بائبل کا نقطۂنظر
محبت جو پیوستہ رکھتی ہے
۱۹۷۸ میں شمالی اٹلانٹک میں ایک بہت بڑے طوفان نے کوئین الزبتھ ۲ کے پُرآسائش بحری جہاز کو اُکھاڑ کر رکھ دیا۔ دس منزلہ عمارت جتنی اُونچی لہریں جہاز سے ٹکرا رہی تھیں جس سے یہ ایک کارک کی طرح اُچھل رہا تھا۔ جب جہاز بےقابو ہو کر اُلٹ گیا تو فرنیچر اور مسافر اِدھراُدھر گِرنے لگے۔ حیرانکُن بات ہے کہ ۱،۲۰۰ مسافروں کو صرف معمولی چوٹیں آئیں۔ انجینیئر کی اچھی مہارت، اچھے سامان اور تعمیر نے جہاز کو ٹکڑےٹکڑے ہونے سے بچائے رکھا۔
صدیوں پہلے ایک اَور جہاز شدید طوفانِبادوباراں کی زد میں آیا تھا۔ رسول پولس اور دیگر ۲۷۵ اشخاص جہاز پر سوار تھے۔ اس خوف کے پیشِنظر کے طوفان کی شدت سے جہاز کے ٹکڑےٹکڑے ہو جائینگے، ملاحوں نے بدیہی طور پر اُن لکڑی کے تختوں کو جوڑے رکھنے کے لئے جو اس تجارتی جہاز کے ڈھانچے کو تشکیل دیتے تھے جہاز کے نیچے ایک سرے سے دوسرے سرے تک—”امدادی“—زنجیریں یا رسیّاں گزار دیں۔ اگرچہ جہاز نہ بچ سکا مگر جہاز پر سوار تمام مسافر بچ گئے۔—اعمال باب ۲۷۔
بعضاوقات زندگی میں مشکلات ہمیں ایسا محسوس کرنے پر مجبور کر دیتی ہیں کہ گویا ہم ایک متلاطم سمندر میں جہاز پر سوار ہیں۔ ہماری محبت کی انتہا کو آزماتے ہوئے پریشانی، نااُمیدی اور مایوسی کی لہریں ہمیں بہا کر لیجا سکتی ہیں۔ ایسے طوفانوں کا مقابلہ کرنے اور ٹوٹپھوٹ کا شکار ہونے سے بچنے کے لئے، ہمیں بھی کسی نہ کسی مدد کی ضرورت ہے۔
جب طوفان اُٹھتے ہیں
پولس رسول کے ایمان اور صبر کی بائبل میں خوب وقائع نگاری کی گئی ہے۔ اُس نے ابتدائی مسیحی کلیسیا کی خاطر سخت محنت کی۔ (۲-کرنتھیوں ۱۱:۲۴-۲۸) خداوند کے کام میں اُس کی کامیابیاں پڑوسیوں کے لئے اُس کی والہانہ محبت اور خدا کے ساتھ اُس کے مضبوط رشتے کی واضح تصدیق کرتی ہیں۔ اس کے باوجود، پولس کی زندگی ہمیشہ راحتوآرام والی نہ تھی۔ حقیقی اور علامتی دونوں طرح سے رسول نے بہت سے طوفانوں کا مقابلہ کِیا۔
پولس کے دنوں میں، جب کسی جہاز کو متلاطم طوفان کا سامنا ہوتا تھا تو مسافروں اور جہاز کے بچاؤ کا انحصار عملے کی مہارت اور اس بات پر ہوتا تھا کہ جہاز کتنے اچھے طریقے سے بنایا گیا ہے۔ جب رسول کو علامتی طوفانوں کا سامنا کرنا پڑا تو یہ بات اُس صورت میں بھی سچ تھی۔ اگرچہ پولس نے جسمانی محرومی، قید اور اذیت کا مقابلہ کِیا، شدیدترین طوفان جنہوں نے اُسکی روحانی اور جذباتی استقامت اور محبت کرتے رہنے کی اُس کی صلاحیت کو چیلنج کِیا وہ مسیحی کلیسیا کے اندر ہی سے اُٹھے تھے۔
مثال کے طور پر، پولس نے کرنتھس کے شہر میں کلیسیا قائم کرنے کیلئے ڈیڑھ سال تک انتھک محنت کی۔ کرنتھیوں کیساتھ اُس کے تجربات نے اُسے گلّے کے لئے شفیق احساسات پیدا کرنے کی تحریک دی۔ پولس نے اُن کے باپ کے طور پر بھی اپنا ذکر کِیا۔ (۱-کرنتھیوں ۴:۱۵) تاہم، کلیسیا کے لئے اُس کی محبت اور سخت محنت کے ریکارڈ کے باوجود، کرنتھس میں بعض پولس کی بابت غیرمہذب باتیں کرتے تھے۔ (۲-کرنتھیوں ۱۰:۱۰) اُس کے خودایثارانہ طرزِعمل کے پیشِنظر یہ سب کچھ کتنا دلشکن ثابت ہوا ہوگا!
جن لوگوں کو پولس کی بیدریغ محبت حاصل ہوئی تھی وہ کیسے اتنے ظالم اور ناشکر ہو سکتے تھے؟ پولس نے ضرور ایسا محسوس کِیا ہوگا کہ گویا وہ طوفانِبادوباراں کی گرفت میں پھنسے ہوئے جہاز کی مانند ریزہریزہ ہو رہا ہے۔ اُس کے لئے بیدل ہو جانا، یہ محسوس کرنا کہ ماضی میں اُس کی تمام کاوشیں بیکار تھیں، یا آزردہخاطر ہو جانا کسقدر آسان ہوگا! کس چیز نے پولس کو جذبات پر قابو رکھنے میں مدد دی؟ کس چیز نے اُسے مایوسی کے باعث ریزہریزہ ہونے سے بچایا؟
محبت جو ہمیں اکٹھا رکھتی ہے
پولس نے اپنی طاقت اور اپنے محرک دونوں کے ماخذ کی بابت اپنے قارئین کے ذہنوں میں کوئی شک نہیں رہنے دیا۔ اُس نے لکھا: ”مسیح کی محبت ہم کو مجبور کر دیتی ہے۔“ (۲-کرنتھیوں ۵:۱۴) پولس نے طاقت اور تحریک دینے کے افضل ماخذ کی طرف اشارہ کِیا۔ مجبور کرنے والی قوت ”مسیح کی محبت ہے۔“ اس صحیفے کے سلسلے میں ایک بائبل مفکر نے مندرجہذیل رائے پیش کی: ”پولس یہ نہیں کہتا کہ مسیح کے لئے ہماری محبت ہمیں اپنی خدمتگزاری میں قائم رکھتی ہے . . . یہ تو اُس کا صرف ایک حصہ ہوگا۔ مسیح کے لئے ہماری محبت متواتر ہمارے لئے اُسکی محبت سے تقویت پاتی اور بیدار رہتی ہے۔“—نسخ ہمارا۔
خود کو دُکھ کی سولی پر اذیتناک موت کے حوالے کر دینے سے—یوں تمام ایماندار نوعِانسان کو بچانے کے لئے اپنی کامل انسانی زندگی بطور فدیہ دینے سے—مسیح نے جس محبت کا اظہار کِیا اُس نے پولس کو مسیح اور برادری کے مفادات کی خاطر خدمت کرنے کے لئے تحریک دی، مجبور کِیا اور پابند کِیا۔ لہٰذا، مسیح کی محبت پولس کو خودغرضی سے روکتے ہوئے اور اُس کے مقاصد کو خدا کی اور ساتھی انسانوں کی خدمت تک محدود کرتے ہوئے، اُس پر حاوی تھی۔
بِلاشُبہ، ایک مسیحی کی وفادارانہ طرزِزندگی کے پیچھے تحریک دینے کا ماخذ مسیح کی محبت ہے۔ جب ہمیں ایسی آزمائشوں کا سامنا ہوتا ہے جو جسمانی، جذباتی اور روحانی طور پر ہم پر خراب اثر ڈال سکتی ہیں تو مسیح کی محبت کی مجبور کرنے والی قوت ہمیں اُس حد کے پار جانے کے قابل بناتی ہے جہاں کم تحریک پایا ہوا شخص بیدل ہو جائیگا۔ یہ ہمیں برداشت کرنے کی قوت عطا کرتی ہے۔
ہم اپنے ناکامل جذبات پر ہمیں سنبھالے رکھنے اور تحریک دینے کیلئے بھروسہ نہیں کر سکتے۔ یہ خاص طور پر اُس وقت ہوتا ہے جب مشکلات ہماری مایوسی یا پریشانی کے نتیجے میں سامنے آتی ہیں۔ اس کی دوسری جانب، مسیح کی محبت ہمیں اپنی خدمتگزاری میں قائم رکھنے کی قوت رکھتی ہے اور ہماری ذاتی مشکل کے باوجود ہمیں تحریک دیتی ہے۔ مسیح کی محبت ایک مسیحی کو نہ صرف دوسروں کی توقعات سے بڑھ کر بلکہ شاید خود اپنی توقعات سے بھی بڑھ کر برداشت کرنے کے قابل بناتی ہے۔
علاوہازیں، چونکہ مسیح کی محبت دائمی ہے اس کا اثر کبھی نہ ختم ہونے والا ہے۔ یہ ایک ایسی قوتِمتحرکہ ہے جو کبھی پسوپیش نہیں کرتی یا کمزور نہیں پڑتی۔ ”محبت کو زوال نہیں۔“ (۱-کرنتھیوں ۱۳:۸) انجام چاہے کچھ بھی ہو یہ ہمیں وفاداری سے اُس کے نقشِقدم پر چلتے رہنے کے قابل بناتی ہے۔
جذباتی آزمائشیں ایسی قوت رکھتی ہیں جو ہمیں ریزہریزہ کر سکتی ہے۔ اسلئے، یہ کسقدر اہم ہے کہ ہم اُس محبت پر غور کریں جو مسیح نے ہمارے واسطے ظاہر کی تھی۔ مسیح کی محبت ہمیں اکٹھا رکھے گی۔ اُس کی محبت ہمارے ایمان کے جہاز کے لئے غرق ہونے سے بچنا ممکن بناتی ہے۔ (۱-تیمتھیس ۱:۱۴-۱۹) نیز، مسیح کی محبت ہمیں مجبور کرتی ہے کہ یہوواہ خدا، جس نے مسیح کی محبت کے اظہار کو ممکن بنایا اُسے جلال دینے کے لئے اپنی حتیالمقدور کوشش کریں۔—رومیوں ۵:۶-۸۔