یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو97 8/‏10 ص.‏ 11-‏13
  • بہت سارے خدا، جبتک کہ مجھے سچا نہ مِل گیا

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • بہت سارے خدا، جبتک کہ مجھے سچا نہ مِل گیا
  • جاگو!‏—‏1997ء
  • ذیلی عنوان
  • میرا ضمیر جاگ اُٹھتا ہے
  • گواہ ملاقات کرتے ہیں
  • جہاں زیادہ ضرورت ہے وہاں خدمت کرنا
جاگو!‏—‏1997ء
جاگو97 8/‏10 ص.‏ 11-‏13

بہت سارے خدا، جبتک کہ مجھے سچا نہ مِل گیا

مَیں ۱۹۲۱ میں، کرویڈن، انگلینڈ میں پیدا ہوئی اور تین لڑکیوں اور دو لڑکوں میں سب سے بڑی تھی۔ جب مَیں تین سال کی تھی تو ہم بچوں میں سے کچھ خناق کی بیماری کا نشانہ بنے۔ مجھے ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ میرا بھائی جَونی فوت ہو گیا اور اُس کا بپتسمہ نہ ہونے کی وجہ سے، اینگلیکن چرچ اُسکی تجہیزوتدفین کی مذہبی رسومات ادا کرنے کو تیار نہ تھا۔ میرے والد اِس سے سخت پریشان تھے لہٰذا اُنہوں نے ایک پادری سے پوچھا کہ جب وہ جَونی کے تابوت کو قبر میں اُتاریں تو کیا وہ دُعا کر سکتا ہے۔ اُس نے انکار کر دیا۔‏

میری والدہ نے بتایا کہ یہ بات میرے والد کو ہمیشہ کیلئے چرچ سے دُور لے گئی۔ میری والدہ کو ڈر تھا کہ کہیں مجھے یا میری بہنوں کو کچھ ہو نہ جائے اِسلئے وہ ہمارے والد سے چوری‌چھپے ہمیں چرچ لے گئی اور ہمارا بپتسمہ کرایا۔ میرے والد کمیونسٹ پارٹی کے سرگرم رُکن بن گئے اور ہمیں ہک‌سلے، لینن اور مارکس کی تحریرکردہ کتابوں سمیت، جدلی مادّیات سے متعلق مواد پڑھنے کی تحریک دی۔ گھر میں خدا کا تو کبھی ذکر تک نہیں ہوتا تھا ماسوائے اُس وقت جبکہ والد کہتے کہ کوئی خدا نہیں۔‏

۱۹۳۱ میں، جب مَیں کوئی دس برس کی تھی تو مَیں کبھی‌کبھار گلی کے دوسرے کونے پر اپنے والد کے والدین سے ملنے چلی جایا کرتی تھی۔ دادا جان اکثر دوسروں کی نکتہ‌چینی کا نشانہ بنتے تھے لیکن اُن کی خوبصورت نیلی آنکھوں میں چمک رہتی اور وہ ہمیشہ خوش رہتے تھے۔ مَیں جب بھی اپنے گھر واپس جانے لگتی تو وہ مجھے عموماً کچھ ٹافیاں اور پڑھنے کے لئے کچھ‌نہ‌کچھ دیتے تھے۔ ٹافیاں تو مَیں کھا لیتی تھی مگر پڑھائی کے مواد کو پھاڑ دیا کرتی تھی۔ اُس وقت مَیں یہ نہیں سمجھ پائی تھی کہ دوسرے لوگ اُن کی بابت ہمیشہ منفی باتیں کیوں کرتے تھے۔‏

جب میں عنفوانِ‌شباب کو پہنچی تو مَیں ینگ کمیونسٹ لیگ میں شامل ہو گئی اور تھوڑی مدت کے بعد سیکرٹری بن گئی۔ مَیں نے ٹاؤن ہال میں تقاریر پیش کیں اور چیلنج اخبار کے ساتھ گلی‌کوچوں میں کام کِیا اور جو کوئی بات سنتا اُسے یہ اخبار دے دیتی۔ اُس وقت، بلیک‌شرٹس کے نام سے ایک فسطائی گروپ بھی سرگرمِ‌عمل تھا اور کمیونزم کے سخت خلاف تھا۔ مجھے یاد ہے کہ جب مَیں فٹ‌پاتھ پر کھڑی چیلنج پیش کر رہی ہوتی تھی تو بلیک‌شرٹس کے رُکن آتے اور مجھے سن‌شائن کے عرفی نام سے مخاطب کر کے میرے ساتھ گفتگو کرتے۔ کمیونسٹ پارٹی کے جن پُرانے ارکان کے ساتھ میرا تعلق تھا اُنہیں معلوم ہو گیا کہ فسطائی مجھے آہنی مکوں سے مارنے کا منصوبہ بنا رہے تھے اس لئے اُنہوں نے میرے ساتھ ایک حفاظتی دستہ رکھنا شروع کر دیا۔‏

ایک موقع پر، ہمیں یہ خبر ملی کہ فسطائی لندن کے مشرقی حصے میں (‏جہاں اُسوقت زیادہ‌تر یہودی آباد تھے)‏ جلوس نکالنے والے تھے۔ ہمیں اُنکا مقابلہ کرنے اور اپنے ساتھ شیشے کی گولیوں کے تھیلے لے جانے کا حکم دیا گیا تاکہ جب پولیس کے آدمی مخالف گروہوں کو منتشر کرنے کیلئے آگے بڑھیں تو ہم یہ اُنکے گھوڑوں کے پاؤں کے نیچے پھینک دیں۔ اُس دن بہتیرے گرفتار ہوئے لیکن خوش‌قسمتی سے مَیں اُن میں شامل نہیں تھی کیونکہ مَیں نے وہاں نہ جانے کا فیصلہ کِیا تھا۔‏

میرا ضمیر جاگ اُٹھتا ہے

ایک دوسرے موقع پر، ایک عوامی جلسے میں مجھ سے کوئی ایسی بات کہنے کا مطالبہ کِیا گیا جسکی بابت مَیں جانتی تھی کہ یہ سچ نہیں۔ میرے انکار کرنے پر مجھ سے پوچھا گیا کہ ”‏اگر اس طرح دوسرے ہمارا نقطۂ‌نظر سمجھ جاتے ہیں تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟“‏ میری زندگی کا یہ ایک ایسا لمحہ تھا جب میرا ضمیر مجھے جھنجھوڑنے لگا اور مَیں نے کئی ایک باتوں کی بابت سوچنا شروع کر دیا۔‏

اوائل عمری میں ایک دفعہ میری والدہ نے میری حوصلہ‌افزائی کی کہ مَیں چرچ کی عبادت میں جاؤں، صرف یہ دیکھنے کیلئے کہ وہاں کیا ہوتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ مجھ سے کہا گیا تھا کہ مَیں الطار پر جا کر اپنے گناہوں کا اعتراف کروں۔ وہاں پر مَیں نے دیکھا کہ الطار کی پوشش کی سوزن‌کاری میں تین دائرے ہیں جو ایک دوسرے کیساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ مَیں نے یہ پوچھا کہ یہ کس چیز کی علامت ہیں تو مجھے بتایا گیا کہ یہ ”‏پاک تثلیث“‏ کی علامت ہیں یعنی ”‏خدا باپ، خدا بیٹا اور خدا روح‌القدس۔“‏ مَیں نے سوچا کہ ’‏یہ تو عجیب بات ہے۔ یہ تین خداؤں پر ایمان رکھتے ہیں جبکہ میرے والد تو کہتے ہیں کہ ایک بھی نہیں ہے!‏‘‏ جب مَیں نے مزید سوال پوچھے تو یہ وضاحت کی گئی کہ انڈے کے تین حصے ہوتے ہیں مگر درحقیقت انڈا تو ایک ہی ہوتا ہے۔ اس سے بھی میری تسلی نہ ہوئی۔ پھر مجھ سے کہا گیا کہ مَیں بہت زیادہ سوال پوچھتی ہوں۔ مَیں گھر چلی گئی اور اپنی ماں سے کہہ دیا کہ آئندہ مَیں چرچ نہیں جانا چاہتی اور مَیں واقعی نہ گئی!‏

