دُنیا کا نظارہ کرنا
ایڈز اور ترقی
اقوامِمتحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی ایک حالیہ رپورٹ نے بیان کِیا کہ عالمی پیمانے پر ایڈز کی وبا نے انسانی ترقی کو ۳.۱ سال پیچھے دھکیل دیا ہے۔ افریقی اقوام سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں—زمبیا انسانی ترقی کے دس سے زیادہ سال کھو بیٹھا ہے؛ تنزانیہ آٹھ سال؛ روانڈا سات سال اور جمہوریہ وسطی افریقہ چھ سال سے زیادہ۔ ایڈز نے تو متوقع عمر کو بھی کم کر دیا ہے۔ شمالی امریکہ اور یورپ میں ایڈز ۴۵ سے کم عمر کے بالغان میں موت کا نمایاں سبب بن گئی ہے۔ پوری دُنیا میں ہر روز ۶،۰۰۰ لوگ، ہر ۱۵ سیکنڈ میں ۱ شخص، ایچآئیوی سے متاثر ہو جاتا ہے۔ ایڈز کے باعث واقع ہونے والی اموات میں سے ۸۵ فیصد سے زیادہ ۲۰ اور ۴۵ سال کی عمر کے لوگوں میں واقع ہوتی ہیں۔
پڑھنے کی مہارتیں اور روزگار
اخبار دی وَنکوور سن کے مطابق، کینیڈا کی ایک شماریاتی رپورٹ بیان کرتی ہے کہ ”۵۶ اور ۶۴ فیصد کے درمیان بیروزگار کینیڈین میں خواندگی کی مہارتیں بہت کم ہیں۔“ نثر، دستاویز اور حسابکتاب کی پڑھائی میں خواندگی مہارتوں کو پرکھنے کے سلسلے میں ۱۹۹۵ کے ایک سروے نے انکشاف کِیا کہ کینیڈا کے ۳۶ فیصد لوگوں کو ان تینوں حلقوں میں مشکل درپیش تھی۔ سن بیان کرتا ہے کہ ”زراعت، کانکنی، صنعتکاری اور عمارت سازی جیسی ’قدیم‘ صنعتوں میں . . . خواندگی کا تناسب بہت کم ہے۔“ ان حلقوں میں روزگار کم ہونے کی وجہ سے ایسے کارکن خاص طور پر مُعطل اور نوکری سے برخاست کر دئے جانے کے خطرے میں ہوتے جن میں خواندگی کی مہارتیں کم ہیں۔ تنظیم برائے خواندگی کے صدر، جان اولری نے بیان کِیا کہ ”۱۹۹۶ میں کمخواندہ ہونا ذاتی اور پیشہوارانہ مواقع کے وسیع امکان کو کھو دینے کے مساوی ہے۔“
لالبیگ الرجی
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ایٹ بارکلے ویلنس لیٹر کے مطابق، ریاستہائے متحدہ میں ۱۰ سے ۱۵ ملین لوگ لالبیگوں سے الرجک ہیں۔ جب لالبیگوں سے سامنا ہو جائے تو الرجک شخص کو ”جِلد کی جلن، تپِکاہی یا دمے کی علامات“ کا تجربہ ہو سکتا ہے۔ اخبار نے بیان کِیا کہ ”دمے کے مریض تمام بچوں کا ۸۰ فیصد لالبیگوں کے سلسلے میں بہت حساس ہے۔“ لالبیگ ضروری طور پر گندے باورچیخانے کی علامت نہیں ہیں۔ ویلنس لیٹر دعویٰ کرتا ہے کہ ”صافستھرے باورچیخانے اُنکی پناہگاہ بھی بن سکتے ہیں۔“ یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ ہر اُس لالبیگ کے پیچھے سارا گھر تقریباً ۱،۰۰۰ آنکھ سے اُوجھل لالبیگوں سے بھرا ہوا ہو سکتا ہے۔ لالبیگوں کا ایک جوڑا سالبھر میں تقریباً ۱،۰۰،۰۰۰ بچے پیدا کر سکتا ہے۔
افزائشِافلاس
پوری دُنیا میں انتہائی غربت کی زندگی بسر کرنے والے لوگوں کی تعداد—جو سالانہ ۳۷۰ یو.ایس. ڈالر سے بھی کم کماتے ہیں—تقریباً ۳.۱ بلین ہے جو پوری دُنیا کی آبادی کا تقریباً ایک تہائی حصہ ہے۔ بہتیرے ترقیپذیر ممالک میں رہتے ہیں۔ بالخصوص، ان لوگوں کی کافی خوراک، صاف پانی، بہبودِصحت، مناسب رہائش، تعلیم اور روزگار تک رسائی نہیں ہے۔ بیشتر حالتوں میں، وہ جن معاشروں میں رہتے ہیں اُنہی میں اُنکو کمتر سمجھا جاتا ہے اور وہ اپنے حالات کو بدلنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اقوامِمتحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے مطابق، انتہائی غربت کی زندگی بسر کرنے والے لوگوں کی تعداد ہر سال تقریباً ۲۵ ملین کی شرح سے بڑھ رہی ہے۔
یورپ میں نشہبازی
منشیات کے جائز اور ناجائز استعمال کی بابت مطلع کرنے کیلئے مقررکردہ ایک نئی یورپی تنظیم نے حال ہی میں اپنی پہلی سالانہ رپورٹ شائع کی۔ فرنچ روزنامہ لی مونڈ کے مطابق، اُنکے جائزے نے انکشاف کِیا کہ یورپین یونین میں ”۵،۰۰،۰۰۰ سے لیکر ایک بلین کے درمیان“ ہیروئن کے عادی ہیں۔ اگرچہ یورپ کے بڑے بڑے شہروں میں ہیروئن کا نشہ بڑھتا ہوا دکھائی نہیں دیتا یا کم ہو رہا ہے، پھربھی یہ چھوٹےچھوٹے قصبوں میں بڑھ رہا ہے۔ حشیش اور بھنگ جیسی نشہآور اشیاء ابھی تک یورپ میں بہت زیادہ استعمال ہوتی ہیں۔ ماہرین نامنہاد پھلوں کے رس کی بڑھتی ہوئی مانگ کی بابت پریشان ہیں جس میں ادویات اور الکحل کیساتھ منشیات ملائی جاتی ہیں۔ شمالی یورپ میں، ایمفیٹامائنز، ایکسٹیسی (میتھمفیٹامائن مستخرج) اور ایلایسڈی نوجوانوں میں بےحد مقبول ہیں۔
”دُبلےپن کا ظلم“
”دُبلےپن کے ظلم کا مقابلہ کرنا“ کی شہسُرخی کے تحت، دی آئرش ٹائمز رپورٹ دیتا ہے: ”نوجوان لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد غذائی خبط کے باعث انیمیا کے مرض میں مبتلا ہو رہی ہے۔“ ڈاکٹروں نے اس رُجحان کی بابت گہری تشویش کا اظہار کِیا ہے۔ بعض حالات میں ”اثرپذیر نوجوان لوگوں پر اُنکے تباہکُن اثر کیلئے“ فیشن انڈسٹری پر الزام لگایا جاتا ہے۔ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ ایک پُشت پہلے اوسط فیشن ماڈل کا وزن عام عورت سے ۸ فیصد کم ہوتا تھا۔ آجکل یہ ۲۳ فیصد کموزنی ہوتی ہیں۔ دی آئرش ٹائمز بیان کرتا ہے کہ ”ہڈیوں کا ڈھانچہ ہونا بہت مقبول ہے اور نہایت دُبلاپتلا—زرد رنگ، کمعمر، عدمِاشتہا . . .—کو اب عام معیار خیال کِیا جاتا ہے۔“ اس رواج کے مطابق بننے کے دباؤ کے تحت، دُبلےپن کی تلاش میں بہت سی نوجوان لڑکیاں ایسی خوراک کا انتخاب کر لیتی ہیں جو اُنہیں ضروری فولاد، لحمیات اور حیاتین سے محروم کر دیتی ہے۔
بائبل میں غیرمتوقع دلچسپی
”ڈینش زبان میں نئے عہدنامے [مسیحی یونانی صحائف کے ترجمے] کی نصف ملین کاپیاں تقسیم کی گئی ہیں—کوپنہیگن کے تقریباً ۹۸ فیصد گھرانوں میں ایکایک،“ ایاینآئی بلیٹن رپورٹ پیش کرتا ہے۔ یہ سب کچھ کوپنہیگن کی ۱۹۹۶ میں یورپی ثقافتی مرکز ہونے کی حیثیت کے جشن کا حصہ تھا۔ بہتیروں نے یہ پیشگوئی کی تھی کہ کوپنہیگن کے ۱۰ اور ۲۰ فیصد کے قریب گھرانے اس تحفے کو قبول کرنے سے انکار کرینگے۔ تاہم، ڈینش بائبل سوسائٹی کے جنرل سیکرٹری، مورڈن اوگر کے مطابق، ”صرف ایک یا دو فیصد گھرانوں“ نے اس پیشکش سے انکار کِیا۔ ۱۹۹۸ میں، اسٹاکہوم، سویڈن کیلئے بھی ایسی ہی تقسیم کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
عمربھر کا دوست
جرمنی میں، ۱۰ میں سے ۹ لوگوں کا کہنا ہے کہ اُن کا کوئی عمربھر کا دوست ہے، نساؤاشی نوئے پریسی نے رپورٹ دی۔ اسکا انکشاف ایک سروے سے ہوا جو ایمپریکل سائنٹیفک سوشل ریسرچ کی سوسائٹی نے کِیا تھا جس میں ۱۶ اور ۶۰ سال کے درمیان کی عمر کے ۱،۰۰۰ سے زیادہ لوگوں سے سوال کئے گئے تھے۔ رابطے اور دیانتداری کو دائمی دوستی کے عوامل میں سب سے اہم خیال کِیا گیا تھا۔ جتنے بھی لوگوں کا انٹرویو لیا گیا اُن سب نے اس بات پر اتفاق کِیا کہ بیوفائی اور دغابازی ایسی دوستی کو قطعی طور پر ختم کر دینگی۔ اخبار کے مطابق، ”صرف ۱۶ فیصد ہنگامی صورتحال میں اچھے دوست سے اُدھار پیسے ملنے کی توقع کرتے ہیں۔“ دوسری جانب، اکثریت کی نظر میں بیماری کے وقت کسی دوست کی مدد زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔
روزانہ پھل کھائیں
برٹش میڈیکل جرنل میں شائعکردہ، ۱۱،۰۰۰ لوگوں کے ۱۷سالہ مطالعے کے مطابق، روزانہ تازہ پھل کھانے سے امراضِقلب کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ مطالعے میں شامل لوگوں میں سے جو ہر روز تازہ پھل کھاتے تھے، اُن میں عارضۂقلب کے باعث واقع ہونے والی اموات میں ۲۴ فیصد کمی تھی اور فالج کے باعث ہونے والی اموات میں ۳۲ فیصد کمی تھی۔ اکثروبیشتر پھل نہ کھانے والوں کے مقابلے میں روزانہ پھل کھانے والے لوگوں میں ۲۱ فیصد کم اموات واقع ہوئیں۔ برطانوی اور ہسپانوی سائنسدانوں کی ایک ٹیم بیان کرتی ہے کہ ایسی غذائیں جن میں تازہ پھل اتنا استعمال نہیں کِیا جاتا وہ فالج اور دل کی بیماریوں جیسے وریدی امراض میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ زیادہ اچھی صحت کیلئے، محققین اب ایک دن میں کمازکم پانچ مرتبہ سبزیاں اور پھل کھانے کی سفارش کرتے ہیں۔ برٹش میڈیکل جرنل کے مطابق، اگر تازہ پھل اور سبزیاں دستیاب نہ ہوں توپھر فریج کے پھل اور سبزیاں بھی وہی فوائد پہنچا سکتے ہیں۔
سٹھیائے ہوئے مریضوں کی دیکھبھال کرنا
”گرم دلیا، پُرسکون موسیقی اور بڑی احتیاط سے آراستہ کِیا گیا ماحول کوئی نئی طبّی دریافتیں نہیں ہیں بلکہ یہ عمررسیدہ لوگوں کے طریقۂنگہداشت کو بدل رہے ہیں،“ کینیڈا کا دی گلوب اینڈ میل بیان کرتا ہے۔ مریضوں کو نہلانے اور کھلانے کے طریقے میں سادہ اور ارزاں تبدیلیاں اُنکی گھبراہٹ اور پریشانی کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ مثال کے طور پر، رپورٹ نے بیان کِیا کہ کھانے کے وقت پر کھانے کی ہر قسم کو علیٰحدہعلیٰحدہ کر کے پیش کرنا مریض کی اس پریشانی کو ختم کر دیتا ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ کونسا پہلے کھائے جو اکثر سٹھیائے ہوئے کسی مریض کیلئے گھبراہٹ کا باعث بنتا ہے۔ نئے طریقے آزمانے کیلئے رضامندی مریضوں کی طرف سے مزاج بدلنے والے علاج کیلئے استعمال کی جانے والی ادویات میں نمایاں کمی پر منتج ہوئی ہے۔
تمباکونوشی سے بھی زیادہ خطرناک؟
کینیڈا کے اعدادوشمار کے مطابق، ”ایسا طرزِزندگی جس میں ہر وقت بیٹھا رہنا پڑے سگریٹنوشی کی نسبت صحت کیلئے دُگنا خطرہ پیدا کرتا ہے،“ دی میڈیکل پوسٹ رپورٹ دیتا ہے۔ جبکہ کینیڈا کے تقریباً سات ملین لوگوں کو تمباکونوشی کے باعث صحت کے سنگین مسائل اور فوری موت کا تجربہ ہوتا ہے، ۱۴ ملین اور ۱۷ ملین کے درمیان لوگ ورزش کی کمی کے باعث صحت کے ایسے ہی خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ وقت، توانائی اور محرک کی کمی کا باقاعدہ ورزش کی راہ میں رُکاوٹ ڈالنے والے بنیادی عناصر کے طور پر ذکر کِیا گیا ہے۔ ہر وقت بیٹھے رہنے والے لوگ غالباً زیادہ چکنائیاں اور پھل اور سبزیاں کم استعمال کرنے کی طرف بھی مائل ہوتے ہیں۔ پوسٹ بیان کرتا ہے، ”دل کیلئے اُمیدافزا فوائد حاصل کرنے کیلئے موجودہ نصبالعین لوگوں کو تقریباً ہر دوسرے دن اعتدال سے یا شدت سے کمازکم ۳۰ منٹ ورزش کی طرف مائل کرنا ہے۔“