فرانس میں مذہب کے نام پر جنگیں
مارچ ۱، ۱۵۶۲، بروز اتوار، گیز کا نواب اور اُسکا بھائی لورین کا کارڈینل چارلس—فرانسیسی کیتھولک عقائد کے دو سرکردہ رُکن—اپنے مسلح گارڈز کے ساتھ پیرس کے مشرق میں واقع ایک گاؤں، واصی کی جانب سفر کر رہے تھے۔ اُنہوں نے ماس میں شامل ہونے کیلئے واصی کے ایک گرجے میں ٹھہرنے کا فیصلہ کِیا۔
اچانک اُنہوں نے حمد کے گیتوں کی آواز سنی۔ گیت گانے کی آواز اُن سینکڑوں پروٹسٹنٹوں کی تھی جو عبادت کیلئے ایک چاردیواری کے اندر جمع تھے۔ سپاہی زبردستی اندر گھس گئے۔ اس سے پیدا ہونے والی افراتفری کے دوران، ایک دوسرے کی بےعزتی کی گئی اور اسکے بعد پتھراؤ شروع ہو گیا۔ درجنوں پروٹسٹنٹوں کو ہلاک اور سینکڑوں کو زخمی کرتے ہوئے سپاہیوں نے فائر کھول دئے۔
کونسے واقعات اس قتلِعام کا سبب بنے؟ پروٹسٹنٹ ردِعمل کیا رہا؟
تاریخی پسمنظر
۱۶ویں صدی کے پہلے حصے کے دوران، فرانس خوشحال اور گنجان آباد تھا۔ اِس معاشی ترقی اور خوشحالی میں زیادہ روحانی اور برادرانہ طرزِعمل کے کیتھولک عقائد کو عمل میں لانے کیلئے سخت جدوجہد بھی شامل تھی۔ لوگ ایک ایسے چرچ کے خواہاں تھے جو کمامیر مگر زیادہ پاک ہو۔ بعض پادریوں اور انساندوست علماء نے تحریکِاصلاحِکلیسیا سے تقاضا کِیا کہ کمرتبہ پادریوں کی نااہلیت اور اعلیٰ مرتبے کے پادریوں کی طرف سے بدسلوکی کا مقابلہ کِیا جائے۔ ایک پادری جس نے تجدید کیلئے سخت جدوجہد کی وہ کیتھولک بشپ گویلایوم برسونی تھا۔
میوس کے اپنے علاقے میں، برسونی نے صحائف پڑھنے کیلئے سب کی حوصلہافزائی کی۔ اُس نے مسیحی یونانی صحائف کے فرانسیسی زبان میں ایک نئے ترجمے کی مالی کفالت بھی کی۔ جلد ہی پیرس میں، سوربوں یونیورسٹی آف تھیولاجی کے کیتھولک عقائد کے نگران کا غصہ اُس پر بھڑکا اور اُسکی کاوشوں کو ناکام بنا دیا گیا۔ مگر بشپ کو ۱۵۱۵ تا ۱۵۴۷ کے دوران فرانس کے بادشاہ فرانسس I کا تحفظ حاصل تھا۔ اُس وقت بادشاہ اصلاح کی حمایت میں تھا۔
تاہم، فرانسس I نے، چرچ کی تنقید کو صرف اس حد تک برداشت کِیا تاوقتیکہ یہ عوامی نظموضبط اور قومی اتحاد کیلئے خطرہ نہیں تھی۔ ۱۵۳۴ میں، پروٹسٹنٹ انتہاپسندوں نے ایسے پوسٹر لگائے جنہوں نے کیتھولک ماس کو بُتپرستی کے طور پر رد کِیا، حتیٰکہ بادشاہ کی خوابگاہ کے دروازے پر بھی ایک پوسٹر چسپاں کر دیا گیا۔ نتیجتاً، فرانسس I نے ناموافق رویہ دکھایا اور اس بغاوت کو کچلنے کیلئے کارروائی شروع کر دی۔
سفاکانہ خاتمہ
جلد ہی پروٹسٹنٹ سولی پر جلائے جانے لگے۔ بہت سے انساندوست، اُنکے ہمدرد اور نئے پروٹسٹنٹ مذہب کے پیروکار مُلک سے بھاگ گئے۔ حکام نے کتابوں کا احتساب کرنا اور اساتذہ، ناشرین اور پرنٹرز کی نگرانی کرنا شروع کر دی۔
ولندیزیوں نے شدید سرکاری مخالفت کا سامنا کِیا۔ وہ بائبل کی طرف مائل لوگوں کا ایک اقلیتی گروہ تھا جو مُلک کے جنوبمشرق کے غریب دیہاتوں میں رہتے تھے۔ بعض کو سولی پر جلا دیا گیا تھا، سینکڑوں کو قتل کر دیا گیا تھا اور اُنکے تقریباً ۲۰ گاؤں تباہوبرباد کر دئے گئے تھے۔—صفحہ ۶ کے بکس کو دیکھیں۔
کلیسیا میں اصلاح کی ضرورت سے باخبر ہوتے ہوئے، کیتھولک بشپوں کی ایک کونسل کا دسمبر ۱۵۴۵ میں ٹرینٹ، اٹلی میں اجلاس ہوا۔ جب ۱۵۶۳ میں کونسل نے فیصلہ سنایا تو دی کیمبرج ماڈرن ہسٹری کے مطابق، اسکا ”نتیجہ . . . اُن لوگوں کے ہاتھوں کو مضبوط کرنا تھا جو پروٹسٹنٹ مذہب کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کے درپے تھے۔“
ماقبل جنگ
تبدیلیوں کے انتظار سے تھکے ہارے، کیتھولک چرچ کے اندر ہی اصلاحی تحریک کے کئی ایک ارکان نے پروٹسٹنٹ عقائد کی حمایت کر دی۔ تقریباً ۱۵۶۰ میں، لاتعداد فرانسیسی شرفاء اور اُنکے حمایتی یوگاناٹس میں شامل ہو گئے، جیسےکہ اُس وقت پروٹسٹنٹ کو کہا جاتا تھا۔ یوگاناٹس بڑی دلیری سے کلام کرنے لگے تھے۔ بعضاوقات اُنکے اجلاس اشتعالانگیزی اور نفرت کا بنیادی ذریعہ ہوتے تھے۔ مثال کے طور پر، ۱۵۵۸ میں، اُن میں سے ہزاروں لوگ پیرس میں چار دن تک مسلسل مزامیر گانے کیلئے جمع ہوئے۔
اِس سب نے کیتھولک چرچ کے بااثر عہدیداروں اور کیتھولک عوام دونوں کو مشتعل کیا۔ لورین کے کارڈینل چارلس، شاہ ہنری II کے اُکسانے پر، جو اپنے والد، فرانسس I، کا جانشین تھا، جون ۱۵۵۹ میں آکوا کے فرمان کے نفاذ کا اعلان کر دیا گیا۔ اِسکا حلفیہ مقصد ”رسوائےزمانہ لوتھرن اراذل“ کو ختم کرنا تھا۔ یہ پیرس میں یوگاناٹس کے خلاف دہشتناک مہم پر منتج ہوا۔
ہنری II ایک ٹورنامنٹ میں زخمی ہونے کے چند ہفتے بعد وفات پا گیا۔ اُس کے بیٹے، شاہ فرانسس II پر گیز خاندان نے دباؤ ڈالا کہ کٹر پروٹسٹنٹوں کی سزائےموت کے سلسلے میں فرمان پر نظرثانی کی جائے۔ اگلے سال فرانسس II وفات پا گیا اور اُسکے دس سالہ بھائی، چارلس IX کی جگہ اُسکی ماں، کیتھرین ڈی میڈیسس نے حکومت کی۔ پروٹسٹنٹوں کیساتھ میلملاپ رکھنے کی کیتھرین کی حکمتِعملی کو گیزز نے پسند نہیں کیا تھا جو اُنہیں صفحۂہستی سے مٹانے پر تُلے ہوئے تھے۔
۱۵۶۱ میں، کیتھرین نے، پیرس کے نزدیک، پویسے میں ایک سیمینار کا انتظام کِیا، جہاں کیتھولک اور پروٹسٹنٹ علماء جمع ہوئے۔ ۱۵۶۲ میں جاری کردہ فرمان میں، کیتھرین نے پروٹسٹنٹوں کو شہروں سے باہر پرستش کیلئے جمع ہونے کی آزادی دے دی۔ اِس سے کیتھولک غضبناک ہو گئے! اِس چیز نے دو ماہ بعد ہونے والے واقعہ—واصی کے گاؤں کی ایک چاردیواری میں پروٹسٹنٹوں کے قتلِعام کو ہوا دی جیسےکہ پہلے ذکر کِیا گیا ہے۔
پہلی تین جنگیں
واصی میں قتلِعام نے آٹھ مذہبی جنگوں کے پہلے سلسلے کا آغاز کر دیا جس نے فرانس پر ۱۵۶۲ سے لیکر ۱۵۹۰ کے دہے کے وسط تک باہمی قتلِعام کی دہشت طاری کر دی۔ اگرچہ سیاسی اور معاشرتی مسائل بھی اُلجھے ہوئے تھے تَوبھی بنیادی طور پر مذہب نے خونریزی کیلئے تحریک دی تھی۔
دسمبر ۱۵۶۲ میں ڈریوکس میں لڑائی کے بعد، جس نے ۶،۰۰۰ زندگیاں چھین لیں، پہلی مذہبی جنگ ختم ہو گئی۔ ایمبوائس کے اَمن معاہدے نے یوگاناٹ شرفاء کو مخصوص مقامات پر پرستش کرنے کی آزادی دے دی، جس پر مارچ ۱۵۶۳ میں دستخط ہوئے تھے۔
”دوسری جنگ یوگاناٹ کی طرف سے ایک بینالاقوامی کیتھولک سازش کی بابت اندیشوں کی وجہ سے ہوئی،“ دی نیو انسائیکلوپیڈیا بریٹینیکا بیان کرتا ہے۔ اُس وقت، کیتھولک مجسٹریٹ شہریوں کو محض یوگاناٹس ہونے کی وجہ سے بالعموم پھانسی لگا رہے تھے۔ ۱۵۶۷ میں بادشاہ چارلس IX اور اُسکی والدہ، کیتھرین کو گرفتار کرنے کیلئے یوگاناٹ کی جدوجہد نے دوسری جنگ کو ہوا دی تھی۔
پیرس کے باہر، سینٹ ڈینس میں خاص طور پر خونریز لڑائی کا حال بیان کرنے کے بعد، مؤرخین وِل اور ائیریل ڈیورانٹ نے لکھا: ”فرانس ایک بار پھر حیران تھا کہ انسان کے ایسے قتلِعام کا سبب بننے والا یہ مذہب کیسا تھا۔“ جلد ہی، مارچ ۱۵۶۸ میں، لانگجومیو کے اَمن معاہدے نے یوگاناٹس کیساتھ تھوڑی سی رواداری برتنے کی اجازت دے دی جس سے وہ ایمبوائس کے اَمن معاہدے کے تحت پہلے لطف اُٹھا چکے تھے۔
تاہم، کیتھولک سخت غضبناک ہوئے اور اَمن معاہدے کی شرائط کو ماننے سے انکار کر دیا۔ یوں، ستمبر ۱۵۶۸ میں، تیسری مذہبی جنگ چھڑ گئی۔ اس کے بعد کے اَمن معاہدے نے یوگاناٹس کو اَور زیادہ مراعات دے دیں۔ لا روچلی کی بندرگاہ سمیت، مضبوط شہر اُن کے حوالے کر دئے گئے تھے۔ نیز، ایک بڑے مشہور پروٹسٹنٹ شہزادے، ایڈمرل ڈی کولیگنی کو بادشاہ کی کونسل کا رُکن مقرر کر دیا گیا تھا۔ کیتھولک پھر غضبناک ہو گئے۔
”مُقدس“ برتلمائی کے دن پر قتلِعام
تقریباً ایک سال بعد، اگست ۲۲، ۱۵۷۲ کو کولیگنی پیرس میں ایک قاتلانہ حملے سے بچ نکلا جو اُس وقت ہوا جب وہ لوور پیلس سے اپنے گھر کی طرف آ رہا تھا۔ مشتعل پروٹسٹنٹ لوگوں نے دھمکی دی کہ اگر جلد انصاف نہ کِیا گیا تو وہ خود انتقام لینے کے لئے سخت اقدام اُٹھائینگے۔ ایک خفیہ مجلس میں، نوجوان بادشاہ چارلس IX، اُس کی ماں کیتھرین ڈی میڈیسس اور کئی شہزادوں نے کولیگنی کو ختم کرنے کا فیصلہ کِیا۔ کسی بھی انتقامی کارروائی سے بچنے کے لئے اُنہوں نے ناورے کے پروٹسٹنٹ ہنری اور کیتھرین کی بیٹی والوا کی مارگریٹ کی شادی پر حاضر ہونے کے لئے پیرس آنے والے تمام پروٹسٹنٹوں کو قتل کرنے کا حکم دے دیا۔
۲۴ اگست کی رات لوور کے بالکل سامنے، سینٹ جرمین لوسروا نے قتلِعام شروع کرنے کے اشارے کا گھنٹہ بجا دیا۔ گیز کا نواب اور اُس کے آدمی اُس عمارت میں گھس گئے جہاں کولیگنی سو رہا تھا۔ وہاں کولیگنی کو قتل کر کے کھڑکی سے گِرا دیا گیا اور اُس کی لاش کے ہاتھ پیر کاٹ دئے گئے۔ اس کیتھولک نواب نے یہ خبر اُڑا دی: ”ان سب کو مار دو۔ بادشاہ کا یہی حکم ہے۔“
اگست ۲۴ سے ۲۹ تک، دہشتناک مناظر نے پیرس کی گلیوں کو داغدار کر دیا۔ بعض نے دعویٰ کِیا کہ قتل کئے جانے والے ہزاروں یوگاناٹس کے خون سے دریائےسین کا پانی سُرخ ہو گیا۔ دیگر قصبے اپنے ہی خون میں نہا گئے۔ اموات کی تعداد کی بابت اختلاف پایا جاتا ہے بعض کہتے ہیں کہ ۱۰،۰۰۰ اور بعض کہتے ہیں کہ ۱۰۰،۰۰۰؛ تاہم، زیادہتر کمازکم ۳۰،۰۰۰ کے عدد پر متفق ہیں۔
”خود قتلِعام سے زیادہ ہولناک حقیقت،“ ایک مؤرخ بیان کرتا ہے، ”وہ شادمانی تھی جو اس نے پیدا کی تھی۔“ قتلوغارت کا سن کر، پوپ گریگری XIII نے شکرانے کی عبادت کا حکم دیا اور کیتھرین ڈی میڈیسس کو مبارکباد بھیجی۔ اُس نے یوگوناٹس کے قتلوغارت کی یادگار کیلئے ایک خاص میڈل تیار کرنے کا حکم دیا اور اس عبارت کیساتھ قتلِعام کی تصویر بنانے کی اجازت بھی دی: ”پوپ کولیگنی کے قتل سے خوش ہے۔“
خبر کے مطابق، قتلِعام کے بعد، چارلس IX کو خواب میں اُسکے مقتولین دکھائی دیتے تھے اور وہ اپنی نرس کے سامنے چلّاچلّا کر کہتا تھا: ”مَیں نے کتنی بُری مشورت پر عمل کِیا! اَے میرے خدا، مجھے معاف فرما!“ وہ ۲۳ سال کی عمر میں ۱۵۷۴ میں وفات پا گیا اور اُسکا بھائی ہنری III اُسکا جانشین بنا۔
مذہبی جنگیں جاری رہیں
اسی اثنا میں، کیتھولک عوام کو اُن کے پیشواؤں نے یوگاناٹس کیخلاف اُکسایا۔ ٹاؤلوز میں، کیتھولک پادریوں نے اپنے پیروکاروں کو تاکید کی: ”سب کو مار دو، لُوٹ لو؛ ہم تمہارے فادر ہیں۔ ہم تمہاری حفاظت کریں گے۔“ پُرتشدد دباؤ کے ساتھ، بادشاہ، قانونساز مجالس، گورنروں اور کپتانوں نے نمونہ قائم کِیا اور کیتھولک عوام نے پیروی کی۔
تاہم، یوگاناٹس نے جوابی کارروائی کی۔ ”مُقدس“ برتلمائی کے دن پر قتلِعام کے دو ماہ کے اندر اندر، اُنہوں نے چوتھی مذہبی جنگ چھیڑ دی۔ جہاںجہاں وہ تعداد میں کیتھولکوں سے زیادہ تھے وہاں اُنہوں نے بتوں، مسیحمصلوب کے مجسّموں اور کیتھولک چرچز کی الطاروں کو تباہ کر دیا اور بہت سے لوگوں کی جانیں بھی لے لیں۔ ”خدا چاہتا ہے کہ نہ تو شہر بچیں اور نہ ہی اُنکے لوگ،“ فرنچ پروٹسٹنٹازم کے پیشوا، جان کیلون نے اپنے پمفلٹ ڈیکلیریشن ٹو مینٹین دی ٹرو فیتھ میں بیان کِیا۔
مذہب کے نام پر مزید چار جنگیں لڑی گئیں۔ ۱۵۷۶ میں پانچویں جنگ کا انجام یہ ہوا کہ شاہ ہنری III نے اَمن کے معاہدے پر دستخط کر دئے جس سے یوگاناٹس کو فرانس کے ہر حصے میں پرستش کی مکمل آزادی حاصل ہوئی۔ پیرس کے انتہاپسند کیتھولک شہر نے بالآخر بغاوت کر دی اور ہنری III کو نکال دیا جو یوگاناٹس کا بہت زیادہ ہمدرد خیال کِیا جاتا تھا۔ کیتھولکوں نے ایک مخالف حکومت، کیتھولک پاک متحدہجماعت، قائم کر لی جسکا پیشوا گیز کا ہنری تھا۔
آخرکار، آٹھویں جنگ یا تین ہنریوں کی جنگ کا انجام یہ ہوا کہ ہنری III (کیتھولک) نے گیز کے ہنری (کیتھولک) کے خلاف اپنے آئندہ جانشین، ناورے کے ہنری (پروٹسٹنٹ) کے ساتھ الحاق کر لیا۔ ہنری III گیز کے ہنری کو قتل کرانے میں کامیاب ہو گیا مگر اگست ۱۵۸۹ میں ہنری III بھی ایک ڈومینیکن راہب کے ہاتھوں قتل ہو گیا۔ لہٰذا، ناورے کا ہنری جو ۱۷ سال قبل ”مُقدس“ برتلمائی کے دن کے موقعہ پر ہونے والے قتلِعام سے بچ گیا تھا اب شاہ ہنری IV بن گیا۔
چونکہ ہنری IV یوگاناٹ تھا اسلئے پیرس نے اُس کی اطاعت کرنے سے انکار کر دیا۔ پاک کیتھولک متحدہجماعت نے پورے مُلک میں اُس کی مسلح مخالفت کو منظم طریقے سے شروع کر دیا۔ ہنری نے بہت سی جنگوں میں فتح حاصل کی لیکن جب کیتھولکوں کی مدد کے لئے ہسپانوی فوج آئی تو اُس نے بالآخر پروٹسٹنٹازم کو رد کر کے کیتھولک ایمان قبول کر لینے کا فیصلہ کِیا۔ فروری ۲۷، ۱۵۹۴ میں تاجپوشی کے بعد، ہنری پیرس میں آیا جہاں جنگ سے تھکےہارے لوگوں نے اُس کا بادشاہ کے طور پر استقبال کِیا۔
یوں ۳۰ سال سے زیادہ عرصہ کے بعد فرانس کی مذہبی جنگیں اختتام کو پہنچیں جن میں کیتھولک اور پروٹسٹنٹ لوگوں نے وقتاًفوقتاً ایک دوسرے کو قتل کِیا۔ اپریل ۱۳، ۱۵۹۸ میں، ہنری IV نے فرمانِرواداری جاری کر دیا جس نے پروٹسٹنٹ لوگوں کو ضمیر اور پرستش کی آزادی کی اجازت دی۔ پوپ کے مطابق، یہ فرمان ”سب سے بُری چیز تھی کیونکہ اس نے ہر ایک کو ضمیر کی آزادی عطا کی تھی جوکہ دُنیا کی سب سے افسوسناک بات تھی۔“
پورے فرانس میں کیتھولک لوگوں نے محسوس کِیا کہ یہ فرمان ہنری کے اُس وعدے کی خلافورزی ہے کہ وہ اُن کے عقائد کی حمایت کرے گا۔ چرچ نے اُس وقت تک چین کا سانس نہ لیا جبتککہ، تقریباً ایک صدی بعد، لوئس XIV نے یوگاناٹس کے لئے پہلے سے بھی سخت اذیت کا آغاز کرتے ہوئے فرمانِرواداری کو منسوخ نہ کر دیا۔
جنگوں کے نتائج
۱۶ویں صدی کے اختتام پر، فرانس کی خوشحالی کا نامونشان مٹ چکا تھا۔ آدھی سلطنت محصور ہو چکی تھی، لُوٹمار کی نذر ہو چکی تھی، عوضانے میں دی جا چکی تھی یا پھر برباد ہو چکی تھی۔ سپاہی لوگوں سے بہت زیادہ مطالبے کرنے لگے تھے جو ادنیٰ لوگوں کی طرف سے بغاوتوں پر منتج ہوئے۔ پروٹسٹنٹ عوام جسے موت کی سزاؤں، قتلِعام، جلاوطنی اور زبردستی توبہ کرانے سے تباہوبرباد کر دیا گیا تھا بہت کم تعداد کیساتھ ۱۷ویں صدی میں داخل ہوئی۔
بظاہر، کیتھولک فرانسیسی مذہبی جنگیں جیت چکے تھے۔ لیکن کیا خدا نے اُنکی فتح کو برکت بخشی تھی؟ یقیناً نہیں۔ خدا کے نام پر ہونے والے اس خونخرابے سے تنگ آ کر بہتیرے فرانسیسی لوگ مذہب سے باغی ہو گئے۔ یہی لوگ ۱۸ویں صدی کے غیرمسیحی طرزِزندگی کے پیشرو تھے۔
[صفحہ 9 پر عبارت]
”خدا چاہتا ہے کہ نہ تو شہر بچیں اور نہ ہی اُنکے لوگ۔“ فرنچ پروٹسٹنٹازم کے پیشوا نے بیان کِیا
[صفحہ 6 پر بکس/تصویر]
ولندیزی ثابتقدم رہے کس نتیجے کیساتھ؟
۱۲ویں صدی کے فرانس میں پائر والڈس یا پیٹر والڈو نامی ایک دولتمند تاجر تھا۔ اس وقت کے دوران جبکہ رومن کیتھولک چرچ بےبہرہ لوگوں کو بائبل سے ناواقف رکھتا تھا، والڈو نے جنوبمشرقی فرانس کے لوگوں کی عام زبان میں اناجیل اور دیگر بائبل کُتب کے ترجمے کیلئے مالی امداد پیش کی۔ پھر اُس نے اپنا کاروبار چھوڑ دیا اور خود کو انجیل کی منادی کیلئے وقف کر دیا۔ جلد ہی بہت سے لوگ اُسکے ساتھ مِل گئے اور ۱۱۸۴ میں اُسے اور اُسکے رفقاء کو پوپ لوسیاَس III نے چرچ سے نکال دیا۔
ایک وقت آیا کہ بائبل کے دلدادہ منادوں کے یہ گروہ ولندیزیوں کے طور پر مشہور ہو گئے۔ اُنہوں نے ابتدائی مسیحیت کے عقائد اور رسومات کی طرف لوٹ آنے کی حمایت کی۔ اُنہوں نے گناہوں کی معافی، مُردوں کیلئے دُعائیں، اعراف، مریم کی پرستش، ”مُقدسین“ سے دُعائیں، بچوں کے بپتسمے، مسیحمصلوب کے مجسّمے کی عبادت اور استحالہ جیسے روایتی کیتھولک کاموں اور عقائد کو مسترد کر دیا۔ نتیجتاً، ولندیزیوں نے کیتھولک چرچ کے ہاتھوں سخت اذیت اُٹھائی۔ مؤرخ وِل ڈیورانٹ اُس صورتحال کو بیان کرتا ہے جب فرانسس I نے غیرکیتھولکوں کے خلاف مہم چلائی تھی:
”کارڈینل ڈی ٹورنن نے ولندیزیوں پر حکومت کیخلاف باغیانہ سازش میں ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہوئے، علیل، متذبذب بادشاہ کو اس حکمنامے (جنوری ۱، ۱۵۴۵) پر دستخط کرنے کیلئے اُکسایا کہ تمام ولندیزیوں کو جو چرچ تعلیمات کی مخالفت کے قصوروار ہوں جان سے مار دیا جائے۔ . . . ایک ہفتے کے اندر اندر (اپریل ۱۲-۱۸) کئی دیہاتوں کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا گیا؛ اُن میں سے ایک کے اندر ۸۰۰ مردوں، عورتوں اور بچوں کو ذبح کر دیا گیا؛ دو ماہ میں ۳،۰۰۰ کھیت آئے، بائیس گاؤں ملیامیٹ ہو گئے، ۷۰۰ آدمیوں کو چپوؤں والے جہازوں میں بھیج دیا گیا۔ ایک غار میں چھپی ہوئی پچّیس خوفزدہ عورتیں غار کے دہانے پر جلائی گئی آگ کے باعث دم گھٹنے سے ہلاک ہو گئیں۔“
ایسے تاریخی واقعات کی بابت ڈیورانٹ نے تبصرہ کِیا: ”یہ اذیتیں فرانسس کی حکومت کی سب سے بڑی ناکامی تھی۔“ لیکن بادشاہ کی طرف سے ڈھائی جانے والی اذیتوں کے دوران ولندیزیوں کی ثابتقدمی کے مشاہدین پر اس کا کیا اثر ہوا؟ ڈیورانٹ نے لکھا: ”شہیدوں کی جرأتمندی نے اُن کے نصباُلعین کو عزت اور رونق بخشی؛ ہزاروں مشاہدین اس سے اثرپذیر اور حیران ہوئے ہونگے، جنہوں نے شاید ان سنسنیخیز اذیتوں کے بغیر کبھی بھی اپنے پیدائشی ایمان کو بدلنے کی کوشش نہ کی ہوتی۔“
[صفحہ 5 پر تصویر]
واصی کا قتلِعام مذہبی جنگوں کا باعث بنا
[صفحہ 7 پر تصویریں]
”مُقدس“ برتلمائی کا دن، جس کے دوران کیتھولک لوگوں نے ہزاروں پروٹسٹنٹ لوگوں کو ہلاک کر ڈالا
[صفحہ 8 پر تصویریں]
پروٹسٹنٹوں نے کیتھولکوں کو قتل کِیا اور چرچ املاک کو تباہوبرباد کر دیا (اوپر اور نیچے)