چرنوبل کی تیرگی میں پُختہ اُمید
یوکرائن میں جاگو! کے مراسلہنگار سے
اپریل ۲۶، ۱۹۸۶ کو چرنوبل، یوکرائن کے نیوکلیئر پاور پلانٹ میں تاریخ کا بدترین حادثہ واقع ہوا۔ بعدازاں اُسی سال، اُس وقت کے سویت صدر، میخائل گورباچوف نے بیان کِیا کہ سانحہ ایک بھیانک یادگار ہے کہ ”نوعِانسان کا ابھی تک اُن زبردست قوتوں پر کوئی اختیار نہیں ہے جنہیں اِس نے دریافت کیا ہے۔“
چرنوبل کی تباہی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے، فروری ۱۹۸۷ کے سائیکالوجی ٹوڈے کے جرمن ایڈیشن نے بیان کِیا: ”چرنوبل میں ریایکٹر کی تباہی . . . جدید تہذیب کی تاریخ میں ایک نقطۂانقلاب تھا۔ نیز یہ ایک ایسی آفت تھی جو صدیوں تک ہمیں کافی زیادہ متاثر کریگی۔“ دی نیو یارک ٹائمز نے بیان کِیا کہ ”جتنے بھی ایٹمی تجربات اور بم دھماکے کبھی ہوئے ہیں اُن سے کہیں زیادہ ریڈیائی مادّے کا دُنیا کی ہوا، زمینی سطح اور پانی میں [اخراج ہو چکا ہے]۔“
جرمن اخبار ہینوورشے آلگمائنے نے پیشازوقت بتا دیا تھا کہ ”آئندہ ۵۰ سال کے دوران تمام دُنیا کے اندر تقریباً ۶۰،۰۰۰ لوگ سویت ریایکٹر کے پگھلنے کے نتیجے میں کینسر سے مر جائیں گے . . . اِسکے علاوہ مزید ۵،۰۰۰ کو سنگین توارثی نقصان پہنچے گا اور کوئی ۱،۰۰۰ پیدائشی طبّی نقائص میں مبتلا ہونگے۔“
چرنوبل حادثے نے خوف، پریشانی اور بےیقینی کی فضا پیدا کر دی جس نے سینکڑوں افراد کی زندگیاں تاریک کر دی ہیں۔ تاہم، بعض انتہائی تیرگی میں پُختہ اُمید سے لطف اُٹھاتے ہیں۔ روڈنک خاندان پر غور کریں، جو وکٹر اور اینا اور اُنکی دو بیٹیوں، الینا اور انجاہ پر مشتمل ہے۔ اپریل ۱۹۸۶ میں روڈنکس پریپٹ میں، چرنوبل ریایکٹر سے دو میل سے بھی کم فاصلے پر رہائشپذیر تھے۔
حادثے کا دن
ہفتے کی اُس المناک صبح، نقصانزدہ ریایکٹر کی جگہ پر آگ بجھانے والے آدمیوں کی دلیرانہ کارروائی نے مزید سنگین نقصان سے بچایا۔ گھنٹوں میں ہی آگ بجھانے والے آدمی ریڈیائی علالت سے بیمار پڑ گئے اور بعدازاں اُنکی بڑی تعداد ہلاک ہو گئی۔ ۱۹۷۰ کے دہے میں چرنوبل میں تعینات ڈپٹی چیف انجینئر، گریگوری میڈویڈیو، اپنی کتاب برنڈ سولز میں بیان کرتا ہے: ”چھوٹے سے جنگل پر تابکاری بارش برساتے ہوئے، بادل صنوبر کے درختوں والے چھوٹے علاقے کے پار نکل گئے جو ریایکٹر کے علاقے کو شہر سے جدا کرتا ہے۔“ رپورٹ کے مطابق تابکاری مادّے کے کئی ٹن بخارات ہوا میں تحلیل ہو گئے تھے!
غیرمعمولی طور پر، ۴۰،۰۰۰ سے زیادہ نفوس پر مشتمل شہر، پریپٹ میں زندگی اُس ہفتے کے دن معمول کے مطابق رواںدواں دکھائی دی۔ بچے گلیوں میں کھیل رہے تھے اور لوگ یکم مئی کو سویت تعطیل منانے کیلئے تیار تھے۔ حادثے کی بابت نہ تو کوئی اعلان کِیا گیا اور نہ ہی خطرے سے آگاہ کِیا گیا تھا۔ اینا روڈنک اپنی تین سالہ بیٹی، الینا کے ساتھ چہلقدمی کر رہی تھی، جب اینا کا سوتیلا باپ اُنہیں ملا۔ اُسے حادثے کی بابت پتہ چل چکا تھا۔ ریڈیائی خطرے سے خوفزدہ، وہ اُنہیں کار میں کوئی دس میل دُور اپنے گھر لے گیا۔
ریڈیائی بادل فضا میں چھا گئے اور یوکرائن کے پار، بائلورسیا (موجودہ بائلورس) روس اور پولینڈ، نیز جرمنی، آسٹریا اور سوئٹزرلینڈ کے اُوپر سینکڑوں میل تک پھیل گئے تھے۔ اگلے سوموار کو جب سویڈن اور ڈنمارک کے سائنسدانوں نے ریڈیائی تابکاری کی بلند شرحیں ریکارڈ کیں تو وہ پریشان ہو گئے۔
مابعدی اثرات
روسی فوجیوں، آگ بجھانے والا عملہ، ماہرینِتعمیرات اور دیگر لوگوں کو چرنوبل روانہ کر دیا گیا۔ یہ گروہ—تقریباً ۶۰۰،۰۰۰ کی کُل تعداد کیساتھ—”جانبازوں“ کے طور پر مشہور ہو گیا۔ اُنہوں نے نقصانزدہ ریایکٹر کو دس منزلہ اُونچے اور چھ فٹ موٹے سٹیل اور کنکریٹ کے تابوت میں بند کرنے سے یورپ کو اس سے بھی بدترین حادثے سے بچا لیا۔
اگلے چند دنوں کے اندراندر قربوجوار کے علاقے خالی کرا لئے گئے۔ ”ہمارا جوکچھ بھی تھا—کپڑے، روپیہپیسہ، دستاویزات، خوراک—سب کچھ پیچھے چھوڑتے ہوئے ہمیں اپنے گھروں سے نکل جانا پڑا تھا،“ وکٹر نے وضاحت کی۔ ”ہم بڑے پریشان تھے اِسلئےکہ اینا ہمارے دوسرے بچے کے حمل سے تھی۔“
تقریباً ۱۳۵،۰۰۰ لوگوں کو نقلمکانی کرنا پڑی تھی—ریایکٹر کے قریبقریب تقریباً ۲۰ میل تک کی آبادیوں کو خالی کر دیا گیا تھا۔ روڈنکس اپنے رشتےداروں کے پاس چلے گئے۔ تاہم، وہ رشتےدار خوفزدہ ہو گئے کہ روڈنکس تابکاری اثرات اُن میں بھی پھیلا دینگے۔ ”وہ پریشان ہو گئے،“ اینا نے کہا، ”اور آخرکار اُنہوں نے ہمیں چلے جانے کیلئے کہا۔“ دیگر پناہگزینوں کو بھی اِسی طرح کے اذیتناک تجربات سے گزرنا پڑا تھا۔ آخرکار، ستمبر ۱۹۸۶ میں روڈنکس ماسکو، روس سے تقریباً ۱۱۰ میل دُور جنوبمغرب، کالوگا میں دوبارہ آباد ہو گئے۔
”بالآخر ہمیں سمجھ آ گئی کہ وہاں واپس جانے کی کوئی اُمید نہیں تھی،“ اینا نے بیان کیا۔ ”ہم اپنا پیارا آبائی گھر کھو چکے تھے جہاں ہم پیدا ہوئے اور ہم نے پرورش پائی تھی۔ یہ ایک خوبصورت علاقہ تھا جہاں کھاڑیوں میں کنول کے ساتھساتھ پھولوں اور سبزہزاروں کا قالین بچھا ہوا تھا۔ جنگل بیریز اور مشرومز سے بھرا ہوتا تھا۔“
نہ صرف یوکرائن کا حسن بگڑ گیا تھا بلکہ سویت یونین کے گندم پیدا کرنے والے خطے کے طور پر اِسکی زرخیزی بھی متاثر ہوئی تھی۔ اُس موسمِخزاں میں مُلک کی بیشتر فصل آلودہ ہو گئی تھی۔ اِسی طرح، سکینڈینیوا میں، رینڈیر کے ۷۰ فیصد گوشت کو کھانے کیلئے مُضر قرار دیا گیا تھا کیونکہ جانوروں نے شعاعوں سے متاثرہ گھاس چر لی تھی۔ اور جرمنی کے بعض حصوں میں، آلودگی کے ڈر کے پیشِنظر سبزیوں کو سڑنے کیلئے کھیتوں میں چھوڑ دیا گیا تھا۔
ریڈیائی شعاؤں کے صحت پر اثرات
حادثے کے پانچ سال بعد حکومت کی طرف سے شائع ہونے والے اعدادوشمار نے ظاہر کِیا کہ ۵۷۶،۰۰۰ لوگ شعاؤں سے متاثر ہوئے تھے۔ ایسے اشخاص میں سرطانی اور غیرسرطانی دونوں طرح کی بیماریوں کے واقعات کی شرح زیادہ بلند بیان کی جاتی ہے۔ بالخصوص نوجوان متاثر ہوئے ہیں۔ دسمبر ۲، ۱۹۹۵ کے نیو سائنٹسٹ میگزین نے رپورٹ دی کہ یورپ میں تھائیرائیڈ کے معروف ماہرین میں سے ایک کا خیال ہے کہ ”ایک سال سے کمعمر بچوں کا کمازکم ۴۰ فیصد چرنوبل سے ریڈیائی شعاعوں کے بکثرت گرنے سے متاثر ہوا تھا جنہیں بالغوں کے طور پر تھائیرائیڈ کینسر لاحق ہو سکتا ہے۔“
اینا پر چونکہ اپنے حمل کے دوران ریڈیائی شعاؤں کا اثر ہوا تھا اِسلئے ڈاکٹروں نے اُس پر اسقاط کرانے کیلئے زور دیا۔ جب وکٹر اور اینا نے انکار کر دیا تو اُنہیں ایک اقرارنامے پر یہ وعدہ کرتے ہوئے دستخط کرنے پڑے تھے کہ وہ بچے کی دیکھبھال کرینگے خواہ وہ اپاہج ہی پیدا ہو۔ اگرچہ انجاہ اپاہج نہیں ہے تو بھی اُسکی دُور کی نظر کمزور ہے، اُسے تنفّسی مسائل اور کارڈیوویسکیولر بیماریاں ہیں۔ علاوہازیں، روڈنک خاندان کے دیگر ارکان کی صحت تباہی کے بعد سے خراب ہوئی ہے۔ وکٹر اور الینا دونوں کو دل کا عارضہ ہے اور اینا اُن بہت سے لوگوں میں سے ایک ہے جن کا اندراج چرنوبل کے حادثے سے معذور ہونے والے لوگوں کی فہرست میں ہے۔
شعاؤں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں وہ جانباز تھے جنہوں نے نقصانزدہ ریایکٹر کو بند کِیا تھا۔ صفائی کرنے کے کام میں مدد دینے والے ہزارہا لوگوں کی بابت کہا جاتا ہے کہ وہ طبعی موت سے پہلے مر گئے ہیں۔ بچنے والوں میں سے متعدد کو اعصابی اور نفسیاتی شکایات پیدا ہو گئی ہیں۔ افسردگی عام بات ہے اور خودکُشی غیرمعمولی بات نہیں ہے۔
بچنے والوں میں سے ایک الِٹاچُننیلا ہے جسے صحت کے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ تباہی کے وقت، وہ چرنوبل سے ۵۰ میل سے زیادہ دُور، یوکرائن کے دارالحکومت، کیایو میں، رہائشپذیر تھی۔ لیکن بعدازاں، اُس نے ریایکٹر کی جگہ پر متاثرین کو اشیائے خوردونوش پہنچانے میں وقت صرف کِیا۔ بچنے والوں میں سے ایک اَور کیایو کے نزدیک، ارپن میں رہنے والی سیوطلانہ، کو کینسر لاحق ہو گیا اور اُسے جراحی کے عمل سے گزرنا پڑا۔
ماضی پر غور کرنا
اپریل ۱۹۹۶ میں، بڑے حادثے کے دس سال بعد، میخائل گورباچوف نے تسلیم کِیا: ”ہم اس طرح کی صورتحال کیلئے تیار نہیں تھے۔“ اُسکے ساتھ ہی، روس کے صدر یلسن نے بیان کِیا: ”انسانوں کو کبھی بھی اتنے بڑے حادثے کا تجربہ نہیں ہوا جسکے اثرات اسقدر سنگین ہیں اور اُنہیں زائل کرنا نہایت مشکل ہے۔“
سائنٹیفک امریکن کے جرمن ایڈیشن نے، معنیخیز طور پر چرنوبل تباہی کے مابعدی اثرات کا درمیانے درجے کی نیوکلیئر جنگ کے نتائج سے موازنہ کِیا۔ بعض لوگ حادثے کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد تقریباً ۳۰،۰۰۰ بتاتے ہیں۔
گزشتہ سال کی ایک اخباری رپورٹ کے مطابق، حادثے کی دسویں سالگرہ تک، ابھی بھی پلانٹ کے چوگرد ۱۸ میل کا علاقہ تھا جو انسانی زندگی کیلئے ناموزوں ہے۔ تاہم، رپورٹ نے بیان کِیا کہ ”۶۴۷ پُرعزم باشندے چپکے سے، حکام کو رشوت دیکر یا علیالاعلان اسی خطے میں واپس آ گئے ہیں۔“ اِس نے بیان کِیا: ”پلانٹ کے ۶ میل کے حلقے کے اندر قعطاً کوئی نہیں رہتا۔ اِسکے چوگرد ایک اَور ۱۲ میل چوڑی پٹی ہے جہاں چند سو لوگ واپس آ گئے ہیں۔“
عمومی خوف میں اعتماد
جو کبھی چرنوبل کے نزدیک رہا کرتے تھے اُن میں سے کئی ہزار لوگوں کیلئے زندگی بڑی کٹھن رہی ہے اور ابھی تک ہے۔ پناہگزینوں کے ایک سروے نے آشکارا کِیا کہ ۸۰ فیصد اپنے نئے گھروں میں ناخوش ہیں۔ وہ افسردہ، ماندہ، بےآرام، زودرنج اور تنہا محسوس کرتے ہیں۔ چرنوبل محض نیوکلیئر حادثہ نہیں تھا—یہ ایک بہت بڑا معاشرتی اور نفسیاتی بحران تھا۔ اِس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ بہتیرے لوگ واقعات کا ماقبل چرنوبل یا مابعد چرنوبل کے طور پر حوالہ دیتے ہیں۔
دیگر بہت سے لوگوں کے برعکس، روڈنکس خاندان نے صورتحال پر شاندار طریقے سے قابو پا لیا ہے۔ اُنہوں نے یہوواہ کے گواہوں کیساتھ بائبل کا مطالعہ کرنا شروع کر دیا اور، نتیجتاً راستباز نئی دُنیا کے سلسلے میں خدا کے کلام میں پائے جانے والے وعدوں پر مضبوط ایمان پیدا کر لیا ہے۔ (یسعیاہ ۶۵:۱۷-۲۵؛ ۲-پطرس ۳:۱۳؛ مکاشفہ ۲۱:۳، ۴) اِسکے بعد، ۱۹۹۵ میں، وکٹر اور اینا نے اپنی مخصوصیت کی علامت میں پانی میں بپتسمہ لیا۔ بعدازاں اُنکی بیٹی الینا نے بھی بپتسمہ لے لیا۔
وکٹر وضاحت کرتا ہے: ”بائبل کے مطالعے نے ہمیں اپنے خالق، یہوواہ خدا اور زمین پر نوعِانسان کے متعلق اُسکے مقاصد کی بابت جاننے کے قابل بنایا۔ اب ہم افسردہ نہیں ہیں کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ جب خدا کی بادشاہت آئیگی تو ایسے حادثات دوبارہ کبھی رونما نہیں ہونگے۔ ہم اُس وقت کے منتظر ہیں جب چرنوبل کے قریب ہمارے پیارے گھر کے اِردگِرد کا دیہی علاقہ اپنی ناقص حالت سے بحال ہو کر ایک شاندار فردوس کا حصہ بن جائیگا۔“
الِٹاچُننیلا اور سیوطلانہ بھی جو راستباز نئی دُنیا کی بابت خدا کے وعدوں پر بھروسہ رکھتی ہیں، ریڈیائی شعاؤں کی وجہ سے اپنی بیماریوں کے باوجود ایک روشن نقطۂنظر رکھتی ہیں۔ الِٹاچُننیلا نے بیان کِیا ”خالق اور اُسکے مقاصد کے علم کے بغیر زندگی مشکل ہوتی ہے۔ لیکن یہوواہ کے ساتھ قریبی رشتہ رکھنا مثبت نظریہ رکھنے میں میری مدد کرتا ہے۔ میری خواہش ہے کہ بائبل کے کُلوقتی مناد کے طور پر اُسکی خدمت کو جاری رکھوں۔“ سیوطلانہ نے اضافہ کِیا: ”میرے مسیحی بھائی بہن میرے لئے بڑی مدد ہیں۔“
بائبل کے مطالعے نے ایسے لوگوں پر آشکارا کِیا ہے کہ ناگہانی واقعات ”وقت اور حادثے“ کا مؤجب بنتے ہیں جو ہر جگہ رہنے والے لوگوں پر اور وہ خواہ کوئی بھی ہوں اثرانداز ہوتے ہیں۔ (واعظ ۹:۱۱) لیکن بائبل طالبعلموں نے یہ بھی سیکھ لیا ہے کہ اِس سے قطعنظر کہ اُن کی مصیبتیں خواہ کتنی بھی تباہکُن ہوں، ایسا کوئی نقصان نہیں جسکی یہوواہ تلافی نہیں کر سکتا، کوئی زخم نہیں جسے وہ مندمل نہیں کر سکتا اور ایسا کوئی نقصان نہیں جسکی وہ تلافی نہیں کر سکتا۔
آپ بھی خدا کے وعدوں پر توکل کو بڑھاوا کیسے دے سکتے اور یوں ایک روشن اُمید سے لطف اُٹھا سکتے ہیں؟ بائبل کی کتاب امثال کا مصنف جواب دیتا ہے: ”تاکہ تیرا توکل یہوواہ پر ہی ہو مَیں نے آج کے دن تجھ کو علم عطا کر دیا ہے۔“ (امثال۲۲:۱۹، اینڈبلیو) جیہاں، آپکو باقاعدہ بائبل مطالعے کے ذریعے علم حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ آپکے علاقے میں یہوواہ کے گواہ ایسا کرنے کیلئے آپکی مدد کر کے خوش ہونگے۔ وہ مُفت گھریلو بائبل مطالعے کا پروگرام پیش کرتے ہیں جو آپ کیلئے موزوں وقت اور جگہ پر فراہم کِیا جاتا ہے۔
[صفحہ 14 پر عبارت]
”نوعِانسان نے اتنے بڑے حادثے کا کبھی تجربہ نہیں کِیا جسکے اثرات اسقدر سنگین ہیں کہ اُنہیں زائل کرنا نہایت مشکل ہے۔“ روس کے صدر یلسن
[صفحہ 15 پر عبارت]
چرنوبل محض نیوکلیئر حادثہ ہی نہیں تھا—یہ ایک بہت بڑا معاشرتی اور نفسیاتی بحران تھا۔