جب دوسری عالمی جنگ کا آغاز ہوا، تو مَیں ینگ کمیونسٹ لیگ کی سرگرم رُکن نہیں تھی۔ مَیں نے فوج میں ملازم ایک کینیڈین سے شادی کر لی اور ہمارا ایک بیٹا بھی تھا۔ لندن میں ہمارا پہلا گھر بم دھماکے سے تباہ ہو گیا۔ جس وقت مَیں اور میرا بیٹا گھر پر تھے تو ایک وی-‏۱ میزائل ہمارے گھر کے سامنے گِرا۔ ہمارا سارا مال‌واسباب تباہ ہو گیا۔ ہم ملبے کے نیچے دب گئے مگر خوش‌قسمتی سے ہماری زندگیاں بچ گئیں۔ اُس وقت میرا شوہر نورمنڈے، فرانس، میں تھا۔‏

اُن ہی دنوں، مجھے یاد ہے کہ دو جوان خواتین سے میری گفتگو ہوئی اور مَیں نے اُن سے پوچھا کہ ”‏اگر کوئی خدا ہے تو وہ اس تمام دُکھ‌درد کی اجازت کیوں دیتا ہے؟“‏ اُنہوں نے شیطان کے اس جہان کا خدا ہونے کی بابت کچھ کہا۔ ”‏واہ،“‏ مَیں نے سوچا، ”‏ایک اَور خدا جس کی بابت مَیں کچھ بھی نہیں جانتی!‏“‏ پھر، ایک جوان آدمی آیا۔ مَیں نے اُس پر سوالات کی بوچھاڑ کر دی اور اُس نے کہا کہ وہ بھیڑوں کی تلاش کر رہا ہے بکریوں کی نہیں۔ یسوع کی اس تمثیل سے واقف نہ ہونے کی وجہ سے مَیں نے اُس سے پوچھا کہ وہ خادم ہے یا ایک چرواہا۔ چند سال مزید گزر گئے اور دوسری عالمی جنگ ختم ہو گئی۔ میرا شوہر جس ساسکاٹون لائٹ انفینٹری (‏ہلکے ہتھیاروں سے لیس پیادہ فوج)‏ کے ساتھ کام کرتا تھا اُس کے ۹۵ فیصد حصے کو جنگ میں ہلاک ہوتا دیکھنے کے بعد گھر لوٹا تھا۔ ہم کرویڈن میں ایک دوسرے گھر میں رہنے لگے۔‏

گواہ ملاقات کرتے ہیں

ایک اتوار، یہوواہ کے گواہوں میں سے دو اشخاص نے ہمارے دروازے کی گھنٹی بجائی۔ میرا شوہر دروازے پر گیا اور اُنکے ساتھ طویل گفتگو کی۔ جنگ کے دوران اُس نے جو ریاکاری دیکھی تھی اُسکی وجہ سے وہ تمام مذاہب سے متنفر ہو چکا تھا۔ لیکن اس حقیقت نے اُسے متاثر کِیا کہ گواہ اس معاملے میں غیرجانبدار رہے ہیں۔ اُس نے مجھے بتایا کہ اُس نے اُنہیں بائبل کی بابت گفتگو کرنے کیلئے دوبارہ آنے کی دعوت دی ہے۔ مَیں بہت فکرمند ہو گئی اور اپنے باپ سے پوچھا کہ مجھے کیا کرنا چاہئے۔ اُس نے کہا کہ مجھے اس میں شامل نہیں ہونا چاہئے اور اگر میرا شوہر اس پاگل مذہب سے وابستہ رہتا ہے تو میرا طلاق لے لینا ہی اچھا ہے۔‏

مَیں نے یہ دیکھنے کیلئے کہ کیا کچھ کہا سنا جاتا ہے ایک گفتگو میں بیٹھنے کا فیصلہ کِیا۔ ہم سب ایک میز کے گرد بیٹھ گئے اور گواہ نے کہا:‏ ”‏جیسے آپ کتے کو اپنے بازوؤں میں لے لیتے ہیں ویسے ہی ایک دن آپ شیر کو اپنے بازوؤں میں لے سکیں گے۔“‏ ’‏اوہ، یہ تو واقعی پاگل ہیں،‘‏ مَیں نے سوچا۔ اُس شام جوکچھ بتایا گیا مَیں کسی بات پر دھیان نہ دے سکی۔ بعدازاں، مَیں نے اپنے شوہر سے کہا کہ مَیں نہیں چاہتی کہ یہ لوگ دوبارہ یہاں آئیں۔ ہم بہت روئے اور طلاق لینے کے معاملے پر بات‌چیت کی۔‏

اس کے فوراً بعد ایک اَور گواہ آیا۔ ہمیں بعد میں معلوم ہوا کہ وہ سرکٹ اوورسیئر تھا جو مقامی کلیسیا کے دَورے پر تھا اور ہماری بابت سن رکھا تھا۔ مجھے وہ اچھی طرح یاد ہے۔ اُس کی آنکھیں نیلی تھیں اور نہایت مشفقانہ، متحمل طبیعت کا مالک تھا۔ اُسے دیکھ کر مجھے میرے دادا کی یاد آ گئی۔ مَیں نے ۳۲ سوالات پر مشتمل فہرست نکال لی جو مَیں نے لکھ رکھے تھے۔ ”‏ہم ایک ایک کر کے ان پر گفتگو کرینگے،“‏ اُس نے کہا اور ہم ایسا کرنے لگے۔ اُس نے یہ سمجھنے میں میری مدد کی کہ بائبل کی بات کو مکمل طور پر سمجھنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ مَیں اسے پڑھوں اور اس کا گہرا مطالعہ کروں۔ اُس نے مشورہ دیا کہ کسی کو ہمارے ساتھ باقاعدگی سے بائبل کا مطالعہ بھی کرنا چاہئے۔ مَیں نے اُس سے اتفاق کِیا۔‏

جونہی مَیں نے اپنے خالق، یہوواہ خدا کے متعلق بتدریج سمجھ حاصل کرنا شروع کی تو بے‌اختیار میرے آنسو بہنے لگے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ مَیں بیڈروم میں جا کر یہوواہ سے دُعا کِیا کرتی تھی کہ وہ مجھے معاف فرمائے اور بائبل اور اپنے مقاصد کو سمجھنے میں میری مدد کرے۔ میرے شوہر، میرے بیٹے اور مَیں نے ۱۹۵۱ میں بپتسمہ لیا۔ جب میرے باپ کو اسکا پتہ چلا تو وہ تلملا اُٹھا اور کہا کہ یہوواہ کی گواہ بننے کی بجائے مَیں مر جاتی تو اچھا ہوتا۔‏

جہاں زیادہ ضرورت ہے وہاں خدمت کرنا

میرے شوہر نے واپس کینیڈا جانے کا فیصلہ کر لیا اور ۱۹۵۲ میں ہم وانکور، برٹش کولمبیا چلے گئے۔ میرے باپ نے مجھے الوداع کہنے سے بھی انکار کر دیا اور پھر مَیں نے نہ تو اُسے کبھی دیکھا اور نہ ہی اُسکی بابت کوئی خبر سنی۔ جب وانکور میں رہتے ہوئے ہمیں کافی سال گزر گئے تو سب کو یہ دعوت دی جانے لگی کہ جہاں زیادہ ضرورت ہے وہاں جائیں بالخصوص کیوبک جیسے علاقوں میں جہاں وزیرِاعظم ڈیوپلاسی یہوواہ کے گواہوں کی بابت ہٹلر جیسا رویہ رکھتا تھا۔‏

۱۹۵۸ میں ہم نے اپنا تمام سامان کار میں رکھا اور نیو یارک میں بین‌الاقوامی کنونشن کیلئے روانہ ہوئے۔ وہاں سے ہم مونٹریل، کیوبک گئے جہاں ہمیں وِل دے زاکارتیو میں فرینچ کلیسیا میں کام تفویض کر دیا گیا۔ کیوبک میں یہوواہ کی خدمت کے دوران ہمیں بہت سے دلچسپ تجربات پیش آئے۔ ایک دفعہ، ہماری کار کو اُلٹ دیا گیا، ہم پر پتھراؤ کِیا گیا اور ایک عورت نے تو ہم پر پانی کا پائپ پورے پریشر سے کھول دیا۔ یہ سب کچھ ماجوج نامی جگہ پر واقع ہوا۔‏

ایک دوسرے موقع پر، مَیں اور میری ساتھی چرچ کے پاس سے گزر رہی تھیں جبکہ لوگ قطار باندھے باہر آ رہے تھے۔ کسی نے ہمیں پہچان لیا اور چلا کر کہا:‏ ”‏تیم‌ون دے زاؤوا!‏“‏ (‏”‏یہوواہ کے گواہ!‏“‏)‏ تعاقب شروع ہو گیا، پادری آگے آگے تھا لیکن ہم تیزی سے بھاگ کر ہجوم سے آگے نکل گئیں۔ ہمیں متعدد بار گرفتار کِیا گیا۔ تاہم، مجھے ایسے بہت سے لوگوں کو یہوواہ کی بابت سیکھنے میں مدد کرنے سے خوشی ہوئی جن میں سے بہتیرے ابھی سرگرمی سے اُس کی خدمت کر رہے ہیں۔‏

۱۹۶۰ کے دہے کے اوائل میں، میرے شوہر کے آجر نے لاس اینجلس میں اُسکا تبادلہ کر دیا اور ہم نے وہاں ایک کلیسیا میں ۳۰ سال تک خدمت انجام دی۔ ہمارے لئے ایسے لوگوں کیساتھ سچائی کی بابت گفتگو کرنا کتنی خوشی کی بات تھی جو زمین کے تمام حصوں سے لاس اینجلس آئے تھے!‏ مجھے لبنان، مصر، چین، جاپان، فرانس اور اٹلی سے آئے ہوئے لوگوں سے مطالعہ کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ مجھے یاد ہے کہ مَیں ایک نوجوان خاتون سے ملی جو انگریزی نہیں بول سکتی تھی مگر خوشی کی بات یہ تھی کہ اُسکا شوہر بول سکتا تھا۔ لہٰذا مَیں نے اور میرے شوہر نے اکٹھے اُنکے ساتھ مطالعہ کِیا۔ بالآخر مَیں نے اُس عورت کیساتھ علیٰحدہ مطالعہ شروع کر دیا۔ مَیں انگریزی کی لٹ گاڈ بی ٹرو (‏خدا سچا ٹھرے)‏ کتاب استعمال کرتی اور وہ اپنی چینی بائبل میں صحائف دیکھتی اور سوالوں کا جواب بھی چینی میں دیتی۔ پھر، مَیں جواب کو انگریزی میں بولتی اور وہ بھی انگریزی میں اسے دہراتی۔ انجام‌کار، وہ روانی سے انگریزی بولنے لگی اگرچہ وہ برطانوی لہجے میں بولتی تھی۔ مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہے کہ وہ اور اُسکا شوہر دونوں اب یہوواہ کے مخصوص‌شُدہ خادم ہیں۔‏

حال ہی میں ہم ٹک‌سون، ایری‌زونا منتقل ہو گئے ہیں اور ہمارے عظیم خالق، یہوواہ کی بابت تعلیم پانے والے اپنے پوتے پوتیوں اور آگے اُنکے بچوں سمیت خاندان کے تمام ارکان کو وفاداری سے یہوواہ کی خدمت کرتے ہوئے دیکھنے کا اضافی شرف حاصل ہوا ہے۔‏

برسبیل‌تذکرہ، مجھے کرویڈن کے بھائیوں سے یہ سن کر بڑی خوشی ہوئی کہ چمکدار نیلی آنکھوں والے میرے دادا یہوواہ کے گواہ تھے۔—‏کاسی برائٹ کی زبانی۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں