آرتھوڈونٹکس اس میں کیا کچھ شامل ہے؟
آپ کے دانت بڑی اہمیت کے حامل ہیں! آپ کو کھانے اور بولنے کے لئے ان کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ ایک خوبصورت مسکراہٹ یا قہقہے کا بھی لازمی جزو ہیں۔
ٹیڑھے دانت کھانا چبانے میں مشکل پیدا کر سکتے ہیں، مسوڑھوں کی بیماری کا باعث بن سکتے ہیں اور گفتگو کے نقائص کا باعث بن سکتے ہیں۔ ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ ٹیڑھے دانت بعض کے لئے ایک معاشرتی رُکاوٹ بن سکتے ہیں، شاید انہیں آزادی کے ساتھ اظہارِخیال کرنا مشکل ہو اس لئےکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے دانتوں کی وجہ سے ان کی مسکراہٹ متاثر ہوتی ہے۔
اگر آپ کے دانت سیدھے نہیں ہیں تو کیا کِیا جا سکتا ہے؟ کون آپ کی مدد کر سکتا ہے؟ کس عمر میں؟ کس قسم کا طریقۂعلاج آزمایا جا سکتا ہے؟ کیا یہ تکلیفدہ ہوگا؟ کیا یہ ہمیشہ ضروری ہوتا ہے؟
دندانسازی کی ایک شاخ
ایسے مسائل سے نپٹنے والی دندانسازی کی ایک شاخ آرتھوڈونٹکس کہلاتی ہے۔ اس کا تعلق دانتوں کے بےڈھنگےپن کی اصلاح سے ہوتا ہے۔
آرتھوڈونٹکس کے اہم مقاصد کیا ہیں؟ یہ مسائل کی تشخیص اور روکتھام کے علاوہ اصلاحی آلات بنانے سے بھی تعلق رکھتی ہے۔
ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے، بےڈھنگے اور باہر کو نکلے ہوئے دانت قدیم زمانے کے لوگوں کے لئے بھی ایک مسئلہ تھے اور علاج کے لئے کوششوں کی ابتدا تقریباً آٹھویں صدی ق.س.ع. میں ہوئی تھی۔ حیرانی کی بات ہے کہ یونان اور ایٹروسکین اثریّاتی دریافتوں میں قدیم زمانے کی خوشنما آرتھوڈونٹک پتریاں ملی ہیں۔
آجکل، دُنیا کے بیشتر حصوں میں، ماہر دندانساز جو آرتھوڈونٹسٹ کہلاتے ہیں، ٹیڑھے دانتوں سے متعلق مسائل کا علاج کرتے ہیں۔ اُنہیں دانتوں اور جبڑوں اور اِردگِرد کے عضلات اور نسیج کے بڑھنے اور نشوونما پانے کی بابت خاطرخواہ علم رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
آرتھوڈونٹکس کیا کرتی ہے
آرتھوڈونٹکس کی تعریف کچھ یوں کی جا سکتی ہے کہ ”دندانسازی کا وہ شعبہ جو نشوونما پانے والے اور پُختہ ڈینٹوفیشل ڈھانچوں کی نگرانی، راہنمائی اور تصحیح سے تعلق رکھتا ہے۔“ اس میں ”قوت کے استعمال سے دانتوں اور چہرے کی ہڈیوں کے درمیان تناسب کی تصحیح کرنا اور/یا کرینیوفیشل کمپلیکس کے اندر کام کرنے والی متعلقہ قوتوں کو تحریک دینا اور اُن کی سمت بدلنا“ شامل ہے۔ جیہاں، تعریف تکنیکی، مگر درست ہے۔
پس آرتھوڈونٹکس میں دانتوں یا ان کے اِردگِرد کے پیچیدہ ڈھانچوں پر قوت کا استعمال کِیا جاتا ہے۔ یہ کام مریض کی ترجیحات کے مطابق بنائے گئے آلات سے کِیا جاتا ہے جو دانتوں اور ہڈیوں کو بھی صحیح سمت میں دھکیلتے ہوئے ہر مریض کے مخصوص مسائل کو درست کرتے ہیں۔
دانتوں کے گِرد پائی جانے والی ہڈی میں خلیے موجود ہوتے ہیں جو آسٹیوکلاسٹس کہلاتے ہیں اور دوسرے خلیے جو آسٹیوبلاسٹس کہلاتے ہیں۔ لوہے کی پتریوں کے ذریعے پیدا ہونے والی قوتوں کی مدد سے آسٹیوکلاسٹس کو اُس حصے میں کام کرنے کے لئے استعمال کِیا جاتا ہے جہاں دباؤ زیادہ ہو تاکہ ہڈیدار نسیج ختم ہو جائے۔ جس حصے میں کھچاؤ ہوتا ہے، وہاں آسٹیوبلاسٹس سے تشکیل پانے والی نئی ہڈی کے ذریعے خلا کو پُر کِیا جاتا ہے۔ اس طرح دانت آہستہ آہستہ حرکت کرنے لگتے ہیں۔
