ڈالفن ہمارے بالکل قریب
آسٹریلیا میں جاگو! کے مراسلہنگار سے
اسے منطقہحارہ کے گرم، کم گہرے پانیوں سے بہت لگاؤ ہے، خواہ یہ نمکین ہوں یا تازہ، گدلے ہوں یا شفاف۔ یہ انڈیا کی خلیجبنگال سے لیکر مالے کے مجمعاُلجزائر سے شمالی آسٹریلیا کے علاقہ میں پائی جاتی ہے۔
تاہم، بہت کم لوگوں نے—بالخصوص آسٹریلیا کے لوگوں نے جنکے شمالی ساحل ہو سکتا ہے اس جانور کی بڑی تعداد سے بھرے پڑے ہوں—اراودی ڈالفن کو شاید ہی کبھی دیکھا یا اسکی بابت سنا ہو۔ نہایت ہی حیرانکُن بات؟ ہے بھی اور نہیں بھی۔
انیسویں صدی میں، ماہرِحیوانات جان اینڈرسن نے میانمار (اُس وقت کے برما) کے دریائے اراودی میں اس گول سر والی نیلگوں سرمئی ڈالفن کے غول کے غول دیکھے۔ اس نے اسے اراودی ڈالفن کا نام دیا۔
شاذونادر ہی کیوں نظر آتی ہے
اراودی مچھلیاں گرم اور مرطوب ساحلی، مدوجزر والے دہانے اور دریائی علاقوں میں پھلتیپھولتی ہیں۔ انکی رہائشگاہ کیچڑ، مینگرووز، جڑیبوٹیوں، مچھروں کے غولوں اور بعض مقامات پر تو مگرمچھوں سے بھی اَٹی ہوتی ہیں—انسان کیلئے کسی بھی طرح جاذبِتوجہ ماحول نہیں۔
ان علاقوں کا پانی بھی عام طور پر گدلا ہوتا ہے، اسلئے ڈالفن آپکو صرف اُسی وقت نظر آئیگی جب وہ سانس لینے کی خاطر تھوڑی دیر کیلئے اُوپر آتی ہے۔ اُس وقت بھی، اس کے جسم کا کم ہی حصہ نظر آتا ہے۔ اس کی پیٹھ کا تھوڑا سا حصہ نظر آتا ہے اور دیگر ڈالفن مچھلیوں کے مقابلے میں اسکا پچھلا پَر چھوٹا ہوتا ہے۔
تاہم، بعض علاقوں میں اراودی ڈالفن اتنی نایاب نہیں ہے۔ میانمار کے دریائے اراودی اور ڈالفن کے ایشیائی علاقہجات کے دیگر دریاؤں سے مچھلیاں پکڑنے والے اور کشتیبان اور مسافر اکثروبیشتر ان جانوروں کو پانی کے بہاؤ کے اُلٹے رُخ پر تیرتے اور شکار کرتے اور اپنے مُنہ سے فوارے کی مانند یا تالاب میں ایک مجسّمے کی مانند پانی کی تیز دھار نکالتے دیکھتے ہیں۔
آسٹریلیا کے پانیوں میں، اراودی ڈالفن مغربی ساحل کیساتھ ساتھ، برِاعظم کے بالائی حصے میں اور مشرقی ساحل کے نشیب میں پائی جاتی ہے۔ وہ عموماً ۶ سے کم کی تعداد کے غولوں مگر کبھیکبھار ۱۵ تک کے غولوں میں دکھائی دیتی ہیں۔ اپنی ایشیائی ہمنسلوں کے برعکس، آسٹریلیا کے پانیوں میں پائی جانے والی ڈالفن کو کبھی بھی فواروں کی طرح پانی نکالتے نہیں دیکھا گیا۔
کیا یہ ڈالفن ہے؟
اراودی خشکی کے قریب رہتی ہیں اور صاف پانیوں میں رہنے والی اپنی تیزرفتار ہمنسلوں کے مقابلے میں سُسترفتاری سے تیرتی ہیں۔ تاہم، سائنسدانوں کو اُنکا مطالعہ کرنے میں کافی مشکل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اُنکا غیردلکش علاقہ ایک بنیادی عنصر ہے۔ تاہم، جکارتہ، انڈونیشیا میں، جیا انکول کے نام سے ایک بہت بڑے ماہیخانہ میں، زندہ اراودیوں کا مطالعہ کِیا گیا ہے۔
چونکہ اراودیوں کے بارے میں بہت کم معلوم ہے، اسلئے ماہرِحیاتیات ابھی تک وثوق سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ ویل ڈالفن کے کس شجرۂنسب سے تعلق رکھتی ہیں۔ واضح طور پر وہ ڈالفن مچھلیوں سے کافی زیادہ مشابہت رکھتی ہیں۔ تاہم، شکلوصورت کے اعتبار سے نہ کہ رنگ کے اعتبار سے (کیونکہ وہ زرد رنگ سے لیکر گاڑھے نیلگوں سرمئی رنگ کی ہوتی ہیں) وہ بڑی حد تک آرکٹک بیلوگا ویل یا سفید ویل کی چھوٹی قسم سے مشابہت رکھتی ہیں۔ تاہم اُن کی غیرمعمولی طور پر لچکدار گردن بھی بڑی حد تک بیلوگا کی طرح ہے۔ لہٰذا، وہ کیا ہیں—بیلوگا کی استوائی مساوی یا سچمچ کی ڈالفن؟
یہ معلوم کرنے کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ اُنکے تشریحاُلاعضا اور توارثی عناصر کی ایک بڑی تعداد کا تجزیہ کِیا جائے اور یوں یہ معلوم کِیا جائے کہ کونسا پلڑا بھاری ہے۔ تاہم معقول شہادت یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ (اراودی) ڈالفن کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔
معمولی علم جو ہم رکھتے ہیں
پیدائش کے وقت، اراودی کے بچے کوئی تین فٹ لمبے ہوتے ہیں اور وزن تقریباً ۱۲ کلوگرام ہوتا ہے۔ نر جانور تقریباً نو فٹ تک بڑھتے ہیں اور مادہ کچھ کم۔ اُن کی عمر ۲۸ سال ہو سکتی ہے۔
مُردہ اراودی مچھلیوں کے پیٹ سے لئے جانے والے نمونے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ان کی خوراک سکوڈ، شرمپس، جھینگے اور مچھلی—خاص طور پر تہہ میں پائی جانے والی مچھلی پر مشتمل ہے۔ بعض سائنسدان قیاسآرائی کرتے ہیں کہ ایشیا کی ڈالفن کی مُنہ سے پانی کی دھار مارنے کی عادت اُنہیں گدلے پانیوں میں مچھلی کا شکار کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
دیگر ڈالفن مچھلیوں کی طرح، اراودی مچھلیاں بھی ٹکٹک کی مخصوص آواز نکالتی ہے۔ گرممرطوب کوئنزلینڈ کے عجائبگھر کے ڈاکٹر پیٹر آرنلڈ نے اویک! کو بتایا کہ ”جیا انکول ماہیخانہ میں کی جانے والی تحقیق کے مطابق، دیگر ڈالفن مچھلیوں کی طرح اراودی ڈالفن بھی شکار کو تلاش کرنے کیلئے اپنی ٹکٹک کی مخصوص آواز کو استعمال کر سکتی ہے۔“
کیا اسکا کوئی مستقبل ہے؟
سائنسدانوں کو اس کی بابت کچھ معلوم نہیں کہ دُنیا میں کُل کتنی اراودی مچھلیاں ہیں۔ تاہم اس بات کی بابت بہت زیادہ تشویش پائی جاتی ہے کہ اُنکے ناپید ہونے کا خطرہ ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا کے بعض علاقوں میں، اُنکی تعداد میں کمی واقع ہو رہی ہے اور دیگر علاقوں میں وہ بالکل نظر نہیں آتیں۔
یہ اکثر لکڑی کاٹنے کے عمل اور اسی سے وابستہ آلودگی اور دریاؤں کے مٹی سے بھر جانے کے باعث ہے۔ آسٹریلیا میں، اراودی کے زیادہتر علاقے میں انسانوں کی آبادی نسبتاً بہت کم ہے۔ تاہم مشرقی ساحل کے زیادہ دلکش خطوں میں، شہر آباد کرنے اور سیاحت کا کام بڑی تیزی سے جاری ہے۔ کچھ اراودی مچھلیاں مچھلیوں کے جال میں پھنس جاتی ہیں اور بعض تیراکوں کو بچانے کیلئے ساحلِسمندر کے قریب لگائے جانے والے شارک کے جالوں کا نشانہ بن جاتی ہیں۔ خوراک کے طور پر اراودی مچھلیوں کا بہت زیادہ شکار کِیا جانا بھی انکی تعداد پر اثرانداز ہوتا ہے۔
تاہم، سب سے زیادہ خطرے کا امکان، اُن آلودہ کرنے والی چیزوں سے ہو سکتا ہے جو دریاؤں اور پانی کے مدوجزر والے دہانے میں داخل ہو جاتی ہیں۔ سب سے بدترین چیزوں میں مصنوعی طور پر تیار کئے جانے والے، پولیکلورینیٹڈ بائیفنائلز (PCBs) جیسے نامیاتی مرکبات ہیں جو فضا میں ہر وقت موجود رہتے ہیں۔ PCBs الیکٹرونک کی چیزوں، رنگوروغن، مشینوں کے تیل، لکڑی اور لوہے کے اَستر اور دیگر مصنوعات میں استعمال کئے جاتے ہیں۔
اسکی بابت مثبت بات یہ ہے کہ آسٹریلیا کی نیچر کنزرویشن ایجنسی اپنی دستاویز دی ایکشن پلان فار آسٹریلین سیٹاسینز میں بیان کرتی ہے: ”کوئنزلینڈ میں [اراودی ڈالفن] کا زیادہتر علاقہ دی گریٹ بیریئر ریف مرین پارک کی انتظامیہ کے تحت ہے؛ لہٰذا کوئنزلینڈ کے پانیوں میں [اراودی] کی دیکھبھال کے امکانات کافی روشن ہیں۔“
اچھی دیکھبھال کے سلسلے میں مزید ترقی کرنے کیلئے ایجنسی اس بات کی سفارش کرتی ہے کہ عوام کو آگہی فراہم کرنے والے پروگراموں میں ہمپبیک ویل، جنوبی رائٹ ویل، اور بوٹلنوزڈ ڈالفن کیساتھ ساتھ اراودی کو بھی ایک اہم قسم کے طور پر متعارف کرایا جانا چاہئے۔ یہ اراودی ڈالفن کیلئے مفید ثابت ہوگا—اور ہمارے لئے بھی۔