بائبل کا نقطۂنظر
کیا شیاطین حقیقی ہیں؟
یورپ کے بیشتر حصوں کو ۱۷ویں اور ۱۸ویں صدی میں جادوگرنیوں کے خلاف اذیت کی ہیجانخیز مہم نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ بہتیری مبیّنہ جادوگرنیوں نے ہولناک تشدد کا سامنا کِیا۔ بعض لوگوں نے جن پر جھوٹا الزام لگایا گیا تھا صرف اذیت سے بچنے کیلئے جادوگری میں ملوث ہونے کا اعتراف کر لیا۔ بےشمار لوگوں کو صرف جھوٹی افواہوں یا شک کی بنیاد پر قتل کر دیا گیا تھا۔
بظاہر صحائف پر مبنی ہونے کے باوجود، جادوگری، شیاطینپرستی کی ایک قسم کے خلاف یہ کارروائیاں یقیناً متعصّبانہ تھیں۔ جادوگرنیوں یا ارواحپرستی میں ملوث کسی بھی شخص کو اذیت پہنچانے یا اسے قتل کرنے کی ذمہداری مسیحیوں کو نہیں دی گئی ہے۔ (رومیوں ۱۲:۱۹) آجکل عام رویہ کیا ہے؟
روادارانہ رویہ
دُنیائےمسیحیت میں آجکل بیشتر لوگ ارواحپرستی کو ایک سنجیدہ معاملہ خیال نہیں کرتے۔ بعض شاید علمِنجوم، جادوگری، غیبدانی اور افسوںگری میں تجسّس کی وجہ سے دللگی کرتے ہیں لیکن وہ ان پراسرار علوم کو شیاطینپرستی خیال نہیں کرتے۔ بعضاوقات، فنکار، کھلاڑی اور سیاستدان ان پراسرار علوم میں ملوث ہونے کا علانیہ اقرار کرتے ہیں۔ بعض کتابیں اور فلمیں جادوگرنیوں اور ساحروں کو ”دلکش، ذرا سے غیرمعمولی انسانوں“ کے طور پر پیش کرتی ہیں ”جن کی مافوقالفطرت سرگرمیاں کسی کو بھی نقصان نہیں پہنچاتیں،“ ایک انسائیکلوپیڈیا بیان کرتا ہے۔ بچوں کو تعلیم اور تفریح فراہم کرنے کے لئے ترتیب دیا گیا مواد بھی پراسرار علوم پر مشتمل خیالات کو فروغ دے سکتا ہے۔
ایسا روادارانہ اور لاپروا رویہ شیاطین کے وجود کی بابت عدمِیقین کا باعث بن سکتا ہے۔ کیا آپ یقین رکھتے ہیں کہ شیاطین وجود رکھتے اور بڑی مستعدی کیساتھ ہمیں نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں؟ تاہم، آجکل بیشتر لوگ کہیں گے کہ انہیں شیاطین کے ساتھ رابطے اور ان کی سرگرمیوں کا مشاہدہ کرنے کا کبھی تجربہ نہیں ہوا۔ کیا شیاطین حقیقی ہیں؟
عدمِیقین ایک مشکل کا باعث بنتا ہے
جو لوگ بائبل پر یقین رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن شیاطین کے وجود کی بابت شکوشبہات رکھتے ہیں وہ مشکل کا شکار ہیں۔ اگر وہ یہ یقین نہیں رکھتے کہ شیاطین حقیقی ہیں تو وہ کسی حد تک بائبل پر عدمِیقین کا اظہار کر رہے ہیں۔ کیوں؟ اسلئےکہ خدا کے کلام، بائبل میں مافوقابشر قوتوں کی مالک شریر روحانی خلائق کے تصور کی تعلیم پیش کی گئی ہے۔
اسکی پہلی کتاب، پیدایش بیان کرتی ہے کہ کس طرح ایک ذہین مخلوق نے حوا کو فریب دینے کیلئے ایک سانپ کو استعمال کِیا اور اس سے خدا کے خلاف بغاوت کرائی۔ (پیدایش ۳:۱-۵) بائبل کی آخری کتاب، مکاشفہ اس شریر فریبی کی شناخت ان الفاظ میں کراتی ہے ”بڑا اژدہا یعنی وہی پُرانا سانپ جو ابلیس اور شیطان کہلاتا ہے اور سارے جہان کو گمراہ کر دیتا ہے۔“ (مکاشفہ ۱۲:۹) شیطان دیگر فرشتگان کو بھی بغاوت پر اُکسانے میں کامیاب رہا۔ (یہوداہ ۶) بائبل میں ان گناہ کرنے والے فرشتوں کو شیاطین کہا گیا ہے۔ یہ زمین کے گردونواح میں سرگرمِعمل ہیں اور خدا اور اس کی خدمت کرنے والے لوگوں کے خلاف سخت غصے میں ہیں۔—مکاشفہ ۱۲:۱۲۔
شیطان اور شیاطین اثرانداز ہونے، نقصان پہنچانے اور انسانوں کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کی قوت رکھتے ہیں۔ (لوقا ۸:۲۷-۳۳) انہوں نے ہزاروں سال تک انسانی خوائص کا مطالعہ کِیا ہے۔ وہ انسانوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانا جانتے ہیں۔ بائبل ایسے واقعات کی بابت بتاتی ہے جب انہوں نے مردوں، عورتوں اور بچوں پر قبضہ جما لیا یا اُنہیں مکمل طور پر قابو میں کر لیا۔ (متی ۱۵:۲۲؛ مرقس ۵:۲) یہ بیماریوں یا اندھےپن جیسی جسمانی کمزوریوں کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ (ایوب ۲:۶، ۷؛ متی ۹:۳۲، ۳۳؛ ۱۲:۲۲؛ ۱۷:۱۴-۱۸) یہ لوگوں کی عقلوں کو بھی اندھا کر سکتے ہیں۔ (۲-کرنتھیوں ۴:۴) شیاطین اپنے سردار شیطان کی طرح ابھی تک سرگرمِعمل ہیں جو ”گرجنے والے شیرببر کی طرح ڈھونڈتا پھرتا ہے کہ کس کو پھاڑ کھائے۔“ (۱-پطرس ۵:۸) بائبل میں ایسی بہت سی سرگزشتیں پائی جاتی ہیں جو شیاطین کے وجود کی شہادت دیتی ہیں۔ اگر آپ بائبل پر ایمان رکھتے ہیں توپھر آپ نادیدہ شریر روحانی خلائق کی حقیقت کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔
شریر فریبی
تاہم، ایسے طاقتور شیاطین آجکل دُنیا میں مستقل دہشتناک صورتحال پیدا کئے بغیر کیسے رہ سکتے ہیں؟ انکی موجودگی اور کام زیادہ واضح کیوں نہیں ہیں؟ بائبل جواب دیتی ہے: ”شیطان بھی اپنے آپ کو نورانی فرشتہ کا ہمشکل بنا لیتا ہے۔“ (۲-کرنتھیوں ۱۱:۱۴) ابلیس فریبی ہے۔ شیطانی سرگرمیاں بھی اکثر بےضرر یا کارآمد چیز کے روپ میں ہوتی ہیں۔ لہٰذا پہچاننا مشکل ہے۔
شیطان اور شیاطین ابھی تک لوگوں کو بائبل وقتوں کی طرح مختلف طریقوں سے تنگ کرتے ہیں۔ بعض جو اب حقیقی مسیحی بن گئے ہیں کبھی ان پراسرار علوم میں ملوث تھے؛ وہ دہشتناک شیطانی حملوں کی شہادت دے سکتے ہیں۔ آجکل شاید پہلے سے کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر شیاطین اپنی مافوقالبشر قوتوں کو لوگوں کو پراسرار علوم میں الجھانے کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔ انکی قوت کو کم خیال نہیں کرنا چاہئے۔ تاہم، وہ لوگوں کو دہشتزدہ کرنے کی نسبت اُنہیں ورغلا کر خدا سے دور کرنے میں زیادہ کامیابی حاصل کر رہے ہیں۔ بائبل بیان کرتی ہے کہ ابلیس اور شیاطین ”سارے جہاں کو گمراہ“ کر رہے ہیں۔ (مکاشفہ ۱۲:۹) وہ پیچیدہ اور عیارانہ طریقوں سے روحانیت کو کھوکھلا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
شیاطین حقیقی ہیں۔ ورنہ لوگوں میں تباہی اور خونریزی کیلئے ختم نہ ہونے والی واضح تشنگی کی کیسے توضیح پیش کی جا سکتی ہے؟ انسان فطری طور پر امن اور خوشی کیساتھ زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم، شیاطین بُرائی کو ترقی دیتے ہیں اور وہ انسانی ذہن کو متاثر اور آلودہ کرنے کی قوت رکھتے ہیں۔
تاہم، یہوواہ خدائے قادرِمطلق—شیاطین سے زیادہ طاقتور ہے۔ وہ ”ابلیس کے منصوبوں“ کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنی قوت اور تحفظ پیش کرتا ہے۔ (افسیوں ۶:۱۱-۱۸) ہمیں شیاطین کا غیرصحتمندانہ خوف رکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ خدا وعدہ فرماتا ہے: ”پس خدا کے تابع ہو جاؤ اور ابلیس کا مقابلہ کرو تو وہ تم سے بھاگ جائیگا۔“—یعقوب ۴:۷۔