لچکدار مگر الہٰی معیاروں کے پابند
”روادار شخص کبھی احمق نہیں ہوتے اور احمق شخص کبھی روادار نہیں ہوتے،“ ایک چینی ضربالمثل بیان کرتی ہے۔ مثل میں سچائی کی جھلک سے زیادہ کچھ پنہاں ہے کیونکہ روادار ہونا ایک چیلنج ہے جو طرزِعمل کے مناسب معیاروں کے پابند ہونے کا تقاضا کرتا ہے۔ لیکن ہمیں کن معیاروں کی پابندی کرنی چاہئے؟ کیا یہ منطقی بات نہ ہوگی کہ نوعِانسان کے صانع کے وضعکردہ معیاروں کی پیروی کی جائے جیسےکہ اُسکے کلام بائبل میں بیان کِیا گیا ہے؟ خدا خود اپنے معیاروں پر کاربند رہنے کا بہترین نمونہ قائم کرتا ہے۔
خالق—ہمارا عظیمترین نمونہ دینے والا
قادرِمطلق خدا، یہوواہ، رواداری میں مکمل طور پر متوازن ہے، نہ تو بہت زیادہ نہ ہی بہت کم رواداری دکھاتا ہے۔ ہزاروں سال سے، اُس نے اُن لوگوں کو برداشت کِیا ہے جو اُس کے نام پر ملامت لاتے ہیں، نوعِانسان کو خراب کرتے ہیں اور زمین کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ پولس رسول نے لکھا جیسےکہ رومیوں ۹:۲۲ میں درج ہے کہ خدا ”غضب کے برتنوں کیساتھ جو ہلاکت کے لئے تیار ہوئے تھے نہایت تحمل سے پیش آیا۔“ خدا اتنے عرصے تک کیوں متحمل رہا ہے؟ کیونکہ اُسکا تحمل ایک مقصد رکھتا ہے۔
خدا نوعِانسان کیساتھ اس لئے متحمل ہے ”کیونکہ وہ کسی کی ہلاکت نہیں چاہتا بلکہ یہ چاہتا ہے کہ سب کی توبہ تک نوبت پہنچے۔“ (۲-پطرس ۳:۹) خالق نے انسانوں کو بائبل فراہم کی ہے اور اپنے خادموں کو حکم دیا ہے کہ طرزِعمل سے متعلق اُسکے معیاروں کا ہر جگہ اعلان کریں۔ سچے مسیحی ان معیاروں کے پابند ہیں۔ لیکن کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ خدا کے خادموں کو ہر طرح کے حالات میں بےلوچ ہونا ہوگا؟
ثابتقدم مگر لچکدار
یسوع مسیح نے ہمیشہ کی زندگی حاصل کرنے کی کوشش کرنے والوں کی ”تنگ دروازہ سے داخل ہونے“ کیلئے حوصلہافزائی کی تھی۔ لیکن تنگ دروازے سے داخل ہونے کا مطلب تنگنظر ہونا نہیں ہے۔ اگر ہم دوسروں کیلئے تحکمانہ یا اِدّعاپسندانہ میلان رکھتے ہیں تو جب ہم اس رغبت پر قابو پا لیتے ہیں تو یہ ہر ایک کیلئے زندگی کو زیادہ خوشگوار بنا دیگا۔ مگر کیسے؟—متی ۷:۱۳؛ ۱-پطرس ۴:۱۵۔
تھیوفانو، ایک یونانی طالبہ جس نے توجیہ کی کہ مختلف پسمنظر کے لوگوں کیساتھ وقت صرف کرنا اُنہیں بہتر طور پر سمجھنے کا باعث بنا تھا، وہ بیان کرتی ہے: ”بجائے اسکے کہ اُنہیں اپنی طرح سوچنے پر مجبور کریں، یہ ضروری ہے کہ ہم اُنکی طرزِفکر تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کریں۔“ لہٰذا، کسی شخص کو بہتر طور پر جاننے کے بعد، ممکن ہے کہ ہم یہ جان لیں کہ کھانے میں اُسکی پسند اور اُس کا تلفظ اُتنا زیادہ مختلف نہیں جیساکہ ہم سوچتے تھے۔ ہمیشہ زیادہ بولنے یا اپنی بات منوانے پر زور دینے کی بجائے، اُس کے نظریات کو سننے سے ہم بہت سی مفید باتیں سیکھتے ہیں۔ واقعی، وسیعاُلنظر لوگ زندگی سے کافی کچھ حاصل کرتے ہیں۔
جب کبھی ذاتی پسند کی بات آتی ہے تو ہمیں لچکدار ہونا چاہئے اور دوسروں کو اپنے انتخابات سے لطفاندوز ہونے کی اجازت دینی چاہئے۔ لیکن جب طرزِعمل ہمارے خالق کی فرمانبرداری کا معاملہ ہے تو ہمیں ثابتقدم ہونا چاہئے۔ قادرِمطلق خدا ہر قسم کے طرزِعمل کو رد نہیں کرتا۔ اُس نے ماضی میں اپنے خادموں کیساتھ اپنے برتاؤ میں اس چیز کا مظاہرہ کِیا۔
حد سے زیادہ روادار ہونے کا پھندا
قدیم اسرائیلی قوم کا سردار کاہن، عیلی، خدا کا ایک خادم تھا جو حد سے زیادہ روادار ہونے کے پھندے میں پھنس گیا تھا۔ اُسکے قوانین کی فرمانبرداری کا اقرار کرتے ہوئے، اسرائیلی یہوواہ کیساتھ ایک عہد کے رشتے میں داخل ہو گئے تھے۔ لیکن عیلی کے دو بیٹے حُفنی اور فینحاس لالچی اور بداخلاق تھے اور قادرِمطلق کی بڑی بےادبی کرتے تھے۔ عیلی، اگرچہ خدا کی شریعت کا استاد تھا، اُس نے محض معمولی ڈانٹڈپٹ کی اور تنبیہ کرنے میں بھی کافی لاپرواہ تھا۔ اُس نے یہ سوچنے کی غلطی کی کہ خدا بدکاری کی برداشت کر لیگا۔ خالق کمزوری اور بدکاری کے مابین فرق بیان کرتا ہے۔ دانستہ طور پر خدا کی شریعت کی نافرمانی کرنے کی وجہ سے، عیلی کے دونوں بیٹوں کو سخت سزا دی گئی تھی—اور یہ بالکل موزوں تھا۔—۱-سموئیل ۲:۱۲-۱۷، ۲۲-۲۵؛ ۳:۱۱-۱۴؛ ۴:۱۷۔
اپنے بچوں کی بارہا سرزد ہونے والی غلطیوں سے چشمپوشی کرتے ہوئے، خاندان میں حد سے زیادہ روادار ہونا ہمارے لئے کسقدر افسوس کی بات ہوگی! ”خداوند کی طرف سے تربیت اور نصیحت دے دیکر“ اُنکی پرورش کرنا اس سے کتنا بہتر ہوگا! اسکا مطلب ہے کہ ہمیں خود بھی چالچلن کے الہٰی معیاروں کی پابندی کرنی چاہئے اور انہیں اپنے بچوں کے بھی ذہننشین کرنا چاہئے۔—افسیوں ۶:۴۔
اسی طرح، مسیحی کلیسیا بدکاری کو برداشت نہیں کر سکتی۔ اگر ایک فرد سنگین غلطکاری میں ملوث ہو جاتا ہے اور توبہ کرنے سے انکار کرتا ہے تو اُسے خارج کر دیا جانا چاہئے۔ (۱-کرنتھیوں ۵:۹-۱۳) تاہم، خاندانی دائرے اور کلیسیا سے باہر، سچے مسیحی مجموعی طور پر معاشرے کو بدلنے کی کوشش نہیں کرتے۔
یہوواہ کیساتھ ایک مضبوط رشتہ
غیررواداری پریشانکُن فضا پیدا کرتی ہے۔ تاہم اگر ہم خدا کیساتھ ایک ذاتی رشتہ رکھتے ہیں تو ہم ایسے احساسِتحفظ سے لطفاندوز ہوتے ہیں جو ہمیں مناسب توازن برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ امثال ۱۸:۱۰ میں ہم پڑھتے ہیں، ”خداوند کا نام محکم بُرج ہے۔ صادق اُس میں بھاگ جاتا ہے اور امن میں رہتا ہے۔“ یقینی طور پر خالق اپنے معین وقت پر ہر آفت کو دُور کریگا جو ہم پر یا ہمارے عزیزوں پر آ سکتی ہے۔
ایک شخص جس نے خدا کیساتھ قریبی رشتے سے بڑی حد تک لطف اٹھایا تھا وہ رسول پولس تھا۔ بطور ایک یہودی جو ساؤل کے طور پر مشہور تھا، اُس نے یسوع مسیح کے پیروکاروں کو اذیت دی اور وہ خون کا مجرم تھا۔ لیکن ساؤل خود مسیحی بن گیا اور رسول پولس کے طور پر، بعدازاں کُلوقتی بشارت کے کام میں مشغول ہو گیا۔ پولس نے سب لوگوں ”یونانیوں اور غیریونانیوں۔ داناؤں اور نادانوں“ کو مُنادی کرنے کے سلسلے میں وسیعاُلنظری کے میلان کا مظاہرہ کِیا۔—رومیوں ۱:۱۴، ۱۵؛ اعمال ۸:۱-۳۔
وہ تبدیلی لانے کے قابل کیسے ہوا؟ صحائف کا صحیح علم حاصل کرنے سے اور خالق کیلئے محبت کو فروغ دینے سے جوکہ غیرجانبدار ہے۔ پولس نے جان لیا کہ خدا منصف ہے اور اسلئے وہ ہر شخص کا ثقافت یا نسل کے مطابق نہیں بلکہ شخصیت اور اعمال کے مطابق انصاف کرتا ہے۔ جیہاں، خدا کے نزدیک کام نہایت اہم ہیں۔ پطرس نے بیان کِیا کہ ”خدا کسی کا طرفدار نہیں بلکہ ہر قوم میں جو اُس سے ڈرتا اور راستبازی کرتا ہے وہ اُسکو پسند آتا ہے۔“ (اعمال ۱۰:۳۴، ۳۵) قادرِمطلق خدا متعصّب نہیں ہے۔ یہ دُنیا کے بعض لیڈروں کے بالکل برعکس ہے جو اپنے اغراضومقاصد کیلئے جانبوجھ کر غیررواداری کو استعمال کرتے ہیں۔
ایّام بدل رہے ہیں
انگلینڈ میں، آکسفورڈ یونیورسٹی کے جان گرے کے مطابق، رواداری ”ایک ایسی خوبی ہے جو حال ہی میں بہت کمیاب ہو گئی ہے۔“ لیکن ایسا نہیں رہیگا۔ الہٰی حکمت سے متوازن رواداری فتح حاصل کریگی۔
خدا کی بالکل قریب نئی دُنیا میں، غیررواداری کا خاتمہ ہو جائے گا۔ شدید قسم کی غیررواداری جیسےکہ تعصب اور جانبداری بالکل ختم ہو جائینگے۔ پھر کبھی تنگنظری زندگی کی خوشیوں کا گلا نہیں گھونٹے گی۔ اسکے بعد، وادیِکشمیر سے بھی کہیں زیادہ شاندار فردوس ہوگا۔—یسعیاہ ۶۵:۱۷، ۲۱-۲۵۔
کیا آپ اُس نئی دُنیا میں رہنے کے منتظر ہیں؟ یہ کتنا بڑا استحقاق اور کسقدر ہیجانخیز ہوگا!
[صفحہ 8 پر تصویر]
رسول پولس نے موزوں توازن ظاہر کِیا کیونکہ وہ خدا کیساتھ رشتہ رکھتا تھا