یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو97 8/‏1 ص.‏ 22-‏25
  • سکل سیل انیمیا علم بہترین تحفظ ہے

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • سکل سیل انیمیا علم بہترین تحفظ ہے
  • جاگو!‏—‏1997ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • یہ کیا ہے؟‏
  • خون کا ایک مسئلہ
  • علامات
  • علاج
  • درد کے حملے کی روک‌تھام
  • یہ بچوں میں کیسے منتقل ہوتا ہے
  • شادی سے قبل دانشمندانہ فیصلے
  • خون کس لحاظ سے بیش‌قیمت ہے؟‏
    جاگو!‏—‏2006ء
جاگو!‏—‏1997ء
جاگو97 8/‏1 ص.‏ 22-‏25

سکل سیل انیمیا علم بہترین تحفظ ہے

نائجیریا میں جاگو!‏ کے مراسلہ‌نگار سے

کانفرنس روم میں ۳۲ لوگ موجود تھے، جن میں سے زیادہ‌تر عورتیں اور بچے تھے۔ گلابی کپڑوں میں ملبوس، کمزور سی چھ سالہ ٹوپے، لکڑی کی کرسی پر، چپ‌چاپ، اپنی ماں کے پہلو میں بیٹھی تھی۔ اُس نے نرس کی بات بڑے دھیان سے سنی جب اُس نے بتایا کہ درد ہونے کی صورت میں کیا کرنا چاہئے۔‏

ٹوپے اس درد سے واقف تھی—‏درد جو اچانک اور شدت سے اُٹھتا ہے اور اسکے کم ہونے میں کئی دن لگتے ہیں۔ شاید یہ درد ہی تھا جس نے اُسے اُسکی عمر سے کہیں زیادہ سنجیدہ بنا دیا تھا۔‏

‏”‏یہ میری پہلوٹھی بیٹی ہے،“‏ اُسکی ماں نے کہا۔ ”‏شروع ہی سے وہ ہمیشہ بیمار رہتی تھی۔ مَیں بہت سے گرجا گھروں میں گئی اور اُنہوں نے اُس پر دُعا کی۔ لیکن وہ پھربھی بیمار رہتی تھی۔ بالآخر، مَیں اُسے ہسپتال لے گئی۔ اُنہوں نے اُس کا خون ٹیسٹ کِیا اور معلوم کِیا کہ وہ ’‏سکل سیل انیمیا‘‏ کی بیماری میں مبتلا تھی۔“‏

یہ کیا ہے؟‏

نائجیریا کے شہر، بینن میں، سکل سیل انیمیا کے سنٹر میں ٹوپے کی ماں کے علم میں یہ بات آئی کہ سکل سیل انیمیا خون کا مرض ہے۔ توہم‌پرستانہ اعتقادات کے بالکل برعکس، یہ جادو یا مُردوں کی رُوحوں کیساتھ کوئی تعلق نہیں رکھتا ہے۔ بچے دونوں والدین سے ورثے میں سکل سیل انیمیا لیتے ہیں۔ یہ متعدی مرض نہیں ہے۔ کسی بھی صورت میں آپکو یہ مرض کسی دوسرے شخص سے نہیں لگ سکتا۔ یا تو آپ پیدائشی طور پر اس میں مبتلا ہوتے ہیں یا پھر نہیں۔ ٹوپے کی ماں کو یہ بھی معلوم ہوا کہ اگرچہ اس سے مکمل شفا تو ممکن نہیں ہے لیکن پھر بھی علامات کا قدرے علاج کِیا جا سکتا ہے۔‏a

سکل سیل انیمیا عام طور پر افریقی نسل کے لوگوں میں پایا جاتا ہے۔ سکل سیل انیمیا سنٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر آئی.‏ یو.‏ اومیکی نے جاگو!‏ کو بتایا:‏ ”‏نائجیریا میں سب سے زیادہ سیاہ فام ہیں اور اسلئے اس قوم میں سکل کے مرض میں مبتلا لوگوں کی تعداد بھی سب سے زیادہ ہے۔ یہ چیز اس مُلک کو دُنیا میں سکل سیل کا سب سے بڑا مرکز بنا دیتی ہے۔“‏ لاگوس کے ڈیلی ٹائمز کے مطابق، نائجیریا کے تقریباً ایک ملین لوگ سکل سیل انیمیا میں مبتلا ہیں اور ہر سال ۶۰،۰۰۰ اِس سے مرتے ہیں۔‏

خون کا ایک مسئلہ

اس مرض کو سمجھنے کیلئے ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ خون کیا کام انجام دیتا ہے اور یہ بدن میں کیسے حرکت کرتا ہے۔ ایک مثال مدد کرتی ہے۔ ایسے مُلک کا تصور کریں جو دیہاتوں میں رہنے والے لوگوں کو خوراک مہیا کرنے کیلئے درآمدشُدہ خوراک پر انحصار کرتا ہے۔ ٹرک داراُلحکومت پہنچتے ہیں جہاں اُن پر خوراک لادی جاتی ہے۔ شاہراہوں سے گزرتے ہوئے وہ شہر سے باہر نکل آتے ہیں مگر جب وہ دیہی علاقے میں داخل ہوتے ہیں تو سڑکیں تنگ ہوتی جاتی ہیں۔‏

اگر سب کچھ ٹھیک رہتا ہے تو ٹرک اپنی منزل پر پہنچ جاتے ہیں، خوراک اُتارتے ہیں اور پھر دوبارہ خوراک لانے کیلئے واپس شہر چلے جاتے ہیں۔ تاہم، اگر بیشتر ٹرک ٹوٹ جاتے ہیں تو خوراک ضائع ہو جاتی ہے اور دوسرے ٹرکوں کا راستہ بھی بند ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں گاؤں کے لوگوں کو بہت کم خوراک ملتی ہے۔‏

اسی طرح سے، خون میں سُرخ خلیے پھیپھڑوں کی طرف سفر کرتے ہیں جہاں سے وہ آکسیجن کی—‏جو بدن کے لئے خوراک کا کام دیتی ہے—‏سپلائی حاصل کرتے ہیں۔ اسکے بعد وہ پھیپھڑوں کو چھوڑتے ہوئے بڑی بڑی شریانوں کے راستے بڑی تیزی سے بدن کے تمام حصوں کا سفر کرتے ہیں۔ انجام‌کار، ”‏راستے“‏ اسقدر تنگ ہو جاتے ہیں کہ سُرخ خلیے خون کی باریک نالیوں میں صرف ایک قطار میں حرکت کر سکتے ہیں۔ یہی جگہ ہے جہاں وہ اپنا آکسیجن کا بار اُتار دیتے ہیں جو بدن کے خلیوں کو خوراک پہنچاتی ہے۔‏

ایک نارمل سُرخ خلیہ سکے کی طرح گول ہوتا ہے اور چھوٹی سے چھوٹی خون کی نالیوں میں سے بھی بآسانی گزر جاتا ہے۔ لیکن جو لوگ سکل سیل انیمیا میں مبتلا ہوتے ہیں، اُن میں خون کے خلیے ٹوٹ جاتے ہیں۔ وہ اپنی گول شکل کھو بیٹھتے ہیں اور کیلے یا کسان کے اوزار—‏درانتی کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ خون کے یہ سکل‌نما خلیے مٹی میں پھنسے ٹرک کی طرح بدن کی چھوٹی وریدوں میں پھنس جاتے ہیں اور دوسرے سرخ خلیوں کو گزرنے سے روکتے ہیں۔ جب بدن کے کسی حصے میں خون کے بہاؤ کی مقدار کم ہو جاتی ہے تو آکسیجن کی سپلائی منقطع ہو جاتی ہے اور نتیجہ درد کا اچانک حملہ ہوتا ہے۔‏

مخصوص سکل سیل انیمیا کا عروج ہڈیوں اور جوڑوں میں شدید درد پر منتج ہوتا ہے۔ نازک لمحات کی بابت پہلے سے کچھ نہیں کہا جا سکتا؛ وہ شاذونادر بھی واقع ہو سکتے ہیں یا اتنی جلدی جلدی کہ ہر مہینے۔ جب یہ رونما ہوتے ہیں تو وہ بچے اور ماں‌باپ دونوں کیلئے تکلیف کا باعث ہوتے ہیں۔ ایہودو ایک نرس ہے جو سکل سیل سنٹر میں کام کرتی ہے۔ ”‏سکل میں مبتلا بچے کو سنبھالنا آسان نہیں،“‏ وہ کہتی ہے۔ ”‏مجھے معلوم ہے کیونکہ میری اپنی بیٹی کو یہ مرض لاحق ہے۔ درد اچانک اُٹھتا ہے۔ وہ چلاتی اور روتی ہے اور مَیں بھی روتی ہوں۔ دو یا تین دن بعد، یا شاید ایک ہفتے کے بعد، درد میں کمی واقع ہوتی ہے۔“‏

علامات

علامات اکثر بچے کے چھ ماہ کی عمر کو پہنچ جانے کے بعد نمودار ہوتی ہیں۔ سب سے پہلی علامت ہاتھوں یا پاؤں یا دونوں کی تکلیف‌دہ سوزش ہے۔ ہو سکتا ہے کہ بچہ باربار روئے اور زیادہ نہ کھائے۔ آنکھوں کا سفید حصہ شاید زرد دکھائی دے۔ ہو سکتا ہے کہ زبان، ہونٹ اور ہتھیلیاں معمول سے زیادہ زرد ہو جائیں۔ یہ علامات ظاہر کرنے والے بچوں کو ہسپتال لے جانا چاہئے، جہاں خون کا ٹیسٹ یہ ظاہر کر دے گا کہ کہیں سکل سیل انیمیا کا مسئلہ تو نہیں۔‏

جب سکل‌نما خلیے خون کی نالیوں کو بند کر دیتے ہیں تو درد عام طور پر جوڑوں کو متاثر کرتا ہے۔ شدید درد کا حملہ بعض‌اوقات جان‌لیوا نتائج کے ساتھ—‏دماغ، پھیپھڑوں، دِل، گردوں اور تلی کے کام میں بھی خلل ڈال سکتا ہے۔ ٹخنوں کے حصے میں ٹانگوں کے السر کئی سال تک برقرار رہ سکتے ہیں۔ بچوں میں دورے پڑنے یا بیہوش ہونے کا بھی خطرہ ہوتا ہے۔ سکل سیل انیمیا میں مبتلا لوگ بالخصوص متعدی امراض کا جلد شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ یہ مرض قدرتی دفاعی نظام کو کمزور کر دیتا ہے۔ موت کی عام وجہ انفیکشن ہوتی ہے۔‏

بِلاشُبہ، سکل سیل انیمیا کے ہر مریض میں یہ تمام علامات موجود نہیں ہوتیں۔ اور بعض کو اُس وقت تک مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا جبتک‌کہ وہ اپنے عنفوانِ‌شباب کے آخر میں نہیں پہنچ جاتے۔‏

علاج

بہتیرے والدین نے ایسے علاج کی جستجو میں وقت اور پیسہ دونوں ضائع کئے جس میں اُنہیں اپنے بچوں کیلئے شفا کے آثار نظر آتے تھے۔ لیکن تاحال سکل سیل انیمیا سے شفایابی ممکن نہیں ہے؛ یہ عمربھر کا روگ ہے۔ تاہم، چند ایک سادہ سے اقدامات ہیں جو درد کے حملوں کی تعداد کو کم کرنے کیلئے کئے جا سکتے ہیں اور جب یہ واقع ہوں تو اُن سے نپٹنے کے طریقے بھی ہیں۔‏

جب درد کا شدید حملہ ہو تو والدین کو اپنے بچوں کو کافی مقدار میں پینے کیلئے پانی دینا چاہئے۔ وہ ہلکی سی درد کو کم کرنے والی دوا بھی دے سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ شدید درد زیادہ تیز ادویات کا تقاضا کرے جو صرف ڈاکٹر سے ہی حاصل کی جا سکتی ہیں۔ اس کے باوجود، افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض‌اوقات تیز ادویات سے بھی بہت کم افاقہ ہوتا ہے۔ تاہم، گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ تقریباً تمام حالتوں میں، چند گھنٹوں یا دنوں کے بعد، درد کم ہونے لگتا ہے اور مریض بہتر محسوس کرتا ہے۔‏

سائنسدان اس مرض کے علاج میں معاون ادویات کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ مثال کے طور پر، ۱۹۹۵ کے اوائل میں، ریاستہائے متحدہ میں، نیشنل ہارٹ، لنگ اینڈ بلڈ انسٹی‌ٹیوٹ نے اعلان کِیا کہ ہائیڈروکزیر نے سکل سیل انیمیا کے مریضوں میں درد کے حملوں کی تعداد میں نصف کمی کر دی ہے۔ اس کی بابت خیال کِیا جاتا ہے کہ یہ خون کے سُرخ خلیوں کو اپنی شکل تبدیل کرنے اور خون کی نالیوں کو بند کرنے سے روک کر ایسا کرتی ہے۔‏

ایسی ادویات ہر جگہ بآسانی دستیاب نہیں ہیں، نہ ہی وہ ہر حالت میں معاون ہیں۔ اور جانے‌پہچانے خطرات کے باوجود، افریقہ اور دوسری جگہوں پر ڈاکٹر ناگہانی صورتحال میں سکل سیل انیمیا کے مریضوں کے علاج کیلئے باقاعدگی کیساتھ انتقالِ‌خون استعمال کرتے ہیں۔‏

درد کے حملے کی روک‌تھام

‏”‏ہم مریضوں کو درد کے حملے کو روکنے میں مدد دینے کے لئے کافی زیادہ پانی پینے کو کہتے ہیں،“‏ سکل سیل سنٹر میں ایک توارثی مشیر، الومونا کہتی ہے۔ ”‏پانی خون کیلئے بدن کی نالیوں میں بہنا آسان بناتا ہے۔ سکل سیل انیمیا میں مبتلا بالغوں کو ہر روز تین سے چار لیٹر پانی پینا چاہئے۔ یقیناً، بچے کم پئیں گے۔ ہم سکل سیل میں مبتلا بچوں کو سکھاتے ہیں کہ اپنے ساتھ سکول پانی کی بوتلیں لیکر جائیں۔ اساتذہ کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ بچے اکثر بیت‌الخلا جانے کیلئے درخواست کریں۔ والدین کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ اس مرض میں مبتلا بچے دوسرے بچوں کی نسبت بستر پر زیادہ پیشاب کر سکتے ہیں۔“‏

چونکہ بیماری خطرناک تکلیف کا سبب بن سکتی ہے اسلئے جن لوگوں کو سکل سیل انیمیا ہے اُنہیں اچھی صحت برقرار رکھنے کیلئے بڑی کوشش کرنی پڑتی ہے۔ وہ ذاتی صفائی برقرار رکھنے، طویل محنت‌طلب کام سے گریز کرنے اور اچھی متوازن خوراک کھانے سے ایسا کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر یہ بھی سفارش کرتے ہیں کہ ملٹی‌وٹامنز اور فولک ایسڈ بھی خوراک کیساتھ ساتھ طاقت کیلئے استعمال کی جانی چاہئے۔‏

ایسے علاقوں میں جہاں ملیریا عام ہے وہاں اپنی حفاظت کے لئے سکل سیل انیمیا والے لوگوں کیلئے مچھروں کے کاٹنے سے بچنا اور بیماری کے خلاف تحفظ کیلئے ادویات استعمال کرنا دانشمندی کی بات ہے۔ چونکہ ملیریا خون کے سُرخ خلیوں کو ختم کرتا ہے اسلئے یہ بالخصوص سکل سیل انیمیا والے شخص کیلئے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔‏

جنہیں سکل سیل انیمیا کا مرض لاحق ہے اُنہیں باقاعدہ طبّی معائنے بھی کرانے چاہئیں۔ کسی بھی طرح کے انفیکشنز، بیماریوں یا زخموں کو بِلاتاخیر طبّی توجہ دی جانی چاہئے۔ ایسی راہنمائیوں پر احتیاط کے ساتھ عمل کرنے سے، بہتیرے سکل سیل انیمیا والے لوگوں کے لئے نارمل، خوشگوار زندگی بسر کرنا ممکن ہے۔‏

یہ بچوں میں کیسے منتقل ہوتا ہے

یہ سمجھنے کیلئے کہ بیماری والدین سے بچوں میں کیسے منتقل ہوتی ہے، ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ خون کی جینوٹائپس [‏توارثی اقسام]‏ کیا ہیں۔ خون کی جینوٹائپ خون کے گروپ سے مختلف ہوتی ہے؛ جینوٹائپ کا تعلق جینز کے ساتھ ہوتا ہے۔ بیشتر لوگوں کے خون کی جینوٹائپAA ہوتی ہے۔ وہ جو والدین میں سے ایک سے تو ورثہ میںA جین حاصل کرتے ہیں اور دوسرے سے S جین لیتے ہیں اُن کے خون کی جینوٹائپ AS ہوتی ہے۔ AS خون والے لوگوں کو سکل سیل انیمیا نہیں ہوتا، لیکن وہ اس مرض کو اپنی اولاد میں منتقل کر سکتے ہیں۔ ایسے لوگ جو والدین میں سے ایک سےS جین ورثہ میں پاتے ہیں اور دوسرے سے بھیS جین حاصل کرتے ہیں اُنکے خون کی جینوٹائپSS ہوتی ہے جو سکل سیل انیمیا کی جینوٹائپ ہے۔‏

لہٰذا، ایک بچے کےSS قسم کے خون کا ورثہ پانے کیلئے ضروری ہے کہ وہ والدین میں سے ہر ایک سے ناقص S جین ورثے میں پائے۔ جیسے ایک بچہ پیدا کرنے کیلئے دو اشخاص کا ہونا ضروری ہے، بالکل اُسی طرح سکل سیل انیمیا منتقل کرنے کیلئے بھی دو کا ہونا ضروری ہے۔ عام طور پر، مرض اُس وقت منتقل ہوتا ہے جب والدین میں سے دونوں کا خونAS قسم کا ہو۔ جبAS قسم کے خون والا ایک شخص دوسرےAS قسم کے خون والے شخص سے شادی کرتا ہے تو اس بات کا ۴ میں سے ۱ کے برابر امکان ہوتا ہے کہ اُن سے پیدا ہونے والے کسی بھی بچے کا خونSS قسم کا ہوگا۔‏

اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر اُنکے چار بچے ہیں تو اُن میں سے ایک کو سکل سیل انیمیا ہوگا اور تین کو نہیں۔ جبکہ یہ ممکن ہے کہ اُن چار میں سے ایک SS ہو، یہ بھی ممکن ہے کہ اُن میں سے دو، تین یا چاروں کے چاروں SS ہوں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بچوں میں سے کوئی بھیSS نہ ہو۔‏

شادی سے قبل دانشمندانہ فیصلے

افریقی نسل کے لوگ شادی پر غوروخوض کرنے سے کافی پہلے یہ دریافت کرنے میں دانشمند ہیں کہ اُن کے خون کی جینوٹائپ کیا ہے۔ یہ خون کے ٹیسٹ سے کِیا جا سکتا ہے۔ لوگ جنکا خونAA قسم کا ہے اس بات کا یقین رکھ سکتے ہیں کہ اُن کے بچوں میں سے کسی کو بھی سکل سیل انیمیا نہیں ہوگا، خواہ وہ کسی سے بھی شادی کریں۔ وہ جنکا خونAS ہے اُنہیں یہ سمجھنا چاہئے کہ اگر وہ کسی ایسے شخص سے شادی کرتے ہیں جسکا خونAS ہے تو اُنہیں اس بات کا بہت زیادہ خطرہ لاحق ہے کہ جو بچہ وہ پیدا کرینگے اُسے سکل سیل انیمیا ہوگا۔‏

جبکہ ڈاکٹر پُرزور طریقے سے AS والوں کی AS والوں سے شادی کرنے کی حوصلہ‌شکنی کرتے ہیں، سکل سیل سنٹر کے مشیر لوگوں کو خود اپنے فیصلے کرنے دیتے ہیں۔ ڈاکٹر اومیکی کہتا ہے:‏ ”‏ہمارا کام لوگوں کو خوفزدہ کرنا یا یہ بتانا نہیں کہ اُنہیں کس سے شادی کرنی چاہئے یا کس سے نہیں کرنی چاہئے۔ کوئی بھی وثوق سے یہ پیشگوئی نہیں کر سکتا کہ ایکAS جوڑے سے پیدا ہونے والے بچوں کا خون SS ہوگا، کیونکہ یہ تو اتفاق کی بات ہے۔ اگر اُن کاSS بچہ ہو بھی جائے تو بھی ممکن ہے کہ وہ بچہ بہت زیادہ مشکلات کے بغیر مرض کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو۔ لیکن ہم چاہتے ہیں کہ لوگوں کو معلوم ہو کہ اُنکی جینوٹائپ کیا ہے۔ اور ہم قبل‌ازوقت لوگوں کو اس چیز سے باخبر کرنے میں مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر اُن کے SS بچے ہوتے ہیں تو کیا واقع ہو سکتا ہے یوں اُن کے لئے یہ باعثِ‌تشویش بات نہیں ہوگی۔ اس طرح سے وہ اس حالت میں ہوتے ہیں کہ نہ صرف حقائق پر مبنی فیصلے کر سکیں بلکہ اُن فیصلوں کے نتائج قبول کرنے کے لئے بھی خود کو ذہنی طور پر تیار رکھیں۔“‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a سکل سیل سے متعلق ورثے میں ملنے والے دیگر امراض جو خون کی آکسیجن لیجانے کی صلاحیت کو متاثر کرتے ہیں وہ سکل سیل ہیموگلوبین سی کی بیماری اور سکل بی‌ٹا تھیلاسیمیا ہیں۔‏

‏[‏صفحہ 24 پر بکس]‏

محبت کی اہمیت

جوائے، جو اب اپنے ۲۰ کے دہے کے اوائل میں ہے، سکل سیل انیمیا کی مریضہ ہے۔ چونکہ وہ یہوواہ کے گواہوں میں سے ایک ہے، اُس نے کبھی بھی انتقالِ‌خون قبول نہ کِیا۔ اُسکی ماں اولا کہتی ہے:‏ ”‏مَیں ہمیشہ اس بات کا دھیان رکھتی ہوں کہ جوائے کو ہمیشہ اچھی خوراک ملے جس سے اُس کا خون بنے۔ میرا خیال ہے کہ پُرمحبت والدین کی خاص اہمیت ہے۔ میرے دوسرے بچوں کی طرح، اُسکی زندگی بھی میرے لئے نہایت قیمتی ہے۔ بِلاشُبہ، تمام بچوں کو محبت کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن بیماری کا مقابلہ کرنے والوں کو کچھ زیادہ ہی ہوتی ہے!‏“‏

‏[‏صفحہ 23 پر تصویر]‏

ٹوپے کے بھی ایسے ہی سکل سیلز ہیں جنکو تیر کے نشان سے ظاہر کِیا گیا ہے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں