ہمارے قارئین کی طرف سے
تفریح کرنا میری عمر ۱۲ سال ہے اور مَیں اس مضمون سے واقعی لطفاندوز ہوئی ہوں کہ ”نوجوان لوگ پوچھتے ہیں . . . دوسرے نوجوانوں کو ہی کیوں تمامتر تفریح کا موقع ملتا ہے؟“ (جولائی ۲۲، ۱۹۹۶) مَیں بھی یہی سوال پوچھا کرتی تھی۔ میرے سکول میں کوئی ضیافتوں، رقص اور دیگر سرگرمیوں کیلئے اندراج کروا سکتے ہیں۔ اکثر میرا بھی جانے کو جی چاہتا تھا۔ لیکن مضمون نے یہ بات سمجھنے میں میری مدد کی کہ مَیں اپنے انتخابات کیلئے یہوواہ کے حضور جوابدہ ہوں۔ اسلئے مَیں اپنے مسیحی دوستوں کی صحبتوں میں رہا کرونگی۔
اے. ایس.، ریاستہائے متحدہ
بعضاوقات مجھے [بائبل مصنف] آسف جیسے احساسات کا تجربہ ہوا تھا، جیسےکہ آپ نے بھی مضمون میں بیان کِیا ہے۔ اس مضمون نے مجھے اضافی قوت عطا کی جسکی مجھے سکول کے مسائل کا مقابلہ کرنے کیلئے ضرورت تھی۔
اے. ایس.، جاپان
یہ سچ ہے کہ بعض نوجوان احساسِتنہائی یا احساسِمحرومیت کا شکار ہوتے ہیں کیونکہ اُنہیں دُنیاوی پارٹیوں میں شریک ہونے کی ”اجازت“ نہیں ملتی۔ لیکن تمام یہوواہ کے گواہوں کے بچے ایسا محسوس نہیں کرتے! ذاتی طور پر، مجھے بہت سے ایسے کاموں سے نفرت ہے جو دُنیاوی پارٹیوں میں کئے جاتے ہیں اور میرے مسیحی دوستوں کا بھی یہی خیال ہے۔ ہم—اور بِلاشُبہ بہت سے دیگر لوگ—احساسِمحرومیت کا شکار نہیں ہیں!
کے. ایچ.، ریاستہائےمتحدہ
بریوری گلچ مَیں آپ کو یہ بتانے کیلئے خط لکھ رہی ہوں کہ مَیں مضمون ”بریوری گلچ میں روحانی پھول کھل اُٹھے“ سے کتنا محظوظ ہوئی ہوں۔ (جولائی ۲۲، ۱۹۹۶) اس نے اُن ۲۱ مہینوں کی خوشگوار یادیں تازہ کر دیں جو مَیں نے کچھ سال پہلے وہاں گزارے تھے۔ مَیں پہلی دفعہ اپنے گھر سے دُور گئی تھی۔ مضمون میں جن چند ایک خاندانوں—سمتھ، گریفن اور پائس کے خاندان—کا آپ نے ذکر کِیا وہ میرے لئے ماں، باپ، آنٹی اور انکل ثابت ہوئے۔ اُنہوں نے پُختہ مسیحی بننے میں میری مدد کی۔ مضمون پڑھنے سے میرے اندر خواہش اُبھری کہ کاش مَیں پھر وہاں جا سکوں۔ مَیں اُن سب کو بڑی محبت اور احسانمندی سے یاد کرتی ہوں۔
پی. اے.، ریاستہائےمتحدہ
کساوا پتے مضمون ”کساوا پتے—لاکھوں کیلئے روز کی خوراک“ کیلئے آپ کا بہت شکریہ۔ (جولائی ۸، ۱۹۹۶) افریقہ میں کساوا کو بہت اہم خیال کِیا جاتا ہے کیونکہ یہ صدیوں سے ہماری اوّلین غذا رہا ہے۔ نائجیریا میں ہم پتوں کی بابت تو اتنا علم نہیں رکھتے مگر یہ اُس پودے کی جڑ ہے جس سے ہمیں گارے اور فوفو جیسے ہمارے پسندیدہ کھانے حاصل ہوتے ہیں۔ یہ جاننا دلچسپی کی بات تھی کہ دُنیا کے دیگر حصوں میں پتے صرف دوائی کیلئے ہی نہیں بلکہ اشتہاانگیز کھانوں کیلئے بھی استعمال کئے جاتے ہیں۔ کساوا پیدا کرنے کیلئے یہوواہ کا شکریہ!
جے. ایس. ای.، نائجیریا
تبدیلشُدہ ترجیحات مجھے آپ کو ضرور بتانا چاہئے کہ مضمون ”اُس نے اپنی ترجیحات کیوں بدل دیں“ سے مجھے کتنی حوصلہافزائی حاصل ہوئی۔ (جولائی ۲۲، ۱۹۹۶) مَیں نے ۱۳ سال سے زیادہ عرصہ مبشر کی حیثیت سے کُلوقتی خدمت انجام دی ہے اور ہماری دُنیا میں جس کے اندر ہر لمحہ تکلیف میں اضافہ ہوتا ہے ترجیحات قائم کرنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ ہر سال کُلوقتی خدمت کو جاری رکھنا اَور زیادہ مشکل چیلنج بنتا جاتا ہے۔ اس بات کی بابت سوچنے سے کہ جرمی نے کُلوقتی خادم بننے کی غرض سے جنگلی حیات کیلئے مخصوص علاقے کے نگران کا اچھاخاصا پیسوں والا پیشہ چھوڑ دیا مجھے یقین ہوا کہ خدمتگزاری کو اپنی زندگی میں اوّلین درجہ دینا قابلِقدر کوشش ہے۔
این. سی.، ریاستہائےمتحدہ
روزنِرحم مجھے حال ہی میں معلوم ہوا کہ مَیں حاملہ ہوں۔ ایک غلط طبّی طریقۂکار کی وجہ سے اس بات کا خدشہ تھا کہ میرا بچہ پیدائشی نقائص کیساتھ پیدا ہوگا۔ آپ کے مضمون ”روزنِرحم“ (اگست ۸، ۱۹۹۶) نے میری یہ فیصلہ کرنے میں مدد کی کہ بچے کو ضائع نہ کرایا جائے۔ مجھے یہ رسالہ میرے حاملہ ہونے کی خبر ملنے سے ایک ہفتہ پہلے حاصل ہوا۔
ایم. سی.، ریاستہائےمتحدہ
عسرالقراۃ آپ کے مضمون ”عسرالقراۃ کی مایوسی پر غالب آنا“ کیلئے آپ کا بہت بہت شکریہ۔ (اگست ۸، ۱۹۹۶) اپنی ساری زندگی میں مجھے یہ معلوم تھا کہ مجھ میں کوئی نقص ہے لیکن کبھی یہ معلوم نہیں تھا کہ کیا۔ تھوڑی دیر پہلے ہی دماغی فسادِفعل کے مرض کے ماہر نے تشخیص کی کہ مجھے عسرالقراۃ کا مرض لاحق ہے۔ اب میں پڑھائی میں مدد کیلئے اپنی سبابہ کو استعمال کرنا سیکھ رہی ہوں۔
پی. سی.، ریاستہائےمتحدہ