یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو96 8/‏10 ص.‏ 28-‏29
  • دُنیا کا نظارہ

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • دُنیا کا نظارہ
  • جاگو!‏—‏1996ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • زحل کے مزید چاند دریافت کر لئے گئے
  • معافی—‏۵۰ سال بعد
  • مارمن چرچ نے نازیوں کی مزاحمت نہ کی
  • بے‌توجہی کا شکار بچے
  • ‏”‏قوت بحال کرنے کیلئے قیلولہ“‏
  • باغ کیلئے کیمیاوی مرکبات—‏ایک خطرہ؟‏
  • گرم علاقے کی چیونٹیاں
  • شور بند کریں
  • آسٹیوپروسس کا مقابلہ کرنا
  • خون سے لگنے والی بیماریوں کی بابت تشویش
  • چیونٹیوں کی ایک دوسرے کا راستہ روکے بغیر آگے بڑھنے کی صلاحیت
    کیا یہ خالق کی کاریگری ہے؟‏
  • انتقالِ‌خون—‏ایک طویل متنازع داستان
    جاگو!‏—‏2000ء
  • ایک حملہ‌آور لشکر!‏
    جاگو!‏—‏2003ء
جاگو!‏—‏1996ء
جاگو96 8/‏10 ص.‏ 28-‏29

دُنیا کا نظارہ

زحل کے مزید چاند دریافت کر لئے گئے

ہبل کی خلائی دُوربین کے ذریعے اُتاری گئی تصاویر نے ماضی میں کم‌ازکم دو نامعلوم چاندوں کو زحل کے گرد چکر لگاتے دکھایا ہے۔ تصاویر ”‏ارتھ رِنگ کراسنگ“‏ کے دوران کھینچی گئی تھیں، ایک شاذونادر موقع جب زمین زحل کے دائرے کے کنارے پر نظر آتی ہے۔ ان حالات کے تحت دائرے سے منعکس ہونے والی تیز روشنی کم ہو جاتی ہے اور چاند زیادہ آسانی سے نظر آتے ہیں۔ ماہرِفلکیات کا اندازہ ہے کہ چاندوں کے قطر ۷ اور ۴۰ میل کے درمیان ہیں۔ نئے دریافت‌شُدہ چاند سیّارے کے مرکز سے ۱۴۰،۰۰۰ کلومیٹر سے لیکر ۱۵۰،۰۰۰ کلومیٹر کے فاصلے پر زحل کے مدار میں گھومتے ہیں۔ یہ زمین اور اُس کے چاند کے درمیان ۴۰۰،۰۰۰ کلومیٹر سے کہیں زیادہ قریب ہے۔ زحل، زمین سے تقریباً ۵.‏۱ بلین کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔‏

معافی—‏۵۰ سال بعد

‏”‏ہم یہاں سب سے بڑھ کر خدا کو حاضر جان کر میجی جاکم [‏یونیورسٹی]‏ کے ماضی میں جنگ میں شمولیت کے گناہ کا اعتراف کرتے ہیں اور اسی اثنا میں بیرونی ممالک کے لوگوں سے معافی مانگتے ہیں، بالخصوص کوریا اور چین کے لوگوں سے،“‏ یونیورسٹی کے ناظم، ہیروماسا ناکایاما نے گزشتہ جون ٹوکیو کی یونیورسٹی کے گرجے میں اپنے خطاب میں کہا۔ میجی جاکم یونیورسٹی ایک ”‏مسیحی“‏ مشن سکول ہے۔ اساہی شمبن اخبار کے مطابق، یہ پہلی مرتبہ تھا کہ سکول کے منتظمین نے سکول کے جنگی کارروائیوں میں شریک ہونے کا کھلے‌عام اعتراف کِیا تھا۔ جنگ کے دوران یونیورسٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین نے کلیسیاؤں کو جنگی کارروائیوں کیلئے متحد کرنے کیلئے جاپان میں یونائیٹڈ چرچ آف کرائسٹ کو منظم کِیا۔ یونائیٹڈ چرچ نے جنگی طیارے بنانے کیلئے فنڈز جمع کئے اور مسیحیوں کی غیرمشروط طور پر خود کو اپنے مُلک کے تابع کرنے کی حوصلہ‌افزائی کی، ناکایاما نے بیان کِیا۔‏

