”موت کے سایہ کی وادی“ میں تسلی پانا
باربرا شوئیزر کی زبانی
جب کبھی حالات سازگار تھے تو میری زندگی ”ہریبھری چراگاہوں“ کی مانند تھی۔ مگر مجھے یہ تجربہ بھی ہوا ہے کہ ”موت کے سایہ کی وادی“ سے گزرنا کیسا ہوتا ہے۔ تاہم، مجھے یقین ہے کہ چونکہ یہوواہ ہمارا چوپان ہے اسلئے حالات خواہ کیسے بھی کیوں نہ ہوں ہم اُن پر غالب آ سکتے ہیں۔—زبور ۲۳:۱-۴۔
سن ۱۹۹۳ میں، جب میرا شوہر اور مَیں تقریباً ۷۰ سال کے تھے، ہم نے ایک نئی مہم کے آغاز کا فیصلہ کِیا—ایکواڈور کے ایسے علاقوں میں خدمت کرنے کا جہاں بائبل اساتذہ کی زیادہ ضرورت تھی۔ پیدائشی امریکی ہونے کے باوجود، ہم ہسپانوی زبان بولتے تھے اور ہماری کوئی مالی ذمہداریاں بھی نہیں تھیں۔ چونکہ ہم جانتے تھے کہ ایکواڈور میں ’آدمگیری‘ نہایت پھلدار ہے اسلئے ہم نے ان نفعبخش پانیوں میں اپنے جال ڈالنے کا فیصلہ کِیا۔—متی ۴:۱۹۔
واچ ٹاور سوسائٹی کے ایکواڈور برانچ آفس میں چند خوشگوار دن گزارنے کے بعد، ہم ماچالا—خاص ضرورت کے حامل شہروں میں سے ایک—کے سفر پر روانہ ہونے کے جوش میں، گویّاقل کے لاری اڈے پر پہنچ گئے۔ تاہم، بس کا انتظار کرتے ہوئے، میرے شوہر فریڈ کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی جس کے باعث ہم نے اپنے سفر کو ملتوی کر دینے کا فیصلہ کِیا۔ مَیں برانچ واپس لوٹنے کے انتظامات کرنے کیلئے فون بوتھ کی جانب چل پڑی جبکہ فریڈ سامان کے پاس ہی بیٹھا رہا۔ چند لمحوں کے بعد جب میں واپس آئی تو میرا شوہر غائب ہو چکا تھا!
پھر مَیں فریڈ کو کبھی زندہ نہ دیکھ پائی۔ لاری اڈے پر ہی، میری تھوڑی دیر کی غیرموجودگی کے دوران، اُسے شدید دل کا دَورہ پڑا تھا۔ جب مَیں پاگلوں کی طرح اُسے ڈھونڈنے لگی تو لاڑی اڈے کے ایک اہلکار نے مجھے آکر بتایا کہ فریڈ کو ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔ جب مَیں ہسپتال پہنچی تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ وفات پا چکا ہے۔
دفعتہً، مَیں ایک انجان ملک میں خود کو تنہا محسوس کرنے لگی نہ گھربار اور نہ ہی سہارا دینے والا شوہر۔ مَیں ”سہارا دینے والا“ اسلئے کہتی ہوں کیونکہ فریڈ ہی ہمیشہ پیشوائی کرتا اور ہم دونوں کیلئے معاملات کو منظم کِیا کرتا تھا۔ مَیں مضبوط شخصیت کی مالک نہیں اور اسلئے خوش تھی کہ وہ پیشوائی کرتا ہے۔ تاہم اب مجھے ہی فیصلے کرنے تھے، اپنی زندگی کو منظم کرنا تھا اور اسکے ساتھ ہی ساتھ اپنے غم پر بھی غالب آنا تھا۔ یہ بہت ہی پریشانکُن احساس تھا—گویا کہ جیسے مجھے ”موت کے سایہ کی وادی“ میں دھکیل دیا گیا ہو۔ کیا مَیں کبھی اپنےآپ کو سنبھال پاؤں گی؟
سچائی سیکھنا اور اپنی زندگیوں کو سادہ بنانا
جب ہم پہلی مرتبہ ایک دوسرے سے ملے تو فریڈ اور مَیں دونوں پہلے ہی سے شادیشُدہ اور طلاقیافتہ تھے۔ ایک اچھی دوستی قریبی رشتے کی صورت اختیار کر گئی اور ہم دونوں نے شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ ہم سیٹل، واشنگٹن، یو.ایس.اے. میں شاذونادر ہی چرچ جاتے تھے۔ چنانچہ مذہب کی اُس وقت تک ہماری زندگی میں کوئی اہمیت نہ تھی تاوقتیکہ ایک خوشکُن جوان پائنیر (کُلوقتی مبشر) جیمی نے ہمارے دروازے پر دستک دی۔ وہ اسقدر خوشطبع تھی کہ مَیں نے اپنے ساتھ بائبل مطالعہ شروع کرنے کی اُسکی پیشکش کو قبول کر لیا۔
چونکہ فریڈ نے بھی دلچسپی کا اظہار کِیا، لہٰذا جیمی کے والدین مطالعہ کرانے لگے اور ایک سال کے بعد، ۱۹۶۸ میں، ہم دونوں نے بپتسمہ لے لیا۔ شروع ہی سے، ہم خدا کی بادشاہت کے مفادات کو اپنی زندگیوں میں مقدم رکھنے کی بابت سنجیدہ تھے۔ (متی ۶:۳۳) جس جوڑے نے ہمارے ساتھ مطالعہ کِیا، لورن اور رُوڈی نسٹ، اُنہوں نے یقیناً اس سلسلے میں نمونہ قائم کِیا۔ ہمارے بپتسمے کے تھوڑی ہی دیر بعد، وہ زیادہ ضرورت والے علاقے میں خدمت کرنے کیلئے ریاستہائے متحدہ کے مشرقی ساحل کے ایک قصبے میں منتقل ہو گئے۔ اس بات نے ہمارے دلوں میں بھی بیج بو دیا۔
ہمارے پاس منتقل ہونے کی بابت سوچنے کی ایک اَور وجہ بھی تھی۔ فریڈ ایک بہت بڑے ڈیپارٹمنٹ سٹور کا مینیجر تھا۔ اُسکا کام نہایت توجہطلب تھا اور وہ یہ سمجھتا تھا کہ کسی دوسری جگہ منتقل ہو جانا اُسے اپنی زندگی کو سادہ بنانے اور سچائی اور اپنے دو بچوں کو زیادہ توجہ دینے کے قابل بنائیگا۔ میری پہلی شادی سے میری ایک بیٹی بھی تھی جو اب شادیشُدہ تھی اور وہ اور اُسکا شوہر دونوں سچائی کو قبول کر چکے تھے، لہٰذا ہمارا سیٹل چھوڑنے کا فیصلہ ذرا مشکل تھا۔ تاہم، وہ ہمارے محرکات کو سمجھ گئے اور ہمارے فیصلے کی حمایت کی۔
پس ۱۹۷۳ میں ہم سپین منتقل ہو گئے، ایک ایسا ملک جہاں اُسوقت خوشخبری کے منادوں اور پیشوائی کرنے والے بھائیوں کی اشد ضرورت تھی۔ فریڈ نے یہ تخمینہ لگایا کہ اگر ہم کفایتشعاری کی زندگی بسر کریں تو ہماری بچت سپین میں ہمارے اخراجات کو پورا کرنے کیلئے کافی ہوگی اور ہم اپنا بیشتر وقت خدمتگزاری کیلئے وقف کر سکیں گے۔ لہٰذا ہم نے ایسا ہی کِیا۔ جلد ہی، فریڈ بطور بزرگ خدمت کرنے لگا اور ۱۹۸۳ تک ہم دونوں پائنیر بن گئے۔
ہم نے ۲۰ سال تک سپین میں خدمت کی جس کے دوران ہم نے زبان بولنا سیکھا اور بہت سے عمدہ تجربات سے لطفاندوز ہوئے۔ فریڈ اور مَیں اکثر اکٹھے منادی کرتے اور بیاہتا جوڑوں کیساتھ مطالعہ کرتے تھے جن میں سے کئی ایک اب بپتسمہیافتہ گواہ ہیں۔ سپین میں کچھ سالوں کے بعد، ہمارے دو چھوٹے بچوں، ہیڈی اور مائیک، نے بھی پائنیر خدمت اختیار کر لی۔ اگرچہ ہمارے پاس مادی اشیاء بہت ہی کم تھیں مگر یہ میری زندگی کا خوشترین وقت تھا۔ ہماری زندگیاں سادہ تھیں۔ ہم خاندان کے طور پر زیادہ وقت اکٹھے صرف کر سکتے تھے اور بائبل کی ایک سرگزشت میں بیوہ کے تیل کی طرح احتیاط سے استعمال کی جانے والی ہماری جمعپونجی کبھی بھی کم نہ ہوئی۔—۱-سلاطین ۱۷:۱۴-۱۶۔
ایک بار پھر ملک بدلنا
سن ۱۹۹۲ تک ہم نے ایک بار پھر منتقل ہونے کی بابت سوچنا شروع کر دیا تھا۔ ہمارے بچے جوان ہو چکے تھے اور سپین میں ضرورت بھی اب پہلے سے کم ہو گئی تھی۔ ہم ایک مشنری سے واقف تھے جو ایکواڈور میں خدمت کر چکا تھا، اُس نے ہمیں بتایا تھا کہ اس ملک میں پائنیروں اور بزرگوں کی سخت ضرورت تھی۔ کیا ہم اتنے عمررسیدہ ہو چکے تھے کہ ایک نئے ملک میں ازسرِنو خدمت شروع کرنے کی بابت سوچ بھی نہیں سکتے تھے؟ ہمارا یہ خیال نہیں تھا کیونکہ ہم دونوں کی صحت اچھی تھی اور منادی کے کام کو بہت عزیز رکھتے تھے۔ لہٰذا ہم نے ایکواڈور برانچ سے رابطہ کِیا اور اپنی منصوبہسازی شروع کر دی۔ دراصل، میری بیٹی ہیڈی اور اُسکا شوہر جوآن مینویل بھی، جو سپین کے شمالی علاقے میں خدمت کر رہے تھے، ہمارے ساتھ چلنے کے آرزومند تھے۔
انجامکار، فروری ۱۹۹۳ میں، ہم اپنے تمام معاملات طے کرنے کے بعد اپنے نئے ملک میں پہنچ چکے تھے۔ ہم دونوں ایکواڈور میں پائنیر خدمت کے امکان سے بہت خوش تھے جہاں بہت زیادہ لوگ بائبل کا مطالعہ کرنے کیلئے تیار تھے۔ برانچ میں پُرتپاک خیرمقدم کے بعد، ہم نے اُن مختلف شہروں کا دَورہ کرنے کا منصوبہ بنایا جنکی خاص ضرورت کے حامل علاقوں کے طور پر سفارش کی گئی تھی۔ لیکن اُسی وقت میرے شوہر کی موت واقع ہو گئی۔
”موت کے سایہ کی وادی“ میں
پہلے تو مجھے زبردست صدمہ پہنچا پھر شدید عدمیقینی کا احساس ہوا۔ فریڈ تو پہلے کبھی بیمار بھی نہیں ہوا تھا۔ مجھے کیا کرنا چاہئے؟ مجھے کہاں چلے جانا چاہئے؟ میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا۔
میری زندگی کے ان بدترین لمحات میں مجھے شفیق روحانی بھائیوں اور بہنوں کی مدد حاصل ہوئی، جن میں سے بیشتر مجھے جانتے بھی نہیں تھے۔ برانچ کے بھائی بہت ہی مہربان تھے اور اُنہوں نے تجہیزوتکفین سمیت ہر چیز کا خیال رکھا۔ مجھے بھائی اور بہن بونو کی طرف سے دکھائی جانے والی محبت خاص طور پر یاد ہے۔ اُنکی کوشش یہی ہوتی تھی کہ مَیں کبھی تنہا نہ رہوں اور ایڈتھ بونو تو کئی راتیں میرے پلنگ کے کنارے پر سوتی رہی تاکہ مجھے تنہائی محسوس نہ ہو۔ دراصل، تمام بیتایل خاندان نے ایسی محبت اور فکرمندی کا اظہار کِیا کہ جیسے اُنہوں نے مجھے محبت کے ایک محفوظ، گرم کمبل میں لپیٹ لیا ہو۔
چند ہی دنوں میں میرے تینوں بچے بھی میرے پاس آ گئے اور اُنکی مدد بھی بڑی بیشقیمت ثابت ہوئی۔ اگرچہ، دن کے دوران میرے اِردگِرد بہت سے پُرمحبت لوگ ہوتے تھے تو بھی طویل راتیں کاٹنا بہت مشکل تھا۔ یہی وہ وقت تھا جب یہوواہ نے مجھے سنبھالے رکھا۔ جب کبھی ہولناک تنہائی مجھ پر طاری ہوتی تو مَیں اُس سے دُعا کرنے لگتی اور وہ مجھے تسلی بخشتا۔
جنازے کے بعد یہ سوال پیدا ہوا کہ اب مجھے اپنی زندگی کیساتھ کیا کرنا چاہئے؟ مَیں ایکواڈور میں ہی رہنا چاہتی تھی کیونکہ یہ ہمارا مشترکہ فیصلہ تھا لیکن مجھے نہیں لگتا تھا کہ مَیں اکیلی ایسا کر سکونگی۔ لہٰذا ہیڈی اور جوآن مینویل نے جو مستقبل قریب میں ایکواڈور منتقل ہونے کا منصوبہ بنا رہے تھے، اپنے منصوبوں میں ردّوبدل کِیا تاکہ وہ فوراً آ سکیں اور ہم سب مِل کر خدمت کر سکیں۔
ایک ماہ میں ہم نے لوجا میں گھر تلاش کر لیا جو اُنہی شہروں میں سے ایک تھا جنکی برانچ نے سفارش کی تھی۔ مَیں جلد ہی مختلف معاملات کو منظم کرنے، نئے گھر میں دل لگانے اور نئے ملک میں منادی شروع کرنے میں مصروف ہو گئی۔ اس تمام کام سے میرا غم کسی حد تک کم ہو گیا۔ مزیدبرآں، مَیں اپنی بیٹی کے کاندھے پر سر رکھ کر رو سکتی تھی جو فریڈ کے بہت قریب تھی اور اس سے واقعی اپنے احساسات سے چھٹکارا پانے میں میری مدد ہوئی۔
تاہم، چند ماہ کے بعد جب مَیں اپنے نئے معمول میں مصروف ہو گئی تو مجھے اپنے دردناک نقصان کا اَور بھی احساس ہونے لگا۔ مجھے ایسا معلوم ہونے لگا جیسے مَیں اُن خوشکُن لمحات کی بابت سوچ ہی نہیں سکتی جو فریڈ اور مَیں نے اکٹھے گزارے تھے کیونکہ اس سے مَیں بہت افسردہ ہو جاتی تھی۔ مَیں نے ماضی کو فراموش کر دیا اور مستقبل کی بابت زیادہ سوچنے سے قاصر ہوتے ہوئے روزانہ کے معمول کے مطابق زندگی بسر کرنے لگی۔ چنانچہ مَیں ہر روز بالخصوص اپنی منادی کی کارگزاری میں کوئی نہ کوئی معنیخیز کام ضرور کرتی تھی۔ اسی سے میرا وقت گزرتا رہا۔
مَیں نے منادی کرنے اور بائبل کی تعلیم دینے کو ہمیشہ عزیز رکھا ہے اور ایکواڈور میں لوگ اتنے اثرپذیر ہیں کہ یہ ایک نہایت مسرتبخش کام تھا۔ جب مَیں پہلی مرتبہ گھربہگھر کے کام میں گئی تو میری ملاقات ایک شادیشُدہ خاتون سے ہوئی جس نے کہا: ”جیہاں، مَیں ضرور بائبل کی بابت سیکھنا چاہونگی!“ وہ پہلا بائبل مطالعہ تھا جو مَیں نے ایکواڈور میں شروع کِیا تھا۔ اس قسم کے تجربے نے میری توجہ حاصل کر لی اور مجھے میرے غم کی بابت بہت زیادہ سوچنے سے روکے رکھا۔ یہوواہ نے میری میدانی خدمت کو بہت زیادہ برکت بخشی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ مَیں جب بھی خوشخبری کی منادی کیلئے جاتی ہوں تو مجھے کوئی نہ کوئی عمدہ تجربہ ضرور پیش آتا تھا۔
بِلاشُبہ، پائنیر کے طور پر خدمت جاری رکھنا ایک برکت تھی۔ اِس نے مجھے اِسکے مطابق زندگی بسر کرنے کا فرض سونپا اور ہر روز کرنے کیلئے کوئی مثبت کام فراہم کِیا۔ تھوڑے ہی عرصے میں، مَیں چھ بائبل مطالعے کرانے لگی۔
اپنی خدمتگزاری سے حاصل ہونے والے اطمینان کو واضح کرنے کیلئے، مَیں ایک اَدھیڑعمر خاتون کا ذکر کرتی ہوں جس نے حال ہی میں بائبل تعلیمات کیلئے حقیقی قدردانی کا اظہار کِیا ہے۔ جب مَیں اُسے ایک صحیفہ دکھاتی ہوں تو وہ پہلے اسے پوری طرح سے سمجھنا چاہتی ہے اور پھر وہ اسکی مشورت پر عمل کرنے کیلئے تیار ہوتی ہے۔ اگرچہ ماضی میں وہ ایک بداخلاق زندگی گزارتی تھی، تاہم حال ہی میں جب ایک آدمی نے اُسے جنسی تعلقات کی پیشکش کی جو اُسے اپنے ساتھ رکھنا چاہتا تھا تو اُس نے باعزم طریقے سے اُسکی پیشکش کو ٹھکرا دیا۔ اُس نے مجھے بتایا کہ وہ صحیفائی معیاروں کیلئے ثابتقدم رہنے پر کسقدر خوش تھی کیونکہ وہ اب ایسے ذہنی سکون سے لطفاندوز ہوتی ہے جس سے وہ پہلے کبھی آشنا نہیں تھی۔ ایسے مطالعے میرے دل کو گرما دیتے ہیں اور مجھے کارآمد ہونے کا احساس بخشتے ہیں۔
اپنی خوشی کو برقرار رکھنا
اگرچہ شاگرد بنانے کا کام میرے لئے بہت بڑی خوشی کا باعث بنا، تو بھی میرے غم نے اتنی جلدی میرا پیچھا نہ چھوڑا۔ میرے معاملے میں، غمانگیزی ایسی چیز ہے جو آتی جاتی رہتی ہے۔ میری بیٹی اور داماد نے میری قابلِتعریف مدد کی ہے لیکن بعضاوقات جب مَیں اُنہیں خاص لمحات سے اکٹھے محظوظ ہوتے ہوئے دیکھتی ہوں تو مجھے میرا نقصان اَور بھی یاد آنے لگتا ہے۔ میرا شوہر مجھے بہت یاد آتا ہے صرف اسی لئے نہیں کہ ہم ایک دوسرے کے بہت قریب تھے بلکہ اس لئے بھی کہ مَیں بہت سے معاملات میں اُس پر انحصار کِیا کرتی تھی۔ ایسے اوقات جن میں مَیں اُس سے بات نہیں کر پاتی، اُس سے کوئی مشورہ نہیں لے پاتی یا اُسے میدانی خدمت کا کوئی تجربہ نہیں سنا پاتی ایسی غمانگیزی اور سُونےپن کا باعث بنتے ہیں جن پر قابو پانا کسی بھی صورت آسان نہیں ہوتا۔
ایسے مواقع پر کیا چیز میری مدد کرتی ہے؟ مَیں خلوصدلی سے یہوواہ سے دُعا کرتی ہوں اور اُس سے یہ درخواست کرتی ہوں کہ کسی اَور چیز، کسی مثبت چیز کی بابت سوچنے میں میری مدد کرے۔ (فلپیوں ۴:۶-۸) پس وہ واقعی میری مدد کرتا ہے۔ اب کچھ سالوں کے بعد، مَیں اُن اچھے لمحات کی بابت باتچیت کرنے کے قابل ہوں جن سے فریڈ اور مَیں نے اکٹھے لطف اُٹھایا تھا۔ پس، ظاہر ہے کہ صحتیابی کا عمل دھیرےدھیرے اپنا اثر دکھا رہا ہے۔ زبورنویس داؤد کی طرح، مَیں محسوس کرتی ہوں کہ مَیں ”موت کے سایہ کی وادی“ سے گزری ہوں۔ تاہم یہوواہ مجھے تسلی دینے کیلئے موجود تھا اور وفادار بھائیوں نے بڑی محبت کیساتھ درست سمت میں میری راہنمائی کی تھی۔
مَیں نے جو اسباق سیکھے
جب فریڈ ہمیشہ پیشوائی کرتا تھا تو مَیں نے کبھی یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ مَیں اپنے آپ سے کچھ کرنے کے قابل ہونگی۔ مگر یہوواہ، اپنے خاندان اور بھائیوں کی مدد سے مَیں ایسا کرنے کے قابل ہوئی ہوں۔ بعض طریقوں سے تو مَیں پہلے سے زیادہ مضبوط ہوں۔ مَیں پہلے سے زیادہ یہوواہ سے رجوع کرتی ہوں اور مَیں خود فیصلے کرنا سیکھ رہی ہوں۔
مَیں بہت خوش ہوں کہ فریڈ اور مَیں نے زیادہ ضرورت والے علاقے میں کام کرتے ہوئے سپین میں وہ ۲۰ سال گزارے۔ اس نظامالعمل میں، ہم نہیں جانتے کہ آج یا کل کیا ہو جائیگا، اسلئے میرے خیال میں یہ بہت لازمی ہے کہ جب تک ہمارے پاس موقع ہے ہم یہوواہ اور اپنے خاندان کیلئے جو اچھا کام کر سکتے ہیں کریں۔ اُن سالوں نے بڑی حد تک ہماری زندگیوں اور ہماری شادی کے حسن کو نکھار دیا تھا اور مجھے یقین ہے کہ اُنہوں نے ہی مجھے اپنے نقصان کو برداشت کرنے کیلئے تیار کِیا تھا۔ چونکہ پائنیر خدمت فریڈ کی موت سے پہلے ہی میری زندگی کا حصہ بن چکی تھی اسلئے جب مَیں نئی حالت کیساتھ نپٹنے کیلئے کوشاں تھی تو یہ میرے لئے بامقصد ثابت ہوئی۔
جب فریڈ کی وفات ہوئی تو ایسے لگا جیسے میری زندگی بھی اُس کے ساتھ ہی ختم ہو گئی۔ مگر، بِلاشُبہ، ایسی بات نہیں تھی۔ مجھے یہوواہ کی خدمت کرنا تھی اور مجھے لوگوں کی مدد بھی حاصل تھی۔ اس حقیقت کے پیشِنظر کہ میرے اِردگِرد ابھی بہتیرے لوگ سچائی کے حاجتمند تھے، مَیں یہ کام کیسے چھوڑ سکتی تھی؟ یسوع کے کہنے کے مطابق دوسروں کی مدد کرنا میرے لئے اچھا تھا۔ (اعمال ۲۰:۳۵) میدانی خدمتگزاری میں میرے تجربات نے میرے سامنے ایسے امکانات رکھے جنکی تکمیل کا مجھے منتظر رہنا تھا، ایسے امکانات جن کیلئے مجھے منصوبہسازی کرنا تھی۔
کچھ دن پہلے، تنہائی کا ایک جاناپہچانا احساس پھر سے مجھ پر غالب آنے لگا۔ مگر جب میں ایک بائبل مطالعہ کیلئے گھر سے نکلی تو مجھے فوراً اپنے حوصلے بلند ہوتے محسوس ہوئے۔ دو گھنٹے بعد مَیں مطمئن اور آسودہخاطر ہو کر گھر لوٹی۔ جیساکہ زبورنویس نے کہا، ہو سکتا ہے کہ ہم بعضاوقات ’آنسوؤں کیساتھ بوتے ہیں،‘ لیکن پھر یہوواہ ہماری کوششوں کو برکت دیتا ہے اور ہم ’خوشی کے نعروں کیساتھ کاٹتے ہیں۔‘—زبور ۱۲۶:۵، ۶۔
حال ہی میں، بلند فشارِخون کی وجہ سے، مجھے اپنے شیڈول میں کچھ ردّوبدل کرنا پڑا ہے اور اب مَیں باقاعدہ امدادی پائنیر ہوں۔ مَیں ایک مطمئن زندگی بسر کر رہی ہوں اگرچہ مَیں سمجھتی ہوں کہ اس نظام میں مَیں کبھی بھی مکمل طور پر اپنے نقصان کی تلافی نہیں کر پاؤں گی۔ مجھے اپنے تین بچوں کو کُلوقتی خدمت میں دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔ سب سے بڑھکر، مَیں فریڈ کو نئی دُنیا میں دیکھنے کی متمنی ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ مَیں نے ایکواڈور میں جو کام کِیا ہے وہ اُسکی بابت سن کر خوشی سے بھر جائیگا—یہ کہ ہمارے منصوبے ضرور رنگ لائے۔
میری دُعا ہے کہ زبورنویس کے یہ الفاظ میرے معاملے میں پورے ہوتے رہیں۔ ”یقیناً بھلائی اور رحمت عمربھر میرے ساتھ ساتھ رہینگی اور مَیں ہمیشہ خداوند کے گھر میں سکونت کرونگا۔“—زبور ۲۳:۶۔
[صفحہ 23 پر تصویر]
سین لوکاس، لوجا، ایکواڈور میں خدمتگزاری