دُنیا کا نظارہ کرنا
تمباکو کا استعمال
اگرچہ بعض ممالک میں تمباکو کے استعمال میں خاطرخواہ کمی واقعی ہوئی ہے لیکن پھربھی گزشتہ دو عشروں میں زیادہتر اقوام نے اس میں اضافے کو ظاہر کِیا ہے۔ مثال کے طور پر، چین ابھی تک دُنیا کا سب سے بڑا صارف ہے اور اس میں ۲۹۷ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ریاستہائےمتحدہ اور انڈیا تمباکو کے استعمال میں ابھی بھی دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں اور بالترتیب ۲۷ اور ۵۰ فیصد کا اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔ بعض دیگر ممالک جن میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے اُن میں روانڈا ۳۸۸ فیصد؛ یونان، ۳۳۱ فیصد؛ شمالی کوریا، ۳۲۵ فیصد؛ تنزانیہ، ۲۲۷ فیصد؛ ہانگکانگ، ۲۱۴ فیصد؛ انڈونیشیا، ۱۹۳ فیصد؛ سنگاپور، ۱۸۶ فیصد؛ اور تُرکی، ۱۸۵ فیصد کے ساتھ شامل ہیں۔ ایشیاویک میں شائع ہونے والے اعدادوشمار ۱۹۷۰ اور ۱۹۹۳ کے درمیان فیصد تبدیلی کو ظاہر کرتے ہیں۔ فہرستکردہ ۱۳۸ اقوام میں سے صرف ۲۶ نے تمباکو کے استعمال میں کمی ظاہر کی۔
نوجوان اور بندوقیں
چلڈرنز ڈیفنس فنڈ کی رپورٹ کے مطابق، بندوق کی گولی سے ہونے والی اموات کسی بھی دوسرے گروہ کے مقابلے میں ۱۰ تا ۱۹ سال کے امریکی نوجوانوں میں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ بندوقیں اب موت کا دوسرا نمایاں سبب ہیں۔ عموماً گاڑیوں کے حادثات، بنیادی سبب ہیں۔ ۱۹۹۳ میں ۲۰ سال سے کم عمر کے امریکی نوجوانوں میں، ہر ۹۲ویں منٹ میں ایک کی موت گولی لگنے سے ہوئی—گزشتہ سال پر ۷ فیصد اضافہ۔ تمام عمر کے گروہوں میں مقابلتاً اضافہ صرف ۸.۴ فیصد تھا۔ ڈیفنس فنڈ نے حکومت پر بندقوں کو بچوں اور سکولوں سے دُور رکھنے میں کوتاہی برتنے کا الزام لگایا۔ یو.ایس. جسٹس ڈیپارٹمنٹ کے اعدادوشمار بھی اس سے متفق دکھائی دیتے ہیں۔ ۱۹۹۴ میں ۲۶،۰۰۰ ہزار سے بھی زیادہ کیساتھ، گزشتہ عشرے میں نوعمر قاتلوں کی تعداد تین گُنا ہو گئی۔ اس عرصے میں جنہوں نے قتل کرنے کے لئے بندقوں کو بطور ہتھیار استعمال کِیا اُنکی تعداد چار گُنا ہو گئی ہے، اگرچہ دوسرے ہتھیار استعمال کرنے والوں کی تعداد تقریباً اُتنی ہی رہی۔ یہ اعدادوشمار آتشیں اسلحے کی دستیابی سے ہونے والے نقصان پر توجہ مبذول کراتے ہیں۔
خودکُشی کے طریقے
”تقریباً ۳۰،۰۰۰ امریکی ہر سال خود کو [ہلاک] کرتے ہیں،“ سائنٹفک امریکن لکھتا ہے، اور ”عورتوں کی نسبت مرد چار گنا زیادہ خود اپنی زندگیاں ختم کرنے کے درپے ہوتے ہیں۔“ خراب صحت اور مستقبل کی بابت مبہم امکانات کے پیشِنظر، عمر کیساتھ ساتھ خودکشی کی شرح بھی بڑھتی ہے۔ عنفوانِشباب والوں کی نسبت ۷۵ سال یا اس سے زیادہ عمر والوں میں خودکُشی کی شرح چار گنا زیادہ ہے۔ کونسے عناصر اس بات کا تعیّن کرتے ہیں کہ آیا کوئی شخص واقعی خودکُشی کرے گا؟ خاندانی اور علاقائی تعاون کی کمی اور مذہب میں بہت ہی کم شرکت سرِفہرست ہیں۔ دوسرے ممالک کے مقابلے میں، ہر ۱۰۰،۰۰۰ لوگوں کے پیچھے تقریباً ۱۱ خودکُشیوں کی شرح کیساتھ، یو.ایس. کی خودکُشی کی شرح اوسط درجے کی ہے۔
تشدد میں تربیت
▪ ”چار یونیورسٹیوں میں منعقدکردہ محققین کا ٹیلیویژن پروگرامنگ کا ایک سالہ مطالعہ اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ براڈکاسٹ اور کیبل ٹیوی پروگرامز میں ’نفسیاتی طور پر مُضر‘ تشدد سرایت کر رہا ہے،“ دی واشنگٹن پوسٹ کہتا ہے۔ مطالعے نے نہ صرف یہ معلوم کِیا کہ پروگرامز کی اکثریت میں کسی نہ کسی حد تک تشدد موجود تھا بلکہ یہ بھی کہ جس طریقے سے اسکی تصویرکشی کی گئی وہ بھی ناظرین پر مُضر اثرات ڈال سکتا تھا۔ اس میں ”متشدّد طرزِعمل ظاہر کرنا سیکھنا، تشدد کے مُضر نتائج کیلئے زیادہ سے زیادہ بےحس ہونا اور حملہ کئے جانے سے بیحد خوفزدہ ہونا شامل ہے۔“ ایک وجہ تو یہ تھی کہ ٹیوی پر پُرتشدد کاموں کے مرتکب ۷۳ فیصد لوگ بےسزا چھوٹ جاتے ہیں، جوکہ یہ تاثر دیتا ہے کہ ”تشدد کامیاب ہے۔“ نیز، زیادہتر مناظر متاثرین کی تکلیف یا جذباتی یا مالی نقصان جیسی چیزوں کے نتائج کو ظاہر نہیں کرتے۔ اور مطالعہ یہ بھی کہتا ہے کہ ٹیوی پر پُرتشدد واقعات میں دستیبندوقوں کا کثرت سے استعمال ”جارحانہ خیالات اور طرزِعمل کو ہوا“ دے سکتا ہے۔
▪ وہ لوگ جنہوں نے کمعمری میں بہت زیادہ ٹیوی تشدد دیکھا تھا وہ ۳۰ برس کی عمر میں ”تشدد کی وجہ سے زیادہ سزائیں پاتے ہیں، نشے کی حالت میں گاڑی چلانے کی وجہ سے زیادہ گرفتار ہوتے ہیں، الکحل کے زیرِاثر زیادہ جارحیتپسند بن جاتے ہیں اور اپنے ازدواجی ساتھی کیساتھ زیادہ گالیگلوچ کرتے ہیں [اور] جارحیتپسند بچے پیدا کرتے ہیں،“ یونیورسٹی آف میشیگن انسٹیٹیوٹ فار سوشل ریسرچ کے نفسیات کے پروفیسر اور ریسرچ سائنٹسٹ لن ایرون دعویٰ کرتے ہیں۔ ویڈیو گیمز بھی اسی طرح کے مسائل پیدا کرتی ہیں۔ جیسےکہ دی ٹرانٹو سٹار اخبار میں بیان کِیا گیا، ایرون نے کہا کہ ویڈیو گیم سے متعلق خطرہ یہ ہے کہ یہ باہمدگر اثر رکھتی ہے۔ کھلاڑی ”لیور ہلاتے ہیں یا ایک بٹن دباتے ہیں اور وہ خود کسی شخص کو مارنے کا—خوفناک، پُرتشدد کام کر رہے ہوتے ہیں۔“ پروفیسر ایرون محسوس کرتا ہے کہ والدین کی طرف سے زیادہ نگرانی کی ضرورت ہے۔ تاہم، وہ افسوس سے کہتا ہے کہ ”زیادہتر والدین بالکل پرواہ نہیں کرتے۔“
فرانس میں پادریوں کی کمیابی میں اضافہ
فرانس میں کیتھولک پادریوں میں کافی زیادہ کمی واقع ہوئی ہے۔ پیرس کا اخبار لی مونڈ بیان کرتا ہے کہ ۱۹۹۵ میں، پورے فرانس میں صرف ۹۶ پادری بنائے گئے تھے اور ۱۹۹۴ میں صرف ۱۲۱۔ ۱۹۹۵ میں جیزویٹس کے صرف ۷ اور ڈومینکنز کے ۲۵ نئے رُکن تھے۔ کیتھولک راہباؤں کی بھرتی کی حالت بھی کچھ اسی طرح کی ہے۔ لی مونڈ بیان کرتا ہے کہ ”۱۹۷۰ کے عشرے سے لیکر، راہباؤں کی تعداد متواتر کم ہو رہی ہے، ۱۹۷۷ میں ۹۲،۳۲۶ سے لیکر گزشتہ سال صرف ۵۱،۱۶۴ رہ گئی ہے۔“ پادریوں کی اکثریت کی عمر کے زیادہ ہونے اور نئے ارکان کو اسطرف مائل کرنے میں چرچ کی ناکامی کے باعث، یہ پیشینگوئیاں کی جا رہی ہیں کہ سِن ۲۰۰۵ تک، فرانس میں کلیسیائی حلقے کے صرف تقریباً ۹،۰۰۰ پادری رہ جائینگے۔ لی مونڈ ”پادریوں کے سماجی وقار میں گراوٹ، طویلالمدت ذمہداری کی بابت لوگوں کے ڈر، پادریوں کی بےاثر شخصیت اور چرچ کے پیشواؤں میں اعتماد کی کمی“ کو تنزلی کی وجوہات کے طور پر بیان کرتا ہے۔
دُنیا کی سب سے زیادہ دُرست گھڑی
پرتھ، مغربی آسٹریلیا کے سائنسدانوں نے وقت کے قبولشُدہ بینالاقوامی معیار کا تعیّن کرنے کے لئے انگلینڈ میں استعمال ہونے والی جوہری گھڑیوں سے ہزار گُنا زیادہ بہتر گھڑی تیار کر لی ہے۔ یہ نیلم گھڑی کے طور پر مشہور ہے، اس کی قیمت تقریباً ۲۰۰،۰۰۰ ڈالر ہے اور کئی ایک تیار ہو گئی ہیں۔ یہ ایک تیزتر فیمٹوسیکنڈ کو بھی ناپ سکتی ہے جوکہ ایک سیکنڈ کے ایک کروڑویں حصے کا دس لاکھواں حصہ ہے! یہ کس کام آتی ہے؟ آئنسٹائن کے چیزوں کے ایک دوسرے سے متعلق عمومی نظریے کے مطابق، جتنا کوئی شخص زمین سے اُونچا ہوگا وقت اُتنا ہی تیزی سے گزرے گا۔ ”ہمارا نصبالعین تقریباً ایک میٹر کی بلندی پر رفتار میں فرق کی پیمائش کرنا ہے—باالفاظِدیگر آپ کے پاؤں اور آپ کے سر کے درمیان،“ ماہرِطبیعیات ڈیوڈ بلر نے کہا جو گھڑی کے تیار کرنے میں شریک تھا۔ تاہم، ایک وقت میں، اُس کی دُرستگی صرف پانچ منٹ تک قائم رہتی ہے۔
ایک معمولی سینڈوچ؟
۱۷۶۲ میں، برطانیہ کا پرلے درجے کا جواری، لارڈ سینڈوچ، ۲۴ گھنٹے جوئے کی میز پر رہا۔ اپنی بھوک مٹانے کے لئے، اُس نے ڈبل روٹی کے دو سلائس منگوائے جن میں گوشت کا ایک ٹکڑا لگا ہوا تھا۔ یہ نیا کھانا—سینڈوچ—فوری طور پر اُسکے نام سے کہلایا جانے لگا۔ گزشتہ پانچ سال میں ۷۵ فیصد اضافے کیساتھ، اب برطانیہ کے لوگ روزانہ ۹.۷ ملین ڈالر سینڈوچ پر ہی خرچ کرتے ہیں۔ لندن کا دی ٹائمز بیان کرتا ہے کہ ”سینڈوچ تمامتر فاسٹ فوڈ مارکیٹ کے تین تہائی سے زیادہ کو تشکیل دیتے ہیں“ اور وہ ۸۰۰۰ سینڈوچ بارز پر فروخت ہوتے ہیں۔ ہر سال برطانیہ میں لگبھگ ۳.۱ ملین تیارشُدہ سینڈوچ استعمال کئے جاتے ہیں۔ تاہم، دیہی علاقوں میں یا ساحلِسمندر پر سیر کے دوران، یہ سینڈوچ اکثر سادہ خاندانی کھانے سے بہت زیادہ مختلف ہوتے ہیں۔ بعض دوکانیں کینگرو یا مگرمچھ کے گوشت سے تیارکردہ یا سٹرابیریز اور کریم کے ساتھ چاکلیٹ بریڈ والے سینڈوچ سمیت غیرمعمولی اقسام پیش کرتی ہیں۔
ایشیا میں بچوں کی جنسی مقاصد کیلئے تجارت
حکومتوں اور سماجی کارکنوں نے اندازہ لگایا ہے کہ ۱۷ سال اور اس سے کم عمر کے ایک ملین سے زیادہ لڑکے اور لڑکیاں ایشیا میں عصمتفروشی کے کاروبار میں ملوث ہیں، دی نیو یارک ٹائمز بیان کرتا ہے۔ جبکہ اصلی اعدادوشمار نامعلوم ہیں، بچے جو ابھی سنِبلوغت کو نہیں پہنچے وہ بھی کمبوڈیا، چین، انڈیا، فلپائن، تائیوان اور تھائیلینڈ جیسے ممالک میں قحبہخانوں میں مل سکتے ہیں۔ ایسے کمعمر بچوں کی اتنی زیادہ مانگ کیوں ہے؟ ایک وجہ تو ایڈز کا خوف ہے۔ ”پورے ایشیا میں مرد کمسےکم عمر والے بچوں کی طرف توجہ کر رہے ہیں کسی حد تک اسلئے کہ یہ خیال کِیا جاتا ہے کہ اُنکا ایچ.آئی.وی.، وائرس سے جو ایڈز کا سبب بنتا ہے، متاثر ہونے کا امکان بہت کم ہے،“ ٹائمز کہتا ہے۔ اسکے علاوہ یہ کہ ایڈز کا وائرس ان ممالک کی کسبیوں میں بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے، کسی حد تک کسبیوں کی سرحد پار آمدورفت کے باعث اور کسی حد تک اسلئے کہ جنس کی تلاش میں بعض گاہک ایک سے دوسرے مُلک سفر کرتے رہتے ہیں۔ جبکہ بعض بچوں کو اغوا کر لیا جاتا ہے، دیگر کو اُنکے والدین مالی نفع کیلئے فروخت کر دیتے ہیں۔
رقابت یا اتحاد؟
”مسیح کی پیدائش کی ۲۰۰۰ویں سالگرہ کی تقریب بڑی تیزی کے ساتھ چرچز کے درمیان ایک حساس مسئلہ بنتی جا رہی ہے،“ ایاینآئی (اِکیومینیکل نیوز انٹرنیشنل) بلیٹن بیان کرتا ہے۔ ورلڈ کونسل آف چرچز کے جنرل سیکریٹری کونریڈ ریزر نے چرچز کو اس موقع کو ”توجہ حاصل کرنے کے لئے مقابلہبازی کرنے کی بجائے—تعاون اور اتحاد کا موقع“ سمجھنے کی دعوت دی ہے۔ تاہم، اُس نے کہا کہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ چرچز اس سال کو ”عوام میں اپنے نظرانداز کر دیئے جانے پر قابو پانے کے لئے . . . بشارت دینے کے موقع“ کے طور پر استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ پوپ کی اس دعوت کی تعریف کرتے ہوئے کہ ۲۰۰۰ کے سال کو ”مسیحی اتحاد کے مضبوط اظہار کا موقع بننے دیں،“ ریزر نے مزید کہا: ”ان خیالات میں سے کتنے ۲۰۰۰ کے سال تک تکمیلپذیر ہونگے یہ دیکھنا ابھی باقی ہے—ماضی کا تجربہ شکوشُبہ میں مزید اضافہ کرتا ہے۔“