مارمن چرچ نے نازیوں کی مزاحمت نہ کی

نازی جرمنی میں یہودیوں پر کئے جانے والے تشدد کی اطلاعات کے باوجود، ”‏مارمن چرچ نے تقریباً کچھ نہیں کِیا تھا،“‏ دی سالٹ لیک ٹریبیون بیان کرتا ہے۔ دیگر کلیسیاؤں کے اراکین کے ساتھ ساتھ بعض مارمنز ”‏ہٹلر اور اُسکے نسل کو پاک کرنے کے پیغام سے مرعوب تھے، اور وہاں ایسے لوگ بھی تھے جو یہ سوچ رہے تھے کہ وہ حکومت کے لیڈروں کا احترام کرنے کی چرچ کی تعلیمات کی فرمانبرداری کر رہے تھے۔“‏ اِس ہالوکاسٹ کے دوران مارمنز کے جرمن سیکٹر نے ”‏وہی کِیا جو زیادہ‌تر کلیسیاؤں نے کِیا؛ پیشواؤں نے بھی اس سے اتفاق کِیا،“‏ ٹیمپل یونیورسٹی، فِلدلفیہ کے پروفیسر فرہتھیں‌لفظاکلن لِٹل نے بیان کِیا۔ اخبار بیان کرتا ہے، برگھم ینگ یونیورسٹی کے تاریخ کے پروفیسر، ڈگلس ٹوبلر ”‏نازی‌ازم کے خلاف تنظیمی مؤقف اختیار کرنے کی چرچ کی ناکامی“‏ کا جائزہ لینا چاہتے ہیں۔ دلچسپی کی بات ہے کہ ٹرائبیون نے مشاہدہ کِیا کہ کینیڈا میں یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا کے تاریخ‌دان جان ایس.‏ کانوے نے بیان کِیا کہ واحد مذہبی تنظیم جس نے نازیوں کی پیروی کرنے سے قطعی انکار کِیا وہ یہوواہ کے گواہ تھے۔ اُس نے مزید کہا کہ اس وجہ سے اُن میں سے نصف سے زیادہ کو مراکزِاسیران میں بھیج دیا گیا۔‏

بے‌توجہی کا شکار بچے

آسٹریلیا کے ایک قومی سروے نے آشکارا کِیا کہ چھ سال کی عمر کے چھوٹے بچے گھر پر اکیلے چھوڑ دیئے جاتے ہیں جبکہ والدین میں سے دونوں کام پر یا پھر باہر تفریح کر رہے ہوتے ہیں، دی کنبیرا ٹائمز بیان کرتا ہے۔ بوائز ٹاؤن نیشنل کمیونٹی پراجیکٹس کی نمائندہ خاتون وینڈی رِیڈ کے مطابق، ”‏نصف سے زیادہ بچوں نے کہا وہ تنہا تھے اور اپنے والدین کی رفاقت کی کمی کو محسوس کرتے ہیں، جبکہ ۱۲ سال سے کم عمر کی بڑی تعداد خوفزدہ تھی—‏تاریکی سے، طوفان سے، زبردستی گھر میں گھس آنے والوں سے یا اغوا سے۔“‏ اس کے علاوہ، رِیڈ نے کہا کہ ”‏مشکل پیدا ہو جانے کی صورت میں ۷۱ فیصد بچوں کے پاس ایسی صورتحال سے نپٹنے کیلئے کوئی حکمتِ‌عملی نہیں تھی اور یہ کہ ۱۲ سال سے کم عمر بچوں میں سے نصف یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ اپنے والدین سے رابطہ کیسے کریں،“‏ ٹائمز نے بیان کِیا۔‏

‏”‏قوت بحال کرنے کیلئے قیلولہ“‏

‏”‏قیلولہ مزاج، چوکسی اور کارکردگی کو بہتر بنا سکتا ہے،“‏ دی وال سٹریٹ جرنل بیان کرتا ہے۔ اچھے قیلولے کے ازسرِنو تازہ دم کرنے والے اثرات نے بعض کارخانوں کو باقاعدہ کام کے وقت کے دوران قیلولے کو جگہ دینے کیلئے طریقے تلاش کرنے پر اُکسایا ہے۔ یہ ایسی جگہوں کیلئے بالخصوص ضروری ہے جہاں حفاظتی بندوبست کا انحصار ملازمین کے چوکس ہونے پر ہے—‏جیسے‌کہ ٹرک چلانے والے، ہوائی جہاز کے پائلٹ اور نیوکلیئر پاؤر پلانٹ آپریٹرز۔ نیند پر تحقیق کرنے والی کلاؤڈیا سٹامصحی بیان کرتی ہے، ”‏ہم نے دیکھا ہے کہ آپ ۱۵ منٹ کے قیلولے کے بعد—‏بہت زیادہ چاق‌وچوبند ہو جاتے ہیں—‏جو کئی گھنٹوں کے برابر ہے۔ تاہم، بیشتر آجروں کو کام کی جگہ پر قیلولے کی روایت کو اپنانے کیلئے بہت وقت لگے گا۔ جرنل بیان کرتا ہے کہ ”‏کام پر نیند کو اَور زیادہ پُرلطف بنانے کیلئے، اسکے حامی اب اسکا حوالہ ’‏قوت بحال کرنے کیلئے قیلولہ‘‏ کے طور پر دیتے ہیں“‏۔‏

باغ کیلئے کیمیاوی مرکبات—‏ایک خطرہ؟‏

فرنچ نیچر میگزین ٹر سوواژ بیان کرتا ہے کہ سبزہ‌زار اور باغ کیلئے کیمیاوی مرکبات آپکے بچوں کی صحت کیلئے نقصان‌دہ ہو سکتے ہیں۔ یہ خبردار کرتا ہے کہ ”‏چودہ سال سے کم عمر بچے جو ایسے گھروں میں رہتے ہیں جہاں باغ میں جڑی‌بوٹیاں تلف کرنے والی یا کیڑےمار ادویہ کا استعمال ہوتا ہے اُنہیں اُن بچوں کی نسبت جو ایسے کیمیاوی مرکبات کے خطرے میں نہیں، سارکوما، ایک قسم کے کینسر ہونے کا اندیشہ چارگنا زیادہ ہے۔ رپورٹ مزید بیان کرتی ہے کہ بچوں کے گردوپیش میں کرم‌کش ادویات کا استعمال لیوکیمیا پیدا ہونے کے خطرے میں ڈیڑھ سے تین گنا اضافہ کرتا ہے۔ چونکہ نصف سے زیادہ فرانسیسی گھرانے کیمیاوی مرکبات استعمال کرتے ہیں، لہٰذا ممکن ہے کہ بہتیرے نادانستہ طور پر اپنے بچوں کیلئے ایسا ماحول پیدا کر رہے ہوں جو ایک بڑے، آلودہ شہر سے بھی زیادہ زہریلا ہے۔‏

گرم علاقے کی چیونٹیاں

سوئٹزرلینڈ میں دو محققین نے دریافت کِیا ہے کہ صحارا کے ریگستان میں بعض چیونٹیاں کیونکر ۶۰ ڈگری سینٹی‌گریڈ کے جھلسا دینے والے درجہ‌حرارت کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکتی ہیں۔ زیورک کی یونیورسٹی کے حیواناتی انسٹی‌ٹیوٹ کے روڈجر وانر اور بیزل یونیورسٹی کے علمِ‌تواُلدوتناسل کے ماہر والٹر جیرن نے دریافت کِیا کہ چیونٹیاں ایسے ”‏مادّے“‏ پیدا کرتی ہیں ”‏جو ہیٹ شاک پروٹینز (‏HSPs)‏، کے طور پر مشہور ہیں، جو جسم کے لحمیات کو گرمی سے نقصان پہنچنے سے محفوظ رکھتی ہیں،“‏ سائنس میگزین بیان کرتا ہے۔ شدید درجۂ‌حرارت کے تحت، ”‏تمام جانور [‏ہیٹ شاک سے]‏ نقصان پہنچنا شروع ہونے کے بعد کچھ‌نہ‌کچھ HSPs پیدا کرتے ہیں،“‏ میگزین بیان کرتا ہے، لیکن ”‏چیونٹیاں شروع ہونے سے پہلے پیدا کرتی ہیں۔“‏ کس طریقے سے؟ محققین نے دریافت کِیا ہے کہ چیونٹیاں مصنوعی ہیٹ شاک طاری کرتی ہیں اور اپنے گھر سے نکلنے سے بھی پہلے HSPs پیدا کرتی ہیں۔ جیرنگ مزید بیان کرتا ہے:‏ ”‏ہم اس طرح سوچنے کیلئے اسقدر ہوشیار نہیں تھے، لیکن چیونٹیاں تھیں۔“‏ یا کیا یہ اُنکا خالق تھا؟‏

شور بند کریں

‏”‏براہِ‌مہربانی یہ شور بند کریں،“‏ دی ٹرانٹو سٹار اخبار کی شہ‌سرخی استدعا کرتی ہے۔ شہر میں گیس سے چلنے والی گھاس کاٹنے کی مشینوں، پتے جمع کرنے کی مشینوں، بڑے بڑے ہتھوڑوں، کار کے ہارنوں اور الارموں، لاؤڈ سپیکروں، بھونکتے ہوئے کتوں، روتے ہوئے بچوں کے ناقابلِ‌برداشت شور اور رات دیر سے ہونے والی پارٹیوں کے شور نے مخالف دھڑے کے لوگوں کو اَمن اور سکون کیلئے مہم چلانے پر مجبور کر دیا ہے۔ سٹار بیان کرتا ہے، طویل عرصے تک ایسے شوروغل میں رہنا ”‏تھکن اور پریشانی میں اضافہ کر سکتا ہے۔“‏ اخبار مزید بیان کرتا ہے:‏ ”‏طبّی تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ فشارِخون بڑھ سکتا ہے، دل کی دھڑکن بدل سکتی ہے اور جسم ایڈرنالین اور دیگر ہارمونز پیدا کر سکتا ہے جو خون کی نالیوں کو متاثر کرتے ہیں۔“‏ صحت کے حکام کے مطابق، ۸۵ ڈیسی‌بلز سے زیادہ کسی بھی قسم کی آواز، جیسے‌کہ گھاس کاٹنے کی مشین یا موٹربائیک کی، میں آٹھ گھنٹے سے زیادہ دیر ٹھہرنا آپکی سماعت کیلئے خطرناک ہے۔‏

آسٹیوپروسس کا مقابلہ کرنا

جسمانی کارکردگی، آسٹیوپروسس کے باعث ضائع ہونے والے ہڈی کے مادّے کو بحال کرنے میں مدد دے سکتی ہے، اخبار جورنل ڈو برازیل بیان کرتا ہے۔ ریو ڈی جینیریو میں ٹراما سے متعلق کلینک کے ماہرین ورزش سے علاج کی پیشکش کرتے ہیں لیکن اسکے ساتھ ساتھ مریضوں کو یہ بھی سکھاتے ہیں کہ کیسے ”‏صحیح طرح سے چلیں اور دُرست اندازِنشست اختیار کریں۔“‏ ۴۵ سے ۷۷ سال کی عمر کی خواتین کے ایک گروہ کیساتھ دو سال تک کام کرنے کے بعد، گروہ کے ۸۰ فیصد لوگوں نے ہڈی کے مادّے میں خاطرخواہ اضافے کا تجربہ کِیا۔ اُس وقت کے دوران، عورتوں کو کمر میں بہت کم جوڑوں کا درد ہوا اور کسی کی بھی ہڈی نہیں ٹوٹی تھی۔ کلینک کے ڈائریکٹر، ڈاکٹر تھیو کوہن، زیادہ کیلسیم اور کم چکنائی والی خوراک کی سفارش کرتے ہیں۔ علاوہ‌ازیں، وہ زندگی کو بامقصد بنانے کی بھی حوصلہ‌افزائی کرتا ہے۔ ”‏ہم عمررسیدہ کو بیٹھے اور سویٹر بنتے دیکھنا نہیں چاہتے،“‏ ڈاکٹر کوہن بیان کرتا ہے۔ ”‏سیر کیلئے باہر جانا بھی اُتنا ہی اہم ہے جتنا دماغ کے خلیوں کی ورزش کیلئے لفظی معمے حل کرنا۔“‏

خون سے لگنے والی بیماریوں کی بابت تشویش

یو.‏ایس.‏ نیشنل اکیڈیمی آف سائنسز کے انسٹی‌ٹیوٹ آف میڈیسن کی ایک رپورٹ کے مطابق، خون کی سپلائی کو محفوظ بنانے کیلئے حفاظت سے متعلق بہترین حکمتِ‌عملی کی ضرورت ہے۔ ثبوت کے طور پر، رپورٹ، AIDS کی وبا کے ابتدائی سالوں میں انتقالِ‌خون کے ذریعے پھیلنے والے ہیومن ایمینوڈیفیشنسی وائرس (‏HIV)‏ کی نشاندہی کرتی ہے۔ رپورٹ پر نظرِثانی کرتے ہوئے، دی نیو یارک ٹائمز نے بیان کِیا:‏ ”‏ریاستہائے متحدہ میں ۱۶،۰۰۰ ہیموفیلکس میں سے نصف اور ۱۲،۰۰۰ سے زیادہ ایسے مریض جنہوں نے خون اور خون سے تیار چیزوں کو اپنے اندر منتقل کرایا H.I.V سے متاثر ہوئے۔ ادارے کی رپورٹ تشویش ظاہر کرتی ہے کہ HIV جیسے خطرناک متعدی ایجنٹس ایکبار پھر قومی نظامِ‌صحت کو اچانک گرفت میں لے سکتے ہیں۔ اس نے ”‏خون کے اجزاء اور خون کی مصنوعات میں مُضر اثرات کو تلاش کرنے، مشاہدہ کرنے اور اُن سے آگاہ کرنے کیلئے،“‏ ایک نظام قائم کرنے کی سفارش کی۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں