنائے گئے پیڑوں میں خوشبو ملا کر شیرے میں ڈبو کر بنائے جاتے ہیں۔ اور ہاں کھانے کے اختتام پر مزیدار میٹھا دہی مشتیڈوئی کھانا مت بھولئے۔ کیا آپکے مُنہ میں بھی پانی آ گیا ہے؟ کیا آپ ان طعامگاہوں سے اُٹھنے والی خوشبو کو محسوس کر سکتے ہیں؟ جیہاں، کلکتہ واقعی تضادات سے بھرپور بارونق اور دلکش شہر ہے!
[صفحہ 15 پر تصویر]
سائنس سٹی
[صفحہ 16 پر تصویر]
فٹپاتھ پر حجام کی دوکان
[صفحہ 16 پر تصویر]
بازار میں چہلپہل کا منظر
[صفحہ 17 پر تصویر]
وکٹوریہ میموریل میوزیم