ہم پکے دوست ہیں
دس سالہ کالے رنگ کی لیبراڈور ریٹریور ٹریسی میری گائیڈ ڈوگ [راہنمائی کرنے والی کتیا] ہے۔ اُسکی بدولت مَیں صحیح طرح اِدھراُدھر آ جا سکتی ہوں۔ وہ میری ساتھی ہے اور مجھے آراموسکون بھی پہنچاتی ہے۔ لہٰذا اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ مَیں اُسے بہت چاہنے لگی ہوں اور یہ کہ ہم دونوں پکے دوست ہیں۔
بعضاوقات، غیرارادی طور پر، انسان کسینہکسی طرح مایوس کر دیتے ہیں جو ٹریسی نہیں کرتی۔ مثال کے طور پر، ایک دن مَیں ٹریسی کو گھر چھوڑ کر اپنی سہیلی کے ہمراہ سیر کو چلی گئی۔ ہم ہنستے مسکراتے آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ اچانک مَیں گِر پڑی۔ میری سہیلی یہ بھول گئی کہ مَیں نابینا ہوں اور اسلئے اُس نے مجھے پشتے کی بابت کچھ بھی نہ بتایا۔ اگر ٹریسی میرے ساتھ ہوتی تو کبھی ایسا نہ ہوتا۔
ایک مرتبہ تو ٹریسی نے واقعی میری جان بچائی۔ مَیں ایک بازار سے گزر رہی تھی کہ اچانک ایک ٹرک بےقابو ہو کر میری طرف بڑھنے لگا۔ مجھے اُسکے انجن کی آواز تو سنائی دے رہی تھی مگر یہ نہیں دیکھ سکتی تھی کہ وہ کس طرف سے آ رہا ہے۔ ٹریسی نے دیکھا اور خطرے کو بھانپ لیا اور فوراً ایک طرف کھینچ کر مجھے بچا لیا۔
نابینا مگر بینا
مَیں ۱۹۴۴ میں سویڈن کے جنوبی حصے میں پیدا ہوئی اور پیدائش کے دن سے ہی مَیں نابینا ہوں۔ مجھے نابینا بچوں کے ایک بورڈنگ سکول میں داخل کر دیا گیا جہاں مَیں نے بریل کی مدد سے پڑھنا لکھنا سیکھا۔ موسیقی میری زندگی کا اہم حصہ بن گئی بالخصوص پیانو بجانا۔ ہائی سکول سے فارغالتحصیل ہونے کے بعد، مَیں نے گاٹبورگ کی یونیورسٹی میں زبانوں اور موسیقی کی تعلیم جاری رکھی۔
تاہم، میری زندگی اُس وقت ہمیشہہمیشہ کیلئے بدل گئی جب دو یہوواہ کے گواہ یونیورسٹی کیمپس میں میرے دروازے پر آئے۔ جلد ہی مَیں نے گواہوں کے اجلاسوں پر حاضر ہونا شروع کر دیا اور جوکچھ مَیں سیکھ رہی تھی اُسکی بابت دوسروں سے گفتگو کرنا بھی شروع کر دیا۔ ۱۹۷۷ میں، مَیں نے پانی میں بپتسمہ لیکر یہوواہ خدا کیلئے اپنی مخصوصیت کا اظہار کِیا۔ جسمانی طور پر نابینا ہونے کے باوجود، خدا کے کلام کا مطالعہ کرنے سے مجھے ایک بیشقیمت چیز حاصل ہوئی—روحانی بینائی۔
آج مَیں خود کو اُن سب لوگوں سے بہتر سمجھتی ہوں جو جسمانی طور پر دیکھ سکتے ہیں مگر روحانی طور پر اندھے ہیں۔ (مقابلہ کریں یوحنا ۹:۳۹-۴۱۔) مَیں خدا کی نئی دُنیا کی واضح ذہنی تصویر سے خوش ہوں جہاں اُسکے وعدے کے مطابق اندھوں کی آنکھیں وا کی جائینگی—جیہاں، جہاں سب جسمانی کمزوریوں سے شفا بخشی جائیگی اور جہاں مُردوں کو بھی زندہ کِیا جائیگا!—زبور ۱۴۶:۸؛ یسعیاہ ۳۵:۵، ۶ اعمال ۲۴:۱۵۔
اگرچہ مَیں غیرشادیشُدہ اور جسمانی طور پر نابینا ہوں مگر ٹریسی جیسی وفادار ساتھی کے ساتھ میرا وقت کافی اچھا گزر جاتا ہے۔ آئیے مَیں آپ کو بتاؤں کہ وہ میری ملازمت اور یہوواہ کی گواہ کے طور پر اپنی خدمتگزاری کو انجام دینے میں کیسے میری مدد کرتی ہے۔ (متی ۲۴:۱۴؛ اعمال ۲۰:۲۰؛ عبرانیوں ۱۰:۲۵) لیکن پہلے خود ٹریسی کی بابت چند اَور باتیں۔
خاص تربیت کیلئے منتخب
جب ٹریسی کی عمر صرف آٹھ ماہ تھی تو اُسے اس چیز کیلئے پرکھا گیا کہ آیا وہ گائیڈ ڈوگ بننے کے لائق ہے یا نہیں۔ وہ بہت سی خوبیوں کی مالک ثابت ہوئی جیسےکہ وہ پُرسکون تھی، اُسے آسانی سے سکھایا جا سکتا تھا اور وہ اچانک شور سے بھی نہیں گھبراتی تھی۔ اسلئے، پھر اُسے کچھ عرصہ کیلئے ایک خاندان کیساتھ رکھا گیا تاکہ یہ سیکھ سکے کہ عام خاندانی زندگی کیسی ہوتی ہے۔ بعدازاں جب وہ کچھ پُختہ ہو گئی تو اُسے گائیڈ ڈوگز کے تربیتی سکول میں بھیج دیا گیا۔
اس سکول میں ٹریسی نے وہ سب کچھ سیکھا جسکا ایک گائیڈ ڈوگ سے تقاضا کِیا جاتا ہے یعنی دروازے، سیڑھیاں، گیٹ اور راستے تلاش کرنے میں اپنے ہونے والے مالک کی مدد کرنا۔ اُس نے مصروف شاہراؤں پر چلنا اور سڑکیں پار کرنا بھی سیکھا۔ اُسے یہ بھی سکھایا گیا کہ جب کوئی کنارہ آئے تو رُک جائے، ٹریفک اشاروں کی پابندی کرے اور خطرناک رُکاوٹوں سے مڑ کر دوسری سمت چلی جائے۔ پانچ ماہ کی تربیت کے بعد وہ کام کیلئے تیار تھی۔ اُس وقت پھر ٹریسی کا مجھ سے تعارف کرایا گیا۔
ٹریسی میرے لئے کیا کیا کرتی ہے
ہر صبح ٹریسی مجھے جگاتی ہے تاکہ مَیں اُسے کھانا کھلا سکوں۔ پھر ہم کام کیلئے تیار ہوتے ہیں۔ میرا دفتر میرے فلیٹ سے تقریباً ۲۰ منٹ کی مسافت پر ہے۔ یقیناً، مجھے راستہ معلوم ہے مگر ٹریسی کا کام ہے کہ گاڑیوں، لوگوں، کھمبوں اور دیگر چیزوں سے ٹکرائے بغیر وہاں پہنچنے میں میری مدد کرے۔ جب ہم پہنچ جاتے ہیں تو وہ میرے ڈیسک کے نیچے لیٹ جاتی ہے۔ پھر، کھانے کے وقفے میں، ہم اکثر سیر کیلئے نکل جاتے ہیں۔
شام کے وقت، کام سے گھر واپس لوٹنے کے بعد ہمارے دن کا سب سے بہترین حصہ شروع ہوتا ہے۔ اس وقت ٹریسی گھرباگھر کی منادی کے کام میں اور اُن گھروں تک پہنچنے میں میری مدد کرتی ہے جہاں مَیں بائبل مطالعے کراتی ہوں۔ بیشتر لوگ اُسے پیار کرتے ہیں، اُس پر ہاتھ پھیرتے اور گلے لگاتے ہیں اور بعضاوقات تو مجھے اُسے کچھ کھلانے کیلئے چیزیں بھی دیتے ہیں۔ ہم ہر ہفتے مسیحی اجلاسوں پر بھی جاتے ہیں۔ ان کے بعد بچے ٹریسی سے ملتے ہیں بغلگیر ہوتے ہیں جس سے وہ بہت خوش ہوتی ہے۔
مَیں جانتی ہوں کہ ٹریسی محض ایک کتیا ہے اور وہ کسینہکسی دن مر جائیگی۔ اسکا مطلب ہے کہ آخرکار مجھے اپنی راہنمائی کیلئے ایک اَور کتا حاصل کرنا ہوگا۔ لیکن، ابھی تک تو ہم ایک ٹیم ہیں اور ہمیں ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔ جب ٹریسی آسپاس نہ ہو تو مَیں اپنی بابت عدمیقینی کا شکار ہو جاتی ہوں اور جب وہ میری راہنمائی نہیں کر پاتی تو وہ بہت پریشان اور بیتاب ہو جاتی ہے۔
سمجھنے کی ضرورت
حیرانی کی بات ہے کہ بعضاوقات لوگ ہمیں جُدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ ٹریسی کو ایک عام سی کتیا یا پالتو جانور خیال کرتے ہیں اور ہمارے گہرے رشتے کو نہیں سمجھتے۔ ان لوگوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ٹریسی میرے لئے اتنی ہی اہم ہے جتنیکہ ایک مفلوج شخص کیلئے ویلچیئر۔ ہمیں جدا کرنا میری آنکھیں چھین لینے کے مترادف ہوگا۔
دوسرے لوگ میرے اور ٹریسی کے رشتے کو جتنا زیادہ سمجھیں گے اُتنے ہی مسائل کم پیدا ہونگے۔ مثال کے طور پر، ویلچیئر کو تو آسانی سے قبول کر لیا جاتا ہے لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ گائیڈ ڈوگ کو ہمیشہ قبول نہیں کِیا جاتا۔ بعض لوگ یا تو کتوں سے ڈرتے ہیں یا پھر اُنہیں پسند نہیں کرتے۔
گائیڈ ڈوگز کی بابت نابینا حضرات کی سویڈش تنظیم کی طرف سے شائعکردہ کتابچے میں پائی جانے والی معلومات نہایت مفید ہیں۔ وہ بیان کرتا ہے: ”نابینا شخص کے لئے گائیڈ ڈوگ ایک چلتیپھرتی مدد ہے۔ جیہاں، اس سے بھی بڑھکر۔ یہ ایک زندہ مدد ہے۔. . . یہ ایک ایسا دوست ہے جو آپ کو کبھی مایوس نہیں کریگا۔“
واقعی، ٹریسی اندھیرے میں میرے لئے آنکھوں کا کام کرتی ہے اور اس وقت جتنا ممکن ہو سکے وہ نارمل زندگی گزارنے میں میری مدد کرتی ہے۔ پھربھی، مجھے یقین ہے کہ بہت جلد، خدا کی موعودہ نئی دُنیا میں، مَیں تخلیق کے تمام کرشموں کو دیکھنے کے قابل ہونگی۔ لہٰذا، مَیں اب اپنی روحانی بینائی برقرار رکھنے کا عزم کئے ہوئے ہوں۔
پس، ٹریسی کا سر میری گود میں ہے، اور اب ہم واچٹاور میگزین کے تازہترین شمارے کی ریکارڈنگ سننے کے لئے تیار ہیں۔—این-ماری ایوالڈسن کی زبانی۔