مناسب توازن آپکی زندگی کو دلکش بنا سکتا ہے
رواداری کافی کی ایک پیالی میں شکر کی مانند ہے۔ مناسب مقدار زندگی کی دلکشی میں اضافہ کر سکتی ہے۔ البتہ ہو سکتا ہے کہ ہم شکر کے معاملے میں تو فیاض ہوں مگر رواداری کے سلسلے میں ہم اکثر کنجوسی سے کام لیتے ہوں۔ کیوں؟
”انسان روادار نہیں ہونا چاہتے،“ مچیگن سٹیٹ یونیورسٹی کے ایسوسیایٹ پروفیسر، آرتھر ایم. ملزر نے لکھا۔ ”جو چیز قدرتی طور پر ظاہر کی جاتی ہے وہ . . . تعصب ہے۔“ پس غیررواداری محض کردار کا ایک ایسا نقص نہیں جو صرف چند لوگوں کو متاثر کرتا ہے؛ فطرتی طور پر ہم سب تنگنظر ہیں کیونکہ تمام انسان ناکامل ہیں۔—مقابلہ کریں رومیوں ۵:۱۲۔
امکانی مداخلت
۱۹۹۱ میں، ٹائم میگزین نے ریاستہائےمتحدہ میں بڑھتی ہوئی تنگنظری کو بیان کِیا۔ مضمون نے ایسے لوگوں کو ”طرزِعمل میں مداخلت کرنے والوں“ کے طور پر بیان کِیا جو ہر شخص پر چالچلن کے اپنے معیاروں کو زبردستی ٹھونسنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جو خود کو انکے مطابق نہیں ڈھالتا اُس کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر، بوسٹن میں ایک خاتون کو اُسکی ملازمت سے برخاست کر دیا گیا کیونکہ اُس نے میکاپ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ لاس اینجلس میں ایک شخص کو اس لئے نوکری سے نکال دیا گیا تھا کیونکہ وہ بہت موٹا تھا۔ دوسروں کو اپنے معیاروں کے مطابق ڈھالنے پر اتنا اصرار کیوں؟
تنگنظر لوگ نامعقول، خودغرض، ضدی اور اِدّعاپسند ہوتے ہیں۔ لیکن کیا زیادہتر لوگ کسی حد تک نامعقول، خودغرض، ضدی یا اِدّعاپسند نہیں ہیں؟ اگر یہ اوصاف ہماری شخصیت میں جڑ پکڑ لیتے ہیں تو ہم تنگنظر بن جائینگے۔
آپ کی بابت کیا ہے؟ کیا آپ کھانے کے سلسلے میں کسی دوسرے کی پسند پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں؟ گفتگو کے معاملے میں، کیا آپ عموماً اپنی بات منوانا چاہتے ہیں؟ ایک گروپ کیساتھ کام کرتے ہوئے، کیا آپ اُن سے یہ توقع کرتے ہیں کہ آپکی مرضی کے مطابق کام کریں؟ اگر ایسا ہے تو اچھا ہوگا کہ اپنی کافی میں کچھ شکر ملا لیں۔
مگر جیسےکہ پہلے مضمون میں ذکر کِیا گیا تھا، غیررواداری جارحانہ تعصب کی شکل بھی اختیار کر سکتی ہے۔ شاید پریشانی ایک عنصر ہے جو غیررواداری کو بڑھا سکتا ہے۔
”غیریقینی کا گہرا احساس“
یہ دریافت کرنے کیلئے ماہرِنسلیات نے انسان کے ماضی کا مطالعہ کِیا ہے کہ نسلی امتیاز کب اور کہاں سے شروع ہوا۔ اُنہوں نے یہ دریافت کِیا ہے کہ اس قسم کی غیررواداری ہمیشہ نظر نہیں آتی نہ ہی یہ ہر مُلک میں ایک جیسی ہوتی ہے۔ جرمن نیچرل سائنس میگزین جیاو بیان کرتا ہے کہ نسلی تفریق بحران کے اوقات میں ظاہر ہوتی ہے جب ”لوگوں میں غیریقینی کا گہرا احساس پیدا ہو جاتا ہے اور وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ اُنکے تشخص کو خطرہ لاحق ہے۔“
کیا ”غیریقینی کا ایسا گہرا احساس“ آجکل بہت عام ہے؟ یقیناً۔ پہلے سے کہیں زیادہ، نوعِانسان یکےبعددیگرے بحران کا شکار ہے۔ بیروزگاری، مہنگائی میں اضافہ، آبادی میں اضافہ، اوزون پرت کا خاتمہ، شہروں میں جُرم، پینے کے پانی کی آلودگی، عالمگیر درجۂحرارت میں اضافہ—ان میں سے کسی کا بھی متواتر خوف پریشانی میں اضافہ کرتا ہے۔ بحران پریشانی کو جنم دیتے ہیں اور حد سے زیادہ پریشانی غیررواداری کا باعث بنتی ہے۔
ایسی غیررواداری مثال کے طور پر بعض ایسے یورپی ممالک میں ظاہر ہوتی ہے جہاں مختلف نسلیاتی اور ثقافتی گروہ باہم مل کر رہتے ہیں۔ ۱۹۹۳ میں، نیشنل جیوگرافک کی طرف سے ایک رپورٹ کے مطابق، مغربی یورپی ممالک اُس وقت ۲۲ ملین سے زائد نقلمکانی کرکے آنے والوں کے میزبان تھے۔ بہتیرے یورپیوں نے مختلف زبان، ثقافت یا مذہب کے ”نئے آنے والوں کی آمد کو ناقابلِبرداشت محسوس کِیا۔“ آسٹریا، بیلجیئم، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، سپین اور سویڈن میں غیرملکیوں کیلئے منفی احساسات بڑھ رہا ہے۔
عالمی لیڈروں کی بابت کیا ہے؟ ۱۹۳۰ اور ۱۹۴۰ کے عشروں کے دوران، ہٹلر نے غیررواداری کو حکومتی پالیسی بنا لیا۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آجکل بعض سیاسی اور مذہبی راہنما اپنے ذاتی اغراضومقاصد کے حصول کیلئے غیررواداری کو استعمال کرتے ہیں۔ آسٹریا، فرانس، آئرلینڈ، روس، روانڈا اور ریاستہائےمتحدہ جیسے ممالک میں ایسی ہی صورتحال رہی ہے۔
بےحسی کے پھندے سے بچیں
اگر ہماری کافی میں شکر کم ہو تو ہم فوراً پہچان لیتے ہیں کہ کسی چیز کی کمی ہے؛ شکر بہت زیادہ ہو جائے تو ہمارے مُنہ میں مٹھاس کا ناگوار ذائقہ آتا ہے۔ رواداری کیساتھ بھی یہی معاملہ ہے۔ ایک شخص کی مثال پر غور کریں جو ریاستہائےمتحدہ کے ایک کالج میں پڑھاتا ہے۔
چند سال پہلے، ڈیوڈ آر. کارلن نے جماعتی مباحثے کو شروع کرنے کا ایک سادہ مگر مؤثر طریقہ تلاش کر لیا۔ وہ یہ جانتے ہوئے اپنے طالبعلموں کے نظریات کو چیلنج کرنے کیلئے مرتب کِیا گیا ایک بیان دیتا کہ وہ اس کے خلاف احتجاج کرینگے۔ نتیجہ ایک زبردست مباحثہ ہوتا تھا۔ تاہم، ۱۹۸۹ میں، کارلن نے لکھا کہ اب وہی طریقہ مؤثر نہیں ہے۔ کیوں نہیں؟ اگرچہ طالبعلم اب بھی اُس کی بات سے متفق نہیں ہوتے تھے لیکن وہ اب بحث کرنے کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔ کارلن نے وضاحت کی کہ اُنہوں نے ”آسان رواداری کا نظریہ“—بےاعتنائی، بےفکر نہ ہونے کا رویہ اختیار کر لیا ہے۔
کیا بےاعتنائی کا رویہ بالکل رواداری کی طرح کا نہیں ہے؟ اگر کوئی بھی شخص اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ دوسرا شخص کیا سوچتا ہے یا کرتا ہے توپھر کوئی معیار نہیں ہیں۔ معیاروں کی عدمموجودگی ہی بےحسی ہے—دلچسپی کا مکمل فقدان۔ معاملات کی ایسی حالت کیونکر واقع ہو سکتی ہے؟
پروفیسر ملزر کے مطابق، بےحسی ایک ایسے معاشرے میں سرایت کر سکتی ہے جو طرزِعمل کے بہت سے مختلف معیاروں کو قبول کرتا ہے۔ لوگ یہ یقین کرنے لگتے ہیں کہ سب طرح کا چالچلن قابلِقبول ہے اور یہ کہ سب کچھ محض ذاتی انتخاب کا معاملہ ہے۔ اسکی بابت سوچنے اور استفسار کرنا سیکھنے کی بجائے کہ کیا قابلِقبول ہے اور کیا نہیں ہے، لوگ ”اکثر بالکل نہ سوچنا سیکھ لیتے ہیں۔“ اُن میں اُس اخلاقی قوت کی کمی واقع ہو جاتی ہے جو ایک شخص کو دوسروں کی غیررواداری کی مزاحمت کرنے کی تحریک دیتی ہے۔
آپکی بابت کیا ہے؟ کیا آپ بعضاوقات خود کو تفکرات سے آزادی کا رویہ اپناتے ہوئے دیکھتے ہیں؟ کیا آپ ایسے لطائف پر ہنستے ہیں جو شہوتپرستی یا کسی نسل سے متعلق ہوتے ہیں؟ کیا آپ اپنے نوعمر بیٹے یا بیٹی کو ایسی ویڈیوز دیکھنے کی اجازت دیتے ہیں جو لالچ یا بداخلاقی کی حمایت کرتی ہیں؟ کیا آپ یہ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کے بچوں کیلئے پُرتشدد کمپیوٹر گیمز کھیلنا ٹھیک ہے؟
اگر بہت زیادہ رواداری دکھائی جاتی ہے تو خاندان یا معاشرے کو ذہنی اذیت کی فصل کاٹنی پڑیگی کیونکہ کسی کو معلوم نہیں—یا کسی کو بھی پرواہ نہیں کہ—کیا دُرست یا کیا غلط ہے۔ یو.ایس. سینیٹر ڈان کوٹس نے ”رواداری کے پھندے کو بےحسی کے طور پر“ بیان کِیا۔ رواداری وسیعاُلنظر ہونے کا باعث بن سکتی ہے؛ حد سے زیادہ رواداری—بےحسی—حماقت کا باعث بن سکتی ہے۔
پس، ہمیں کس چیز سے رواداری برتنی چاہئے اور کس چیز کو مسترد کرنا چاہئے؟ موزوں توازن حاصل کرنے کی کُنجی کیا ہے؟ یہ اگلے مضمون کا موضوع ہوگا۔
[صفحہ 5 پر تصویر]
حالات کیلئے متوازن ردِعمل دکھانے کی کوشش کریں