کونسا مذہب خدا کا منظورِنظر ہے؟
بدقسمتی سے، ۱۶ویں صدی کے فرانس کی مذہبی نفرتیں ختم نہیں ہوئی تھیں۔ اگلی صدی میں، گہرے تعصّبات نے یورپ کے ٹکڑےٹکڑے کر دئے کیونکہ کیتھولک اور پروٹسٹنٹ نے تیس سالہ جنگ (۱۶۱۸-۱۶۴۸) کے دوران لڑائی کے میدانوں کا ایک بار پھر رُخ کر لیا تھا۔ خدا کے نام پر، اقبالی مسیحیوں نے ازسرِنو ایک دوسرے کا کینہپرور قتلِعام شروع کر دیا۔
مذہبی نفرت اور قتلوغارت ختم نہیں ہوئی ہے۔ آئرلینڈ میں کیتھولکوں اور پروٹسٹنٹوں نے حال ہی میں ایک دوسرے کو ذبح کِیا ہے اور آرتھوڈکس کے ارکان اور رومن کیتھولک مذاہب نے بھی سابق یوگوسلاویہ کے علاقے میں ایسا ہی کِیا ہے۔ اگرچہ یہ بات ناقابلِیقین دکھائی دے مگر پھربھی پہلی اور دوسری عالمی جنگوں میں کیتھولک اور پروٹسٹنٹ دونوں نے میدانِجنگ میں اپنے ہی مذاہب کے لاکھوں ارکان کو موت کے گھاٹ اُتارا تھا۔ کیا اس قتلوغارت کا کوئی جواز ہے؟ خدا کا نظریہ کیا ہے؟
جواز ڈھونڈنے کی کوششیں
۱۹۹۵ بریٹینیکا بُک آف دی ائیر بیان کرتی ہے: ”۱۹۹۴ میں مختلف گروہوں نے تشدد کے لئے دینیاتی جواز کا سہارا لیا۔“ ۱،۵۰۰ سال سے بھی زیادہ عرصہ پہلے، کیتھولک فلاسفر ”مُقدس“ آگسٹین نے قتلوغارت کا جواز پیش کرنے کی ایسی ہی کوشش کی تھی۔ نیو کیتھولک انسائیکلوپیڈیا کے مطابق، وہ ”انصاف کی جنگ کے نظریے کا بانی تھا،“ اور انسائیکلوپیڈیا بیان کرتا ہے کہ اُسکی سوچ ’جدید زمانے میں بھی اثرانداز ہوتی ہے۔‘
کیتھولک، آرتھوڈکس اور پروٹسٹنٹ کلیسیاؤں نے خدا کے نام پر قتلوغارت کو نظرانداز کِیا ہے بلکہ اسکی حمایت کی ہے۔ اگرچہ ان مذاہب کی تاریخ خونآلودہ ہے، پوری دُنیا کے بیشتر بڑےبڑے مذاہب کا ریکارڈ بھی کچھ اچھا نہیں ہے۔ توپھر، آپ سچے پرستاروں کی شناخت کیسے کر سکتے ہیں؟
محض اُنکے ایمان کے دعوے کو سننے سے نہیں۔ اس معاملے کی بابت یسوع نے آگاہی دی: ”جھوٹے نبیوں سے خبردار رہو جو تمہارے پاس بھیڑوں کے بھیس میں آتے ہیں مگر باطن میں پھاڑنے والے بھیڑئے ہیں۔ اُنکے پھلوں سے تم اُنکو پہچان لو گے۔ . . . اچھا درخت اچھا پھل لاتا ہے اور بُرا درخت بُرا پھل لاتا ہے۔ . . . جو درخت اچھا پھل نہیں لاتا وہ کاٹا اور آگ میں ڈالا جاتا ہے۔“—متی ۷:۱۵-۲۰۔
اپنے پھلوں سے پہچانے جاتے ہیں
لاکھوں خلوصدل لوگ اب یہ جان گئے ہیں کہ دُنیا کے مذاہب ’گلےسڑے درخت‘ ہیں جنہوں نے بالخصوص خونریز جنگوں کی حمایت کرنے سے ”بُرا پھل“ پیدا کِیا ہے۔ بائبل میں جھوٹے مذہب کی عالمی مملکت کو ایک روحانی کسبی کے طور پر بیان کِیا گیا ہے جو ”بڑا بابل“ کہلاتی ہے۔ بائبل کہتی ہے کہ ”نبیوں اور مُقدسوں اور زمین کے اَور سب مقتولوں کا خون اُس میں پایا گیا۔“—مکاشفہ ۱۷:۳-۶؛ ۱۸:۲۴۔
پس، اُن تمام جنگوں کی حمایت کرنے کی بجائے جن پر مذہبی پیشواؤں نے برکت دی ہے، خدا بہت جلد ایسے مذاہب کی عدالت کریگا جنہوں نے اُسکے نام پر خون کی ندیاں بہائی ہیں۔ وہ بائبل پیشینگوئی کی تکمیل میں ایسا کریگا جو بیان کرتی ہے: ”بابلؔ کا بڑا شہر . . . گِرایا جائیگا اور پھرکبھی اُسکا پتہ نہ ملیگا۔“ جب یہ پُرمسرت واقعہ رُونما ہوتا ہے تو خدا ”بڑی کسبی کا انصاف“ کر چکا ہوگا اور ”اُس سے اپنے بندوں کے خون کا بدلہ“ لے چکا ہوگا۔—مکاشفہ ۱۸:۲۱؛ ۱۹:۲۔
ایسے لوگ جو خدا کے نام پر ہونے والے تمام قتلوغارت سے گھن کھاتے ہیں وہ سوچ سکتے ہیں کہ آیا ایسے مسیحی بھی ہیں جو واقعی بائبل کی اس پیشینگوئی کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں: ”وہ اپنی تلواروں کو توڑ کر پھالیں اور اپنے بھالوں کو ہنسوے بنا ڈالینگے اور قوم قوم پر تلوار نہ چلائیگی اور وہ پھر کبھی جنگ کرنا نہ سیکھینگے۔“ (یسعیاہ ۲:۴) کیا آپ ایسے حقیقی خداپرست لوگوں کو جانتے ہیں جنہوں نے جنگ کو ردّ کِیا ہے؟
خدا کا منظورِنظر مذہب
یونیورسٹی آف مشیگن کے شائعکردہ عمرانیاتی مطالعے بعنوان ”تشدد کا جواز پیش کرنے کی بابت مزید معلومات“ نے بیان کِیا: ”اس صدی کے آغاز سے ہی یہوواہ کے گواہوں نے دو بڑی عالمی جنگوں اور بعدازاں ’سرد جنگ‘ کے دَور کی فوجی جھڑپوں کے دوران اپنے غیرمتشدّد ’مسیحی غیرجانبداری‘ کے مؤقف کو مسلسل برقرار رکھا ہے۔“ گواہوں کے غیرجانبدار رہنے کی وجہ کی نشاندہی کرتے ہوئے مطالعے نے بیان کِیا: ”یہوواہ کے گواہوں کی تعلیم کا ماخذ اُنکا یقینِکامل ہے کہ بائبل خدا کا الہامی کلام ہے۔“
جیہاں، یہوواہ کے گواہ بائبل کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں جو یہ تعلیم دیتی ہے: ”اِسی سے خدا کے فرزند اور ابلیس کے فرزند ظاہر ہوتے ہیں۔ جو کوئی راستبازی کے کام نہیں کرتا وہ خدا سے نہیں اور وہ بھی نہیں جو اپنے بھائی سے محبت نہیں رکھتا۔ . . . ہم ایک دوسرے سے محبت رکھیں۔ اور قاؔئن کی مانند نہ بنیں . . . جس نے اپنے بھائی کو قتل کِیا۔“—۱-یوحنا ۳:۱۰-۱۲۔
یہوواہ کے گواہوں نے اکثر لوگوں کی توجہ دُنیا کے مذاہب کے خون کے جُرم کی طرف دلائی ہے۔ اُنہوں نے بائبل کی اس استدعا کو بھی بارہا دُہرایا ہے: ”اَے میری اُمت کے لوگو! اُس [بڑے بابل] میں سے نکل آؤ تاکہ تُم اُسکے گناہوں میں شریک نہ ہو اور اُسکی آفتوں میں سے کوئی تُم پر نہ آ جائے۔ کیونکہ اُسکے گناہ آسمان تک پہنچ گئے ہیں اور اُسکی بدکاریاں خدا کو یاد آ گئی ہیں۔“—مکاشفہ ۱۸:۴، ۵۔
بہتیرے خلوصدل لوگ جھوٹے مذہب کی عالمی مملکت کو چھوڑ دینے کی بلاہٹ پر دھیان دے رہے ہیں۔ اگر آپ کو مذہب کے نام پر کئے جانے والے تمام قتلوغارت سے شدید صدمہ پہنچا ہے تو ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں کہ جس شخص نے آپ کو یہ رسالہ دیا ہے اُس سے ملاقات کریں یا صفحہ ۵ پر دئے گئے پتوں میں سے کسی ایک پر لکھیں۔ یہوواہ کے گواہ جنگ سے پاک، راستباز نئی دُنیا کی بابت بائبل کے وعدے کو جاننے میں آپ کی مدد کر کے بہت خوش ہونگے۔—زبور ۴۶:۸، ۹؛ ۲-پطرس ۳:۱۳۔
[صفحہ 10 پر تصویر]
”وہ خدا کی پہچان کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر اپنے کاموں سے اُسکا انکار کرتے ہیں۔“ ططس ۱:۱۶