امیر ممالک غریب ممالک سے
ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہیں میری عمر ۱۴ سال ہے اور مَیں اس سلسلہوار مضمون کیلئے آپ کا نہایت مشکور ہوں کہ ”کیا امیر ممالک غریب ممالک سے ہمیشہ ناجائز فائدہ اُٹھاتے رہینگے؟“ (نومبر ۲۲، ۱۹۹۵)۔ میرے جغرافیہ کے مُعلم نے ہمیں ”غربت“ کے موضوع پر لکھنے کی ایک تفویض دی تھی۔ مَیں نے اخبارات اور رسائل میں دیکھا مگر ایسی کوئی چیز نہ ملی جو استعمال کرنے کے قابل ہوتی۔ تب آخری وقت میں یہ رسالہ میری رپورٹ کی بنیاد کے طور پر کام سرانجام دینے کیلئے پہنچ گیا۔ مَیں نے جماعت میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کئے اور مَیں ان مضامین کیلئے بیحد مشکور ہوں۔
اے. او.، برازیل
موہوم رویہ ”موہم رویہ—کیا یہ آپکی زندگی پر حاوی ہے؟“ (فروری ۸، ۱۹۹۶) اس حوصلہافزا مضمون کیلئے آپکا شکریہ۔ مَیں موہم رویے میں مبتلا ہوں اور یہ جاننا بہت حوصلہافزا ہے کہ محض مَیں ہی نہیں ہوں۔ اس چیز نے مجھے بچپن سے بہت تنگ کر رکھا ہے۔ بائبل کے مطالعے کے وقت سے لیکر، مَیں اس خیال میں مبتلا رہی ہوں کہ مَیں نے رُوحاُلقدس کے خلاف گناہ کِیا ہے۔ آہستہ آہستہ مَیں نے اپنے مسائل پر قابو پا لیا ہے۔ یہ جاننا کتنی اچھی بات ہے کہ یہوواہ اپنے ناکامل خادموں کو سمجھتا ہے!
اے. بی.، جرمنی
مَیں اس بات کی بہت قدر کرتا ہوں کہ ہمارا خالق اس غیرصحتمندانہ حالت کو سمجھتا ہے اور یہ کہ وہ ”ہمارے دل سے بڑا ہے اور سب کچھ جانتا ہے۔“ (۱-یوحنا ۳:۲۰) براہِمہربانی اس طرح کے مضامین شائع کرتے رہیں؛ یہ ہمارے لئے بہت زیادہ حوصلہافزائی کا باعث ہیں۔
ڈبلیو. ای.، سوئٹزرلینڈ
آپ اندازہ نہیں لگا سکتے کہ اس مضمون نے مجھے کسقدر اطمینان بخشا ہے۔ مَیں انتہائی خراب، گستاخانہ خیالات رکھتی تھی جوکہ مایوسی اور بعضاوقات خودکُشی کے خیالات کا باعث بنے ہیں۔ لیکن اب یہ ایسے ہے کہ گویا کوئی بہت بھاری بوجھ میرے کندھوں سے اُتر گیا ہو کیونکہ مَیں سمجھ گئی ہوں کہ یہوواہ نے مجھے ترک نہیں کِیا بلکہ مجھے بہت زیادہ محبت کرتا ہے۔
آئی. بی.، فرانس
جب مَیں چھوٹی ہی تھی تو اُس وقت سے مَیں بار بار اپنے ہاتھوں کو دھوتی ہوں۔ چولہے کو تین بار چیک کرتی ہوں خواہ مجھے اس کیلئے باہر سے ہی واپس کیوں نہ آنا پڑے۔ مَیں چیک کرتی ہوں کہ میری دیگچیوں کے ڈھکن لگے ہوئے ہیں، یہ کہ مَیں نے تمام دروازے اچھی طرح بند کئے ہیں۔ موہوم رویے سے لڑتے لڑتے مَیں تھک ٹوٹ کر سو جاتی ہوں۔ آپکے مضمون کیلئے آپکا شکریہ۔
ایم. پی. وینزوایلا
لالچڑیاں مَیں مضمون ”ہمدرد لالچڑی“ (فروری ۸، ۱۹۹۶) سے بہت خوش تھا۔ چند سال پہلے، باغ میں ایک گہری نالی کھودتے ہوئے، مَیں نے قریب کے لان پر کھڑی لالچڑیا کے خوشکُن گیت کو سنا جو میری طرف دیکھ رہی تھی۔ یونہی مَیں نے اُس کی آواز کی نقل اُتارنے کی کوشش کی، وہ گہری نالی میں میرے پہلو میں کھڑی تھی۔ لالچڑی مٹی کے بھرے ہر پھاؤڑے میں اُوپر آنے والے کیڑوں کو کھانے سے خوش ہو رہی تھی۔ براہِمہربانی عالمِحیوانات کی بابت رپورٹس شائع کرتے رہیں!
ایف. ایس.، جرمنی
برفانی تودے مضمون ”سمندر کے بلوری محلات۔“ (دسمبر ۸، ۱۹۹۵) کیلئے آپکا شکریہ۔ محض اس مواد کو پڑھنے اور خود کو برف کے ان بڑے بڑے ٹکڑوں کے سامنے تصور کرنے سے مَیں اُن حیرتانگیز چیزوں سے متاثر ہوا جو ہمارے خالق، یہوواہ خدا نے ہماری خوشی کیلئے فراہم کی ہیں۔ بالکل اُسی طرح جیسے زبورنویس زبور ۱۰۴:۲۴ میں یہوواہ کی بابت کہتا ہے، ”زمین [اُسکی] مخلوقات سے معمور ہے۔“
اے. آئی. بی.، برازیل
سکول پر مضمون ایرک کے سکول پر مضمون کی کہانی ”اگر مَیں وقت کا ایک لمحہ بھی تبدیل کر سکتا“ (فروری ۲۲، ۱۹۹۶) نے درحقیقت مجھ پر بہت زیادہ اثر کِیا ہے۔ اس نے میرے اندر اُسکے والدین کیلئے تعریف اور شکرگزاری کے احساس کو اُبھارا۔ اُنہوں نے ایسے بیٹے کی پرورش کرنے میں ضرور کافی زیادہ وقت اور قوت صرف کی ہوگی جو اپنی کمعمری کے باوجود، یہوواہ کیلئے اس قدر حیرتانگیز جرأت اور محبت رکھتا ہے۔
سی. این.، اٹلی