کارڈیک سرجن اویک! کو مبارکباد پیش کرتا ہے
دسمبر ۸، ۱۹۹۶ کے اویک! نے مضامین کے ایک سلسلے کو اُجاگر کِیا جسکا عنوان تھا ”دل کا دَورہ—کیا کِیا جا سکتا ہے؟“ جرمنی میں انتقالِقلب کے مایۂناز سرجن اور صدری اور قلبیعروق کے شعبے کے سربراہ، پروفیسر تھامس سٹیگمن نے اِن مضامین کو پڑھا اور ناشرین کو یوں لکھا:
”مَیں نے دل کی بیماری اور بالخصوص دل کے دَوروں کے موضوع پر، آپکی رپورٹ کا بڑی دلچسپی کیساتھ مطالعہ کِیا۔ اس شعبے کے ماہر کی حیثیت سے، مَیں نے آپکو یہ بتانے کی تحریک محسوس کی کہ دل کے دَوروں کی بابت آپکی وضاحت اور اس موضوع پر آپکی معلومات نہایت عمدہ تھیں—جس سے ایک طرف تو دل کی بیماری میں مبتلا مریض کیلئے بہت فکرمندی کا اظہار کِیا گیا اور دوسری طرف طبّی حقائق کی درست تفصیل کو پیش کِیا گیا۔ وضاحت بڑی عمدگی سے جامع اور ٹھوس معلومات پیش کرتی ہے۔ اوائل میں ہی دل کے دَورے کی علامات کی شناخت کر لینے کو آپ نے جس خاص اہمیت کا حامل قرار دیا ہے وہ بھی اہم ہے۔
”طبّی سائنس اور عام معاشرے کی متحدہ کوششوں کے باوجود، آرٹیریوسیلروسز (شریانوں کا سخت ہو جانا)—اور بالخصوص دل کا دَورہ—مغربی ممالک میں موت کا سب سے بڑا سبب ہے۔ ہر روز کارونری آرٹیریوسیلروسز (سخت ہونا، سکڑنا، عروقی بندشوں) میں تشویشناک تبدیلیوں کا مشاہدہ کرنے اور کارڈیک سرجری کے مختلف طریقوں سے ان بیماریوں کا علاج کرنے والے کارڈیک سرجن کے طور پر، مَیں جانتا ہوں کہ لوگوں کے لئے—اور امکانی مریض کیلئے بھی—ٹھوس اور حقیقی وضاحت کسقدر اہم ہے۔
”اس موضوع پر روشنی ڈالنے کیلئے مجھے پُرتپاک مبارکباد پیش کرنے کا موقع دیجئے—اس اُمید کیساتھ کہ آپکا یہ مضمون زیادہ سے زیادہ لوگوں کیلئے ممکنالحصول ہوگا۔“
اگر آپ باقاعدگی سے جاگو! پڑھنا چاہیں یا یہ پسند کریں کہ کوئی شخص آپ کیساتھ مُفت گھریلو بائبل مطالعہ کرنے کیلئے آپ کے پاس آئے تو واچٹاور، پی.او.بکس ۵۲۱۴، ماڈل ٹاؤن، لاہور ۵۴۷۰۰، پاکستان یا پھر صفحہ ۵ پر درج کسی موزوں پتے پر لکھیں۔