یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو97 8/‏1 ص.‏ 15-‏18
  • ایک نازک مگر جفاکش مسافر

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ایک نازک مگر جفاکش مسافر
  • جاگو!‏—‏1997ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • تخلیق کا ایک خوبصورت شاہکار
  • اثرآفرین پروازیں
  • بڑی تعداد میں نقل‌مکانی
  • منازل
  • ایک تتلی کا راز کُھل گیا
    جاگو!‏—‏2014ء
  • دُنیا کا نظارہ کرنا
    جاگو!‏—‏2004ء
  • تِتلیوں، پودوں اور چیونٹیوں میں خاص رشتہ
    جاگو!‏—‏2001ء
  • سفید تتلی کا اپنے پَروں کو پھیلانے کا منفرد زاویہ
    کیا یہ خالق کی کاریگری ہے؟‏
جاگو!‏—‏1997ء
جاگو97 8/‏1 ص.‏ 15-‏18

ایک نازک مگر جفاکش مسافر

کینیڈا میں جاگو!‏ کے مراسلہ‌نگار سے

مصوّر اُن میں رنگ بھرتے ہیں اور شاعر اُنکی بابت لکھتے ہیں۔ بیشمار اقسام گرم‌سیر برساتی جنگلات میں رہتی ہیں۔ بہت سی گھنے درختوں والے علاقوں، کھیتوں اور سبزہ‌زاروں میں رہتی ہیں۔ بعض پہاڑوں کی چوٹیوں کی سردی کا؛ دیگر ریگستانوں کی گرمی کا مقابلہ کرتی ہیں۔ اُنہیں تمام حشرات میں سے انتہائی خوبصورت کہا گیا ہے۔‏

بِلاشُبہ آپ اس بہت خوشنما اور حسین مخلوق—‏تِتلی سے واقف ہیں۔ تاہم، ایک قسم کی تِتلی نے سفر کرنے کے اپنے حیران‌کُن کارناموں کی وجہ سے عالمی شہرت حاصل کر لی ہے۔ یہ نازک مگر جفاکش مسافر مونارک تِتلی ہے۔ آیئے تخلیق کے اس شاہکار اور اس کی حیرت‌انگیز نقل‌مکانیوں کا قریبی جائزہ لیں۔‏

تخلیق کا ایک خوبصورت شاہکار

ایک گرم، روشن دن پر خود کو ایک سبزہ‌زار میں تصور کریں۔ اپنی نظریں جنگلی پھولوں کے درمیان خوراک اور پانی کی اپنی لامتناہی تلاش میں اِدھراُدھر تیزی سے اُڑتے ہوئے خوبصورت پروں والے عجائب پر مرکوز رکھیں۔ اپنے بازو پھیلائے ساکن کھڑے رہیں۔ ایک بالکل قریب آ رہی ہے۔ اوہ، شاید یہ آپ کے بازو پر بیٹھنے والی ہے!‏ غور کریں کہ یہ کتنی آہستہ سے بیٹھتی ہے۔‏

اب قریبی جائزہ لیں۔ اس کے پاؤڈر سے لت‌پت، پیچیدہ ڈیزائن والے بارڈر کیساتھ، دو نازک نارنجی پروں کو غور سے دیکھیں جن پر سیاہ رنگ سے نقش‌ونگاری کی گئی ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ مونارک کا نام امریکہ میں انگریز آبادکاروں نے رکھا تھا جنہوں نے اسے اپنے مونارک [‏بادشاہ]‏ ولیم آف اورنج، سے نسبت دی تھی۔ یقیناً یہ تِتلی ایک ”‏بادشاہ“‏ ہے۔ لیکن یہ نازک حسن، جس کا وزن محض اونس کا چالیسواں حصہ ہے اور پَر تین سے چار انچ تک پھیلے ہوئے ہیں، طویل، دشوار سفر کرنے کے قابل ہے۔‏

اثرآفرین پروازیں

اگرچہ بعض تِتلیوں کی بابت کہا جاتا ہے کہ وہ موسمِ‌سرما کے آغاز کیساتھ ہی دُوردراز نقل‌مکانی کر جاتی ہیں، صرف مونارک ہی دُرست منازل کی طرف اور اتنی بڑی تعداد میں طویل سفر کرتی ہے۔ مونارک کی نقل‌مکانی واقعی تِتلی کا عجیب‌وغریب واقعہ ہے۔ ان جفاکش مسافروں کے چند ایک اثرآفرین کارناموں پر غور کریں۔‏

موسمِ‌خزاں میں کینیڈا سے کیلیفورنیا یا میکسیکو میں سرد علاقوں کی طرف اُنکی پرواز ۳،۲۰۰ کلومیٹر سے زیادہ کی ہوتی ہے۔ وہ بڑی بڑی جھیلوں، دریاؤں، وادیوں اور پہاڑوں کو عبور کرتی ہیں۔ اُن میں سے لاکھوں وسطی میکسیکو کے سی‌آرا ماڈری پہاڑوں میں اپنی منزلِ‌مقصود تک کامیابی سے نقل‌مکانی کرتی ہیں۔‏

یہ پروازیں اُس وقت اَور بھی زیادہ حیران‌کُن دکھائی دیتی ہیں جب آپ یہ سوچتے ہیں کہ اِن چھوٹی تِتلیوں نے نہ تو پہلے کبھی یہ پرواز کی ہے اور نہ ہی اُنہوں نے سرماخوبی کے مقامات دیکھے ہیں۔ لیکن کسی غلطی کے بغیر وہ پرواز کی سمت کا تعیّن کر لیتی ہیں اور جب وہ اپنے سرد علاقوں میں پہنچتی ہیں تو اُنہیں معلوم ہو جاتا ہے۔ وہ یہ کیسے کرتی ہیں؟‏

کینیڈین جیوگرافی بیان کرتا ہے:‏ ”‏واضح طور پر، اُنکے سادہ سے چھوٹے دماغوں میں ایک پیچیدہ توارثی پروگرام ہوتا ہے جو شاید شہد کی مکھیوں کی طرح سورج کی شعاعوں کے زاویے کو یاپھر پرندوں کی راہنمائی کرنے والے زمین کے مقناطیسی خطے کو پہچاننے اور اس کے مطابق عمل کرنے کا کوئی نہ کوئی طریقہ ہے۔ اور آخر میں خاص درجۂ‌حرارت اور نمی کی حالتوں کو دریافت کرنے کی صلاحیت بھی اُنکی مدد کر سکتی ہے۔ لیکن جوابات نے ابھی تک سائنسدانوں کو حیرت میں ڈالا ہوا ہے۔“‏ بائبل کی امثال کی کتاب میں متذکرہ مخلوقات کی طرح، ”‏[‏وہ جبلّی طور پر، این‌ڈبلیو]‏ بہت دانا ہیں۔“‏—‏امثال ۳۰:‏۲۴‏۔‏

مونارک ماہر ہواباز بھی ہیں۔ وہ ۱۲ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پَر ہلائے بغیر ہوا میں اڑتی ہیں، ۱۸ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اُوپر اُٹھتی ہیں اور—‏جیسے‌کہ کوئی بھی شخص جس نے اُنہیں پکڑنے کی کوشش کی ہے جانتا ہے—‏اس سے بھی زیادہ تیزی سے، تقریباً ۳۵ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے حرکت کرتی ہیں۔ وہ ہواؤں کو استعمال کرنے میں خاصی ماہر ہوتی ہیں—‏حتیٰ‌کہ جنوب‌مغرب میں اپنی منزلِ‌مقصود کی طرف حرکت کرنے کیلئے مغرب سے آنے والی ہوا کے خلاف بھی راستہ بنا سکتی ہیں۔ پرواز کے پیچیدہ طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے، وہ ہوا کی رفتار اور سمت میں تبدیلیوں کا مقابلہ کر سکتی ہیں۔ بے‌انجن طیارے کے پائلٹ اور شکروں کی مانند، وہ حرارت (‏گرم ہوا کے اُوپر کی طرف اُڑنے)‏ کیساتھ اُڑتی ہیں۔ ایک ذرائع کے مطابق، مونارکس عموماً ایک دن میں ۲۰۰ کلومیٹر تک سفر کرتی ہیں۔ وہ صرف دن کے دوران اُڑتی ہیں۔ ہر سال اکثر اُسی علاقے میں، رات کے وقت وہ آرام کرتی ہیں۔‏

ٹرانٹو یونیورسٹی کے سائنسدان ڈیوڈ گیبو نے دریافت کِیا ہے کہ مونارک کبھی‌کبھار ہوا میں اُوپر اُٹھنے یا پَر ہلائے بغیر پرواز کرنے والے سے زیادہ کچھ ہے۔ وہ بیان کرتا ہے:‏ ”‏میرے خیال میں ہوا کا استعمال کرنے میں تتلیاں نقل‌مکانی کرنے والے ہنسوں سے زیادہ ہوشیار ہیں۔“‏ پھڑپھڑانے، ہوا میں اُوپر اُڑنے اور کھانے کا معمول مونارکس کو کافی زیادہ چربی کے ساتھ میکسیکو پہنچنے کے قابل بناتا ہے جو ساری سردیاں اور موسمِ‌بہار میں واپس شمال کی طرف اپنی پرواز کا آغاز کرنے تک اُنہیں زندہ رکھتی ہے۔ پروفیسر گیبو یہ بھی کہتا ہے:‏ ‏”‏سبک‌رفتاری سے اُڑنا اُنہیں طویل مسافت کرنے اور بخریت واپس لوٹنے کے قابل بناتا ہے۔“‏

بڑی تعداد میں نقل‌مکانی

یہ کافی عرصے سے معلوم ہے کہ سنگلاخ پہاڑوں کے مغرب کی مونارکس جنوب میں نقل‌مکانی کر جاتی ہیں اور کیلیفورنیا میں سردیاں گزارتی ہیں۔ اُنہیں کیلیفورنیا کے جنوبی ساحل کے ساتھ کئی ایک مقامات پر غولوں کی شکل میں پائن اور یوکلپٹس کے درختوں کے ساتھ لٹکتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ لیکن مشرقی کینیڈا میں مونارکس کی بڑی تعداد کی نقل‌مکانی کا مقام کافی عرصہ تک راز ہی رہا تھا۔‏

۱۹۷۶ میں یہ راز کھل گیا تھا۔ اُنکے سرد علاقے بالآخر دریافت کر لئے گئے تھے—‏میکسیکو کے سی‌آرا ماڈری پہاڑوں کی جنگلاتی چوٹیاں۔ لاکھوں تتلیاں اُونچے اُونچے صنوبر کے خاکستری سبز درختوں کی شاخوں اور تنوں پر بہت بڑی تعداد میں پائی گئی تھیں۔ یہ اثرآفرین نظارہ سیاحوں کیلئے مسلسل دل موہ لینے والی کشش رکھتا ہے۔‏

کینیڈا میں مونارکس کو بڑی تعداد میں دیکھنے کی بہترین جگہوں میں سے ایک پوائنٹ پیلی نیشنل پارک، اونٹیریو ہے جہاں وہ جنوب کی طرف اپنی نقل‌مکانی کی تیاری کیلئے جمع ہوتی ہیں۔ موسمِ‌گرما کے آخر پر، وہ کینیڈا کے اس جنوبی علاقے میں جمع ہوتی ہیں اور جھیل ایری کے شمالی ساحل پر اُس وقت تک انتظار کرتی ہیں جبتک‌کہ میکسیکو میں اُنکے سرد مقامات کی طرف اُنکے جنوبی سفر کے آغاز سے پہلے ہوائیں اور درجۂ‌حرارت سازگار نہیں ہو جاتے۔‏

منازل

پوائنٹ پیلی سے لیکر، براعظم ریاستہائے متحدہ کے پار تک اپنے طویل سفر کا آغاز کرنے سے پہلے وہ جھیل ایری کے پار جزیرہ با جزیرہ پرواز کرتی ہیں۔ راستے میں، مونارکس کے دوسرے غول بھی نقل‌مکانی میں اُن کیساتھ شامل ہو جاتے ہیں۔ میکسیکو شہر کے شمال‌مغربی اُونچے پہاڑوں میں، اندازاً ایک سو ملین موسمِ‌سرما گزارنے کیلئے جمع ہوتی ہیں۔‏

دیگر نقل‌مکانیاں فلوریڈا میں اور کریبیئن کے پار واقع ہوتی ہیں اور ممکن ہے کہ یہ جزیرہ‌نما یوکاٹن یا گوئٹے‌مالا میں ابھی دریافت کی جانے والی منازل پر جا کر ختم ہوتی ہوں۔ خواہ میکسیکو میں یا اپنے دیگر سرد محفوظ مقامات میں ہوں، مونارکس پہاڑی جنگل میں نسبتاً چند چھوٹے قطعوں میں اکٹھی ہوتی ہیں۔‏

ایک شخص سوچ سکتا ہے کہ اُن کے موسمِ‌سرما کے گھروں کی طرف طویل پروازیں اُنہیں گرم ممالک کے روشن سبزہ‌زاروں میں لے جائینگی۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ میکسیکو کے آتش‌فشاں علاقے کے پار، جہاں وہ جاتی ہیں سرد ہے۔ تاہم، پہاڑوں کی چوٹیوں کی فراہم‌کردہ آب‌وہوا، اُنکے سردیاں گزارنے کیلئے موزوں ہے۔ یہ اتنی سرد ہوتی ہے کہ یہ اُنکے کلی طور پر بے‌عملی کی حالت میں وقت گزارنے کا باعث بننے کیلئے کافی ہوتی ہے—‏یوں اپنے عرصۂ‌حیات کو آٹھ یا دس ماہ بڑھا لیتی ہیں جو اُنہیں میکسیکو تک پرواز کرنے، سردیاں گزارنے اور واپسی سفر شروع کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک طرح سے چھٹی منانا ہے۔‏

موسمِ‌بہار کی آمد سے مونارکس ایک بار پھر حرکت میں آ جاتی ہیں۔ جب دن لمبے ہو جاتے ہیں تو تتلیاں سورج کی روشنی میں پھڑپھڑاتی ہیں، مدھ پر آتی ہیں اور واپس شمال کی طرف اپنے سفر کا آغاز کرتی ہیں۔ یہ خیال کِیا جاتا ہے کہ بعض شاید ساراواپسی کا سفر کریں لیکن عموماً یہ محض تِتلیوں کے بچے ہوتے ہیں جو موسمِ‌گرما میں کینیڈا اور شمالی ریاستہائے متحدہ میں پہنچ جاتے ہیں۔ انڈے، کاٹرپلر، پیوپا اور تتلیاں بننے کے مراحل سے گزر کر تیسری یا چوتھی پُشت براعظم کی طرف واپس آتی ہے۔ مادہ—‏سو یا اس سے بھی زیادہ صحت‌مند انڈوں سے بھری ہوئی—‏جنگلی پھولوں کے گچھوں کے اندر اُڑتی پھرتی ہیں اور چھوٹے نرم‌ونازک پتوں کی اندرونی سطح پر انڈے دیتی ہیں۔ اور یوں یہ عمل جاری رہتا ہے اور مونارکس کا گرمیوں کے آشیانوں کی طرف سفر جاری رہتا ہے۔‏

واقعی مونارک ایک دلکش مخلوق ہے۔ انسانوں کو اسکا مشاہدہ کرنے اور اسکی سرگرمیوں کا مطالعہ کرنے کا کیا ہی بڑا استحقاق حاصل ہے۔ تاہم، حیرانی کی بات نہیں ہے کہ میکسیکو میں مونارکس کے طویل عرصے تک پوشیدہ رہنے والے مقامات، اسکے علاوہ کیلیفورنیا میں منازل، انسانی منصوبوں کے باعث خطرے کا شکار ہیں۔ یہ فرض کرنا کہ تخلیق کا یہ نازک حسن کہیں اَور رہ سکتا ہے اسکے ناپید ہونے پر منتج ہو سکتا ہے۔ قابلِ‌تعریف بات ہے کہ اُنہیں اس قسم کے انجام سے محفوظ رکھنے کیلئے کاوشیں کی جا رہی ہیں۔ یہ بات کتنی اچھی ہوگی جب خالق کی وعدہ‌کردہ فردوسی زمین میں جو اب بالکل قریب ہے، ان نازک مگر جفاکش مسافروں کو محفوظ جگہ عطا کی جائیگی!‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں