رواداری ایک سے دوسری انتہا تک
وادیِ کشمیر کے قدرتی حسن نے ۱۶ویں صدی کے ایک مفکر کو یہ کہنے کی تحریک دی: ”اگر زمین پر کہیں کوئی جنت ہے تو وہ یہیں ہے!“ صاف ظاہر ہے کہ اُس نے اس چیز کی بابت سوچا بھی نہیں تھا کہ دُنیا کے اس خطے کیساتھ بعد میں کیا واقع ہوگا۔ گزشتہ پانچ سال کے دوران، حریتپسندوں اور بھارتی فوج کے مابین جھڑپوں میں تقریباً ۲۰،۰۰۰ لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ جرمن اخبار زٹڈوائچی ٹزیٹن اب اُس علاقے کو ”آنسوؤں کی وادی“ کے طور پر بیان کرتا ہے۔ وادیِکشمیر ایک سادہ مگر قیمتی سبق فراہم کرتی ہے: غیررواداری ایک امکانی فردوس کو تباہوبرباد کر سکتی ہے۔
روادار ہونے کا کیا مطلب ہے؟ کولنز کوبلڈ انگلش لینگوئج ڈکشنری کے مطابق، ”اگر آپ روادار ہیں تو آپ دوسرے لوگوں کو اپنے ذاتی میلان یا اعتقادات رکھنے یا کسی خاص قسم کا طرزِعمل ظاہر کرنے کی اجازت دیتے ہیں خواہ آپ اُس سے متفق ہوں یا نہ ہوں اُسے پسند کریں یا نہ کریں۔“ کیا ہی عمدہ خوبی جسے ظاہر کِیا جانا چاہئے! یقینی طور پر ہم ایسے لوگوں کی رفاقت سے خوش ہوتے ہیں جو ہمارے اعتقادات اور رویوں کا احترام کرتے ہیں اگرچہ یہ اُنکے اپنے اعتقادات یا رویوں سے مختلف ہوتے ہیں۔
رواداری سے تعصب تک
رواداری کا متضاد غیررواداری ہے جس میں شدت کے مختلف درجے ہوتے ہیں۔ غیررواداری کا آغاز کسی دوسرے شخص کے طرزِعمل یا کام کرنے کے طریقۂکار کیلئے تنگنظر ناپسندیدگی سے ہو سکتا ہے۔ تنگنظری زندگی سے خوشی کو ختم کر دیتی ہے اور نئے خیالات کیلئے کسی شخص کے ذہن کے دروازے بند کر دیتی ہے۔
مثال کے طور پر، ایک تنگنظر شخص ایک بچے کے پُرجوش جذبے سے بیزار ہو سکتا ہے۔ ایک نوجوان شخص کسی عمررسیدہ شخص کے اپنے خیالات میں محو ہونے سے اُکتا سکتا ہے۔ اگر ایک محتاط شخص کو کسی منچلے کیساتھ کام کرنے کیلئے کہیں تو وہ دونوں غصے میں آ سکتے ہیں۔ یہ بیزاری، اُکتاہٹ اور غصہ کیوں؟ کیونکہ ہر صورت میں، ایک شخص دوسرے شخص کے میلان اور رویے کو برداشت کرنا مشکل محسوس کرتا ہے۔
جہاں غیررواداری ترقی پاتی ہے وہاں تنگنظری فرقہواریت کی حدوں کو چھو سکتی ہے جوکہ کسی گروہ، نسل یا مذہب کیلئے نفرت ہے۔ تعصب فرقہواریت سے بھی بڑھ کر ہے جو خود کو متشدّد نفرت کی صورت میں ظاہر کر سکتا ہے۔ نتیجہ سخت تکلیف اور قتلوغارت ہے۔ ذرا سوچیں کہ صلیبی جنگوں کے دوران غیررواداری کس چیز کا باعث بنی تھی! آجکل بھی، بوسنیا، روانڈا اور مشرقِوسطیٰ میں ہونے والی لڑائیوں میں اہم عنصر غیررواداری ہی ہے۔
رواداری توازن کا تقاضا کرتی ہے اور مناسب توازن برقرار رکھنا آسان نہیں ہے۔ ہم گھڑی کے رقاص کی مانند ایک سرے سے دوسرے سرے کی طرف جھول رہے ہیں۔ کبھیکبھار ہم بہت کم رواداری دکھاتے ہیں؛ کبھیکبھار بہت زیادہ۔
رواداری سے بداخلاقی تک
کیا حد سے زیادہ روادار ہونا ممکن ہے؟ یو.ایس. سینیٹر ڈان کوٹس نے ۱۹۹۳ میں تقریر کرتے ہوئے ”رواداری کے مطلب اور عادت کی بابت نزاع“ کو بیان کِیا۔ اُسکا کیا مطلب تھا؟ سینیٹر نے افسوس ظاہر کِیا کہ رواداری کی آڑ میں بعض لوگ ”اخلاقی سچائی پر، اچھے اور بُرے، دُرست اور غلط پر—ایمان کو بھی چھوڑ دیتے ہیں۔“ ایسے لوگ محسوس کرتے ہیں کہ معاشرہ اچھے اور بُرے طرزِعمل کا فیصلہ کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتا۔
۱۹۹۰ میں، برطانوی سیاستدان لارڈ ہالشم نے لکھا کہ ”دہریت، لاادریت، مادہپرستی، لالچ یا کوئی دوسرے مسلمہ اسباب، اخلاقیات کے زیادہ خطرناک دُشمن نہیں ہیں۔ اخلاقیات کا اصل دُشمن معاشرے میں ہر قسم کی منظم حکومت کے قیام کی مخالفت ہے، حقیقی معنوں میں نیستی پر یقین رکھنا۔“ واضح طور پر اگر ہم نیستی پر یقین رکھتے ہیں تو موزوں طور پر ہمارے طرزِعمل کے کوئی معیار نہیں ہونگے اور یوں سب کچھ روا ہو سکتا ہے۔ لیکن کیا ہر قسم کے چالچلن کو روا رکھنا موزوں ہے؟
ڈنمارک کے ایک ہائی سکول کے پرنسپل کا خیال ہے کہ نہیں۔ اُس نے ۱۹۷۰ کے دہے کے اوائل میں، جانوروں اور انسانوں کے مابین جنسی مباشرت کی منظرکشی کرنے والے فحش شو کی تشہیر کی بابت شکایت کرتے ہوئے پریس کو لکھا۔ ان اشتہاربازیوں کو صرف ڈنمارک کی ”رواداری“ کی وجہ سے اجازت دی گئی تھی۔
واضح طور پر، مسائل بہت کم رواداری دکھانے لیکن بہت زیادہ رواداری دکھانے سے بھی پیدا ہوتے ہیں۔ انتہا کو پہنچنے سے بچنا اور مناسب توازن رکھنا کیوں مشکل ہے؟ براہِمہربانی اگلا مضمون پڑھیں۔
[صفحہ 3 پر تصویر]
بچوں کی غلطیوں کیلئے حد سے زیادہ ردِعمل دکھانا اُن کیلئے نقصاندہ ہو سکتا ہے
[صفحہ 4 پر تصویر]
ہر کام کے لئے جو بچے کرتے ہیں رواداری ظاہر کرنا اُنہیں زندگی کی ذمہداریوں کے لئے تیار نہیں کریگا