خدا کے نام پر قتلوغارت
فرانس میں جاگو! کے مراسلہنگار سے
”ہم خدا کے نام پر قتل کرتے ہیں اور کرتے رہینگے“
مذکورہبالا شہسُرخی کے تحت، انٹرنیشنل ہیرلڈ ٹرائبیون نے لکھا: ”یہ صدی جسے کچھ رجائیت پسند لوگ جہالت سے پاک صدی خیال کرتے ہیں، پہلی صدیوں کی نسبت سب سے زیادہ خدا کے نام پر انسانوں کے ایک دوسرے کو قتل کرنے کے ہولناک میلان سے آلودہ ہے۔“
راقم نے ابتدائی صدیوں کے مذہبی قتلِعام کی مثالوں کا حوالہ دیا۔ اسکے بعد، ۲۰ویں صدی میں واقع ہونے والے قتلوغارت کی نشاندہی کرتے ہوئے، اُس نے یہ نتیجہ اخذ کِیا: ”جوکچھ ہم دیکھتے ہیں وہ گزشتہ زمانوں کی وحشیانہ غیررواداری کا خوفناک تسلسل ہے۔ پرستش سیاسی تشدد اور علاقائی فتح کا جواز ہے۔“
بعض لوگ آجکل کی مذہبی جنگوں کی توجیہ کرنے کی کوشش کرنے کیلئے قدیم اسرائیلیوں کے ہاتھوں خدا کی مرضی سے کنعانیوں کے قتلِعام کا حوالہ دیتے ہیں۔ تاہم، یہ نامنہاد مسیحیوں کیلئے آجکل جنگ لڑنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ کیوں؟ اِسلئےکہ اسرائیلیوں کو براہِراست خدا کی طرف سے شیاطین کے پرستاروں کے خلاف اُسکے راست فیصلے نافذ کرنے والوں کے طور پر عمل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی، جنکی پرستش میں سنگین جنسی بداخلاقی اور بچوں کی قربانی شامل تھی۔—استثنا ۷:۱-۵؛ ۲-تواریخ ۲۸:۳۔
اس بات کا ایک ثبوت کہ قدیم اسرائیل کی جنگیں محض معمولی جھگڑے نہیں تھے بلکہ خدا کی طرف سے قوم کو بخشی گئی معجزانہ فتوحات تھیں۔ مثال کے طور پر، ایک مرتبہ اسرائیلیوں کو نرسنگے، گھڑے اور مشعلیں—جو ہرگز میعاری جنگ کے ہتھیار نہیں، استعمال کرنے کا حکم دیا گیا تھا! ایک اَور موقع پر گانے والوں کو اُس اسرائیلی لشکر کے آگےآگے رکھا گیا جو متعدد اقوام کی حملہآور افواج کے بہت بڑے لشکر کا سامنا کر رہا تھا۔—قضاۃ ۷:۱۷-۲۲؛ ۲-تواریخ ۲۰:۱۰-۲۶۔
مزیدبرآں، بعضاوقات جب اسرائیلیوں نے ایسی جنگیں لڑیں جنکا خدا نے حکم نہیں دیا تھا تو اُنہیں اُسکی برکت حاصل نہیں ہوئی تھی اور یوں اُنہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ (استثنا ۲۸:۱۵، ۲۵؛ قضاۃ ۲:۱۱-۱۴؛ ۱-سموئیل ۴:۱-۳، ۱۰، ۱۱) اسلئے، اسرائیل کی جنگوں کو دُنیائےمسیحیت میں لڑی جانے والی جنگوں کی توجیہ کرنے کیلئے کبھی بھی پیش نہیں کِیا جا سکتا۔
مذہب کے نام پر، ہندوؤں نے مسلمانوں اور سکھوں کے خلاف جنگ کی ہے؛ شیعہ مسلمانوں نے سُنّی مسلمانوں کے خلاف محاذآرائی کی ہے؛ اور سریلنکا میں بدھسٹ اور ہندوؤں نے ایک دوسرے کو ذبح کِیا ہے۔
خدا کے نام پر کشتوخون کی ایک مثال ۱۶ویں صدی کے دوران فرانس میں لڑی جانے والی جنگیں تھیں۔ ان جنگوں کی داستان یورپ میں رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ مذاہب کی تاریخ میں بعض انتہائی خونین واقعات کو تشکیل دیتی ہے۔ آیئے ان جنگوں کا تجزیہ کریں اور دیکھیں کہ ہم ان سے کیا سبق سیکھ سکتے ہیں۔