یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو97 8/‏7 ص.‏ 24-‏25
  • ڈِجریڈو اور اسکے دلکش سُر

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ڈِجریڈو اور اسکے دلکش سُر
  • جاگو!‏—‏1997ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • منفرد آواز
  • ڈِجریڈو بنانا
  • میں کیسے موسیقی کو اس کے مقام پر رکھ سکتا ہوں؟‏
    جاگو!‏—‏1993ء
  • موسیقی ہم پر کیوں اثرانداز ہوتی ہے
    جاگو!‏—‏1999ء
جاگو!‏—‏1997ء
جاگو97 8/‏7 ص.‏ 24-‏25

ڈِجریڈو اور اسکے دلکش سُر

آسٹریلیا میں جاگو!‏ کے مراسلہ‌نگار سے

آئیے ہمارے ساتھ آسٹریلیا کے شمالی علاقے میں، اسکے مرکزی شہر ڈاروِن سے چند گھنٹوں کی مسافت پر، ایک اَبریجنل محفلِ‌شبینہ پر چلیں۔ قبائلی جنگ سے پہلے منعقد ہونے کی بجائے بہت سی جدید محافلِ‌شبینہ خاص طور پر سیاحوں کیلئے منعقد کی جاتی ہیں۔ ہم ایسی ہی محفل پر حاضر ہونے جا رہے ہیں۔‏

محفل کے شرکاء اپنے جسموں پر گاڑھا رنگ کئے چپ‌چاپ اس انتظار میں کھڑے رہتے ہیں کہ موسیقی اُنہیں اپنا رقص شروع کرنے کا اشارہ دے۔ اچانک موسیقی شروع ہوتی ہے اور زوردار، تھاپوں کی آواز سے اس صحرا کی تاریکی کا سکوت ٹوٹ جاتا ہے۔ دو چھڑیاں بجانے سے ساز میں اضافہ کِیا جاتا ہے—‏ڈِجریڈو پر بجنے والی موسیقی کیساتھ لکڑی کی دو چھوٹی چھڑیوں کو بیک‌وقت آپس میں ٹکرایا جاتا ہے۔‏

بیرونِ‌آسٹریلیا شاید چند لوگوں نے ڈِجریڈو کو سنا ہو، یہ ایک آلۂ‌موسیقی ہے جو آسٹریلین اَبریجنی تک محدود ہے۔ یہ عموماً یوکلپٹس [‏سفیدے]‏ کے درخت کی کھوکھلی شاخ سے بنایا جاتا ہے اور اسکی ترجیحی لمبائی تین سے پانچ فٹ ہوتی ہے۔ سازندہ مخصوص حلقے میں ایک طرف زمین پر بیٹھ جاتا ہے اور اپنے ڈِجریڈو—‏بظاہر سادہ مگر دل کو مول لینے والا آلہ—‏کو پھونکتا ہے۔‏

منفرد آواز

اگرچہ ڈِجریڈو سے مسلسل ایک جیسی آواز نکلتی ہے—‏اسے موزوں طور پر ”‏یک‌آواز تُرم“‏ کہا گیا ہے—‏یہ پیچیدہ تال اور ہیجان‌خیز آوازیں پیدا کر سکتا ہے۔ ایک لمحے اس میں سے سولو آواز نکل رہی ہوتی ہے تو دوسرے ہی لمحے یہ مکمل سازینے کی مانند، زور اور انداز میں اثرآفرین ہو سکتا ہے۔‏

۲۰۰ سال قبل یورپی لوگوں کے آسٹریلیا آنے سے بھی پہلے، ڈِجریڈو صرف اَبریجنی لوگوں میں مقبول تھا جو براعظم‌نما جزیرے کے شمالی حصوں میں مارےمارے پھرتے تھے۔ یہ رات کی محفلوں پر تخلیق کی بابت اَبریجنل داستانوں کی رقص میں اداکاری کرنے کیلئے ساز فراہم کرتا تھا۔ اُس وقت، اچھا ڈِجریڈو بجانے والوں کی بڑی عزت کی جاتی تھی اور آجکل بھی اسے بجانے میں مہارت رکھنے والے کو قبیلے کا نامی‌گرامی رُکن سمجھا جاتا ہے۔‏

ماہر سازندے ڈِجریڈو کی بنیادی سُروں میں جانوروں اور پرندوں کی آوازیں بھر دیتے ہیں۔ کوکابُرا کی ہنسی؛ آسٹریلین جنگلی کتے یا ڈنگو کی چیخ؛ فاختہ کی مدھر آواز؛ اور بہت سی دیگر آوازیں اُنکی ماہرانہ نقالی کا حصہ ہیں۔‏

دی نیو گروّ ڈکشنری آف میوزک اینڈ میوزیشنز ڈِجریڈو بجانے والے کی بابت کہتی ہے:‏ ”‏اُسکی صفات میں زبان کا صحیح اور پھرتیلا استعمال، سانس پر مکمل قابو، ٹیوب کے آخری حصے پر ہونٹوں کی مکمل گرفت اور موسیقی کا شاندار حافظہ شامل ہیں۔.‏ .‏ .‏ اگرچہ اُسکے پاس ٹیکنالوجی اور خام‌مال کی کمی ہوتی ہے اور وہ باجے، بانسری، سلائیڈ یا انگشتی سوراخوں کے تصور سے واقف نہیں ہوتا، [‏اَبریجنی لوگوں]‏ نے پھربھی ایک سادہ سے آلے کو اپنے موسیقی کے تخیل اور اعلیٰ درجے کی دستی مہارتوں کی مدد سے موسیقی کا ایک شاندار آلہ بنا دیا ہے۔“‏

بِلاشُبہ ڈِجریڈو موسیقی کا نہایت شاندار عنصر اسکا باقاعدہ سُر یا یکساں آواز ہے۔ اس سے بجانے والے کے پھیپھڑوں کا قطعی زور ظاہر ہوتا ہے کیونکہ ایک ہی وقت میں موسیقی میں دس منٹ تک کوئی وقفہ نہیں آتا۔‏

ڈِجریڈو بنانا

تیزبینی کیساتھ، ایک مقامی دستکار مناسب سخت لکڑی کے درخت، ترجیحاً یوکلپٹس، کیلئے خودرَو جنگل میں مارامارا پھرتا ہے۔ اگرچہ نرم لکڑی استعمال کی جا سکتی ہے، سخت لکڑی اُونچے سُر نکالنے کیلئے اچھی ہوتی ہے۔ درخت کو دیمک کے ٹیلوں کے قریب واقع ہونا چاہئے کیونکہ دیمک ہی ڈِجریڈو کے اصل انجینیئر ہوتے ہیں۔ وہ موسیقی کے اس آلے کیلئے استعمال ہونے والی شاخوں کو کھوکھلا کرتے ہیں۔‏

شاخ کا انتخاب کرنے کے بعد اسے حسبِ‌ضرورت لمبائی کے مطابق کاٹا جاتا ہے۔ منتخب شاخ ہی مکمل آلے کی آواز کا تعیّن کرتی ہے۔ پھر چھال اُتاری جاتی ہے، چٹخنے سے بچانے کیلئے چھال کے نیچے کی نرم لکڑی کو چھیل دیا جاتا ہے اور اندر سے صفائی کی جاتی ہے۔ اگر دیمک کافی زیادہ گودا کھا گئی ہے تو پھر اس میں سے ایک بڑا سکہ گزرنا ممکن ہوگا۔ اگلا مرحلہ سجاوٹ کا ہوتا ہے جو نہایت جاذبِ‌نظر ہو سکتی ہے۔ لیکن ابھی تک ڈِجریڈو بجانے کیلئے تیار نہیں ہے۔‏

سازندے کے مُنہ کی جِلد لکڑی سے مسلسل رگڑ کھا کر چھل جائیگی۔ اس لئے ڈِجریڈو کے شروع میں موم لگائی جاتی ہے اور یوں یہ ایسے طریقے سے مکمل ہو جاتا ہے جو سازندے کی جِلد کیلئے نقصاندہ نہیں ہوتا۔ تاہم، آجکل زیادہ‌تر ڈِجریڈو نرم لکڑی سے فیکٹری میں تیار کئے جاتے ہیں۔ لیکن فیکٹری کے بنے ہوئے ڈِجریڈو قدرتی سخت لکڑی کے بنے ہوؤں کی منفرد آواز اور سُر کی نسبت کہیں کمتر ہوتے ہیں۔‏

پس، یونہی محفلِ‌شبینہ اپنے اختتام کو پہنچتی ہے اور ستاروں بھرے آسمان تلے ہماری گرم‌سیر شام بھی ختم ہو جاتی ہے، اب سے ہم ڈِجریڈو کو تجسّس کی نگاہ سے نہیں دیکھینگے۔ واقعی، ڈِجریڈو کے سحرانگیز سُر آسٹریلیا کی سرزمین کے موسیقی سے لگاؤ رکھنے والے مقامی لوگوں کیلئے باعثِ‌فخر ہیں۔‏

‏[‏صفحہ 24 پر تصویر]‏

ڈِجریڈو رنگ‌برنگا ہو سکتا ہے

‏[‏صفحہ 25 پر تصویر]‏

ابریجنل محفلِ‌شبینہ

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں