یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو97 8/‏1 ص.‏ 19-‏21
  • ریڈیو ایک ایسی ایجاد جس نے دُنیا بدل ڈالی

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ریڈیو ایک ایسی ایجاد جس نے دُنیا بدل ڈالی
  • جاگو!‏—‏1997ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • تکنیکی ترقی
  • ریڈیو کے سو سال
  • اِجتماع کا پروگرام ریڈیو اور ٹی‌وی پر نشر کِیا گیا
    آپ کے عطیات کیسے اِستعمال کیے جاتے ہیں؟‏
  • 1924ء​—‏⁠آج سے 100 سال پہلے
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2024ء
  • 1922ء—‏آج سے 100 سال پہلے
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2022ء
  • 1925ء​—‏⁠آج سے 100 سال پہلے
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
جاگو!‏—‏1997ء
جاگو97 8/‏1 ص.‏ 19-‏21

ریڈیو ایک ایسی ایجاد جس نے دُنیا بدل ڈالی

اٹلی میں جاگو!‏ کے مراسلہ‌نگار سے

رائفل کی ایک گولی اٹلی کے دیہی علاقے کی خاموشی کو چیرتی ہوئی نکل گئی۔ اس سگنل نے گولیلمو مارکونی کو یقین دلایا کہ جو نامکمل آلہ وہ استعمال کر رہا تھا وہ کامیاب ہو گیا تھا۔ ٹرانسمیٹر کے ذریعے پیدا ہونے والی اور خلا میں پھیلنے والی برقی‌مقناطیسی لہروں کو اڑھائی کلومیڑ کے فاصلے پر رکھے ہوئے ریسیور نے اُٹھا لیا تھا۔ یہ ۱۸۹۵ کی بات تھی۔ اگرچہ اُس وقت کوئی بھی شخص مکمل طور پر تمام اشاروں کو سمجھ نہیں سکتا تھا کہ رائفل سے چلائی جانے والی ایک گولی نے ایک ایسی ٹیکنالوجی—‏ریڈیو کمیونیکیشن کا آغاز کِیا، جس نے اُس وقت سے لیکر ہماری دُنیا کو یکسر بدل دیا ہے۔‏

کئی ایک سائنسدان پہلے ہی سے برقی‌مقناطیسی لہروں کے خواص کا مطالعہ کر چکے ہیں۔ ۱۸۳۱ میں، انگریز ماہرِطبیعیات مائیکل فیراڈے نے مظاہرہ کِیا کہ برقی لہر مقناطیسی حلقہ پیدا کر سکتی ہے اور پہلے سے جُدا مگر اسکے قریب ہی رکھے گئے دوسرے سرکٹ میں کرنٹ پیدا کر سکتی ہے۔ ۱۸۶۴ میں، سکاٹش ماہرِطبیعیات جیمز میکس‌ویل نے نظریہ قائم کِیا کہ ایسے حلقوں سے پیدا ہونے والی توانائی لہروں کی صورت میں پھیل سکتی ہے—‏بالکل اُسی طرح جیسے تالاب کی سطح پر ہلکی لہریں—‏لیکن روشنی کی رفتار سے۔ بعدازاں، برقی‌مقناطیسی لہریں پیدا کرکے اور اُنہیں قریبی فاصلے سے دریافت کرتے ہوئے، جرمن ماہرِطبیعیات ہنرک ہرٹز نے نیوزی لینڈ کے ارنسٹ رتھرفورڈ (‏بعدازاں، لارڈ رتھرفورڈ)‏ کی طرح میکس‌ویل کے نظریے کی تصدیق کی۔ لیکن دستیاب آلے میں ردوبدل اور بہتری پیدا کرتے ہوئے اور اس میں اپنے ذاتی بنائے ہوئے ایریل کا اضافہ کرتے ہوئے، مارکونی کافی فاصلے تک ٹیلی‌گرافک سگنلز منتقل کرنے کے قابل ہوا۔ وائرلیس ٹیلی‌گرافی کا آغاز ہو چکا تھا!‏

۱۸۹۶ میں، ۲۱سالہ مارکونی اٹلی سے انگلینڈ آ گیا، جہاں اُسے، جنرل پوسٹ‌آفس کے چیف انجینیئر، ولیم پریس کے رُوبرو پیش کِیا گیا۔ پریس مارکونی کے سسٹم کو ایسے مقامات کے درمیان بحری مواصلات کیلئے استعمال کرنے میں دلچسپی رکھتا تھا جو کیبل کے ذریعے جوڑے نہیں جا سکتے تھے۔ اُس نے مارکونی کو فنی‌ماہرین کی مدد اور اُسکے اپنے تجربات کے استعمال کیلئے لیبارٹریاں پیش کیں۔ چند مہینوں میں، مارکونی منتقل ہونے والے سگنلز کی قوت ۱۰ کلومیٹر فاصلے تک بڑھانے میں کامیاب ہو گیا۔ ۱۸۹۷ میں، وائرلیس ٹیلی‌گرافی کو تجارتی اعتبار سے ترقی کرنے والے نظام میں منتقل کرنے کے نصب‌العین کیساتھ، مارکونی نے وائرلیس ٹیلی‌گراف اینڈ سگنل کمپنی، لمیٹڈ کی بنیاد رکھی۔‏

سِن ۱۹۰۰ میں کارن‌وال اور جنوبی انگلینڈ کے جزیرے وائٹ کے درمیان ۳۰۰ کلومیٹر لمبا ریڈیوٹیلی‌گرافک رابطہ قائم کِیا گیا اور زمین کی خمیدگی پر ریڈیو کی لہروں کا جال بچھانے کے کبھی ناممکن خیال‌کردہ کام کا مظاہرہ کِیا گیا۔ یہ خیال کِیا گیا تھا کہ چونکہ برقی‌مقناطیسی لہریں اُفق کے متوازی سفر کرتی ہیں اسلئے سگنلز اُفق کے پار حاصل نہیں ہو سکیں گے۔‏a اُس وقت ریڈیوز کیلئے پہلی اہم درخواستیں موصول ہونے لگیں۔ برطانیہ کی نظارتِ‌بحریہ نے ۲۶ جہازوں پر ریڈیو سیٹ نصب کرنے کے علاوہ چھ برّی سٹیشنوں کو تعمیر کرنے اور چلانے کا بھی حکم دیا۔ اگلے سال مارکونی تین نکات والے ہلکے سے سگنل کے ساتھ جو مارس کوڈ میں ایس کی نشاندہی کرتا تھا اٹلانٹک پار کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ ایجاد کا مستقبل یقینی تھا۔‏

تکنیکی ترقی

شروع شروع میں، وائرلیس ٹیلی‌گرافی نہ تو الفاظ نہ ہی موسیقی منتقل کر سکتی تھی، صرف مارس کوڈ منتقل کر سکتی تھی۔ تاہم، ۱۹۰۴ میں ڈائی‌اوڈ، پہلی والو ویکیوم ٹیوب کی آمد کیساتھ ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی، جس نے آواز کے نشریہ اور وصولیابی کو ممکن بنایا۔ اس چیز نے وائرلیس ٹیلی‌گرافی (‏بے‌تار پیغام‌رسانی)‏ کو ریڈیو میں بدل ڈالا جیسے کہ آج ہم اسے جانتے ہیں۔‏

۱۹۰۶ میں، ریاستہائے متحدہ میں، رجنالڈ فیسینڈن نے موسیقی نشر کی جسے ۸۰ کلومیٹر دُور جہازوں نے اُٹھایا۔ ۱۹۱۰ میں، لی ڈی فارسٹ نے نیو یارک میں ریڈیو کے شائقین کی خاطر ایک مشہور اطالوی موسیقار اینریکو کاروسو کے پیش‌کردہ کانسرٹ کو براہِ‌راست نشر کرنے کا بندوبست کِیا۔ ایک سال قبل، پہلی مرتبہ، گھڑیوں کو چلانے والے سگنلز پیرس، فرانس میں ایفل ٹاور سے نشر کئے گئے۔ اُسی سال، ۱۹۰۹ میں، فلوریڈا اور ریپبلک جہازوں سے جو اٹلانٹک میں ٹکرا گئے تھے، پہلی مرتبہ ریڈیو کی مدد سے پس‌ماندگان کو بچایا گیا۔ تین سال بعد، ٹائٹینک طوفان کے ۷۰۰ سے زائد پس‌ماندگان کو ریڈیو کے ذریعے بھیجے جانے والے ایس‌وایس (‏ریڈیو کوڈ میں بین‌الاقوامی طور پر تسلیم‌شُدہ خطرے کا اشارہ)‏ کی بدولت بچایا گیا۔‏

۱۹۱۶ کے لگ‌بھگ، ہر گھر میں ریڈیو رکھنے کے امکان کا تصور کِیا گیا۔ کمرشل ریڈیو کی ہمہ‌گیر ترقی کی راہ کھولتے ہوئے، والوز کے استعمال نے مؤثر، سستے ریسیور بنانے کو ممکن بنایا۔ تیزتر اضافہ پہلے‌پہل ریاستہائے متحدہ میں ہوا، جہاں ۱۹۲۱ کے اختتام تک ۸ سٹیشن تھے اور یکم نومبر، ۱۹۲۲ تک ۵۶۴ لائسنس حاصل کر چکے تھے!‏ بہت سے گھروں میں، بجلی کی روشنی کے نظام کے علاوہ، بجلی سے چلنے والا پہلا آلہ ریڈیو تھا۔‏

باقاعدہ کمرشل نشریات کے آغاز سے لیکر دو سال کے اندر اندر، بائبل سٹوڈنٹس بھی، جیسے‌کہ یہوواہ کے گواہ اُس وقت جانے جاتے تھے، اپنے پیغام کو نشر کرنے کیلئے ریڈیو استعمال کر رہے تھے۔ ۱۹۲۲ میں، جے.‏ ایف.‏ رتھرفورڈ، اُس وقت واچ ٹاور سوسائٹی کے صدر نے، کیلیفورنیا سے، اپنی ریڈیو پر پہلی تقریر پیش کی۔ دو سال بعد، ڈبلیوبی‌بی‌آر، واچ ٹاور سوسائٹی کے اپنے تعمیرکردہ سٹیشن نے سٹیٹن آئی‌لینڈ، نیو یارک سے نشریات کا آغاز کِیا۔ انجام‌کار، سوسائٹی نے بائبل پروگرام نشر کرنے کیلئے عالمی نٹ‌ورکس کو ترتیب دیا۔ ۱۹۳۳ تک زیادہ سے زیادہ ۴۰۸ سٹیشن خدا کی بادشاہت کے پیغام کو پیش کر رہے تھے۔—‏متی ۲۴:‏۱۴‏۔‏

تاہم، بہت سے ممالک میں، ریڈیو حکومت کی اجارہ‌داری بن گیا۔ اٹلی میں، میسولینی کی حکومت نے ریڈیو کو سیاسی پروپیگنڈے کے آلے کے طور پر خیال کِیا اور اپنے شہریوں کو غیرملکی نشریات سننے سے منع کر دیا۔ ۱۹۳۸ میں ریڈیو کی بے‌پناہ قوت کا بڑی حد تک مظاہرہ کِیا گیا۔ ریاستہائے متحدہ میں ایک من گھڑت سائنسی کہانی کے نشریہ کے دوران، آرسن ویلس نے لوگوں کے اندر خوف‌وہراس پھیلا دیا، جن میں بعض نے خیال کِیا کہ مریخ کے باشندے نیو جرسی میں اُتر آئے ہیں اور جو لوگ اُن کی مخالفت کر رہے ہیں اُن سب کو ہلاک کرنے کیلئے ایک مُہلک ”‏گرم شعاع“‏ استعمال کر رہے ہیں!‏

ریڈیو کے سو سال

۱۹۵۴ میں اٹلی میں لوگوں کی پسندیدہ تفریح ریڈیو سننا تھی۔ ٹیلی‌ویژن کی کامیابی کے باوجود، ریڈیو ابھی تک بہت زیادہ مقبول ہے۔ زیادہ‌تر یورپی ممالک میں، ۵۰ سے ۷۰ فیصد آبادی معلومات اور تفریح کیلئے ریڈیو سنتی ہے۔ یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ ریاستہائے متحدہ میں، ۹۵ فیصد گاڑیوں میں، ۸۰ فیصد خوابگا‌ہوں میں اور ۵۰ فیصد سے زیادہ باورچی خانوں میں ریڈیو ہیں۔‏

ٹیلی‌ویژن کے دَور میں بھی ریڈیو کی مقبولیت کی وجوہات میں سے ایک یہ ہے کہ اسے آسانی سے اِدھراُدھر لیجایا جا سکتا ہے۔ مزیدبرآں، ایک سروے کے مطابق، ریڈیو ”‏ٹیلی‌ویژن کی نسبت کہیں زیادہ جذباتی اور تصوراتی لگاؤ کی قوت رکھتا ہے۔“‏

۱۹۹۵ کے دوران، اٹلی میں مارکونی کے تجربے کی صدسالہ تقریبات نے ریڈیو کے ذریعے کی جانے والی ترقی پر غور کرنے کا موقع فراہم کِیا۔ اَن‌گنت سائنسدانوں نے پہلے بھونڈےپن سے بنائے گئے آلات کو آج کے ترقی‌یافتہ نظامات میں تبدیل کرنے کیلئے کام کِیا ہے۔ اب، ڈیجیٹل آڈیو براڈکاسٹنگ کے باعث جو سگنل کے کوڈیفیکیشن کا ہندسی نظام ہے، شاندار صوتی خوبی کی ضمانت دی گئی ہے۔ لیکن سب سے بڑھ کر ریڈیو کے روزانہ بہت زیادہ استعمال کے علاوہ، یہ ایجاد ٹی‌وی، ریڈار اور مختلف دیگر حرفیات کا نکتۂ‌آغاز تھی۔‏

مثال کے طور پر، ریڈیو علمِ‌ہیئت اجرامِ‌فلکی سے خارج ہونے والی ریڈائی لہروں کی وصولی اور تجزیہ کرنے پر مبنی ہے۔ ریڈیو کے بغیر خلائی ٹیکنالوجی میں ترقی ناممکن تھی۔ مصنوعی سیّارے کا تمام استعمال—‏ٹیلی‌ویژن، ٹیلی‌فون، معلومات کا جمع کرنا—‏ریڈائی لہروں کے استعمال پر انحصار کرتا ہے۔ ٹرانزسٹرز کی مائیکروچیپس میں تکنیکی ترقی سب سے پہلے دستی کیلکولیٹرز اور کمپیوٹرز پر اور اس کے بعد بین‌الاقوامی معلومات کے نٹ‌ورک پر منتج ہوئی۔‏

زمین پر کہیں بھی دو مقامات کو جوڑنے والے موبائبل ٹیلی‌فونز، پہلے ہی سے حقیقت بن گئے ہیں۔ اب بیک‌وقت ٹی‌وی، ٹیلی‌فون، کمپیوٹر اور فیکس کے ساتھ ہتھیلی کے برابر وائرلیس ریسیورز کی آمد کا امکان ہے۔ یہ ریسیورز سینکڑوں ویڈیوز، آڈیوز اور نصابی چینلز کو چلانے کے قابل ہونگے اور استعمال کرنے والوں کو اس قابل بنائینگے کہ دوسروں کوالیکٹرانک ڈاک بھیج سکیں اور وصول کر سکیں۔‏

کوئی بھی شخص یقین سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس میدان کا مستقبل کیا ہے۔ لیکن ریڈیو کی ٹیکنالوجی متواتر ترقی کر رہی ہے، لہٰذا دیگر شاندار ترقیوں کی توقع ہے۔‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a اس مظہر کی وضاحت ۱۹۰۲ میں حاصل ہوئی جب ماہرینِ‌طبیعیات آرتھر کینلی اور آلیور ہیوی‌سائڈ نے ایک فضائی پرت کی موجودگی کی بابت نظریات قائم کئے جو برقی‌مقناطیسی لہروں—‏دائرہ‌برق‌پارہ کو منعکس کرتی ہے۔‏

‏[‏صفحہ 12 پر عبارت]‏

ٹیلی‌ویژن کی کامیابی کے باوجود، ریڈیو ابھی تک بہت مقبول ہے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں