قابلِتقلید نمونہ
چلی میں جاگو! کے مراسلہنگار سے
جاکومو کاسٹیلی کا اینٹوفاگاسٹا، شمالی چلی میں تقریباً ۱۷۰،۰۰۰ نفوس پر مشتمل شہر میں ایک اپارٹمنٹ ہے۔ گزشتہ جون میں اُس نے اپنی بالکونی سے مقامی پارک میں لوگوں کے ایک گروپ کو دیکھا۔ ”اپنے والدین کیساتھ ہنستے مسکراتے اور لطفاندوز ہونے والے اِن نوجوانوں کی بابت کیا چیز ناقابلِیقین تھی،“ اُس نے ایل مرکرایو اخبار کو ایک خط میں لکھا۔ اس غیرمعمولی منظر کو دیکھنے کیلئے وہ اُتر کر پارک میں گیا۔
”مجھے ایک اَور حیرانی بھی ہوئی،“ متجسس مصنف نے بیان کِیا۔ ”جب بعض خاندانوں نے اپنا دوپہر کا کھانا ختم کِیا تو اُنکے ہر فرد نے ہر چیز اُٹھانا شروع کر دی جو اتفاقاً لان پر گر گئی تھی اور کچرے کی اپنیاپنی تھیلی میں ڈال لی۔. . .
”مَیں جاننا چاہتا تھا کہ یہ غیرمعمولی لوگ کون تھے،“ مصنف بیان کو جاری رکھتا ہے۔ ”مَیں ایک خوبصورت لڑکی کے پاس گیا جوکہ مقابلہحسن آسانی سے جیت سکتی تھی اور اُس نے مجھے بڑے پیارے انداز سے بتایا: ’ہم یہوواہ کے گواہ ہیں اور ہم ریجنل سٹیڈیم میں ایک اسمبلی کیلئے جمع ہوئے ہیں۔‘“ دوپہر کے وقفے کے دوران، سرکٹ اسمبلی پر حاضر ۳،۰۰۰ سے زیادہ لوگوں کے گروہ پارک میں اپنا دوپہر کا کھانا کھانے کیلئے گئے تھے۔
”مَیں ایک آپوسٹالک رومن کیتھولک ہوں،“ مصنف نے کہا۔ ”مَیں وفاداری کیساتھ پاک ماس پر حاضر ہوتا ہوں اور سالوں پہلے فرانس میں، لارڈس کی زیارت کیلئے بھی گیا تھا۔
”تاہم، اپنی اعلیٰ مسیحی پرورش کی تعظیم کے ناطے، مجھے دیانتداری سے خود سے پوچھنا چاہئے: اِنکے پاس کیا چیز ہے جو ہم کیتھولکوں کے پاس نہیں جوکہ چلی میں اکثریت کا مذہب ہے؟ یہ نوجوان اپنے والدین کیساتھ اتنے مطمئن کیوں ہیں جبکہ میری تین بیٹیاں جب مَیں اکٹھے باہر جانے کا خیال بھی پیش کرتا ہوں تو مجھ سے دُور بھاگتی ہیں؟
”ہمارے کیتھولک بچے متشدّد کیوں ہیں؛ وہ دوسرے بچوں کو مارتے پیٹتے ہوئے، ’پاور رینجرز‘ کھیلتے ہوئے شور کیوں مچاتے ہیں، . . . جبکہ یہ بچے اَمنپسند، خوشاخلاق اور اپنے آسپاس کے ماحول کا خیال رکھنے والے ہیں؟ ہم کیتھولک نفرتانگیز تجارتی کاموں میں اُلجھے بغیر اجتماعات پر جمع کیوں نہیں ہو سکتے جو ہمارے لا ٹیرانا، اینڈاکویولو اور دوسرے متبرک مقامات جیسی نہایت پاک مذہبی جگہوں پر منعقد کئے جاتے ہیں؟“
مصنف مسٹر کاسٹیلی، اِس سوال کیساتھ اخبار کے نام اپنا خط ختم کرتا ہے: ”کیا ہم جو اپنے آپکو کیتھولک اور مسیحی خیال کرتے ہیں کبھی اُنکی طرح بن جائینگے؟ دُعا ہے کہ خدا اور مقدسہ مریم ایسا کرنے میں ہماری مدد کریں۔“