کیا تار، گندہبروزہ یا شاید الاسٹک کی بنی ہوئی باہر کی چیز کو کئی مہینوں تک مُنہ میں رکھنا تکلیفدہ نہیں ہوتا؟ جب آلات فٹ کئے جاتے یا موافق بنائے جاتے ہیں تو وہ شروع شروع میں کسی حد تک تکلیف کا باعث بن سکتے ہیں؛ تاہم، کچھ دیر بعد، ایک شخص اس کا عادی ہو جاتا ہے۔ نظریاتی اعتبار سے کوئی بھی شخص لوہے کی پتریاں پہننے کا عادی بن سکتا ہے۔
ایک شخص کو کب علاج کرانا چاہئے؟
ضروری نہیں کہ ایسی تمام حالتیں جو بچوں میں کاٹنے کی مافوقاُلعادات یا ناقص بستگیدندان کی نشاندہی کرتی ہیں بالغ ہونے پر بھی موجود رہینگی۔ دانتوں کی بعض غیرموزوں حالتیں خودبخود ٹھیک ہو جاتی ہیں۔ درحقیقت، جھڑنے والے یا دُودھ کے دانتوں سے لیکر مستقل دانتوں کے آنے تک کے عبوری دَور کے دوران، مُنہ کے اگلے حصے کے مستقل دانت اکثر ایک دوسرے کے اُوپر چڑھنے کی طرف مائل ہوتے ہیں چونکہ وہ اُن دانتوں سے بڑے ہوتے ہیں جن کی جگہ پر وہ نکلتے ہیں۔
تاہم، دُودھ کی داڑھوں کے جھڑنے کے ساتھ ہی جن کی جگہ مستقل دُنکے لے لیتے ہیں، دانتوں کی متعلقہ جگہ میں تبدیلی آ جاتی ہے۔ دانتوں کے استعمال اور عضلاتی ڈھانچے کے عمل کے تحت دانت خودبخود ہی سیدھے ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا اگر آپ ماں یا باپ ہیں اور آپ کو بچے کے مستقل دانت شروع ہی میں ٹیڑھے نکلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں تو اس سے ہرگز پریشان نہ ہوں۔ اگر کچھ کرنے کی ضرورت ہے تو ایک آرتھوڈونٹسٹ اس کا تعیّن کرنے کے قابل ہوگا۔
نوعمر مریضوں کا علاج کب شروع کِیا جانا چاہئے، آرتھوڈونٹسٹ اس کی بابت مختلف آراء رکھتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ نہایت چھوٹی عمر (۴-۶ سال) میں۔ دیگر کہتے ہیں بعد میں، سنِبلوغت (۱۲-۱۵ سال) کے دوران نشوونما کے خاتمے کے قریب۔ تاہم دیگر اس کے درمیان کے وقت کا انتخاب کرتے ہیں۔
صرف بچوں کے لئے ہی نہیں
تاہم آرتھوڈونٹکس صرف بچوں کے لئے ہی نہیں ہے۔ ٹیڑھے دانت بالغ ہونے پر بھی بہت سے مسائل کا سبب بنتے ہیں۔ اگر دانت اور مسوڑھے صحتمند ہیں تو آپ کی مسکراہٹ عمر کے کسی بھی حصے میں درست کی جا سکتی ہے۔
ٹیڑھے دانت کونسے مسائل کا سبب بنتے ہیں؟ کمازکم تین قسم کے: (۱) شکلوشباہت سے متعلق مسائل؛ (۲) کارگزاری کو متاثر کرنے والے مسائل جن میں جبڑے کی حرکت میں مشکلات (درد اور عضلاتی ربط میں کمی)، چبانے کے مسائل اور صاف تلفظ کی ادائیگی کے مسائل شامل ہیں؛ (۳) باہر نکلے ہوئے دانتوں کے باعث زخم لگنے کا شدید خطرہ اور مسوڑھوں کی بیماری اور دانتوں کے گرنے اور اس کے ساتھ ساتھ ناقص بستگیدندان کے باعث دانتوں کا آہستہ آہستہ ختم ہو جانے کا بہت زیادہ خطرہ۔
علاوہازیں، بعض ماہرین ناقص بستگیدندان کو ریڑھ کی ہڈی کی پوزیشن (بالخصوص گردن کے حصے) کے مسائل اور جسم کے دیگر حصوں کی عضلاتی کارگزاری کے مسائل کا سبب سمجھتے ہیں۔ تاہم علاج کیسے کِیا جاتا ہے؟ اور یہ کب تک جاری رہتا ہے؟
علاج کی مدت اور طریقۂکار
اگر آپ یہ محسوس کریں کہ آپکو یا آپ کے بچوں میں سے کسی ایک کو آرتھوڈونٹسٹ کی ضرورت ہے تو آپکو ایسے شخص کا انتخاب کرنا چاہئے جس پر آپ اعتماد کر سکتے ہیں۔ علاج کی مدت مسئلے کی سنگینی اور استعمال میں لائی جانے والی تکنیک کے مطابق مختلف ہوگی، تاہم یہ غالباً کئی ماہ تک شاید کئی سال تک جاری رہیگا۔
تسہیل کے لئے، ہم علاج کے آلات کو دو گروپوں میں تقسیم کر سکتے ہیں: ایسے آلات جو ہٹائے جا سکتے ہیں اور ایسے آلات جو ہٹائے نہیں جا سکتے۔ ہٹائے جانے والے آلات کو مریض خود ہٹا اور دوبارہ لگا سکتا ہے جبکہ جڑے ہوئے آلات کو دانتوں کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے اور وہ دانتوں کی زیادہ پیچیدہ حرکت کو عمل میں لاتے ہیں۔
تحقیق نے جمالیات کے میدان میں اس حد تک ترقی کر لی ہے کہ آج بیشمار ایسے آلات ہیں جو ”ہوبہو اصل دکھائی دیتے ہیں۔“ بعض تو نظر بھی نہیں آتے کیونکہ وہ بالکل دانتوں کے رنگ کے ہوتے ہیں اور دوسرے جو اندر کی طرف فٹ کئے جاتے ہیں جسے لنگوئل پوزیشن کہا جاتا ہے، وہ زبان سے متصل ہوتے ہیں اور بالکل نظر نہیں آتے۔ ایسی تکنیکیں نادیدہ آرتھوڈونٹکس کہلاتی ہیں۔
انتہائی مشکل صورتحال میں، جب آرتھوڈونٹسٹ لوہے کی پتریوں کی مدد سے متوقع نتیجہ حاصل کرنے کے قابل نہیں ہوتا تو وہ مُنہ اور چہرے کے مسائل کے ماہر سرجن کی مدد بھی حاصل کر سکتا ہے۔ وہ ایک آپریشن کر سکتا ہے جو اُن ہڈیوں کو ہی نکال دیتا ہے جو چہرے کو تشکیل دیتی ہیں۔
آجکل، آرتھوڈونٹکس اُن لوگوں کی بہت سی ضروریات کو پورا کر سکتی ہے جنہیں دانتوں اور جبڑوں کے مسائل درپیش ہیں، بشمول اُن کے جو اپنے دانتوں کی وجہ سے شرمندگی محسوس کئے بغیر مسکرانا چاہتے ہیں۔ بِلاشُبہ، یہ ایک ذاتی فیصلہ ہے کہ آیا ایک شخص آرتھوڈونٹکس کی مدد لینے کا ارادہ رکھتا ہے یا نہیں۔
وقتی طور پر، انسانوں کو جسمانی کمزوریوں کیساتھ گزربسر کرنا ہے جن میں سے بعض کو اصلاحی اقدام کے ذریعے کم کِیا جا سکتا ہے۔ تاہم، ہم اُس وقت کا انتظار کر سکتے ہیں جب خدا کی نئی دُنیا میں وہ مُنہ کی کمزوریوں سمیت ناکاملیت کے تمام اثرات کو مکمل طور پر اور مستقل طور پر ختم کر دیگا۔ اُس وقت، کامل صحت کے اُس نئے نظام میں، ہم میں سے ہر ایک اعتماد کیساتھ پُرتپاک، دوستانہ مسکراہٹ کیساتھ اپنے سامنے آنے والے شخص سے ملنے کے قابل ہوگا۔
اُس وقت کی بابت بائبل پیشگوئی کرتی ہے: ”ساری زمین پر آراموآسایش ہے۔ وہ یکایک گیت گانے لگتے ہیں۔“ (یسعیاہ ۱۴:۷) یقیناً، ایسی خوشی اور خرمی میں خوبصورت مسکراہٹیں بھی شامل ہونگی!
[صفحہ 24 پر تصویر]
لوہے کی پتریوں کی نمائش جو (۱) داڑھوں کو پیچھے کی طرف دھکیلنے اور (۲) جبڑے کی نشوونما کو تحریک دینے کیلئے تیار کی گئی ہیں
۱
۲
[صفحہ 25 پر تصویر]
لوہے کی پتریاں جو وقفے کو کم کرنے کیلئے تیار کی گئی ہیں