اپنا علاج آپ کرنا فوائد اور نقصانات
برازیل میں جاگو! کے مراسلہنگار سے
”عالمی پیمانے پر اپنا علاج آپ کرنے (سیلف میڈیکیشن) میں روزبروز اضافہ ہو رہا ہے،“ ایک بہت بڑی فارماسوٹیکل کمپنی کا صدر دعویٰ کرتا ہے۔ ”لوگ اپنی صحت پر اپنا اختیار چاہتے ہیں۔“ اگرچہ ایسا ممکن ہے تاہم کیا اسکے کوئی نقصانات بھی ہیں جن سے آپکو باخبر ہونا چاہئے؟
یقیناً، مناسب طور پر استعمال کی جانے والی دوا آرام پہنچا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، انسولین، اینٹیبائیوٹکس، نیز اورل ریہائیڈریشن تھراپی کا ارزاں اور سادہ فارمولا بیشمار زندگیوں کو بچاتا ہے۔ اپنا علاج آپ کرنے کا چیلنج اس بات کا تعیّن کرنا ہے کہ کس وقت فوائد نقصانات پر حاوی ہو جاتے ہیں۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بعض ممالک میں مستند طبّی امداد بہت دُور یا پھر انتہائی مہنگی ہو سکتی ہے۔ لہٰذا، بیشتر لوگ علاجمعالجے سے متعلق معلومات کیلئے دوستواحباب کے مشوروں یا امدادی کُتب پر اکتفا کرتے ہیں۔ علاوہازیں، برازیل میں ساؤ پولو یونیورسٹی کا پروفیسر، فرنیڈو لافیور بیان کرتا ہے، ”تشہیر سے یہ نظریہ پیش کِیا جاتا ہے کہ محض ایک کیپسول خریدنے سے صحت اور شفا حاصل کرنا ممکن ہے۔“a نتیجتاً، بہت زیادہ کام، ناقص غذائیت اور غیرمعمولی جذباتی مسائل کے اثرات پر قابو پانے کیلئے، بیشتر لوگ ادویات کا رُخ کرتے ہیں۔ لافیور مزید بیان کرتا ہے: ”اپنا معیارِزندگی بہتر بنانے کی بجائے، لوگ الماری میں رکھی ہوئی ادویات کی مدد سے اپنے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔“ تاہم کون جانتا ہے کہ مریضوں نے صحیح تشخیص بھی کی ہے یا نہیں؟
سردرد، بلند فشارِخون، نیز پیٹ کی خرابی جیسی بیماریوں کے علاج کیلئے ادویات استعمال کرنے کے علاوہ، بہتیرے لوگ پریشانی، خوف اور تنہائی پر قابو پانے کیلئے بھی ادویات کا سہارا لیتے ہیں۔ ”لوگ ڈاکٹر کی مدد اس خیال کیساتھ حاصل کرتے ہیں کہ ایک گولی مسئلہ حل کر دیگی،“ ڈاکٹر اینڈرا فنگولڈ بیان کرتا ہے۔ ”طبّی ماہرین بھی ایسے علاج تجویز کرنے اور متعدد ٹیسٹ کروانے کی سفارش کرنے کا میلان رکھتے ہیں۔ مریض کی ہسٹری معلوم کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی جوکہ بیشتر معاملات میں بدنظمی، کھچاؤ کی شکار، غیرصحتمندانہ زندگی گزار رہا ہوتا ہے۔“ سائیکوٹراپکس (رویے یا ادراک پر اثرانداز ہونے والی ادویات) کے غلط استعمال کو روکنے والی عالمی کونسل کا رومیلڈو بیونو تسلیم کرتا ہے: ”مریضوں کو دیکھنے کا وقت بڑا محدود ہوتا ہے اور ڈاکٹر محض علامات کا علاج کرنے سے ہی مریض سے چھٹکارا حاصل کرتا ہے۔“ ادویات کا استعمال ”معاشرتی مسائل کو [حل] کرنے کا ایک طبّی طریقہ ہے۔“ تاہم، ایک دوسرا ڈاکٹر خبردار کرتا ہے کہ بیشتر مریضوں کو احتیاط کیساتھ تجویزکردہ سائیکوٹراپک ڈرگز کی ضرورت ہوتی ہیں۔
”افسردگی دُور کرنے والی ادویات کے خبط“ پر بحث کرنے کے بعد، برازیل کا روزنامہ او ایسٹاڈو ڈی ایس۔ پاؤلو بیان کرتا ہے: ”علاج جو بالوں کے نئے سٹائل کی طرح ایک خبط بن جاتا ہے، درحقیقت بہت عجیب دکھائی دیتا ہے۔“ یہ ماہرِنفسیات آرتھر کوفمین کا حوالہ دیتا ہے: ”زندگی میں تناظر اور مقصد کی عدمموجودگی ایسے مظہر کو جنم دیتی ہے جو کسی مؤثر علاج کو تمام بیماریوں کا مداوا بنا دیتا ہے۔“ کوفمین مزید بیان کرتا ہے: ”فوری علاج میں انسان کی دلچسپی روزبروز بڑھتی جا رہی ہے اور اسلئے اپنے مسائل کی وجوہات جاننے میں عدمِدلچسپی کے باعث وہ ان کے حل کیلئے گولیوں کا سہارا لینے کو ترجیح دیتے ہیں۔“ تاہم کیا اپنا علاج آپ کرنا ٹھیک ہے؟
اپنا علاج آپ کرنا—ایک خطرہ؟
”اس ۲۰ویں صدی میں طبّی میدان میں غیرمعمولی خصوصیات میں سے ایک نئی ادویات کا انکشاف ہے،“ دی نیو انسائیکلوپیڈیا بریٹینیکا بیان کرتا ہے۔ تاہم یہ مزید کہتا ہے: ”غالباً کسی بھی چیز کی نسبت ادویات کی وجہ سے زیادہ زہر آلودگی ہوتی ہے۔“ بیشک، جسطرح دوا علاج کر سکتی ہے ویسے ہی یہ نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔ بھوک مٹانے والی ڈائٹ پلز ”اعصابی نظام کو متاثر کرنے کیساتھ ساتھ بےخوابی، طرزِعمل میں تبدیلیوں اور بعض حالات میں تواہمات جیسی نامساعد علامات میں اضافہ کر سکتی ہیں،“ مصنفہ سیلینی ڈی کیسٹورو بیان کرتی ہے۔ وہ مزید کہتی ہے: ”تاہم جو بھی شخص یہ خیال کرتا ہے کہ بھوک مٹانے والی گولیاں صرف بھوک ختم کرتی ہیں وہ محض خود کو دھوکا دیتا ہے۔ ایک کیپسول اُن ناقص علاجمعالجوں کے سلسلے کا محض آغاز ہی ہو سکتا ہے جن میں سے ہر ایک دوسرے کے اثر کو زائل کرتا ہے۔“
عام طور پر استعمال کی جانے والی بیشتر ادویات معدے کی سوزش، متلی، قے اور جریانِخون کا سبب بن سکتی ہیں۔ بعض ادویات عادی بنانے والی ہو سکتی ہیں یا گردوں اور جگر کو نقصان پہنچانے کا سبب بنتی ہیں۔
مقبول طبّی مرکبات کے استعمال پر بھی شُبہ کِیا جا سکتا ہے۔ ”وٹامن کے استعمال کا خبط انتہائی خطرناک ہے،“ برازیل کی میڈیکل ایسوسیایشن کے صدر، ڈاکٹر افرائیم اولزور آگاہ کرتے ہیں۔ ”نہ صرف لوگ ہی اپنا علاج خود کر رہے ہیں بلکہ اس میں موجود خطرات کی پرواہ کئے بغیر بعض جاہل ڈاکٹر بھی مشکوک نسخے تجویز کر رہے ہیں۔“ تاہم، ایک دوسرا ڈاکٹر بیان کرتا ہے کہ مخصوص بیماریوں اور ضروری عناصر کی کمی سے پیداشُدہ بیماریوں کیلئے مناسب مقدار میں وٹامن کا استعمال ضروری یا مفید ہو سکتا ہے۔
خطرے سے خالی اپنی تشخیص آپ—کیسے؟
ہم ہر مرتبہ کچھنہکچھ گڑبڑ محسوس کرنے کی صورت میں چونکہ ڈاکٹر کے پاس نہیں جا سکتے اس لئے صحت سے متعلق معلومات اور معقول طور پر اپنا علاج آپ کرنا ہمارے خاندانوں کے لئے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم، کوئی بھی علاج شروع کرنے سے پہلے، اپنی صحیح اور مؤثر تشخیص نہایت ضروری ہے۔ اگر کوئی ڈاکٹر قریب نہیں ہے یا آپ ڈاکٹر سے رجوع کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے تو پھر کسی مناسب طبّی حوالہجاتی کتاب سے رجوع کرنا آپ کو صحیح تشخیص کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، امریکن میڈیکل ایسوسیایشن ایک فیملی گائیڈ شائع کرتی ہے جس میں ۱۸۳ صفحات پر مشتمل علامات کے چارٹ کا ایک حصہ ہوتا ہے۔ اس میں مریض کے لئے کئی ایک سوالات دئے گئے ہیں جنکا جواب ہاں یا نہیں میں دیا جا سکتا ہے۔ استرداد کے اس عمل کے ذریعے، اکثر مسئلے کی شناخت کی جا سکتی ہے۔
تاہم ڈاکٹروں کے کردار کی بابت کیا ہے؟ ہمیں کب پیشہورانہ مدد حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے؟ ہم اپنی صحت کی بابت حد سے زیادہ فکرمند ہونے یا غفلت برتنے سے کیسے گریز کر سکتے ہیں؟ واقعی، ایک ایسی دُنیا میں جہاں علالت اور نفسیاتی بیماری بہت عام ہے ہم کیسے کسی حد تک اچھی صحت سے لطفاندوز ہو سکتے ہیں؟
[فٹنوٹ]
a بعض ممالک میں تشہیری مہم کے ذریعے صرف ڈاکٹری نسخے پر ملنے والی ادویات کو بغیر نسخے کے حاصل کرنے کیلئے صارفین کی حوصلہافزائی کی جا رہی ہے، اس رُجحان پر بیشتر ڈاکٹروں اور طبّی تنظیموں کی تنقید کے باوجود اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔
[صفحہ 4 پر عبارت]
”مریض کی ہسٹری معلوم کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی جوکہ بیشتر معاملات میں بدنظمی، کھچاؤ کی شکار، غیرصحتمندانہ زندگی گزار رہا ہوتا ہے۔“—ڈاکٹر اینڈرا فنگولڈ
[صفحہ 4 پر بکس]
جڑیبوٹیوں کیساتھ گھریلو علاج
ہزاروں سال سے، مختلف تہذیبوں کے لوگوں نے اپنی بیماریوں کے تدارک کیلئے، کھیتوں اور جنگلات میں پائے جانے والے پودوں کو استعمال کرتے ہوئے، جڑیبوٹیوں سے علاج کِیا ہے۔ بیشمار جدید ادویات بھی پودوں سے تیار کی جاتی ہیں جیسےکہ امراضِقلب کی بیماریوں کے علاج کیلئے استعمال میں آنے والی ادویات ڈجیٹلیس۔ لہٰذا، برطانیہ میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل ہربلسٹس کی ایک رُکن، پینیلوپ اوڈی، اپنی کتاب میں بیان کرتی ہے کہ ”معمولی کھانسی، نزلہزکام اور سردرد سے لیکر جِلدی علامات کے خصوصی علاج، ہاضمے سے متعلق مسائل اور امراضِاطفال سے متعلق عام شکایات کو دُور کرنے میں معاون ثابت ہونے کیلئے ۲۵۰ محفوظ علاجمعالجے موجود ہیں۔“
وہ لکھتی ہے: ”جڑیبوٹیوں سے علاج کو ہمیشہ ’عام لوگوں کی دوا‘ خیال کِیا جاتا رہا ہے—ایسے سادہ علاج جنہیں گھر میں چھوٹیموٹی بیماریوں کیلئے یا پھر دائمی اور شدید بیماریوں کیلئے پیشہورانہ لوگوں کی طرف سے تجویزکردہ مؤثر علاجمعالجوں کیلئے ضمنی ادویات کے طور پر استعمال کِیا جا سکتا ہے۔“ وہ مزید بیان کرتی ہے: ”اگرچہ بیشتر جڑیبوٹیاں بنیادی طور پر کافی محفوظ ہوتی ہیں تو بھی اُنہیں احتیاط کیساتھ استعمال کِیا جانا چاہئے۔ مجوزہ مقدار سے تجاوز نہ کریں یا اگر حالت ویسی ہی رہتی ہےیا زیادہ بگڑ رہی ہے یا اگر تشخیص مشکوک ہے تو گھریلو علاج جاری نہ رکھیں۔“—دی کمپلیٹ میڈیسینل ہربل۔